آصفہ بھٹو ڈینٹل کالج لاڑکانہ: ڈاکٹر نمرتا کماری کی ”پُراسرار موت“ ؟۔

بروز پیر 16 ستمبر 2019ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ماتحت کام کرنے والے ایک طبی ادارے آصفہ بھٹو ڈینٹل کالج کے گرلز ہاسٹل نمبر 3 کمرہ نمبر 47 سے آخری سال کی میڈیکل کی ایک طالبہ ڈاکٹر نمرتا کماری کی ملنے والی لاش نے ایک مرتبہ پھر سندھ کی درسگاہوں کے اندر طلبہ و طالبات کی حفاظت کے حوالے سے متعدد سوالات کھڑے کردیے ہیں کہ آخر یہ المناک سلسلہ کب اور کس طرح سے اختتام پذیر ہوگا؟ اس دردناک سانحے نے نہ صرف سندھ کے سرکاری اقامتی اداروں، کالجوں اور جامعات میں حصولِ تعلیم کے لیے مقیم طلبہ و طالبات کے والدین، بلکہ تمام اہل سندھ کو ایک طرح سے دہلا اور لرزا کر رکھ دیا ہے۔ پراسرار انداز سے اس دنیائے فانی سے رخصت اختیار کرنے والی ڈاکٹر نمرتا کماری کے والدین، بھائیوں اور رشتے داروں کا تو خصوصیت کے ساتھ حد درجہ بُرا اور ابتر حال ہے جنہوں نے نہ جانے کتنے ارمانوں، اُمنگوں اور آرزوئوں کے ساتھ اپنی لاڈلی، راج دُلاری اور پیاری بیٹی نمرتا کو حصولِ علم اور میڈیکل کی اعلیٰ ڈگری کے حصول کے لیے آصفہ بھٹو ڈینٹل کالج لاڑکانہ بھیجا تھا، لیکن بدلے میں اچانک اس المناک اور دردناک انداز میں انہیں اُس کی لاش ہاتھ آئی ہے۔ اس تڑپا دینے والے اچانک سانحے پر تمام اہلِ سندھ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور ذہین و فطین، ہمدرد، ملنسار، شوخ طبع اور خوبصورت ڈاکٹر نمرتا کماری کی پُراسرار موت کے اصل حقائق جاننے کے مطالبے پر مبنی سندھ کے ہر شہر اور علاقے میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر نمرتا کی لاش کے پوسٹ مارٹم سے متعلقہ ڈاکٹروں کے مطابق تاحال صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ آنجہانی ڈاکٹر کی موت گلا دبنے یا سانس گھٹنے سے واقع ہوئی ہے۔ لیکن اس ذکر پر مبنی رپورٹ کو آنجہانی ڈاکٹر کے بھائی ڈاکٹر وشال اور والدین نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اپنی بہن اور بیٹی کی موت کو صریحاً قتل قرار دے کر قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ نمرتا کے ورثاء کے مطابق اس کی گردن اور بازو پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، اس لیے ڈاکٹر نمرتا کی موت کو خودکشی تو کسی صورت قرار ہی نہیں دیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں نمرتا کے کمرے میں جابجا اس کا سامان بھی بکھرا پڑا تھا، اور نمرتا کے بارے میں خودکشی کا اس لیے بھی نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ ایک بے حد زندہ دل لڑکی تھی۔ ان کے مطابق خودکشی کرنے والا کبھی عام پوزیشن میں نہیں لیٹ سکتا، جبکہ نمرتا بالکل نارمل طریقے سے اپنے بستر پر بہ وقتِ مرگ لیٹی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نمرتا کے اہلِ خانہ کے برعکس ضلعی انتظامیہ، وائس چانسلر ڈاکٹر انیلہ عطا میمن اور پولیس نامعلوم کیوں عجلت اور جلدی میں اصل حقیقت سامنے آئے بغیر اس سانحے کو خودکشی کا ایک واقعہ قرار دینے پر بضد نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے کالج، پولیس اور ضلع لاڑکانہ کی انتظامیہ سمیت مقامی منتخب عوامی نمائندوں کے بے حسی پر مبنی رویّے کے خلاف شدید عوامی ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے کہ آخر یہ سب کس کام کے ہیں اور کس مرض کی دوا ہیں؟ کیا ان کا کام صرف مراعات اور فوائد بٹورنا، یا پھر متاثرہ عوام کے زخموں پر اپنی لایعنی تبصرہ آرائی کے ذریعے نمک پاشی کرنا ہی رہ گیا ہے؟ ڈاکٹر نمرتا کی سہیلیاں اور ہاسٹل میں مقیم طالبات تو اس کے بالکل اُلٹ یہ بیان دے رہی ہیں کہ نمرتا کی چیخ و پکار پر وہ جب بھاگتی دوڑتی آنجہانی ڈاکٹر نمرتا کے کمرے میں پہنچیں تو وہ انہیں عالمِ بے ہوشی میں اپنے بستر پر پڑی نظر آئی تھی۔ وی سی ڈاکٹر انیلہ عطا میمن اور طالبات کے مؤقف میں اتنا بڑا تضاد بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ آخر اصل حقائق کیا ہوسکتے ہیں؟ اس کا پتا چلانا پولیس کا کام ہے، لیکن اس کا حال یہ ہے کہ اس نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ڈاکٹر نمرتا کی پراسرار موت کا سراغ لگانے کے بجائے آنجہانی ڈاکٹر کی کردار کشی کی مہم شروع کردی ہے اور ضلعی پولیس انتظامیہ لاڑکانہ کے افسران کے مطابق اس کا مہران ابڑو نامی کالج کے طالب علم سے افیئر چل رہا تھا اور جب اُس نے نمرتا سے شادی کرنے سے انکار کردیا تو ردعمل میں مایوس ہوکر ڈاکٹر نمرتا نے خودکشی کرلی۔ پولیس کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ اس کی جانب سے تاحال اِس سانحے کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود یہ پراسرار موت بدستور ایک ’’معما‘‘ بنی ہوئی ہے۔ پولیس ذمہ داران اپنے اس مؤقف کے حق میں کہ ’’یہ موت کوئی قتل نہیں بلکہ مبینہ خودکشی ہے‘‘ ایک بھی ٹھوس ثبوت یا دلیل پیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ پولیس ڈاکٹر نمرتا کی پراسرار موت کے حوالے سے زیر حراست اس کے دو قریب ترین دوستوں مہران ابڑو اور علی شان میمن کے بیانات کو بھی چھ روز گزرنے کے باوجود سامنے نہیں لائی ہے، اور ہر سوال کے جواب میں پولیس کی طرف سے اس کا روایتی اور فرسودہ جواب ’’تحقیق ابھی جاری ہے‘‘ کا راگ الاپا جارہا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر نمرتا کے ورثاء نے تاحال کیوں کہ ایف آئی آر کا اندراج نہیں کروایا ہے اس لیے ہم ان کا انتظار کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نمرتا کی سہیلیوں کے مطابق اس نے اپنی موت سے محض دو تین گھنٹے قبل خود اس خوشی میں کہ اس کے فائنل ایئر کا زبانی امتحان بہ خوبی ہوگیا ہے، ان میں مٹھائی تقسیم کی تھی، تو وہ آخر اتنی خوش ہونے کے باوجود کیوں اور کس لیے خودکشی کرے گی؟ مذکورہ کالج کے ایک پروفیسر امر لال گوربخشانی کے مطابق نمرتا اپنی موت سے کچھ وقت پہلے میرے پاس بھی آئی تھی اور وہ ذہنی طور پر قدرے پریشان دکھائی دیتی تھی لیکن اس نے میرے ساتھ اپنا کوئی بھی ذاتی مسئلہ شیئر کرنے سے گریز کیا اور واپس چلی گئی۔ واضح رہے کہ آنجہانی ڈاکٹر نمرتا میرپور ماتھیلو، گھوٹکی ضلع کے ایک بے حد امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اس کے دو بڑے بھائی بھی ڈاکٹر ہیں۔ وہ اکثر اپنے کالج کے مستحق ہونہار طلبہ و طالبات کی دل کھول کر مالی مدد بھی کیا کرتی تھی۔ پولیس اور انتظامیہ ڈاکٹر نمرتا کے دوست مہران ابڑو کی جانب سے شادی سے انکار کے ردعمل میں اس کی جانب سے مبینہ خودکشی پر مبنی تاثر کو بھی تاحال ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔ دریں اثنا وی سی ڈاکٹر انیلہ عطا میمن کی جانب سے گھوٹکی میں ڈاکٹر نمرتا کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے موقع پر ایک صحافی کی جانب سے اس سانحے سے متعلق کیے جانے والے سوال کے ردعمل میں صحافی کو بجائے تشفی آمیز جواب دینے کے اسے تھپڑ رسید کرنے پر بھی وی سی کو سخت ہدفِ تنقید بنا کر سول سوسائٹی، صحافی تنظیموں اور عوام کی جانب سے انہیں ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ حالیہ سانحے نے اُن تمام والدین کو اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے حوالے سے حد درجہ احساسِ عدم تحفظ میں مبتلا کردیا ہے جو اپنی اولاد کا مستقبل سنوارنے کے لیے انہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہوئے ہاسٹل میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت دے دیا کرتے ہیں۔ اب تو اہلِ سندھ اپنے ہاں کے سرکاری اقامتی اداروں، کالجوں اور جامعات کو ’’مقتل‘‘ بھی کہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر نمرتا کماری کی موت کے سانحے سے چار سال قبل سندھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ نائلہ رند بھی بعینہٖ پراسرار حالت میں اپنے گرلز ہاسٹل کے ایک کمرے میں مُردہ پائی گئی تھی، اور ڈاکٹر نمرتا کی موت کو بھی اب اہلِ سندھ قنبر لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی مرحومہ نائلہ رند کی پراسرار موت کے مماثل قرار دے رہے ہیں۔ نائلہ رند کی موت کو بھی یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے مبینہ خودکشی کا نام دیا تھا۔ نائلہ رند کی موت کی تحقیقات کرتے ہوئے پولیس نے ایک تھری نوجوان کو گرفتار کرکے اُس پر بذریعہ فون مرحومہ کو پریشان کرنے کا الزام لگایا تھا، جو بعدازاں ضمانت پر رہا ہوگیا تھا۔ سندھ کی یونیورسٹیاں اور کالج پہلے ہی علم فروشی اور کرپشن کے بدنما مراکز بنے ہوئے تھے، اب یہاں سے والدین کو اپنی معصوم بیٹیوں کی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مبینہ خودکشی کا لیبل لگے ہوئے لاشیں بھی ملنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ آخر ان سانحات کے ذمہ داران کب کیفر کردار کو پہنچیں گے؟ دل ہر صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے۔

Share this: