کشمیر‘ افغانستان اور امریکی ترجیحات

پاکستان کے حکمرانوں کی ذہنی اور اخلاقی پستی

کشمیر پر اِس وقت جو کیفیت طاری ہے اسے ’’اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘ والی صورتِ حال کہا جاسکتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اس وقت فیس سیونگ کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ پانچ اگست کے فیصلے کے خلاف ردعمل میں تجویز دی گئی تھی کہ لائن آف کنٹرول توڑ دی جائے، لیکن وزیراعظم عمران خان نے یہ تجویز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے بعد تک مؤخر کرنے کی اپیل کردی ہے جس پر آزاد کشمیر حکومت اور اپوزیشن جماعتیں بھی راضی ہیں۔ یہاں سے بڑا اور بنیادی سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کشمیر جیسے اہم قومی معاملے پر حکومت ملک میں اور پارلیمنٹ کے اندر یکسوئی کیوں پیدا نہیں کررہی؟ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہونے کے باوجود سفارت کاری میں ناکامی کیوں ہورہی ہے؟ ان سوالوں کا جواب نہ ملنے پر شبہات بڑھ رہے ہیں۔ اس صورت حال کو ’پرویزمشرف فارمولا‘ سے بھی جوڑا جارہا ہے، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ کشمیر میں مرحلہ وار کام کیا جائے۔ جنرل پرویزمشرف کی تجویز کے سامنے صرف ایک رہنما مزاحمت کرتے ہوئے کھڑے ہوئے، وہ تھے سید علی گیلانی، باقی سب ڈھیر ہوگئے تھے۔ اب اگر کشمیر کی صورتِ حال کو سمجھنا ہے تو پھر افغانستان سمیت اس خطے میں امریکی ترجیحات کو بھی سمجھنا ہوگا۔ امریکہ یہاں سے جانے سے پہلے بھارت کو اپنے قائم مقام کا کردار دینا چاہتا ہے۔ امریکہ طالبان مذاکرات میں تعطل ایک گہری منصوبہ بندی ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ طالبان مذاکرات میں تعطل کی وجہ امریکی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سی آئی اے ہیں، جن کا فیصلہ ہے کہ افغانستان سے شکست کا داغ لے کر نہیں نکلا جائے گا۔ بظاہر تو وجہ یہ بیان کی گئی کہ طالبان مذاکرات بھی کررہے ہیں اور حملے بھی۔ لیکن طالبان کے حملے امریکی ڈرون حملوں کا ردعمل ہیں۔ تخار صوبے میں امریکی حملے میں متعدد طالبان رہنما مارے گئے ہیں، جس کے ردعمل میں امریکی املاک پر حملے کیے گئے ہیں۔ طالبان پر حملوں کی ایک خاص وجہ حکمتِ عملی کا تضاد اور امریکی انتظامیہ کے باہمی اختلافات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ چونکہ سی آئی اے کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں لہٰذا وہ وہی پرانی سوچ اپنائے ہوئے ہیں کہ طالبان پر حملے کرکے ان کی افرادی اور عسکری قوت ختم کی جائے تاکہ امریکہ اپنی شرائط پر معاہدہ کرسکے۔ اس وقت عالمی حالات بڑے حساس ہیں۔ افغانستان میں خوفناک لڑائی ہورہی ہے، ایران امریکہ تعلقات سب کے سامنے ہیں، چین ہی اس وقت قابلِ اعتماد اتحادی ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ سپر پاور کے دو رخ ہوتے ہیں، جی سیون کے بعد ٹرمپ کے کتنے بیانات بدلے ہیں۔ سب اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ امریکہ وکٹ کے چاروں طرف کھیلتا ہے۔ تخار میں اسی لیے حملے کیے گئے۔ جواب میں طالبان نے بھی کاری ضرب لگائی۔
افغانستان میں آج کی حقیقت صرف یہ ہے کہ امریکیوں کے مقابلے میں اگر کوئی قوت ہے تو وہ طالبان ہیں۔ افغان حکومت اور دیگر سیاسی گروپوں کی ان کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لہٰذا معاہدہ جب بھی ہوا طالبان اور امریکہ کے درمیان ہی ہوگا۔ افغان صدر اشرف غنی اور زلمے خلیل زاد تو اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ مستقبل میں انہیں مل جائے کوئی عہدہ۔ اشرف غنی کی عیسائی اور زلمے خلیل زاد کی یہودی بیوی ان کے لیے لابنگ کررہی ہیں، لیکن سی آئی اے چلے ہوئے کارتوس پر ہاتھ رکھنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اگلے صدارتی انتخاب سے قبل کابل سے فوجوں کی واپسی شروع ہوجائے اور افغان جنگ میں اٹھنے والے اخراجات میں کمی آجائے۔ یہ اخراجات اس وقت ایک ٹریلین ڈالر کے لگ بھگ ہیں اور امریکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچی ہوئی ہے۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کا ایک سو بلین ڈالر کا معاہدہ اسی لیے کیا تھا، وہ اپنی مصنوعات کے لیے ایشیا میں بھارت کی منڈی بھی ہاتھ میں رکھنے کے متمنی ہیں۔ کشمیر کے لیے ثالثی اور افغانستان سے فوجوں کے انخلا کا فیصلہ تو خود امریکیوں کی مجبوری ہے، طالبان اس مجبوری کی پوری قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں، اور اسلام آباد میں عمران خان حکومت کچھ حاصل کیے بغیر محض ثالثی کے لیے امریکی لب ہلائے جانے کو ہی اپنی فتح سمجھ رہی ہے۔ جہاں زلمے اور اشرف غنی جیسے کردار ہاتھ میں کچھ نہ ہونے کے باوجود اپنے لیے محفوظ راستہ مانگ رہے ہیں۔اس صورت حال کو پاکستان کے حق میں کرنے میں حکومت ناکام ہے۔ پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کردی ہے، لیکن آج ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود عمران حکومت ملک میں، پارلیمنٹ میں، اور دنیا کے سامنے بھارت کے اس اقدام کے خلاف ٹھوس جواب اور حکمت عملی نہیں دے سکی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کمیشن میں وہی نکات اٹھائے گئے جن کی عالمی برادری میں عمل ہو نہ ہو، مگر اہمیت تسلیم کی جاتی ہے۔ پاکستان کا مطالبہ رہا کہ انسانی حقوق بحال کیے جائیں، کرفیو اٹھایا جائے اور کشمیریوں کو سیاسی حق دیا جائے۔ وزارتِ خارجہ ایک سو اٹھاون ملکوں کی حمایت کو اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ عمران حکومت بھارتی آئین میں ترمیم اور آرٹیکل 370 نکالے جانے کے خلاف قانونی اور آئینی نکات پیش نہیں کرسکی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس 9 ستمبر سے شروع ہے اور وزیراعظم عمران خان کو تقریر کا موقع آخری لمحات میں ملا ہے، وہ 27 ستمبر کو وہاں تقریر کریں گے۔ ان سے پہلے بھارت تقریر کرچکا ہوگا۔ حکمت عملی یہ ہونی چاہیے تھی کہ وزیراعظم عمران خان کے لیے وقت پہلے لیا جاتا تاکہ بھارت ان کی تقریر کا جواب دیتا۔ مگر حکومت نے اس اہم ترین مسئلے پر سفارت کاری کم، ماڈلنگ زیادہ کی ہے۔ اب نیویارک میں عمران خان جلسے سے خطاب کریں گے، اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ امریکہ میں کیا کرنا اور کیا کہنا ہے یہ سب کچھ عمران خان کو لکھ کر دے دیا گیا ہے۔ وہ وہاں اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔
وزیراعظم کے دورۂ امریکہ کے بعد ملک میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی کہ کشمیر ایشو پر تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوجائیں گی، اور اس بارے میں کام بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ جے یو آئی (ف) بھی اپنی رفتار کم کرنے پر راضی ہوچکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کی کوکھ سے کیا جنم لے گا ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہبازشریف کے لیے ایک بار پھر ریلیف کا ماحول بنا ہے، وہ چونکہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں لہٰذا ان کی بات اب سنی جائے گی۔
موسم کے ساتھ سیاست بھی بدل رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں کشمیر پر اتحاد کے نتیجے میں منظرنامے میں تبدیلی ایک بڑی خبر کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پالیسی سازوں نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے اب اپنی رائے قائم کرلی ہے۔ مودی نے کشمیر کے حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے وہ اسے واپس نہیں لے گا،لیکن یہ سب کچھ بالآخر کشمیریوں کے حق میں جائے گا۔ سب کو علم ہے کہ بھارت اس وقت ساری حکمتِ عملی اسرائیل والی اپنا رہا ہے اور اُس کی نقل کر رہا ہے۔ مودی اوسط درجے کا لیڈر ہے لیکن ہماری حکومت دانش کے کس درجے پر ہے؟ انہیں علم ہی نہیں کہ پارلیمنٹ ہائوس سے متصل عمارت سپریم کورٹ سے کیا آوازیں آرہی ہیں۔ نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا وہ یہ ثابت کررہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان دیوار کے دوسری طرف دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ اپنے شعبے کے ماہر ہیں۔ سپریم کورٹ جمہوریت کی ضمانت ہے اور وہ فی الحال جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے۔ جبر کا ماحول ہے جس میں زندگی بسر کی جارہی ہے، مسائل کا ایک پہاڑ سامنے کھڑا ہے اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے حکومت کی دلیلوں کے انبار بھی لگے ہوئے ہیں۔ دانشوروں کی اپنی ہی منطق اور معیار ہیں۔ کسی کے پاس صلاح الدین کے ساتھ ہونے والے ظلم کا جواب نہیں ہے۔ یہ واقعات دیکھ اور سن کر یقین نہیں آتا کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہ رہے ہیں۔ نئے عدالتی سال پر تقریب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ’’سیاسی انجینئرنگ کے لیے احتساب کے عمل میں یک طرفہ جھکائو کا تاثر اور اختلافی آواز دبانا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہریوں سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ایک اچھا عمل ہے، لیکن غیر جانب داری کے بغیر یہ اقدام معاشرے کے لیے زیادہ مہلک ہے۔‘‘
سیاسی انجینئرنگ کیا ہوتی ہے؟ یہ کس بلا کا نام ہے؟ کیا یہ کوئی سیاسی فکر ہے؟ محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک سیاسی تاریخ ہے، کیا وہ بھی یہی تھا؟ کس کس نے کب، کہاں اور کیوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ساتھ معاہدے کیے؟ فائلوں پر جمی گرد ہٹے گی تو کیا نکلے گا؟ اس ملک کی سیاسی جماعتیں کس قدر زرخیز زمینوں پر اگی ہوئی ہیں اس کا اندازہ تو ہمیں کئی بار ہوچکا ہے، بس ذرا موافق موسم ملا تو ساری کی ساری جماعت اسمبلی میں پہنچ جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بتانا چاہیے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر عمران خان تک سب کس کا انتخاب تھے۔ سیاست سینہ زوروںکا کام نہیں ہے، نہ اس سے خیمے میں آیا ہوا اونٹ باہر نکلتا ہے۔ نئی قیادت کو سامنے لانے کا فارمولا ابھی بھی کام کررہا ہے۔ تحریک انصاف 1996ء میں تشکیل دی گئی، بائیس سال کی جدوجہد محض نام کی ہے۔ فیصلہ ساز قوت کے سامنے سب سرنگوں ہیں۔ یہ بڑی ہی دردناک صورتِ حال ہے کہ سیاسی انجینئرنگ ہوتی رہی مگر نظریۂ ضرورت کے فیصلے کہاں لے جائیں؟ سیاست دان اور ان کے حامی خود اپنی اصلاح کرلیں تو بہتر، ورنہ نئی قیادت تیار ہوتی رہے گی۔ یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں، پارلیمنٹ سے صدر کے خطاب کو ایوان میں وزیراعظم کی موجودگی کے باوجود پی ٹی وی پر دکھاتے ہوئے اپوزیشن کے احتجاج کو کیوں دکھایا گیا؟ وزیراعظم عمران خان خود تحریک انصاف میں تنہا کیوں ہوتے جارہے ہیں؟ بھید کھلنے کا انتظار کیجیے۔

Share this: