بھارت کی ہندو انتہا پسندی… عالمی امن کے لیے چیلنج

بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے میں فوجی محاصرے کو ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے۔ اس طویل عرصے میں کرفیو کے باعث گھروں میں نظربند بے بس اور بے کس کشمیری باشندے جس اذیت ناک صورتِ حال سے دوچار ہیں، دُور بیٹھ کر اس کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔ پاکستان کی متحرک سفارت کاری کے باعث اگرچہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا احساس کیا جانے لگا ہے، اسلامی کانفرنس کی تنظیم نے بھارت سے فوری طور پر کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اقوام متحدہ میں نصف صدی سے زائد سرد خانے میں پڑا رہنے کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر زیربحث آیا ہے، یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے برسلز میں ہونے والے اجلاس میں بھارت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، کمیٹی نے پہلی بار کشمیر کے مسئلے کو زیربحث لاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کو تشویش ناک اور بھارتی وزیراعظم مودی کی حکومت کے رویّے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کرفیو فوراً ہٹانے اور پاکستان کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے، کمیٹی نے یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کو بھی مقبوضہ کشمیر کی غیر انسانی صورتِ حال کا نوٹس لینے کی جانب متوجہ کیا ہے۔
اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (اسنا) کے ہیوسٹن میں منعقدہ سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے ٹرمپ حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کی جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے جابرانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سیکورٹی کے نام پر کریک ڈائون اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق چھیننے کے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے مواصلاتی رابطے بحال کرنے اور کرفیو کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر آواز بلند کی جائے۔ اسنا کے اس کنونشن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی ویڈیو لنک پر خطاب کیا۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اس وقت پورا بھارت انتہا پسندانہ ہندو نظریات کے کنٹرول میں ہے، اور آر ایس ایس خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی کی بے وقوفی کی وجہ سے دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آچکی ہیں، تاہم بھارت نے اگر کوئی ایڈونچر کیا تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔
مالدیپ میں منعقدہ اسپیکرز کانفرنس میں بھی پاکستانی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے شرکاء کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورت حال سے آگاہ کیا اور دنیا سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس مرحلے پر بھارتی اسپیکر اوم برلا نے ہنگامہ آرائی کی کوشش کی، تاہم کانفرنس کے شرکاء نے اس پر اظہارِ ناپسندیدگی کیا اور کانفرنس کے صدر نے پاکستانی نمائندے قاسم سوری کو اپنی بات جاری رکھنے کا موقع دیا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ٹام واٹسن نے بھی سٹی کونسل کے باہر ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، بدترین تشدد اور انسانی حقوق کی شدید پامالی کی مذمت کی اور کہا کہ مقبوضہ وادی کے لوگ خوراک اور ادویہ تک سے محروم ہیں اور پورا علاقہ ایک انسانی بحران سے دوچار ہے۔ بھارت میں تعینات آسٹریلوی ہائی کمشنر نے بھی کشمیر پر بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اسے حل کیا جائے اور کشمیر کے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ایرانی پارلیمنٹ نے کشمیر سے متعلق قرارداد منظور کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ کشمیری خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ قبل ازیں ایران کے روحانی قائد آیت اللہ خامنہ ای بھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کی واضح الفاظ میں مذمت کرچکے ہیں۔ ترکی اور ملائشیا نے بھی کھل کر کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی تائید و حمایت اور بھارتی مظالم کی مذمت کی ہے۔ انسانی حقوق کے مختلف اداروں خصوصاً ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات کے بارے میں جاری کی گئی رپورٹوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم کی داستانیں دنیا کے سامنے نمایاں کررہے ہیں۔ یوں بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ اور ظالمانہ طرزِعمل بے نقاب ہوکر عالمی رائے عامہ کے سامنے اجاگر ہورہا ہے۔
تصویر کا ایک رخ وہ ہے جو سطورِ بالا میں پیش کیا گیا ہے، مگر دوسری جانب بھارت میں اقتدار و اختیار پر انتہا پسند ہندو سوچ پوری طرح غلبہ حاصل کرچکی ہے، اور وہاں کی حکومت آر ایس ایس اور دوسرے جنونی ہندو گروہوں کے زیراثر ’’ہندوستان صرف ہندوئوں کا’’ کی سوچ پر عمل پیرا ہے، اور کسی بھی عالمی ردعمل کی پروا کیے بغیر نہایت تیزی سے ایسے اقدامات کررہی ہے جن کا مقصد بھارت کو خالص ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے، چنانچہ اسی سوچ کے تحت بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) جیسا کالا قانون نافذ کردیا گیا ہے، جس کے تحت 19 لاکھ 7 ہزار کے قریب افراد کو، جن کی اکثریت مسلمان ہے، بھارتی شہریت سے محروم کرکے غیر ملکی قرار دے دیا گیا ہے۔ ان کو ان کی زمینوں، ووٹ ڈالنے کے حق سمیت دیگر آزادیوں اور حقوق سے محروم کرکے حراستی مراکز میں قید یا ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس تازہ بھارتی اقدام کے متعلق ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر میلیپو گرائزن نے کہا ہے کہ بھارت کے تقریباً بیس لاکھ شہریوں کو شہریت سے محروم کرنے سے عالمی سطح پر ان کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا جو لوگوں کو بے وطن کرنے اور شہریت سے محروم کیے جانے کے خلاف جاری ہیں۔ بھارت کو ان بین الاقوامی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے اور اپنے لوگوں کو شہریت سے محروم کرنے سے باز رہنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کا یہ انتباہ بروقت اور بجا ہے، مگر اب تک کا بھارتی طرزعمل اس امر کی نشاندہی کررہا ہے کہ بھارت کی مودی حکومت کو ہندو انتہا پسندی پر مبنی اپنے شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کسی بھی زبانی ردعمل کی کوئی پروا نہیں۔ عالمی برادری اور اس کے ادارے اگر واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی پر بھارت کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنا ہوں گی جیسا کہ ماضی میں ان قراردادوں پر عمل نہ کرنے والے دیگر ملکوں کے خلاف عائد کی جاتی رہی ہیں۔ کیونکہ بھارت ایک ایسا بھوت ہے جو باتوں نہیں، لاتوں کی زبان ہی سمجھتا ہے۔
(حامد ریاض ڈوگر)

Share this: