باز گشت (ممتاز دانشوروں اور صحافیوں کی آراء پر مبنی تحریریں)۔

کتاب : باز گشت (ممتاز دانشوروں اور صحافیوں کی آراء پر مبنی تحریریں)۔
مرتب : جمیل اطہر قاضی
ضخامت : 312 صفحات قیمت:1200 روپے
ناشر : بک ہوم۔ بک اسٹریٹ، 46 مزنگ روڈ لاہور
فون : 042-37231518-37245072
برقی پتا : Bookhome1@hotmail.com
ویب گاہ : www.bookhomepulilisbers.com
یہ شاید ایک منفرد مثال ہے کہ ایک کتاب شائع ہوئی اور پھر اس کتاب کے بارے میں اہلِ علم و فکر اور صاحبانِ قرطاس و قلم کی آراء اور تبصروں پر مشتمل ایک نئی کتاب مرتب ہوکر زیورِ طباعت سے آراستہ ہوگئی۔ قبل ازیں ایسی مثالیں تو موجود ہیں کہ کسی کتاب کے بارے میں آراء پر مبنی چند ورقہ شائع ہوا ہو، مگر اس قسم کی تین سوا تین سو صفحات کی مکمل، بھرپور اور مفید کتاب کی اشاعت کی کوئی مثال کم از کم راقم الحروف کی یادداشت میں کہیں محفوظ نہیں۔ وطنِ عزیز کے سب سے زیادہ تجربے کے حامل اور بزرگ ترین اخبار نویسوں میں سے ایک سابق صدر انجمن مدیرانِ جرائد (سی پی این ای) اور سابق سینئر نائب صدر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، مدیر اعلیٰ تجارت گروپ آف پبلی کیشنز محترم جمیل اطہر قاضی (تمغائِ امتیاز) اپنی تازہ کتاب ’’بازگشت‘‘ کے آغاز میں ’’حرفِ تشکر‘‘ کے عنوان سے خود ان الفاظ میں وضاحت کرتے ہیں: ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ منظرعام پر آئی تو احباب کی طرف سے تبصروں کا سلسلہ چل نکلا، کچھ مہربانوں نے خطوط کے ذریعے اظہارِ تشکر کیا اور اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔ وقت گزرتا رہا مگر چاہت و اپنائیت کا یہ سلسلہ نہ تھما، اور ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ پر تبصرے اور کالم ملک بھر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئے۔ جو لوگ کالم نگاری اور تبصرہ نگاری نہ کرسکے اُن کی طرف سے مراسلات موصول ہوئے۔ ابتدا میں سوچا کہ اپنے مہربانوں کے اظہارِ مسرت و الفت کو کیوں ناں ایک کتابچے کی زینت بناکر محفوظ کرلیا جائے، مگر یہ تبصرے اور مراسلات اس قدر زیادہ ہوگئے کہ انہیں ایک کتاب کی شکل دینا پڑی جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ میرے اُن مضامین اور مقالات پر مشتمل مجموعہ ہے جو اُن شخصیات کے متعلق لکھے گئے جن کے ساتھ میرا رابطہ رہا، جب کہ تبصروں پر مشتمل یہ مجموعہ اُن شخصیات کی طرف سے میرے متعلق ہے اس دور میں جن سے میرا رابطہ ہے۔ گویا یہ وہ ’’بازگشت‘‘ ہے جو گزر جانے والوں کی یادوں سے ٹکراکر موجود لوگوں کی اپنائیت و محبت تک لوٹ آئی ہے۔ یہ بازگشت بہت مسحورکن اور دل آویز ہے۔
’’بازگشت‘‘ میں ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ پر کم و بیش اسّی حضرات کے تبصرے، آراء اور مراسلات شامل ہیں جن میں ایک سے بڑھ کر ایک دانشور، صحافی، کالم نویس اور دیگر اہلِ علم شامل ہیں۔ فہرستِ مضامین پر نظر ڈالیں تو صحافت، ابلاغیات، ادب، طب، تعلیم، عدل، مذہب اور سیاست سمیت تقریباً تمام شعبہ ہائے حیات سے متعلق کہنہ مشق شخصیات سے لے کر نوآموز و نووارد ہر سطح کے لوگ کتاب اور صاحبِ کتاب کے بارے میں رائے دینے والوں میں شامل ہیں، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جناب جمیل اطہر قاضی کس قدر دل آویز اور ہر دل عزیز شخصیت کے مالک ہیں کہ ان کی مقبولیت کسی ایک دور تک محدود نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے چاہنے والوں کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھے کہ وہ ماضی اور حال کے درمیان رابطے کی خوب صورت اور خوب سیرت کڑی ہیں۔
’’بازگشت‘‘ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ کتاب کو مرتب کرتے وقت جناب جمیل اطہر قاضی نے کہیں کہیں درمیان میں بھی اور خاص طور پر آخر کے ساٹھ سے زائد صفحات میں اصل کتاب ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ میں سے اقتباسات بھی شامل کر دیئے ہیں جس سے ’’بازگشت‘‘ کی اہمیت اور افادیت میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے کہ جن لوگوں نے اصل کتاب کا مطالعہ نہیں کیا وہ ان اقتباسات سے مستفید ہوسکتے ہیں، جب کہ جو لوگ ’’ایک عہد کی سرگزشت‘‘ پہلے پڑھ چکے ہیں اُن کی لوحِ ذہن پر بھی ان اقتباسات کے مطالعے سے ماضی کے خوشگوار تاثرات تازہ ہو جاتے ہیں۔
کتاب خوبصورت رنگین سرورق، مضبوط جلد اور حسین گرد پوش سے مزین ہے، جس کے آخری صفحے پر جمیل اطہر قاضی صاحب کا مختصر ترین تعارف دلکش تصویر کے ساتھ شائع کیا گیا ہے، جب کہ گرد پوش کے اندرونی صفحات میں جمیل اطہر قاضی کے دیرینہ رفیقِ کار سابق وفاقی وزیر، مدیر روزنامہ ’’وفاق‘‘ مرحوم مصطفی صادق اور ممتاز صحافی، دانشور اور کالم نگار ہارون الرشیدکی آراء درج ہیں۔ ’’بازگشت‘‘ کو معروف اشاعتی ادارے ’’بک ہوم‘‘ لاہور نے نہایت اہتمام سے عمدہ سفید کاغذ پر معیاری طباعت کے ساتھ شائع کیا ہے۔

Share this: