ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزوکے علمی، ادبی اور تحقیقی خطوط بنام ڈاکٹر معین الدین عقیل

کتاب : ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو
کے علمی، ادبی اور تحقیقی خطوط بنام
ڈاکٹر معین الدین عقیل
مرتبہ : عابدہ ہما (استاد شعبہ اردو، سندھ یونیورسٹی)۔
قیمت : 450 روپے
ناشر : قرطاس۔ فلیٹ نمبرA-15، گلشنِ امین ٹاور گلستانِ جوہر، بلاک15۔ کراچی
موبائل : 0321-3899909
ای میل : saudzaheer@gmail.com
ویب گاہ : www.qirtas.co.nr

زیر نظر کتاب جن خطوط پر مشتمل ہے وہ مجلہ ’’تحقیق‘‘ (مکتوبات نمبر 2) سندھ یونیورسٹی میں شائع ہوئے تھے۔ یہ خطوط چار جلدوں میں طبع ہوئے تھے، ان میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کے نام 80 خطوط بھی شامل تھے۔ محترمہ عابدہ ہما صاحبہ نے انہیں مرتب کرکے اور قرطاس نے طبع کرکے ہر خاص و عام کی دسترس میں دے دیئے ہیں۔ عابدہ ہما صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:
’’ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو (14 نومبر 1924ء۔ 30 جون 2010ء) علم و تحقیق کا ایک زریں باب تھے۔ آپ نے اردو تحقیق میں ہمہ گیر اور ہمہ جہت خدمات انجام دیں۔ اردو، فارسی اور عربی پر آپ کی گہری نظر تھی۔ بقول راشد شیخ: وہ ان ادبیات کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھے (تحقیق، شمارہ 26، ص 36)۔ آپ پاکستان اور بھارت کے علاوہ عالمِ عرب میں بھی علمی اور تحقیقی خدمات کی وجہ سے معروف تھے۔ عالمِ عرب کے کئی اداروں کی اعزازی رکنیت بھی آپ کو حاصل تھی۔
پاکستان و بھارت اور دنیائے ادب کے ممتاز اور معتبر اہلِ قلم کے ساتھ آپ خط کتابت کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتے، اور دنیا بھر سے جو بھی آپ سے علمی مدد چاہتا اُسے بذریعہ مراسلت ہر طرح کی معاونت مہیا کرتے اور ہر ممکن طور پر محقق کی علمی تشفی کرتے۔ راشد شیخ اس حوالے سے لکھتے ہیں:’’ان کے نزدیک خط کا جواب دینا ایک اہم اخلاقی فریضے میں شامل تھا… ان کے ذاتی ذخیرے میں مشاہیر اور معاصرین کے مکاتب کا بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا… تمام خطوط تاریخی ترتیب سے یعنی سب سے پرانا خط سب سے نیچے اور جدید ترین سب سے اوپر محفوظ رکھتے تھے۔ (تحقیق، شمارہ 20، ص318)
آپ کے لکھے ہوئے خطوط بھارت اور پاکستان کے علمی و ادبی اور تحقیقی رسائل میں بھی بکثرت شائع ہوئے جن پر آپ کی قیمتی اور معلومات افزا حواشی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈاکٹر صاحب کے لکھے ہوئے خطوط کی تعداد ہزاروں سے گزر کر لاکھ کے عدد پر پہنچ گئی ہے۔ شاید ہی کوئی ادیب یا محقق ایسا ہوگا جس کی خط کتابت ڈاکٹر صاحب سے نہ ہوئی ہو۔ پاکستانی مصنفین میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کا نام سرفہرست ہے۔
ڈاکٹر مختار الدین احمد سے ڈاکٹر معین الدین عقیل کی پہلی ملاقات مشفق خواجہ کے گھر پر ہوئی تھی، اور ستّر کی دہائی سے دونوں کے درمیان مستقل ملاقاتوں اور خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ زیرنظر مقالے میں شامل 80 خطوط جہاں ایک طرف ڈاکٹر صاحب کے علمی و تحقیقی پہلوئوں کو اجاگر کرتے ہیں وہیں ڈاکٹر معین الدین عقیل کے تحقیقی کاموں، علمی و ادبی مصروفیات، علم دوستی اور تحقیقی ذوق و شوق پر بھی روشنی ڈالتے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو نابغہ روزگار شخصیت تھے، ان کا کچھ تعارف مناسب رہے گا:
’’ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو (14 نومبر 1922ء، پٹنہ۔ 30 جون 2010ء علی گڑھ) نے ابتدائی تعلیم پٹنہ میں حاصل کی۔ مورخہ 10 جولائی 1943ء کو آپ بہ غرضِ تعلیم علی گڑھ پہنچے۔ علی گڑھ سے آپ نے 1945ء میں انٹر اور 1947ء میں بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علامہ عبدالعزیز میمن کے مشورے پر ایم۔ اے عربی میں داخلہ لیا اور 1949ء میں پوری یونیورسٹی میں اوّل آئے۔ اسی زمانے میں آپ نے ’’علی گڑھ میگزین‘‘ کی بڑی محنت اور سلیقے سے ادارت بھی کی اور 1949ء ہی میں ’’غالب نمبر‘‘ شائع کیا۔ آپ 1949ء سے 1952ء تک لٹن لائبریری، علی گڑھ میں شعبہ مخطوطات کے ناظم رہے اور اس دوران علامہ میمن کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کے لیے تحقیقی مقالہ بھی لکھتے رہے، آپ کے مقالے کا موضوع صدرالدین علی بن ابی الفرج البصری (م 656ھ) کی کتاب ’’الحماستہ البصر‘‘ سے متعلق تھا جس پر 1952ء میں پی ایچ ڈی (عربی) کی ڈگری تفویض کی گئی۔
ڈاکٹر صاحب نے جنوری 1953ء میں بہ حیثیت لیکچرر شعبہ عربی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ملازمت کا آغاز کیا، اس کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے آکسفورڈ تشریف لے گئے اور 1956ء میں پروفیسر ہیملٹن گب (م 1976ء) کی نگرانی میں ڈی فل کی سند حاصل کی۔ 1958ء میں آپ ادارۂ علوم اسلامیہ علی گڑھ میں ریڈر اور 1968ء میں اسی ادارے کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ یہاں سے آپ نے اعلیٰ پائے کے علمی و تحقیقی رسالے ’’مجلہ علوم اسلامیہ‘‘ کا اجرا کیا اور دس سال تک اس کی ادارت کی۔ اسی سال آپ شعبہ عربی، علی گڑھ یونیورسٹی کی صدارت پر فائز ہوئے اور اسی عہدے سے 14 نومبر 1984ء کو ریٹائر ہوئے، لیکن ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں سے بھی وابستہ رہے۔ آپ کی اردو تصانیف و تالیفات میں خطوطِ اکبر، احوالِ غالب، نقدِ غالب، سیرِ دہلی، تذکرہ گلشن ہند، کربل کتھا، مکتوبات مشفق خواجہ بنام ڈاکٹر مختار الدین احمد وغیرہم نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی عمر کے آخری دور میں اردو مکتوبات کے دو اہم منصوبوں پر کام کررہے تھے جن میں سے ایک ’’کلیاتِ مکاتیبِ سرسید‘‘ اور دوسرا ’’کلیاتِ مکاتیبِ اکبر‘‘ تھا۔ انہوں نے متعدد بار اپنے اس منصوبے اور شوق کے متعلق اپنے خطوط میں بھی اشارہ فرمایا ہے۔ وہ ایک خط میں رقم طراز ہیں کہ: ’’میں سرسید کے خطوط پندرہ بیس سال سے جمع کررہا ہوں‘‘۔ ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب ڈاکٹر آرزو کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’…اردو تحقیق میں ہمہ جہت اور ہمہ گیر خدمات انجام دیں۔ مخطوطات کی دریافت اور معیاری تدوین سے لے کر تاریخ ادب کی گم شدہ کڑیوں کی تلاش، نثر، شاعری، تذکرہ، مکاتیب، سفرنامے، علما و صوفیہ کے حالات، غالبیات اور دیگر ادبی شخصیات کے مطالعے اور جائزے تک، ادبی تحقیق کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو آرزو صاحب کے دائرۂ تحقیق سے باہر رہ گیا ہو۔ ہر گوشے میں ان کی خدمات کے نقوش نہایت واضح اور روشن ہیں‘‘۔
ڈاکٹر عقیل کے نام ڈاکٹر آرزو کے 79 خطوط حاصل ہوئے ہیں، جن میں انہوں نے آپ کو ’’محبی‘‘ اور ’’مکرمی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ ڈاکٹر آرزو کے یہ خطوط ان کی علمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ زندگی کے دیگر متعدد پہلوئوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں اور ڈاکٹر عقیل صاحب کے علمی ذوق و شوق اور مصروفیات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ خطوط نادر مآخذات کا اہم ذخیرہ ہیں جو دونوں اسکالرز کے تحقیقی طریقہ کار، مآخذات کے حصول کی جستجو، علمی معاملات میں پُرخلوص تعاون کو اجاگر کرتے ہیں۔ غرضیکہ یہ خطوط دونوں حضرات کی علمی زندگی کے رپورتاژ ہیں۔
ڈاکٹر مختارالدین آرزو صاحب کے پیش کیے جانے والے یہ خطوط راقم الحروف کو مدیر ’’تحقیق‘‘ نے فراہم کیے تھے، جو انہوں نے ڈاکٹر تنظیم الفردوس (پروفیسر شعبہ اردو، کراچی یونیورسٹی) سے حاصل کیے تھے، جنہوں نے کبھی ان خطوط کو مرتب کرنے کے لیے ڈاکٹر عقیل سے لیا تھا۔ اس عنایت کے لیے میں ان دونوں کرم فرمائوں کی بے حد ممنون ہوں۔
یہ خطوط، جو تعداد میں 80 ہیں اور مختلف لیٹر پیڈز پر لکھے گئے ہیں، ڈاکٹر آرزو صاحب کی عین عبارتوں میں کسی تخفیف یا تحذیف کے بغیر پیش کیے جارہے ہیں۔ ضروری حواشی تمام خطوط کے آخر میں اور کتابیات بالکل آخر میں شامل ہے‘‘۔
ڈاکٹر مختار الدین اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اس شمارے میں آپ نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے مضمون کا بہت قیمتی اور اہم اقتباس شائع کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: انگریزی زبان کو اوڑھنا اور بچھونا بناکر، ایک طرف ہم نے معنی کے تصور کو گم کردیا ہے اور دوسری طرف تخیل کو شدید طور پر مجروح کیا ہے، اس لیے ہمارا تخلیقی جذبہ افسردہ، ذہنی قوتیں ضعیف اور تخیل کمزور ہے۔ جالبی صاحب کو اپنی بات مختصر ترین لفظوں میں دل نشین پیرائے میں کہنے پر بڑی قدرت حاصل ہے، ان سے کچھ ضرور لکھواتے رہیے۔‘‘ (خط نمبر1، ص:14)۔
امید ہے قاری یہ علمی، ادبی اور تحقیقی خطوط پڑھ کر محظوظ ہوں گے۔
کتاب سفید کاغذ پر عمدہ طبع کی گئی ہے، سرورق پر کبوتر کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لیے اندرونی سرورق دے رہے ہیں۔ کتاب مجلّد ہے۔ معلومات افزا حواشی سے مزین ہے۔

Share this: