کوئٹہ: آزادئ کشمیر مارچ

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق و دیگر کا خطاب

کشمیر کا مسئلہ بہت گمبھیر بن چکا ہے۔ حالات بتدریج خرابی کی طرف جارہے ہیں۔ ملک کے اندر ایسی جماعتیں اور حلقۂ فکر موجود ہیں جنہوں نے اس مسئلے سے ہمیشہ خود کو الگ رکھا ہے۔ جو حلقے اور جماعتیں سمجھتی ہیں کہ بھارت مزید جارحیت پر اتر آیا ہے انہوں نے بھی اس ضمن میں خاطر خواہ احتجاج نہیں کیا ہے۔ سرکار اور فورسز کی طرف سے اپنے مزاج کے مطابق احتجاج کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر 30اگست کو کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منایا گیا۔ پھر وزیراعظم نے 6 ستمبر کو بھی قوم کو کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کا کہا۔ یہاں بلوچستان میں پہلے اعلان پر سرکار اور فورسز کے بندوبست کے تحت اپنے طور و انداز سے یوم احتجاج و اظہارِ یکجہتی منایا گیا۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ، وزراء، مشیر اور ایک خاص تعداد میں لوگ احتجاج میں شریک ہوئے۔ دوسرے اعلان پر چنداں عمل نہ ہوا۔ ملک بھر میں قومی اور سیاسی یکجہتی کا فقدان نظر آرہا ہے۔ یقیناً حالات نازک ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی اس جانب توجہ دلائی ہے اور حکومت کو مخاطب کیا ہے کہ ضد چھوڑ کر قومی قیادت کو اعتماد میں لے۔ امیر جماعت اسلامی کے مطابق قومی یکجہتی اور اتحاد کی فضا قائم کرنا وزیراعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے۔
کشمیر کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف اور کشمیریوں سے یکجہتی کا عملی مظاہرہ پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ امر بلاشبہ بھارتی حکومت، وہاں کی فوج، پالیسی سازوں اور خفیہ اداروں پر بھی عیاں ہے۔ چناں چہ جب سے بی جے پی کی حکومت نے بھارتی آئین میں تبدیلی کرکے کشمیر کی علیحدہ شناخت ختم کی ہے، تب سے جماعت اسلامی قوم کو یک صف کرنے کی گراں قدر کوششیں کررہی ہیں۔ اس تسلسل میں کوئٹہ میں 15ستمبر 2019ء کو جلسہ عام کا انعقاد ہوا۔ صوبے بھر میں جماعت اسلامی نے رابطہ عوام مہم چلائی اور عوام کو کشمیر پر بھارتی قبضے اور وہاں کے مظلوم عوام پر ریاستی ظلم و جبر کی داستان سے آگاہ کیا۔ سینیٹر سراج الحق 14ستمبر کو کوئٹہ پہنچے۔ اسی روز ظہرانے پر تحریک انصاف بلوچستان کے صدر اور وزیراعظم کے معاون سردار یار محمد رند سے ملاقات کی۔ عصر کے بعد جناح ٹائون میں مشوانی قبائل کے معتبرین سے ملاقات اور جرگے سے خطاب کیا۔ واضح ہو کہ جماعت اسلامی بلوچستان و کوئٹہ کے ہر سطح کے ذمہ داران اور وابستگان نے اس جلسے کے لیے شب و روز محنت و تیاریاں کیں۔ شہر کے اندر پوسٹر، جماعت اسلامی کی جھنڈیاں، بینر جگہ جگہ آویزاں کیے۔ گویا اس دوران خطے اور ملک کے اس اہم مسئلے پر عوام کو توجہ دلائی گئی۔ جلسہ کوئٹہ کے قندھاری بازار یعنی شاہراہ لیاقت پر منعقد ہوا۔ کچہری چوک پر اسٹیج بنایا گیا تھا۔ مختلف علاقوں سے چھوٹے بڑے جلوسوں کی شکل میں کارکن اور عوام جلسے میں شریک ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔ جلسے سے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، سیکریٹری جنرل ہدایت الرحمان، مرکزی شوریٰ کے رکن زاہد اختر، ضلع کوئٹہ کے امیر حافظ نور اللہ، جماعت اسلامی یوتھ کے مرکزی صدر زبیر گوندل اور دوسرے رہنمائوں نے خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا شرکاء نے پُرجوش استقبال کیا۔ خواتین بھی جلسے میں شریک تھیں۔ سراج الحق نے اپنی تقریر میں بلوچستان کے مسائل اور ان سے چشم پوشی پر بھی بات کی اور وفاقی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کشمیر کو نظرانداز کرنے کی صورت میں سخت انجام سے دوچار کرنے کی دھمکی دی۔ انہوںکہا:
’’وزیراعظم نے کہا تھا کہ میں 100دن میں کارکردگی دکھائوں گا، پھر کہا کہ 6 ماہ دیں، اور اب کہہ رہے ہیں کہ 5 سال بعد کارکردگی کا پوچھیں۔ جو حکومت 13ماہ میں کارکردگی نہیں دکھا سکی وہ 50 سال میں بھی کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ ملک میں جس تبدیلی کا وعدہ کیا گیا تھا وہ آٹے، دال،چینی، پیٹرول، ادویہ کی قیمتیں بڑھا کر لائی گئی ہے، اس تبدیلی کی وجہ سے 22کروڑ عوام پریشان ہیں۔ 13ماہ میں معیشت تباہ ہوچکی ہے، لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہیں۔ کشمیر سے غداری یا سودا کیا گیا تو ہم اسلام آبادکا لاک ڈائون کریں گے، اور لوگ بھی دیکھیں گے کہ اسلام آباد لاک ڈائون ہوا ہے۔کشمیری عوام سے غداری کرنے والوں کو پاکستان میں قبر کی جگہ بھی نہیں ملے گی۔کشمیر میں گزشتہ 42 دن سے عوام گھروں میں محصور ہیں، 6 جمعہ گزر جانے کے باوجود نماز نہیں ہوسکی، لوگ اپنے مُردوں کو گھروں میں دفن کررہے ہیں، کوئی انسان گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، تعلیمی ادارے بند ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم اور پاکستان کی صاحبِ اقتدار قوتیں دیکھ رہی ہیں کہ 42 دن سے ہمارے لوگ یرغمال ہیں، دنیا کے 57 اسلامی ممالک بھی یہ سب دیکھ رہے ہیں، مگر پوری دنیا اور اسلامی ممالک اس پر خاموش ہیں۔ ماضی میں مسلمانوں نے مظالم کے خلاف جنگیں لڑیں اور ظلم کا سامنا کیا۔ کشمیری عوام پاکستان کی فوج، پاکستان کے وزیراعظم اور مسلم ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ 42 دن بعد بھی ہماری حکومت اچھل کود، بیانات اور تقاریر کررہی ہے، حکومت نے کشمیر کے لیے اب تک عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ وزیراعظم نے مظفرآباد میں کہا کہ ہم کشمیر کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ بتایا جائے کہ وہ کون سی حد ہے جو لائن آف کنٹرول اور کشمیر تک جانے کو تیار نہیں۔ پاکستانی قوم اب مزید تقاریر سننے کو تیار نہیں، قوم عمل اور ایکشن دیکھنا چاہتی ہے۔ بھارتی حکومت کہتی ہے کہ ہمارا اگلا قدم آزاد کشمیر ہے۔ اُن کا آرمی چیف جنگی تیاری مکمل کرکے حکومتی اشارے کا انتظار کررہا ہے، لیکن ہماری حکومت نے بے جان تقاریر کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ کشمیر پاکستان کی جغرافیائی، معاشی، نظریاتی شہ رگ ہے جسے دشمن نے کاٹ دیا اور ہمارے حکومت تماشا کررہی ہے۔ پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے کشمیریوں سے وفاداری نہیں کی۔ کشمیر میں 14 ہزار مائوں، بہنوں کی عصمت دری کی جاچکی ہے،3 لاکھ نوجوانوں کو شہید اور ہزاروں کو اندھا کیا جا چکا ہے لیکن آج بھی کشمیری پاکستان کے جھنڈے پر اپنا خون نچھاور کررہے ہیں۔ پاکستان کی ہر حکومت نے بھارت سے یاری اور تجارت کی بات کی۔ مودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہوکر کہا کہ اس نے پاکستان کو دولخت کرنے کے لیے کردار ادا کیا، اور یہی مودی جب پاکستان آیا تو اس کی مہمان نوازی کی گئی۔ مودی کا منصوبہ صرف کشمیر کو ہڑپ کرنا نہیں بلکہ بھارت میں رہنے والے 22کروڑ مسلمانوں کو وہاں سے نکالنا یا انہیں ہندو بنانا، بھارت میں لاکھوں مساجد کو مندر بنانا ہے۔ حتیٰ کہ اب ہندو کہتے ہیں کہ وہ خانہ کعبہ پر بھی قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی حکومت پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ یہ ملک صرف فوج یا حکومت کا نہیں ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے، اگر ملک تباہ ہوا تو حکومت اور فوج سمیت کوئی نہیں رہے گا۔ وزیراعظم کو چاہیے تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اکٹھا کرکے یکجہتی کا پیغام دیتے۔ آرمی چیف نے دو بار کشمیر کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا، لیکن وزیراعظم نے ایسا کرنے کی زحمت تک نہیں کی، اور نہ ہی سیاسی قیادت سے کشمیر کے معاملے پر مشورہ کیا۔ مظفر آباد میں وزیراعظم کے پاس بہترین موقع تھا کہ وہ ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرتے اور ہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کشمیر سے یکجہتی کا پیغام دیتے، لیکن وزیراعظم اکیلے گئے جس سے کوئی پیغام نہیں گیا۔‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے، مودی کو کشمیر میں قتلِ عام کرنے کے بعد بھی تین اسلامی ممالک کی جانب سے تمغوں سے نوازا گیا۔ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے جو ممالک مشکل وقت میں ہمارے کام آتے تھے، انہوں نے مودی کو نوازا۔ پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ۔ 27 ستمبر کو مظفرآباد کے جلسے میں نوجوانوں کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔‘‘
بلوچستان کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے سینیٹ میں ہمیشہ بلوچستان کی بات کی اور صوبے کی ترجما نی کی ہے۔ بلوچستان کے لوگ مظلوم ہیں جن کے پاس پانی، صحت ،روزگار، تعلیم سمیت بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔ہر مرکزی حکومت نے یہاں آکر جھوٹے وعدے کیے۔ یہاں جنات نے نہیں، حکمرانوں نے کرپشن کی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان ملک کا سب سے کرپٹ صوبہ ہے،لیکن نیب کی کارکردگی یہاں واضح ہے۔ جب تک احتساب نہیں ہوگا کرپشن ختم نہیں ہوگی۔ یہاں پر جس کے گھر کی ٹنکی سے پیسہ نکلا وہ سیکریٹری ملازمت پر بحال کرنے کی درخواست دے رہا ہے۔ انہوں نے تقریر کے اختتام پر کہا کہ جماعت اسلامی اور اسلامی نظام ہی ملک اور بلوچستان کے تمام مسائل کا واحد حل ہیں۔

Share this: