علم و ادب کا روشن ستارہ مولانا نعیم صدیقی مرحومؒ

نعیم صدیقی صاحب نے ترقی پسند ادبی تحریک کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور حلقہ ادبِ اسلامی کی بنیاد رکھی

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی انقلابی اسلامی تحریک کے لیے برصغیر پاک و ہند کے کونے کونے سے جو ہستیاں جمع کی تھیں بلاشبہ ان میں سے ہر ایک افکار و خیالات اور کردار و عمل کے لحاظ سے نابغۂ روزگار اور مثالی شخصیت کی مالک تھی۔ موجودہ دور میں چراغ لے کر بھی تلاش کریں تو ان کی مثال ڈھونڈنا محال ہے۔ دنیا تیزی سے ان ہستیوں سے خالی ہوتی جارہی ہے اور کوئی نہیں جو ان کی جگہ لے سکے ؎

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی

مے خانۂ ہستی کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پیش ہونے والی ان عظیم ہستیوں میں سے ایک اہم شخصیت مولانا نعیم صدیقی کی ہے، جن کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے محض لفّاظی اور محاورے کی حد تک ہی درست نہیں، بلکہ وہ اس کے سو فیصد مصداق تھے۔ انہوں نے اوّل روز سے سید مودودیؒ کی پکار پر لبیک کہا اور 1941ء میں جب جماعت اسلامی قائم ہوئی تو وہ اس کے بانی 75 ارکان میں سے ایک تھے۔ اس کے بعد وہ تمام عمر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر کو عام کرنے کے لیے کوشاں رہے اور جس میدان میں بھی اسلامی تحریک کو ضرورت پیش آئی انہوں نے نہایت محنت اور دیانت سے اس کے لیے ہمہ وقت جدوجہد کی۔ وہ بیک وقت سیرت نگار، ادیب، شاعر، افسانہ نویس، محقق، صحافی، دانشور، مقرر اور مربی کی خوبیوں اور صلاحیتوں سے مالامال تھے۔ ان کی تصنیف ’’محسنِ انسانیتؐ‘‘کا ایک ایک لفظ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا شاہکار ہے۔ قاری اسے جوں جوں پڑھتا چلا جاتا ہے وہ خود کو ’’عشقِ مصطفیؐ‘‘ کی وادیوں میں گم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے اور اس کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ مولانا کی اس شاہکار تصنیف کا انگریزی، عربی اور فارسی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے نثر کے علاوہ نظم میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ یہاں بھی ان کا اسلوب عام شاعروں سے منفرد اور مختلف ہے۔ ان کی نعتوں کا مجموعہ ’’نور کی ندیاں رواں‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
مولانا نعیم صدیقی نے اپنی زندگی جماعت اسلامی اور خصوصاً اسلامی ادب کے لیے وقف کیے رکھی، اور تقریباً ہر صنفِ ادب میں معرکۃ الآراء تخلیقات پیش کیں۔ قیام پاکستان کے بعد جب یہاں ترقی پسند تحریک کا سیلاب آیا اور اس نے اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو بہا لے جانا چاہا تو مولانا نعیم صدیقی نے اس تحریک کا ڈٹ کرمقابلہ کیا اور یہاں حلقۂ ادبِ اسلامی کی بنیاد رکھی، جس کے پرچم تلے نعیم صدیقی اور ان کے ساتھیوں نے شعر و ادب کا ایک قیمتی خزانہ اردو ادب کے سپرد کیا۔ سیرت و سوانح، افسانے، ڈرامے، خاکے، سفرنامے، تحقیقی و تنقیدی ادب، تاریخ، معاشیات، تعلیم… غرض ادب کا کون سا میدان تھا جہاں انہوں نے اپنی شہسواری کے جوہر نہیں دکھائے! شعر و ادب، عوامی مسائل اور تحقیق و علمی مباحث پر ان کی نصف صد سے زائد کتب ان کی زندگی میں شائع ہوچکی تھیں۔ اس کے علاوہ کم و بیش ڈیڑھ صد مقالات مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوکر لاکھوں قارئین کی ذہنی جِلا اور فکری اصلاح کا سامان کرچکے ہیں۔ ان کی تصنیفات میں: تعلیم کا تہذیبی نظریہ، اقبال اور نظریہ پاکستان، اقبال، مغربی مادیت اور پاکستان، اقبال کا شعلہ نوا، تعمیر و تخریب، معروف و منکر، معرکۂ دین و سیاست، سید انسانیت، شعلہ نوا اور انسانیت، فکری اور تحریکی شعور، معاشی ناہمواریوں کا اسلامی حل، اسلامی تحریک، دوسری اسلامی تحریکوں کے مقابل، امریکہ کا صدارتی نظام، سفر نامۂ حجاز، بارود اور ایمان، المودودیؒ… شعری مجموعہ شعلہ خیال، خون آہنگ، پھر ایک کارواں لٹا، وہ سورج بن کر ابھرے گا… اور افسانوی ادب میں ذہنی زلزلے اور ٹھنڈی آگ کے علاوہ طنزو مزاح میں ’دفتر بے معنی‘کو ممتاز مقام حاصل ہے۔
مولانا نعیم صدیقی 4 جون 1916ء کو خانپور (تحصیل چکوال) میں قاضی سراج الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ اصل نام فضل الرحمن ہے، نعیم آپ کا تخلص اور صدیقی، خاندانی نسبت ہے۔ ابتدائی تعلیم اینگلو ورنیکلر مڈل اسکول خانپور سے حاصل کی۔ ساتویں کلاس میں تھے کہ گھر میں موجود علمی سرمائے سے استفادہ شروع کردیا۔ اقبال اور ابوالکلام آزاد کی نظم و نثر اور تحریکِ خلافت سے متعلق لٹریچر خاص دلچسپی سے پڑھتے۔ ’’مدینہ‘‘ اور ’’زمیندار‘‘ جیسے اخبارات بھی زیر مطالعہ رہے۔ سب سے پہلی نظم اسکول کے زمانے میں لکھی اور اس کو ایک شعری مقابلے میں پیش کیا۔ اگرچہ یہ مقابلہ بڑوں کا تھا مگر اس میں آپ نے بھی حصہ لیا۔ اس مقابلے میں جس مصرعے پر مختلف لوگوں نے نظمیں لکھیں وہ یہ تھا:

کام سے پہلے خدا کا نام لو

آپ نے اس مقابلے میں نظم پڑھی تو مقابلے میں شریک ایک تھانیدار نے آپ کو پانچ روپے انعام دیئے۔ 1932ء میں باقاعدہ شاعری شروع کردی۔ ابتدائی نظمیں ’’ادب لطیف‘‘ اور ’’تاج‘‘ آگرہ جیسے بلند پایہ رسائل میں شائع ہوئیں۔ مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد کلرسیداں ہائی اسکول میں داخل ہوئے، لیکن ابھی نویں تک تعلیم حاصل کی تھی کہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اس کی تین وجوہات رہیں:
-1 والد سے دوری کا احساس۔
-2 انگریزی تعلیم سے نفرت۔
-3 تصنیف و تالیف کی طرف توجہ زیادہ ہوگئی تھی۔
بعد ازاں فارسی میں منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ آپ کے مطالعے کے دو دور ہیں۔ پہلا دور 1932ء تا 1937ء ہے، جس میں آپ نے اردو ادب، اقبالیات، ابتدائی فلسفہ، انگریزی زبان (پڑھنے کی حد تک) اور تاریخِ اسلام وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ دوسرا دور 1938ء تا 1954ء کے عرصے پر محیط ہے، اس زمانے میں آپ نے اسلامی نظام حیات، نظریۂ ارتقاء اور معاشیات کا مطالعہ کیا اور درسِ قرآن و حدیث سے مسلسل استفادہ کیا۔ آپ کے خاندان میں زیادہ تر افراد درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ والد اور ماموں بھی مدرس تھے، وہ چاہتے تھے کہ آپ بھی درس و تدریس کا پیشہ اختیار کریں۔ لہٰذا آپ نے خانپور میں اینگلو ورنیکلر مڈل اسکول میں پڑھانا شروع کردیا۔ بعد میں آپ کو چکوال کے ایک دور افتادہ اسکول میں بھیج دیا گیا، لیکن یہاں کا ہیڈ ماسٹر سکھ تھا۔ اس نے آپ کی نوکری ختم کردی۔ آپ کو بھی نوکری سے زیادہ دلچسپی نہ تھی کیونکہ نوکری افتادِ طبع کے مطابق نہ تھی۔ 1940ء میں راولپنڈی میں ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دور میں آپ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور ان کی تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ مولانا مودودیؒ علامہ اقبال کے ایماء پر اس زمانے میں حیدرآباد دکن سے ہجرت کرکے دارالاسلام پٹھان کوٹ آگئے تھے۔ جناب نعیم صدیقی بھی مولانا مودودیؒ کی تحریک سے وابستگی کے بعد پٹھان کوٹ چلے گئے۔ وہاں مطالعہ بھی جاری رکھا اور لکھنے کا کام بھی۔ ملک نصراللہ خاں عزیز کے اخبار ’’مسلمان‘‘ کے لیے کام کرتے رہے۔ 1942ء سے رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ سے بھی وابستہ ہوگئے۔ 1947ء تک وہیں مقیم رہے۔ اس عرصے میں وہ مولانا مودودیؒ کے معاونِ علمی بھی رہے، وہ خطوط نویسی میں مولانا کی معاونت کرتے رہے۔ مولانا بسا اوقات انہی سے خطوط املا کراتے تھے۔ ’’مسلمان‘‘ بند ہوا اور ’’کوثر‘‘ نکلا تو اس سے وابستہ ہوگئے۔
اسی طرح 1935ء میں ہجرت کے بعد لاہور آگئے اور اچھرہ میں مقیم ہوئے اور تقریباً 1943ء تک وہیں قیام رہا۔ اس کے بعد منصورہ میں منتقل ہوگئے۔ ’’کوثر‘‘ سے وابستگی کا سلسلہ 1953ء تک چلا۔ اس دوران میں 1948ء سے 1950ء تک آپ نے تنہا ’’ترجمان القرآن‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری ادا کی (مولانا مودودیؒ اس زمانے میں پابندِ سلاسل تھے)۔ 1971ء میں کراچی سے چودھری غلام محمد مرحوم نے ’’چراغِ راہ‘‘ جاری کیا تو نعیم صاحب کو اس کا مدیر مقرر کیا۔ نعیم صاحب لاہور سے ہر ماہ پرچہ تیار کرکے کراچی بھیجتے تھے اور وہاں سے شائع ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ 1956ء تک چلا۔ اس عرصے میں تحریکِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں 28 مارچ 1953ء کو انہیں 53 ہفتوں کے لیے پابندِ سلاسل رکھا گیا۔ ’’شعلۂ خیال‘‘ کی متعدد نظمیں اسی دور کی یادگار ہیں۔
۔1950ء میں انہوں نے ’’شہاب‘‘ (ہفت روزہ) جاری کیا۔ کوثر نیازی شریکِ ادارت تھے۔ بعد میں علیحدہ ہوگئے۔ اس عرصے میں روزنامہ ’’تسنیم‘‘ اور ’’قاصد‘‘ میں بھی مضمون نویسی کی۔ اگست 1962ء میں ادبی ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ جاری کیا۔ یہ تاحال جاری ہے۔ 6 جنوری 1964ء کو صدر ایوب خان نے جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تو جماعت کے متعدد رہنما جیل بھیج دیئے گئے۔ نعیم صاحب بھی تقریباً 8۔9 ماہ تک مقید رہے۔ دسمبر 1977ء میں ’’ترجمان القرآن‘‘ کے مدیر عبدالحمید صدیقی شدید علیل ہوگئے۔ چنانچہ ادارت کی ذمہ داری نعیم صاحب کے سپرد ہوئی، جسے وہ کم و بیش پندرہ سال تک نبھاتے رہے۔ اس دوران وہ ایک ہمہ وقت مدیر کے طور پر ترجمان القرآن کا ’’اشارات‘‘ کے عنوان سے پُرمغز اور طویل اداریہ تحریر کرتے رہے اور مستقلاً کتابوں پر تبصرے کے علاوہ حسبِ ضرورت دیگر مضامین بھی لکھتے رہے۔
مولانا نعیم صدیقی ادارۂ معارف اسلامی منصورہ لاہور سے بھی وابستہ رہے جہاں انہوں نے خود کئی علمی تحقیقی منصوبوں پر کام کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی میں تصنیف و تالیف کے کئی منصوبے بھی تکمیل کو پہنچے۔
1993ء میں جب جماعت اسلامی نے ’’اسلامک فرنٹ‘‘ کا تجربہ کیا تو بعض دوسرے لوگوں کی طرح مولانا نعیم صدیقی نے بھی اس سے اختلاف کیا اور اس اختلاف کے سبب انہوں نے 1994ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر ’’تحریکِ اسلامی‘‘ کی بنیاد رکھی اور انہیں اس کا پہلا امیر منتخب کیا گیا، مگر جلد ہی ان کے اپنے ساتھیوں سے اختلافات ہوگئے، اور ان اختلافات نے اتنی شدت اختیار کی کہ انہیں تحریک اسلامی کی ابتدا ہی میں اس کی امارت سے جبراً ہٹا دیا گیا، جس پر مولانا نعیم صدیقی نے اپنا راستہ تحریک اسلامی سے بھی الگ کرلیا اور بڑی حد تک صاحبِ فراش ہوگئے۔ اسی عالم میں طویل علالت کے بعد 25 ستمبر 2002ء کو علی الصبح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

Share this: