انسان کا مقام

وہ لوگ جو انسان کو چھوڑ کر یا انسان سے منہ موڑ کر خدا کی تلاش کرتے ہیں، کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی کتاب انسانوں کے تذکرے اور انسانوں کے انجام کے بارے میں آگاہی دینے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت بلند مقام عطا فرمایا۔ انسان کے آگے فرشتوں کو جھکا دیا۔ انسان کو اللہ کے راستے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ نے اپنا گھر انسانوں کے ذریعے بنایا۔ اللہ کے ذکر کے لیے انسانی زبان اور اللہ کی یاد کے لیے انسانی دل درکار ہیں۔ اللہ کی خوشی انسان کی خدمت میں ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ’’انسانوں کی خدمت کرو، بھوکوں کو کھانا کھلائو، سائل کو جھڑکی نہ دو، یتیم کا مال ہرگز نہ کھائو، کیے ہوئے وعدے پورے کرو، نرم خو اور نرم دل ہوجائو، زمین پر اکڑ اکڑ کر مت چلو‘‘۔ یہ تمام احکام اللہ کے ہیں اور انسان کی خدمت کے لیے ہیں۔ اللہ کی رضا انسان کو خوش رکھنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ماں باپ کے آگے اُف نہ کرو، ان کو جھڑکی نہ دو، ان سے نرم الفاظ میں بات کرو، وہ جب بڑھاپے میں پہنچیں تو ان کے لیے رحمت کے بازو پھیلادو‘‘۔ خدمت ماں باپ کی اور خوشی اللہ کی، یہی بات غور طلب ہے کہ اللہ کہاں ہے؟ سجدے میں اللہ ملتا ہے لیکن مسکین کو کھانا کھلانے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ انسان نے جس مقام پر انسانوں کو چھوڑ کر خدا سے محبت کا دعویٰ کیا، وہ اکثر غلط نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ، اپنے کلمے کے ساتھ انسان کا اسم بلند کیا۔ اپنا کلام انسانی قلب پر نازل فرمایا اور اپنے دین کی تبلیغ انسانوں کے ذریعے کی، انسانوں کے لیے…
اللہ کے بارے میں جتنی بھی آگاہی دنیا میں موجود ہے، جتنا بھی بیان اور علم موجود ہے سب انسان کے ذریعے سے ہے۔ اللہ جن انسانوں کو اپنے قریب رکھتا ہے انہی انسانوں کو، انسانوں کے قریب کردیتا ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کے ہاں جتنا محبوب ہوگا، اس کے لیے انسان کی دنیا اتنی ہی محبوب ہوگی۔ اس لیے جو انسان محبوبِ رب العالمینؐ ہے، وہی انسان رحمتہ للعالمینؐ ہے۔ اللہ کے ساتھ محبت کرنے والے انسانوں سے بیزار نہیں ہوسکتے، اور انسان سے بیزار ہونے والے اللہ کے قریب نہیں ہوسکتے۔
دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی محبت اور خدا کی محبت میں کیا فرق ہے؟ اللہ کے حوالے کے بغیر انسان کی محبت یا انسان کی خدمت ہمیں غافل کرسکتی ہے، عاقبت سے بے خبر رکھتی ہے، اور ہم اس دنیا اور اس زندگی میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف اخلاقیات الٰہیات کے بغیر معاشرے کو گمراہ کرسکتی ہے۔ مثلاً اگر ہم غریب کی مدد کریں تو یہ نیکی ہے۔ یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ ہمیں جاننا چاہیے کہ جس مال سے ہم غریب کی مدد کررہے ہیں وہ مال حرام کی کمائی نہ ہو، کیونکہ حرام کی کمائی کہیں نہ کہیں سے ظلم یا دھوکے کے ذریعے آتی ہے۔ لہٰذا غریب کی مدد کی نیکی ایک بدی کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی طرح رشوت کی دولت سے اگر حج کیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی ہی نہیں اس کے نظام کے خلاف بغاوت ہے۔ لازم یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے قانون کے مطابق کمائی ہوئی دولت سے غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی خدمت کرے۔ مسکین یا بھوکا کوئی بھی انسان ہو، اسے کھانا کھلانے سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ یہاں دین کی کوئی قید نہیں۔ بھوکے آدمی کو کھانا کھلانا ہے، لیکن کھانا کھلانے والا انسان احتیاط کرے اور غور کرے کہ اس نے یہ کھانا کہاں سے حاصل کیا۔ ناجائز کمائیوں سے بنے ہوئے محلات پر لکھ دینا کہ یہ اللہ کے فضل سے بنا ہے، ایک ظلم ہے۔
اللہ کے ہاں انسانوں کے تذکرے ہیں۔ جب ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس کے اپنے ارشاد کے مطابق وہ ہمارا ذکر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ساری کائنات کی وسیع و عریض تخلیق میں سب سے اشرف مخلوق انسان ہے۔ انسان کا مقام یہی ہے کہ اسے ’’احسنِ تقویم‘‘ بنایا گیا۔ اگر کسی انسان کا دل توڑ دیا جائے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے، کسی انسان کو حق سے محروم کرنا اللہ کو ناپسند ہے۔ جو زمانہ اللہ کی منشا کے مطابق ہوتا ہے وہ انسان کی سرفرازی کا دور ہوتا ہے، انسان کے حقوق کے تحفظ کا دور ہوتا ہے، انسان کی عزتِ نفس کے لحاظ کا زمانہ ہوتا ہے۔ انسانیت کی عزت ہی خدا کے احکام کی بجا آوری میں ہے۔ نیکی دراصل انسانوں کے ساتھ نیک سلوک کا نام ہے، خالی نیکی تو کوئی نیکی نہیں۔ ہم نیکی انسان کے ساتھ کرتے ہیں، انعام اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے۔ ہم غریب کی خدمت کرتے ہیں، سخاوت کی منزل پاتے ہیں۔ غریب انسان ایک لحاظ سے محسن ہے کہ وہ سخی ہونے کا موقع دیتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف رجوع ہو تو لوگ غریبوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی خدمت کریں، ان کی مدد کریں۔
(”حرف حرف حقیقت“،واصف علی واصف)

قم باذن اللہ

جہاں اگرچہ دگرگوں ہے، قم باذن اللہ
وہی زمیں، وہی گردوں ہے، قم باذن اللہ
کیا نوائے انا الحق کو آتشیں جس نے
تری رگوں میں وہی خوں ہے، قم باذن اللہ
غمیں نہ ہو کہ پراگندہ ہے شعور ترا
فرنگیوں کا یہ افسوں ہے، قم باذن اللہ

قم باذن اللہ: اٹھ خدا کے حکم سے۔ غمین: غمگین۔ اناالحق: یہ کلمہ حسین بن منصور حلاج سے منسوب ہے جسے عام طور پر منصور کہا جاتا ہے۔ وقت کے علما نے منصور کی زبان سے یہ کلہ سن کر کفر کا فتویٰ دیا اور اسے سولی پر چڑھا دیا گیا۔ بعد کے بعض صوفیہ نے اس کی تاویل کی کہ انا الحق سے مراد ’’میں خدا ہوں‘‘ نہیں، یہ ہے کہ مرا وجود ہیچ ہے اور حقیقی وجود صرف خدا کا ہے۔ اقبال اناالحق کو خودی کا اثبات سمجھتے تھے۔ یعنی اناحق ہے۔
(1) اگرچہ دنیا کے حالات ویسے نہیں رہے جیسے پہلے تھے۔ ان میں بہت تبدیلی آگئی ہے اور ناسازگاری حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم تُو خدا کے حکم سے اٹھ اور سرگرمِ عمل ہوجا۔ اگر حالات ویسے نہیں رہے تو کیا ہوا؟ زمین اور آسمان تو وہی ہیں جو پہلے تھے۔ اپنے جوشِ عمل سے حالات کو سازگار بنالے۔
(2)جس خونِ گرم نے انا الحق کے نعرے میں آگ کی حرارت پیدا کردی تھی، وہی خون تیری رگوں میں موج زن ہے۔ خدا کے حکم سے اٹھ اور سرگرمِ عمل ہوجا۔
(3) اگر تیرے عقل و شعور میں بے ربطی نظر آتی ہے تو ہرگز غمگین نہ ہو۔ یہ بے ربطی حقیقی نہیں، غیر حقیقی ہے۔ یہ اہلِ یورپ کے جادو کا نتیجہ ہے جو جلد اتر جائے گا۔ تُو اللہ کے حکم سے اٹھ اور سرگرمِ عمل ہوجا۔

Share this: