کشمیریوں کو خاموش کروانے میں ٹویٹر بھارت کی مدد کررہا ہے؟۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ شکایات موصول ہوئیں کہ ان کے اکاؤنٹس کو بند کردیا گیا یا پھر ان کے پیغام کو ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی حمایت اور بھارتی فورسز کے ظلم کے خلاف کیے تھے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایسے 200 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی تھی جو صرف ٹویٹر نے بلاک کیے تھے، جبکہ اسلام آباد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ کشمیریوں اور ان کے حمایتیوں کو خاموش کرنے کے لیے بھارت کو مدد فراہم کررہا ہے۔ جن صارفین کے اکاؤنٹس کے خلاف رپورٹس ٹویٹر کو موصول ہوئی تھیں ان میں پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی بھی شامل تھے، جنہیں ٹویٹر کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ تاہم ٹویٹر نے یہ واضح کیا تھا کہ ڈاکٹر عارف علوی کے اکاؤنٹ میں ایسا مواد نہیں تھا جس سے پلیٹ فارم کے ضابطے کی خلاف ورزی ظاہر ہو، اسی وجہ سے ان کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مذکورہ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے حکومت اور مجاز اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مواد کو سینسر کرنے کے لیے ملکوں کی بنیاد پر ٹویٹر کو درخواست دیں۔ ٹویٹر کہتا ہے کہ وہ مجموعی کوششوں کے ذریعے شفافیت کا موقع فراہم کرتا ہے، تاہم متاثرہ شخص یا ادارہ براہِ راست درخواست، وژول انڈیکیٹرز اور لیومن پر عدالتی احکامات شائع کرکے پلیٹ فارم کو آگاہ کرسکتا ہے۔ بھارت کی وزارتِ انفارمیشن اینڈ الیکٹرونک ٹیکنالوجی نے لیومن پر قانونی درخواستوں کی ایک پوری فہرست ارسال کی جس میں کہا گیا کہ متعلقہ اکاؤنٹس یا تو کشمیریوں کے ہیں یا پھر ان کی حمایت میں شائع کیے گئے پیغامات کے ہیں جو بھارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ رواں ماہ 14 اگست سے اب تک بھارت کی جانب سے 6 قانونی درخواستیں دی گئی ہیں، ان میں ایک مثال صحافی ارشد شریف کے خلاف درخواست ہے جسے ڈیٹا بیس میں اَپ لوڈ نہیں کیا گیا۔ ٹویٹر کا اپنے اصولوں پر تضاد اور ان پر عمل نہ کرنا ہی لوگوں میں اس کے رپورٹنگ کے عمل میں بداعتمادی کی فضا قائم کرتا ہے، جبکہ اس سے لوگوں میں یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ ٹویٹر اس خطے کی سیاست کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ کشمیر سے متعلق پیغام شائع کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ انہیں ٹویٹر کی جانب سے ’شیڈو بینڈ‘ کا سامنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹویٹر، صارفین کے ایسے پیغامات کو صرف ان ہی کی حد تک محدود کردیتا ہے اور اس تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ دوسرے ممالک بالخصوص بھارتی صارفین کا کہنا تھا کہ کشمیر کی حمایت میں جاری ان کے پیغامات کو ’حساس مواد قرار‘ دیا جاتا ہے، تاہم دوسرے صارف کی جانب سے کلک کرنے پر اس مواد کو کھول دیا جاتا ہے۔

آب و ہوا میں تبدیلی غذائی نظام کو شدید متاثر کرنے کا موجب

امریکی محکمہ زراعت کی قومی تجربہ گاہ کے سربراہ جیری ہیٹ فیلڈ کہتے ہیں کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے غذائی پیداوار کا پورا نظام متاثر ہوگا، اس سے کچھ علاقے کم اور بعض ممالک بہت زیادہ متاثر ہوں گے، اس کی کئی مثالوں میں یورپ کی حالیہ شدید گرمی میں مکئی اور انگور کے قدیم باغات کی تباہی ہے۔ اس طرح 2019ء میں یورپ میں انگوروں کی پیداوار میں 13 فیصد کمی متوقع ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے وسطی علاقوں میں سویا اور مکئی کی فصلیں موسلا دھار بارشوں سے تباہ ہوئیں اور کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسی طرح اٹلی میں آڑو، نارنجی اور چیری کی پیداوار کم ہوئی ہے۔ خطِ استوا کے کئی ممالک سے کافی اور کوکو (چاکلیٹ) کے کھیتوں کی تباہی کی خبر آئی ہے اور پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ زراعت میں کیڑے مار ادویہ کے اندھا دھند استعمال اور گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت سے شہد کی مکھیوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے جس کے باعث فصلیں متاثر ہورہی ہیں اور ان کے دوررس منفی نتائج سامنے آئیں گے۔کیمبرج سے لے کر کیلی فورنیا یونیورسٹی تک تمام ماہرین یک زبان ہوکر کہہ رہے ہیں کہ موسمیاتی شدت کے واقعات بھی زراعت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

پُر امید انسان لمبی عمر پاتے ہیں

زندگی اور موت کا تو اللہ ہی کو معلوم ہے، لیکن ایک نئے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پُرامید افراد نہ صرف بہتر زندگی گزارتے ہیں بلکہ وہ طویل عمر پاتے ہیں، یہاں تک کہ 85 برس کے غیرمعمولی ہندسے تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پہلی مرتبہ پُرامید افراد اور ان کی زندگی کی طوالت کے درمیان تعلق بیان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بطورِ خاص عمر کی غیرمعمولی طوالت کا بھی مشاہدہ کیا گیا، یعنی 85 سال سے زائد کی زندگی کو بھی نوٹ کیا گیا۔ اس سے قبل زیادہ عمر پانے والے افراد میں جینیاتی، طبی اور فعلیاتی عوامل کو ہی دیکھا گیا تھا، لیکن پہلی مرتبہ پُرامید اور بلند حوصلے والے افراد کو اس مطالعے میں شامل کیا گیا ہے جو غیرحیاتیاتی عوامل ہیں۔ ناامیدی اور پُرامیدی کے پانچ درجات رکھے گئے تھے جو ایک طرح کے پیمانے کو ظاہر کرتے تھے۔ پہلے دس برس میں 13 فیصد خواتین فوت ہوگئیں اور 30 سالہ فالو اپ میں 70 فیصد مرد انتقال کرگئے۔ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ جو خواتین و حضرات سب سے بلند درجے تک پُرامید رہے وہ دوسروں کے مقابلے میں 11 سے 15 فیصد وقت تک زندہ رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ عمر کے بیشتر وقت پُرامید رہتے ہیں ان میں 85 سال کی عمر پانے کے امکانات 50 سے 70 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ امید پورے جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔

سارے جسم کی صحت کی خبر دینے والی، اے آئی ای سی جی

سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کو عام الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی) پر آزمایا ہے اور اس سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) یا اے آئی نے صرف ای سی کو دیکھتے ہوئے مریض کی عمر اور جنس کا بڑی حد تک درست اندازہ لگایا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ ماہرین نے ایک دو نہیں بلکہ 500,000 افراد کے ای سی جی استعمال کیے۔ اس کے بعد مزید دو لاکھ پچھتر ہزار لوگوں کے ای سی جی لیے گئے تو اے آئی پروگرام نے نہایت کامیابی سے ای سی جی کے ذریعے مریضوں کی عمر اور جنس کا سراغ لگالیا۔ تاہم سافٹ ویئر نے 90 فیصد درستی سے بتایا کہ یہ مرد ہے یا عورت، اور 72 فیصد درستی سے عمر کا احوال سنایا۔ ایک عرصے سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ انسان کی تاریخی عمر اور اس کے اعضا کی عمر میں فرق ہوتا ہے اور اسی بنا پر اے آئی کی مدد سے ای سی جی کو مزید پڑھ کر انسانی صحت کے کئی گوشوں کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔

Share this: