مسئلہ کشمیر، کچھ نئے پہلو

کیا کشمیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے؟ کشمیر پر جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور کئی دفعہ مذاکرات بھی، لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ آج ایک دفعہ پھر پوری دنیا بھارت اور پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ پاکستان تو مذاکرات پر آمادہ ہے لیکن بھارت کا وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بڑے تکبر کے ساتھ اعلان کررہا ہے کہ ہاں مذاکرات ہوں گے لیکن آزاد کشمیر پر ہوں گے۔ آج کے دور میں عالمی تنازعات کو حل کرنے کا بہترین راستہ مذاکرات کو سمجھا جاتا ہے، لیکن دوحہ میں سپر پاور امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات نے دنیا بھر کی محکوم اقوام کو یہ سبق دیا ہے کہ مذاکرات اُسی وقت آگے بڑھتے ہیں جب کمزور کے ہاتھ میں بھی بندوق ہو اور وہ مرنے مارنے پر اتر آئے۔ امریکہ اور اس کے حواری کئی سال تک طالبان کو دہشت گرد قرار دیتے رہے، اور آج ان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے نو رائونڈ مکمل کیے جا چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا بھی افغانستان کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے، اور اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ افغانیوں اور برطانوی فوج کی پہلی لڑائی میں راجا گلاب سنگھ نے برطانیہ کی مدد کی۔ پھر جب سکھوں اور برطانوی فوج کی 1845ء میں لڑائی ہوئی تو راجا گلاب سنگھ نے سکھوں کے ساتھ غداری کی اور اس کے انعام میں اگلے ہی سال برطانوی گورنر جنرل ہیری ہارڈنگز نے معاہدۂ امرتسر کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر محض 75لاکھ نانک شاہی سکوں کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کردی۔ گلاب سنگھ نے سری نگر پر قبضے کے لیے جموں سے فوج بھیجی تو شدید مزاحمت ہوئی، جس پر ہارڈنگز نے اس کی مدد کی۔ یہ کشمیر فروش انگریز گورنر جنرل بعد ازاں برطانوی فوج کا کمانڈر انچیف اور فیلڈ مارشل بنا۔ 1947ء میں ایک اور انگریز گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے گلاب سنگھ کے خاندان کے ساتھ ملی بھگت کرکے ریاست جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کروا دیا۔ اس الحاق کے خلاف مسلح بغاوت ہوئی اور بھارت و پاکستان میں جنگ شروع ہوگئی۔ جب بھارت کو کشمیر ہاتھ سے نکلتا نظر آیا تو وہ بھاگم بھاگ اقوام متحدہ پہنچا اور سیز فائر کرا دیا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ پر اعتماد کرکے کشمیر کی آزادی کا یہ پہلا موقع کھو دیا۔
اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے 13اگست 1948ء اور 5جنوری 1949ء کی قراردادیں منظور کیں، جن کے تحت کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دیا گیا، لیکن جب بھارت کا جموں و کشمیر پر فوجی قبضہ مستحکم ہوگیا تو اس نے ان قراردادوں کو فراموش کردیا۔ اس دوران سلامتی کونسل نے آسٹریلیا کے ایک جج اوون ڈکسن کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالث مقرر کیا۔ ڈکسن نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک سیدھا سادہ ریفرنڈم کرانے کے بجائے بڑا پیچیدہ منصوبہ پیش کردیا جو ڈکسن پلان کہلایا۔ ڈکسن نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کو چار زونز میں تقسیم کردیا جائے: کشمیر، جموں، لداخ اور آزاد کشمیر و شمالی علاقہ جات۔ پھر ان چاروں زونز میں ضلع بہ ضلع رائے شماری کرائی جائے۔ پاکستان نے یہ منصوبہ مسترد کردیا، کیونکہ اس کا مقصد جموں اور لداخ کو بھارت کے حوالے کرنا نظر آتا تھا۔ بعد ازاں ڈکسن نے چناب فارمولا پیش کیا جس کے تحت دریائے چناب کو بنیاد بناکر تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ کپواڑہ، سری نگر، بارہ مولا، اسلام آباد، پلوامہ، بڈگام، پونچھ اور راجوری پاکستان میں آجائیں اور جموں بھارت میں چلا جائے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی مسترد کردی۔ 1956ء میں حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم بنے تو امریکی صدر آئزن ہاور نے اُن سے پاکستان میں ایک فوجی اڈہ مانگا۔ سہروردی نے شرط رکھی کہ مسئلہ کشمیر حل کرا دیا جائے تو پاکستان پشاور کے قریب امریکہ کو فوجی اڈہ دے دے گا۔ امریکہ کی کوشش سے جنوری 1957ء میں مسئلہ کشمیر ایک دفعہ پھر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آگیا، لیکن اکتوبر 1957ء میں میجر جنرل اسکندر مرزا نے اُن سے زبردستی استعفیٰ لے لیا۔ ایوب خان کے ایک قریبی ساتھی مرید حسین نے منیر احمد منیر سے انٹرویو میں بتایا کہ استعفے کے بعد سہروردی نے کہا کہ پرائم منسٹر شپ تو آنی جانی چیز ہے لیکن کشمیر ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے گیا۔ (اَن کہی سیاست، صفحہ22)۔
تیسری دفعہ کشمیر کی آزادی کا موقع 1962ء میں آیا جب چین اور بھارت میں جنگ شروع ہوئی۔ چین نے ایوب خان کو پیغام بھیجا کہ بھارتی فوج چین کی سرحد پر اکٹھی ہوگئی ہے، کشمیر خالی ہے اسے آزاد کرا لو، لیکن امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور برطانیہ کے وزیراعظم ہیرلڈ میکملن نے ایوب خان کو کشمیر پر حملے سے باز رکھا۔ امریکی سی آئی اے کے ایک سابق افسر بروس ریڈل نے اپنی کتاب JFK’s Forgotten Crisis میں پوری تفصیل بیان کی ہے کہ کیسے پاکستان کو کشمیر پر حملے سے روکا گیا۔ اس دوران 22 دسمبر 1962ء کو پنڈت نہرو نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو میں کہا کہ سیزفائر لائن میں معمولی رد و بدل کرکے اسے سرحد تسلیم کرلیتے ہیں۔ جنوری 1963ء میں اس تجویز پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات ہوئے، پاکستان نے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا اور مذاکرات ناکام ہوگئے۔
1965ء کے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف دھونس و دھاندلی کے استعمال پر ایوب خان کے خلاف بہت غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ اس غم و غصے کو ختم کرنے کے لیے ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کی منظوری دی۔ پاکستان کے فوجی دستے مقبوضہ جموں و کشمیر میں داخل ہوگئے لیکن بھارت نے لاہور پر حملہ کردیا اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے سترہ دن کے بعد پھر سیز فائر ہوگیا۔ 1989ء میں افغانستان سے روسی فوج کی واپسی کے بعد کشمیر میں بھی مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرحوم رہنما امان اللہ خان نے اپنی آپ بیتی ’’جہدِ مسلسل‘‘ (جلد سوم) میں لکھا ہے کہ اُن کی جماعت نے 1987ء میں خودمختار کشمیر کے لیے مسلح جدوجہد جنرل ضیاء الحق کی تائید و حمایت سے شروع کی لیکن جنرل ضیاء کی موت کے بعد جے کے ایل ایف کے مقابلے پر حزب المجاہدین کو کھڑا کردیا گیا، اس کے باوجود 1995ء میں کشمیر اپنی آزادی کے قریب تھا۔ جے کے ایل ایف اور حزب المجاہدین کے اختلافات ختم ہوگئے تھے، لیکن پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ہم آزادی حاصل نہ کرسکے۔
1999ء میں کارگل آپریشن کے ذریعے کشمیر کی آزادی کی ایک اور کوشش ہوئی اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے ایک طرف کشمیر کی تحریک آزادی پر دہشت گردی کا لیبل لگ گیا، دوسری طرف سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی نے جنم لیا اور نوازشریف کی حکومت ختم ہوگئی۔ 2007ء میں پرویزمشرف اور من موہن سنگھ مسئلہ کشمیر کے اُس حل پر متفق ہوگئے جو پہلی دفعہ اوون ڈکسن نے پیش کیا تھا اور بعد ازاں نہرو نے بھی یہی فارمولا پیش کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کو مستقل بارڈر تسلیم کرلیا جائے۔ حریت کانفرنس کے لیڈر سید علی گیلانی نے اس فارمولے کو کشمیریوں سے غداری قرار دے کر مسترد کردیا، اور پھر وکلاء تحریک کے نتیجے میں پرویزمشرف زوال کا شکار ہوگئے اور اپنے فارمولے پر عمل درآمد نہ کرسکے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت کی حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان سے لگتا ہے کہ مشرف اور من موہن سنگھ میں طے پانے والے فارمولے پر طاقت کے ذریعے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ راج ناتھ سنگھ کی دھمکی کو محض سیاسی بڑھک نہ سمجھا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ء میں اپنی کتاب The Myth of Independence میں لکھا تھا کہ نہرو کی سوچ وہی ہے جو آر ایس ایس کے لیڈر ساوارکر کی تھی۔ یہ اکھنڈ بھارت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ صرف کشمیر پر قبضے کی کوشش کریں گے بلکہ پاکستان کو بھی توڑنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے چار سال بعد پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے لکھا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہر سازش میں بھارت کو امریکہ کی تائید حاصل رہی ہے اور آئندہ بھی حاصل رہے گی۔ یہ دونوں مل کر پاکستان کا وجود مٹانا چاہتے ہیں اور کشمیری پاکستان کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بھٹو کو ہم نے پھانسی پر لٹکا دیا، لیکن بھٹو کی وارننگ کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ دشمن کی نظر صرف آزاد کشمیر پر نہیں بلکہ پاکستان پر بھی ہے۔
(حامد میر۔ روزنامہ جنگ،2 ستمبر، 2019ء)

Share this: