انتخاب کلام سید محمد جعفری

کتاب : انتخاب کلام سید محمد جعفری
ترتیب و تعارف : ڈاکٹر رئوف پاریکھ
شعبہ اردو۔جامعہ کراچی
صفحات : 64 قیمت:160 روپے
ناشر : اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نمبر38 سیکٹر 15 کورنگی انڈسٹریل ایریا۔ پی او بکس 8214
کراچی 74900۔ پاکستان

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس سے اردو شاعروں کی منظومات کے انتخاب شائع کیے جارہے ہیں، جن میں پانچ چھ انتخاب ڈاکٹر رئوف پاریکھ کی ترتیب و تعارف سے بھی منصۂ شہود پر آئے ہیں، جن میں سے چند کا تعارف ہفت روزہ فرائیڈے اسپیشل کراچی میں ہم کرا چکے ہیں۔ اب تین نئے انتخاب موصول ہوئے ہیں جن کا تعارف مقصود ہے۔ زیر نظر پہلا انتخاب ہے۔ ڈاکٹر رئوف پاریکھ تعارف میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اردو شاعری میں طنز و مزاح کی روایات کو صحیح معنوں میں اعتبار، شائستگی اور ادبی شان بخشنے والوں میں اکبر الٰہ آبادی کا نام سرفہرست ہے۔ اکبر کے بعد اردو شاعری کو چند ہی ایسے شعرا نصیب ہوئے جو اکبر کی سماجی اور سیاسی طنز و مزاح نگاری کے اعلیٰ معیار کو پہنچ سکے اور اپنے کلام کو فنی و فکری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت بناسکے۔ سید محمد جعفری کا شمار بجاطور پر ایسے ہی معدودے چند مزاح گو شعرا میں کیا جاتا ہے۔ اپنی مزاحیہ و طنزیہ شاعری اور خوب صورت زبان کے سبب سید محمد جعفری اپنے دور کے بہت معروف اور مقبول شاعر تھے۔
سید محمد جعفری کی شاعری کا ایک اہم پہلو جو اکثر نقادوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے، ان کی اپنی تہذیب، روایات، دین، زبان، ادب اور لسانی و ثقافتی ورثے سے گہری اور شعوری وابستگی ہے۔ وطنِ عزیز میں اردو زبان، اس کے رسم الخط اور اس کے عدم رواج پر، اور انگریزی زبان و تہذیب کی بالادستی پر انہوں نے اپنی بعض نظموں میں بظاہر بہت پُرلطف تبصرے کیے ہیں، لیکن ان میں ان کا گہرا کرب صاف جھلکتا ہے۔ سید صاحب کی شاعری کی ایک اور خاصیت بھی ایسی ہے جس پر نقادوں نے کوئی توجہ نہیں دی، اور وہ ہے کراچی شہر، اس کا ماحول، مسائل اور مخصوص فضا۔ ان کی کئی نظموں کا موضوع کراچی اور اس کی زندگی کے بعض پہلو ہیں، مثلاً یہاں کی سڑکیں، بسیں، مچھر، یہاں کے بعض مقامات اور ان کی انفرادیت۔ اس صفت نے ان کے ہاں وہ رنگ پیدا کردیا ہے جسے مقامیت یا مقامی رنگ (Iocal Colour) کہا جاتا ہے اور مغربی ادب میں جس کی خاص اہمیت ہے۔ اس انتخاب میں شامل بعض نظمیں ان دونوں موضوعات کو پیش کرتی ہیں۔ اپنے دور کے عمومی سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر بھی سید محمد جعفری کی گہری نظر تھی اور ان کی شاعری میں ان مسائل پر چبھتے ہوئے لیکن کھکھلاتے ہوئے تبصرے ملتے ہیں۔ سید محمد جعفری کی شاعری اپنے وطن سے محبت کی عکاس ہے۔ پاکستان کے بعض شہروں اور علاقوں کا ذکر والہانہ انداز میں کرتے ہیں۔
سید صاحب کا اسلوب بذلہ سنجی، شگفتگی اور نکتہ آفرینی سے عبارت ہے۔ زبان پر عبور ہے اور فارسی و عربی سے گہرے لگائو نے ان کے ہاں ایک خاص رچائو پیدا کردیا ہے۔ اقبال اور غالب کی شاعری سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور یا تو ان کے مصرعوں کی بڑی دلچسپ انداز سے تضمین کی ہے، یا ان میں بڑی مہارت سے چند حروف یا الفاظ کی تبدیلی سے مزاح پیدا کیا ہے۔ اسے پیروڈی تو نہیں کہہ سکتے البتہ اسے تصرف کہا جاسکتا ہے۔
مشرقی زبانوں اور تہذیب سے لگائو اور مغربی ادبیات کے مطالعے نے سید صاحب کی فکر اور فن دونوں میں گہرائی پیدا کی۔ اس میں ان کی تعلیم و تربیت اور گھر کے ماحول کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ ان کے والد سید محمد علی جعفری تاریخ اور سیاسیات کے ایم اے اور اسلامیہ کالج، لاہور کے پرنسپل تھے۔ علامہ اقبال اور ان کے احباب سے بھی محمد علی جعفری کی قربت رہی۔
سید محمد جعفری راجستھان کے ضلع بھرت پور کے گائوں پہرسر میں 27 دسمبر 1905ء کو پیدا ہوئے اور حسب دستور دینی اور ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر منشی فاضل کا امتحان پاس کیا، 1922ء میں میٹرک کیا، گورنمنٹ کالج لاہور سے 1928ء میں بی ایس سی اور پھر ایم اے انگریزی کیا، اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے (فارسی) کی سند حاصل کی۔ اس کے علاوہ مصوری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور خطاطی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ گورنمنٹ اسکول جہلم اور سینٹرل ماڈل اسکول لاہور میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ 1940ء میں گورنمنٹ کالج لائل پور (اب فیصل آباد) میں انگریزی اور فارسی کے استاد مقرر ہوئے، لیکن اسی سال دہلی میں برطانوی محکمہ اطلاعات سے منسلک ہوگئے۔ آزادی کے بعد 1947ء میں کراچی میں حکومتِ پاکستان کے محکمہ اطلاعات میں رہے اور 1964ء میں انہیں ایران میں پریس اور کلچر اتاشی مقرر کیا گیا۔ 1966ء میں وظیفہ یاب ہوئے۔ 7جنوری 1976ء کو کراچی میں انتقال کیا۔
سید محمد جعفری کا پہلا مجموعہ کلام ’’شوخیٔ تحریر‘‘ بہت تاخیر سے اور ان کی وفات کے بعد 1985ء میں شائع ہوا۔ دوسرا مجموعہ کلام ’’تیرِ نیم کش‘‘ 2007ء میں منظرعام پر آیا۔‘‘

جب لاد چلے گا بنجارہ

…سید محمد جعفری…

جب وفد بنا کر چودھریوں کا لے جاتا ہے طیارہ
کچھ اس میں افسر جاتے ہیں کچھ بیوپاری کچھ ناکارہ
ایکسچینج انہیں دے دیتا ہے یہ ملک ہمارا بے چارہ
’’ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا‘‘
’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘
یہ کیسا دَورہ آن پڑا ہے یوں ہی یا سرکاری ہے
یہ ملک اور قوم کی خدمت ہے یا لالچ کی بیماری ہے
اے حُبِّ وطن سے بیگانے ڈالر سے جو تیری یاری ہے
’’گر تو ہے لکھّی بنجارہ اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے‘‘
’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘
جس محفل میں تُو جاتا ہے، وہ اہلِ خرد کی محفل ہے
تُو صرف وزارت کرتا ہے اور صرف اسی کے قابل ہے
جو بس کا تیرے کام نہیں اس کام کے اوپر مائل ہے
دورانِ سفر گر ٹوٹ گئی کابینہ جس میں شامل ہے
’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘

اسلام کیا مسلمان کون؟اکیسویں صدی میں اسلام کا گلوبل تعارف

کتاب : اسلام کیا مسلمان کون؟
اکیسویں صدی میں اسلام کا گلوبل تعارف
مصنف : ضیا الدین سردار
ترجمہ و حواشی : ڈاکٹر محمدذکی کرمانی
صفحات : 150 قیمت:400 روپے
ناشر : عکس پبلی کیشنز، بک اسٹریٹ داتا دربار مارکیٹ۔ لاہور
فون : 042-37300584
موبائل : 0300-4827530
0348-4078844

ضیا الدین سردار ایک مصنف، براڈ کاسٹر اور تبصرہ نگار ہیں۔ اسلام، ثقافت، تمدن اور سائنس ان کے خصوصی میدان ہیں۔ پاکستان میں پیدا ہوئے اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ ضیا الدین سردار دنیا کے بڑے عوامی دانش وروں میں شمار کیے جاتے ہیں، FUTURES کے ایڈیٹر ہیں۔ متنوع موضوعات پر چالیس کے قریب کتابیں لکھ چکے ہیں جن کا تعلق اسلام، سائنس، پالیسی، مستقلیات، مابعد استعمار، ثقافتی مطالعات، سیاحت، خودنوشت سوانح نگاری سے ہے۔ زیرنظر کتاب مغرب میں رہنے والے مغرب زدہ مسلمان کی تحریر ہے جس میں بہت سی باتیں قابلِ بحث ہیں۔
ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی تحریر فرماتے ہیں:
’’ضیا الدین سردار کی کتاب What Do Muslim Believe پر تبصرہ دیکھا تو کتاب پڑھنے کی شدید خواہش ہوئی، اور جب برادر شبیر احمد بھٹ نے کتاب حاصل کرکے مجھے دی تو خوشی اور شکر کا اظہار ایک ایسی شئے لطیف بن گیا جس کا احساس مجھے اور شبیر صاحب ہی کو ہوا تھا کہ اگر اسے پڑھا نہ ہوتا تو شاید کمی رہ جاتی۔
حضرت عمرؓ فاروق نے عمرؓو بن العاص گورنر مصر کو لکھا تھا کہ مائوں نے تو لوگوں کو آزاد جنا تھا تم نے انہیں غلام کیونکر بنالیا۔ عمرؓ غلامی کی ان خفی شکلوں کی طرف اشارہ کررہے تھے جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو انسان کی روح، فکر اور رویّے تک متاثر ہوجاتے ہیں، اور یہ غلامی کی بدترین شکل ہے۔ چنانچہ ہر وہ کاوش جو آزادیٔ فکر پر مشتمل ہو انسانی روح کو توانائی اور خروش عطا کرتی ہے۔ ضیاالدین سردار کی یہ کتاب پڑھ کر میں اسی احساسِ آزادی سے حاصل خوشی اور ذہنی توانائی سے متاثر رہا اور یہ طے کیا کہ افکار و خیالات کی اس توانائی اور تازہ لہر سے اردو دنیا کو ضرور واقف ہونا چاہیے۔ اخلاص سے مزین اختصار اور مدلل انداز نے اس کتاب کے حسن میں اضافہ کیا ہے۔
پس یہ ترجمہ لفظاً لفظاً ایمان دارانہ اور دیانت دارانہ اظہار ہے، اور یہ جذبہ کارفرما رہا ہے کہ آج کے ذہین نوجوانوں پر گلوبل اندازِ فکر آشکارا ہوسکے۔ اسلام کے تعارف پر مشتمل لاتعداد کتابیں موجود ہیں لیکن وہ پیکر جس میں یہ پھلتا پھولتا ہے اس کا تعارف نہیں ملتا۔ اس قوتِ متحرکہ کا تعارف تو ہے جس سے یہ پیکر زندگی کشید کرتا ہے، لیکن خود وہ پیکر کیا ہے اس سے آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ کتاب تاریخ کے سانچوں میں ڈھلے اس پیکر کا تعارف کراتی ہے، چنانچہ اس میں جہاں اسلام کا تعارف ملتا ہے وہیں اُس تاریخ کا ذکر بھی ہے جس میں انسانوں نے اس کو اپنایا۔ اس میں جہاں عقائد کا تذکرہ ہے، وہیں اس تہذیب کا ذکر بھی ہے جو ان عقائد کے نتیجے میں پیدا ہوئی، تاریخ کے طویل سفر میں جو آج بھی جاری ہے۔ فکر کا یہ پیکر کن کن مراحل سے گزرا، اس کتاب میں ان کی نشاندہی بھی ہے اور آج کے جاری سفر کا رخ بھی متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں شکست و ریخت کی طرف اشارے بھی ہیں اور کامیابیوں پر فخر و انبساط بھی۔ تاریخ کے سفر میں اس مرکزی خیال کی پہچان بھی کرائی گئی ہے جس سے اس پیکرِ خاکی کا ربط جب کمزور ہوا ہے تو فساد، اور جب مضبوط ہوا تو تاریخ نے اپنا رخ موڑا ہے۔ اس میں مرکز جو قوتوں کی کار فرمائی پر اشارے بھی ملتے ہیں اور مرکز گریز طاقتوں کا تعارف بھی ہے۔ بنیادی اصول یہی ہے کہ فرد ہو یا معاشرہ… مرکز سے زندگی بخش ارتباط کے لیے یہ لازم ہے کہ ان کی پہچان وقت کے ساتھ بدلتے سانچوں کے اعتبار سے ہوتی رہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بڑا ہی محنت طلب اور پُرعزم کام ہے لیکن مستقبل اسی سے تابناک ہے‘‘۔
کتاب میںکافی عجائب ہیں، جو پڑھے گا وہ خود فیصلہ کرلے گا۔
کتاب کے سرورق پر لکھا ہے:
۔’’مسلمان وہ ہے جو غور کرتا اور دلیل دیتا ہے‘‘۔
اسی فقرے میں مستتر ہے جو غور نہیں کرتا اور دلیل نہیں دیتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ یہ کہنا تو جائز اور ضروری ہے کہ مسلمان کو غور و فکر اور تدبر کرنا چاہیے، اپنی بات کو مدلل کرنا چاہیے، اِس کا اُس کے مسلمان ہونے نہ ہونے سے تعلق نہیں۔
کتاب مجلّد ہے، رنگین سرورق سے آراستہ ہے۔ ایک قسم کے نقطہ نظر کو جاننے کا ذریعہ ہے۔

Share this: