چاندنی اکیلی ہے (شعری مجموعہ)۔

کتاب : چاندنی اکیلی ہے (شعری مجموعہ)۔
شاعرہ : ڈاکٹر عزیزہ انجم
ناشر : حافظ عمار وحید سلیمانی
ادبیات، رحمن مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ لاہور
فون : 042-37232788
042-37361408
ای میل : sulemani@gmail.com
تقسیم کار : ڈاکٹر سعید اختر نیورو کلینک، ڈیفنس گارڈن اپارٹمنٹس،فیز 1، ڈی ایچ اے۔ 0300-2192373
طبع اول : اپریل 2018ء تعداد :500
سفرِ حیات و شعری سفر
زیرتبصرہ خوبصورت شعری مجموعے ’’چاندنی اکیلی ہے‘‘ کی شاعرہ ڈاکٹر عزیزہ انجم موروثی طور پر شعر و ادب کی دنیا کی باسی اور پروردہ ہیں۔ جن بزرگوں کے زیرسایہ انہوں نے شعور اور حیات کی منزلیں طے کیں وہ تعلیم و تدریس اور علم و ادب سے وابستہ شخصیات تھیں۔ ان کے دادا حمید عظیم آبادی، نثار عظیم آبادی کے شاگرد، والد عزیز حمیدی استاد شعراء میں شمار کیے جاتے تھے۔ چاچا ابو حسن حمیدی ترقی پسند شاعر، پھوپھا عاشق کیرانوی مؤلف، شاعر اور اردو کی طویل ترین غزل (تیس ہزار اشعار پر مشتمل) ’’گھٹا برسے تو صحرا بولتا ہے‘‘ کے خالق تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں شعری ذوق کو مہمیز ملی، پھر موروثی پس منظر میں پرورش پانے والی صنفِ نازک نے اپنے احساسات کو خوبصورت الفاظ کا پیرہن دیا اور ایک نئے اسلوب کے ساتھ صفحہ قرطاس پر نمودار ہوکر علمی اور ادبی حلقوں کو چونکا دیا۔
ڈاکٹر عزیزہ انجم کے پہلے شعری مجموعے ’’چاندنی اکیلی ہے‘‘ میں دو حمدیہ نظمیں، ایک دعا، پانچ نعتیں، اڑتیس نظمیں، آٹھ مختصر نثری نظمیں اور پچاس غزلیں شامل ہیں۔ موصوفہ نے اپنے کلام میں حیاتِ مستعار کے کئی گوشوں کو خوبصورت الفاظ میں رعنائیت دے کر شعروں کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس حساس دل رکھنے والی شاعرہ نے اپنے افکار اور حالاتِ حاضرہ کے ادراک کو شعر کی لطیف زبان میں اپنے منفرد اسلوب اور طرزِ اظہار سے توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔
وہ اپنے دل کی باتیں کھل کر کہتی ہیں۔ معاشرے اور ماحول کی ایک فعال حساس انسان کی حیثیت سے وہ سانحات، حادثات اور المیوں سے لاتعلق نہیں رہتیں۔ وہ رنج و خوشی، حسرت و شادمانی، یعنی ہر قسم کے احساسات کو شعر کی خوبصورت زبان عطا کرنے پر قدرت رکھتی ہیں۔
احمد حاطب صدیقی اپنے پیش لفظ میں جسے انہوں نے ’’زندگی کی رعنائیوں کی شاعرہ‘‘ کا عنوان دیا ہے، لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر عزیزہ انجم کا مجموعہ کلام ’’چاندنی اکیلی ہے‘‘ نظر سے گزرا تو تعجب ہوا کہ ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں ہے۔ زندگی کا کون سا ایسا گوشہ ہے جو اس عزیزہ کے تجربے سے گزر کر شعر میں نہ ڈھل گیا ہو! شاعری کی کون سی ایسی صنف ہے جس میں حساس دل رکھنے والی اس شاعرہ نے اپنے افکار کو شعر کی لطیف زبان عطا نہ کردی ہو! ماحول کا ایسا کون سا مسئلہ ہے جس کو ایک نئے اسلوب اور نئے طرزِ اظہار سے انہوں نے قابلِ توجہ نہ بنادیا ہو! عزیزہ انجم کے ہاں روایت اور ایجاد کا امتزاج نظر آتا ہے۔ جب وہ رب ذوالجلال کی حمد کرتی ہیں تو کہتی ہیں:

اسی کا سب کمال ہے حیات پُر جمال ہے
وہ اک حسیں خیال ہے جسے نہیں زوال ہے
وہ ربِّ ذوالجلال ہے

اور جب اپنے ربِّ ذوالجلال سے دعا مانگتی ہیں تو دیکھیے کیا مانگتی ہیں:
مجھے اپنا عکسِ جمال دے، مجھے حسنِ حرف و خیال دے
مجھے وہ ہنر وہ کمال دے کہ زمانہ جس کی مثال دے
خالص مشرقی اور اسلامی ذہن کی مالک ڈاکٹر عزیزہ انجم ملتِ اسلامیہ اور اخوان المسلمون کے معروف رہنما اور مجاہد سید قطب شہید کے منصبِ شہادت پر فائز ہونے پر،پاک وطن کے مشرقی بازو میں اسلام دشمنوں کے ہاتھوں عبدالمالک کی شہادت اور محبانِ وطن کے شہیدوں اور اپنے عزیز بھائی سیدواصف عزیز اور حافظ محمد اسلم کی شہادت پر بھی نوحہ کناں ہوئی ہیں۔ سقوطِ ڈھاکا، ہوائی حادثہ، افغان دوشیزہ ایسی نظمیں ہیں جن میں شاعرہ نے اپنے شہر ذات سے نکل کر اپنے عہد اور ماحول کے گہرے شعور اور ادراک کی حساسیت کا اظہار کیا ہے۔
ایک بہت خوب صورت نظم ’’کرن کا گیت‘‘ ہے جس میں خیال کی لطافت اور اظہار کی خوبی اس قدر مکمل ہے کہ ایک بے حد مؤثر اظہاریہ تشکیل پایا ہے۔ انسانی تاریخ میں الہامی ہدایت کا سلسلہ جو پیغمبروں سے شروع ہوا، ہر زمانے میں سچ کے علَم برداروں کی صورت ہمیشہ مربوط رہے گا۔
ایک انسان جب بھی پیمبر بنا
اپنے پیروں میں کانٹے چبھوئے ہوئے
وقت کے ریگزاروں پہ چلتا رہا
کلام کی پختگی کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ پہلا مجموعہ آنے میں بہت دیر ہوئی، جو دوسرا مجموعہ آنے میں نہیں ہونی چاہیے۔ احساس کی مٹی کو ہنر اور انگلیاں مل جائیں تو شاہکار تخلیق پاتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ احساس کی آنچ بھی لو دیتی رہے اور ہنر بھی نکھرے، تاکہ ہم ڈاکٹر صاحبہ کی مزید شعری تخلیقات سے مستفید ہوں۔‘‘
نظموں میں وہ دینِ حق کی فہیم مائیں، پھر ترا نقشِ قدم قافلہ سالار بنا (سید قطب شہید کی نذر)، سنہرے بنگال کے شہیدو، وقت نے جبر کی صلیبوں پر، مائوں کا دن، عظمتِ نسوانیت کا تاج، آیتِ قرآں حجاب، کہ اب نہیں دیکھا جاتا (حلب کے المیے پر)، ویلنٹائن ڈے، میرے شہر کی رونقیں، افغان دوشیزہ، ایسے بھی دن تھے ہم نے گزارے، اعتبار کا موسم، روشنی کا پیام اور میرے خدایا موضوعاتی اور علامتی خوبصورت نظمیں ہیں۔ بعض کچھ چھوٹی بحروں میں غنائی تغزل سے معمور ہیں۔ غزلوں کے چند منتخب اشعار نذرِ قارئین ہیں:

ستارے، پھول، ہوا مہرباں رہے سارے
تمہارے ساتھ گزاری تھی شام ہم لکھیں
کدورتوں کو دلوں سے ہٹا کے دیکھیں تو
کبھی خلوص کا زمزم بہا کے دیکھیں تو
گردشِ حالات کا رونا نہ رونا چاہیے
اپنے رب کی رحمتوں پر بھی بھروسہ چاہیے
وفا کی جنگ نہ ہاری متاعِ جاں ہاری
اور اس کے ساتھ ہی ہارے جلے ہوئے خیمے
ہم ترے بعد سفر کیا کرتے
لوگ الزام ہزاروں دھرتے
پیرہن جن کے ہیں خوں آلودہ
سرخیِ رنگِ حنا کیا دیکھیں
دیدہ وروں نے اپنی بصیرت ہی بیچ دی
کس سے کہوں کہ وقت کی تحریر دیکھنا
جب سے جرم ٹھہرا ہے حرفِ آگہی کہنا
ذہن پر خیالوں کی دستکوں سے ڈرتے ہیں
جب کھِل اٹھی تو خوشبوئے پنہاں سے کیوں گریز
تم ہی نے دی تھی راہ میں کچی کلی مجھے
تیری ہر شے عزیز ہے مجھ کو
دے مجھے زخمِ نارسائی دے

Share this: