آج پھر ایک محمد بن قاسم کی ضرورت ہے!۔

عظمیٰ گل دختر جنرل (ر) حمید گل

سندھ سے آنے والے ایلچی نے حجاج بن یوسف کو ایک سفید رومال پیش کیا۔ جس پر ایک مسلمان لڑکی نے اپنے خون سے خط تحری کیا تھا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ والی ٔ بصرہ قاصد کی زبانی مسلمان بچوں اور عورتوں کا حال سن کر اپنی فوج کے غیور سپاہیوں کو گھوڑوں پر زینیں ڈالنے کا حکم دے چکا ہو گا اور قاصد کو میرا یہ خط دکھانے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ اگر حجاج بن یوسف کا خون منجمد ہو چکا ہے تو شاید میری تحریر بھی بے سود ثابت ہو۔ میں موت سے نہیں ڈرتی لیکن اسے حجاج ! اگر تم زندہ ہو تو اپنی غیور قوم کے یتیموں اور بیوائوں کی مدد کو پہنچو۔ ایک غیور قوم کی بے بس بیٹی ‘‘ ۔ یہ خط پڑھنے کے بعد حجاج بن یوسف تڑپ اٹھا۔ اس کا دل بھر آیا اور اُس نے جہاد کا اعلان کیا اور امیرالمومنین سے منظوری کے لئے محمد بن قاسم کو دمشق روانہ کر دیا۔ محمد بن قاسم امیرالمومنین ولید کے دربار میں پہنچا تو ولید اپنی آواز میں اہل دربار کو مسلمان لڑکی کا خط نہیں سنا سکا اس پر رقت طاری ہو گئی۔ اس نے خط محمد بن قاسم کو پڑھنے کے لئے دیا تو سب ہی فرط جذبات سے گنگ رہ گئے۔ بزرگ قاضی نے کہا امیرالمومنین ! اب آپ کو کس بات کا انتظار ہے؟ یہ سوچنے کا موقع نہیں پانی سر سے گزر چکا ہے۔ ولید نے پوچھا آپ کی کیا رائے ہے؟ قاضی نے جواب دیا۔ امیرالمومنین فرض کے معاملے میں رائے سے کام نہیں لیا جاتا۔ رائے تو صرف اُس وقت کام دے سکتی ہے جب سامنے دو راستے ہوں لیکن ہمارے سامنے تو صرف ایک ہی راستہ ہے۔

آج طویل کرفیو، پیلٹ گنوں کے حملے، نوجوانوں کا قتل، عورتوں کی عصمت دری، بلکتے بچوں، ضعیفوں کی پکاریں، کشمیری چیخ چیخ کر مدد کے طلبگار ہیں اور کہہ رہے ہیں۔ ہم تو مر جائیں گے مگر تم اللہ کو کیا جواب دو گے؟ کیا تم کو قرآن یاد نہیں یا تم نے قرآن پڑھا ہی نہیں۔ قرآن کہتا ہے ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ بڑے ظالم جفاکار ہیں اور ہمارے لئے خاص اپنی طرف سے ایک محافظ و مددگار مقرر فرما۔ (سورۃ النساء ۔75)۔

ہم تو مصلحتوں، حکمتوں، مفاہمتوں اور مذمتوں کے نرغوں میں گھیرے گئے ہیں۔ ہمیں اقوام عالم کو ساتھ لے کر چلنے کی سفارتکاری کے جال میں بری طرح الجھا دیا گیا ہے۔ ہم اللہ اور اپنے پر بھروسے کی بجائے دوسروں کی مدد کے محتاج ہو گئے ہیں۔ امریکہ اور UNپر آس لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ ہم سے زیادہ اس حقیقت سے کون آگاہ ہو گا کہ UNبند کمروں کے اجلاسوں میں بیٹھ کر معاملات کو الجھانے اور لٹکانے کی مہارت رکھتا ہے۔ 72سال کے طویل عرصے پر محیط کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور نہرو کے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی پر UNکے کان پر جون بھی نہ رینگی۔ ادھر ہم ہیں کہ سیکورٹی کونسل کے ایک اجلاس میں 52سال کے بعد کشمیر کا ذکر آنے پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ آج دن بعد بھی جلسے جلوسوں اور تقاریر میں ہم کشمیر اور کشمیریوں سے زبانی کلامی یک جہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ عملاً تو یہ ہے کہ ہم اپنی ہوائی حدود، ہندوستان سے افغانستان کی راہداری اور تجارت بھی مکمل طور پر نہ بند کر سکے ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ ہندوستان سے ہمارا صرف دشمنی کا رشتہ ہے اور ہندوستان سے تجارت کشمیری شہیدوں کے لہو سے بے وفائی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جنگ تباہی لاتی ہے اور جنگ کے لئے مضبوط معیشت کی ضرورت ہوتی ہے اور ہماری کمزور معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہم72سال میں تو معیشت ٹھیک نہ کرسکے شاید مزید 72سال میں ٹھیک کر لیں مگر تب تک تو کشمیری زندہ ہی نہ رہیں گے۔ معیشت مستحکم ہونے کے باوجود آج اقوام عالم میں جاپان کی کوئی حیثیت نہیں جبکہ شمالی کوریا سے سب خائف ہیں۔

ہم برسوں سے یہی کہتے رہے ہیں کہ جنگ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے۔ آج بھی بار بار یہی دُہرا رہے ہیں کہ ہم جنگ میں پہل نہیں کریں گے اور نہ ہی نیو کلیئر صلاحیت کے استعمال میں پہل کریں گے۔ ہم مودی کو یقین دلا رہے ہیں کہ مودی! تم جو چاہو کشمیر میں اور کشمیریوں کے ساتھ کر گزرو ہم جنگ نہیں کریں گے حالانکہ ہمیں اسے بتانا چاہئے کہ ہم جنگ کے لئے تیار ہیں خواہ اس کے لئے ہمیں نیو کلیئر جنگ ہی کیوں نہ کرنی پڑے جیسا کہ ہندوئوں کی پاکستان مخالفت پر قائد اعظم نے کہا تھا۔

“We shall have india Divided or India Destroyed”

ہم ٹرمپ سے ثالثی اور مغربی ممالک سے اس کے حل کے طلبگار ہیں جبکہ یہ آگ تو انہی کی لگائی ہوئی ہے ہم اسلامی ممالک سے ہمدردی کے خواہاں ہیں جبکہ ان کی اپنی حالت ان مرغیوں کی سی ہے جو ڈربے میں بند ذبح ہونے کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ جو قومیں اپنے لئے خود نہیں لڑ سکتیں ان کے لئے کوئی اور نہیں لڑتا۔ جنگ مسلمانوں کا خاصہ روہا ہے اور مسلمان اول سے شہادت کے طلبگار، آزادی سے پہلے برِصغیر ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں تھے مگر ان کی دھاک ہندوئوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ یہ لڑنے مرنے والی قوم ہے اور اسی جذبہ جہاد نے پاکستان کی بنیاد بھی رکھی۔ جہاد ہی ہماری قوت اور طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ کمزور اور بزدل بہانے تلاش کرتے ہیں وگرنہ تاریخ گواہ ہے کہ مٹھی بھر بے سروسامان مسلمانوں نے اپنے سے کئی گنا اسلحہ سے لیس لشکروں کو شکست فاش دی۔ کیا کشمیریوں کی حالت زار پر ہر مسلمان اور ہر پاکستانی پر جہاد فرض نہیں ہو گیا؟ کیا کشمیری مظلوم اور مودی ظالم نہیں؟ تو پھر کیوں ہم ظالم کا ہاتھ روکنے اور مظلوموں کی مدد کی خاطر جہاد نہیں کرتے ؟ میرے والد جرنل حمید گل نے کہا تھا‘‘ قوموں کے فیصلے حکمت، دانائی اور فراست سے ہوتے ہیں مگر بعض فیصلے سب کچھ پس پشت ڈال کر جرأت اور بہادری سے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ آج ہماری افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوجوں میں سے ہے اور جذبہ جہاد سے سرشار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم کشمیر اور کشمیریوں کے لئے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑ سکتے ہیں مگر ہم حکومتی پالیسی کے تابع ہیں۔ اس پر بزرگ قاضی کی وہ بات یاد آجاتی ہے جو اس نے امیرالمومنین ولید کو کہی تھی کہ فرض کے معاملے میں رائے سے کام نہیں لیا جاتا۔ رائے تو صرف اس وقت دی جا سکتی ہے جب سامنے دو راستے ہوں لیکن ہمارے سامنے تو صرف ایک ہی راستہ ہے۔ آج سوال یہ اٹھتا ہے کہ معاملے میں دو پالیسیاں بھی ہو سکتی ہیں؟ کیا ہمارے پاس جہاد کے علاوہ بھی کوئی راستہ ہے؟ نہیں! ہمارے پاس جہاد ہی واحد راستہ ہے۔ آج پھر ہمیں ایک محمد بن قاسم کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا۔

فضاء بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی

Share this: