حافظے کی کمزوری (الزائمر ) ۔

ڈاکٹر عبدالمالک
ایسوسی ایٹ پروفیسر نیورولوجی لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسری کراچی

عام طور پر حافظے یعنی یادداشت کی کمزوری کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک دماغی مرض ہے۔ پاکستان میں اس بیماری کے حتمی اعداد وشمار میسر نہیں، مگر محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً پانچ سے سات لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ تعداد بہرحال زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس بیماری کی علامات سے لاعلم ہے۔ ڈیمینشیا جسے عام طور پر بھولنے/ یادداشت کی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے، کی ابتدائی علامات میں شخصیت کی تبدیلی، یادداشت کی کمی اور روزمرہ سرگرمیوں کو سرانجام دینے میں تبدیلی شامل ہیں۔ جب اس مرض کی علامات بڑھتی ہیں تو مریض کو اپنی ذاتی صفائی ستھرائی، اپنے کھانے پینے، اپنے روزمرہ کے جانے آنے کے راستے، حتیٰ کہ گھر کا راستہ/ پتا تک یاد نہیں رہتا۔ ڈیمینشیا کہ جس کی زیادہ پائی جانے والی قسم الزائمر کی بیماری ہے، کے لاحق ہونے کے مراحل میں مریض اپنے بچوں اور قریبی عزیز و اقارب تک کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کی کیفیت چھوٹے بچے کی سی ہوجاتی ہے جسے کسی بات کا علم نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں مریض کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق الزائمر دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا مرض ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں یادداشت (ڈیمینشیا/الزائمر) کے مریضوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے۔ ماہرین کے مطابق 2050ء تک اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
حافظے کی کمزوری کی تاحال کوئی وجہ معلوم نہیں کی جاسکی۔ عموماً 60سال کی عمر کے بعد دماغ کے یادداشت (سوجھ بوجھ) کے نظام کے خلیے ختم/ مرنا شروع ہوجاتے ہیں جس سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جن کا تعلق حافظے، سوجھ بوجھ اور شخصیت سازی سے ہوتا ہے۔ نتیجتاً انسان حساب کتاب اور سوچ بچار تک نہیں کرسکتا اور چیزوں کو بھولنا شروع ہوجاتا ہے۔
ماہرینِ دماغ و ذہنی امراض (نیورولوجسٹ) کے مطابق الزائمر کے لاحق ہونے کا کوئی معروف سبب ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا، لیکن وٹامن بی 12کی کمی، بلند فشارِ خون، شوگر، فالج، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔
نوجوانوں کی مضر صحت عادات مثلاً دیر سی سونا و جاگنا، غذائی بے احتیاطی اور جسمانی و ذہنی سرگرمیوں سے اجتناب یادداشت کی کمزوری کی وجہ بنتا ہے۔ بے خوابی کی شکایت، صبح اٹھ کر سر میں درد ہونا، دن بھر جسم بوجھل رہنا، سوتے میں سانس پھولنا، خراٹے لینا، یادداشت کی کمزوری کی واضح علامات اور وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جو افراد نیند کی گولیاں، اینٹی ڈپریشن اور سر درد کی گولیاں استعمال کرتے ہیں اُن کو ذہنی کمزوری یا بھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔ مستقل افسردگی و مایوسی، تنہائی اور ذہنی تناؤ کا شکار افراد کی یادداشت جلد متاثر ہوتی ہے۔ مستقل بلڈ پریشر ہائی رہنے کے باعث دماغ کی رگوں میں خون جم جاتا ہے جس کے باعث دماغ اپنے کام بھرپور طریقے سے انجام نہیں دے پاتا اور قوتِ یادداشت کمزور ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں 60سال سے زائد عمر کے تقریباً 10فیصد افراد کو یہ بیماری لاحق ہے۔ یہ بہت تیزی سے بڑھتی ہے، اس لیے ابتدا میں اس کی تشخیص بہت ضروری ہے۔ اگرچہ اس بیماری کو ختم نہیں کیا جاسکتا، تاہم بروقت تشخیص کے بعد اس کی پیچیدگیوں اور رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔
جو افراد زیادہ سوچ بچار، دماغ کے زیادہ استعمال اور ورزش سمیت صحت مندانہ طرز زندگی اختیار کرتے ہیں اُن میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں ۔ اس لیے صحت مند زندگی گزارنے سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے لوگوں میں آگہی بہت کم ہے۔
حافظے کی کمزوری (الزائمر) میں انسان کے معمولاتِ زندگی، مزاج اور رویّے میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آنے لگتی ہیں جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو آگے چل کر یہ مرض خطرناک صورت اختیار کرتے ہوئے الزائمر میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ لاعلاج مرض ہے۔
یادداشت کی کمی کا شکار مریضوں کے نفسیاتی مسائل کا علاج کرکے انھیں کارآمد زندگی گزارنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ ڈپریشن بڑھتی ہوئی عمر کے افراد میں سب سے بڑی نفسیاتی بیماری کے طور پرسامنے آیا ہے۔ جدید دوائوں اور ماحول کی تبدیلی کے ذریعے اس کا علاج کرکے ایسے افراد کو معاشرے اور اپنے گھر والوں پر بوجھ بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ڈیمینشیا کے نتیجے میں مریض بعض اوقات بہت زیادہ تکلیف دہ رویّے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے،خاص طور پر اپنے بزرگ والدین کی بڑھاپے کے مسائل کی بہتر نگہداشت ان کے ذہنی مسائل سے بچاو کا باعث ہوتی ہے۔
بہتر ماحول سے بڑھتی ہوئی عمر کے مریضوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں کو صبح کے اوقات میں تازہ ہوا اور بدلتے موسموں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرکے ان کی ذہنی حالت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں عوام میں آگہی بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کے بزرگوں میں یادداشت کے حوالی سے بیان کی گئی علامتیں پائی جائیں تو اسے بڑھاپا سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ ماہر امراضِ دماغ و اعصاب سے رجوع کیا جائے۔ پاکستان میں حافظی کی کمزوری (الزائمر) کا علاج اور تمام دوائیں دستیاب ہیں۔

Share this: