آئی ایم ایف ’’خوش‘‘ عوام بدحال‘ تاجر پریشان

عمران خان کا طرز حکومت سوالیہ نشان؟۔

اسلام آباد میں ان دنوں اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ آئی ایم ایف کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کو دیے گئے معاشی پیکیج پر عمل درآمد اور ٹیکس محاصل کا جائزہ لے کر واپس جاچکا ہے۔ وفد چار روز تک اسلام آباد میں رہا اور وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم سے ٹیکس اکٹھا کرنے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کرتا رہا۔ حکومت نے تاثر دیا ہے کہ آئی ایم ایف حکومت کے معاشی اقدامات پر مطمئن ہے، لیکن حکومت کے اعلان کے اگلے روز ملک بھر کے تاجروں نے ٹیکس نظام کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں کے نئے سلسلے کا اعلان کرکے تاجروں اور ایف بی آر کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔ تاجر تنظیموں کی ہڑتال کے اعلان پر عمل ہوا تو قومی معیشت کی پوری عمارت آئی ایم ایف کے پیکیج سمیت زمین بوس ہوسکتی ہے۔ یہ صورتِ حال کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے بلکہ یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تجاویز کے مطابق جو مشکل فیصلے کیے، ان کے نتیجے میں عام آدمی کی دشواریوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ تاہم اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لینے والی آئی ایم ایف کی اسٹاف ٹیم نے مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں معیشت کے کئی شعبوں میں خوشگوار نتائج پر اطمینان ظاہر کیا۔ عوام تھوڑی سی قربانی اور دیں توآنے والے دنوں میں بہتری آئے گی۔ آئی ایم ایف ٹیم کی جانب سے اپنے دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی بہتر ہوئی، کرنٹ اکائونٹ خسار ے میں بھی تیزی سے بہتری کی امید ہے، تاہم مقامی اور بین الاقوامی خطرات اور بنیادی اقتصادی چیلنج برقرار ہیں، لہٰذا ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر فیصلہ کن عمل درآمد ضروری ہے۔ پاکستان کا معاشی اصلاحات پروگرام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، بعض اہم شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ کے تعین سے بیرونی توازن کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں، ایکسچینج ریٹ کا اتار چڑھائو کم ہوا، مانیٹری پالیسی افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہورہی ہے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، ٹیکس ریونیو جمع کرنے میں خاطر خواہ بہتری آئی، ٹیکسوں میں گروتھ دو عددی نظر آرہی ہے، پروگرام کے تحت سماجی شعبے کے لیے اقدامات پر عمل درآمد ہوا ہے، قرضہ پروگرام کی منظوری کے وقت طے کیے گئے کم مدتی میکرو اکنامک اہداف برقرار رکھے گئے ہیں، آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے۔
آئی ایم ایف اسٹاف ٹیم نے اسلام آباد میں کسی ایک وزارت کے مؤقف پر انحصار نہیں کیا بلکہ چار الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ ٹیم کے اعلامیے میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پاکستانی معیشت کی موجودہ صورتِ حال پر یہ نقطہ نظر آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا نہیں بلکہ اسٹاف ٹیم کا ہے، اب بورڈ اس رائے سے متفق ہوتا ہے یا نہیں، فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ حکومت پُرامید ہے کہ مالیاتی ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ بھی اپنی اسٹاف ٹیم کی مثبت رائے سے اتفاق کرے گا، اور اگر اتفاق نہ ہوا تو مشکلات بڑھ جائیں گی۔ حکومت کی معاشی ٹیم کا دعویٰ کچھ بھی ہو، اگر یہ دعویٰ حکومت کے ہی ایک ادارے ادارۂ شماریات کی تازہ رپورٹ سے جوڑ کر دیکھا جائے تو ہوش ٹھکانے آجاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں اٹھارہ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور متعدد اشیائے خور و نوش سمیت ستائیس اشیاء کی قیمتیں بڑھیں۔ مہنگائی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس وقت ملک کے 90 فیصد غریب اور متوسط شہری اپنی زندگی کے مشکل ترین معاشی حالات سے دوچار ہیں۔ جن کے پاس پیسہ ہے، وہ پیسہ روک کر بیٹھ گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کی اسٹاف ٹیم کے دورۂ پاکستان پر مختصر تجزیہ یہی ہے کہ ملکی معیشت کا سارا دارو مدار ڈالر ریٹ پر ہے، یہ ریٹ کم ہوا تو ملکی معیشت بہتر ہوگی، ورنہ مسائل ہی مسائل ہیں، اور بہتری لانے کے لیے حکومت کے پاس پالیسی، حکمت عملی اور سمجھ بوجھ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس معاشی کریڈٹ کے ساتھ وزیراعظم اقوام متحدہ کے ڈائس پر کھڑے ہوکر عالمی رہنمائوں سے مخاطب ہوں گے۔ فیصلہ یہی ہے کہ کشمیر ایشو پر کوئی ایسی بات نہیں کی جائے گی جو اس خطے میں امن کے لیے خطرہ بن جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے پہلے بھارتی وزیراعظم مودی کا خطاب ہوگا۔ یہ ترتیب ہمیں ردعمل دکھانے کا موقع دے رہی ہے، لیکن وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کررکھا ہے کہ ردعمل دکھاتے وقت ریڈ زون میں داخل نہیں ہونا۔ وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ جو بھی ہو، کشمیری حریت پسند بھی ایک فیصلہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بہت جلد رواں سال ہی بھارت کو ایسا سبق سکھانے والے ہیں کہ مودی کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی، جس کے بعد اقوام متحدہ میں وزیراعظم کے خطاب کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ جو صورتِ حال اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ہے اس کا تجزیہ یہی ہے کہ بہت جلد کشمیری حریت پسند اقوام عالم کی توجہ کا مرکز بننے جارہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے طرزِ حکومت پر اب انگلیاں اٹھ رہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، لیکن مرکز میں بھی سب اچھا نہیں ہے۔ وفاق میں تحریک انصاف کی لیڈرشپ اختیارات کی جنگ میں الجھی ہوئی ہے، یہ الجھائو سیاسی نہیں بلکہ قانونی اور آئینی ابہام بھی پیدا کررہا ہے۔ اگر کسی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تو حکومت کے لیے عدلیہ کے روبرو جواب دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ قانون اور آئین یہی کہتا ہے کہ وزیر مملکت یا وفاقی وزیر کا اسٹیٹس، پاورز اور اختیارات آئین کے تحت نہ تو وزیراعظم کے معاونِ خصوصی کو دیئے جاسکتے ہیں، نہ مشیر یہ اختیارات استعمال کرسکتے ہیں۔ حقیقت میں ایک بہت بڑا آئینی بحران سر اٹھانے والا ہے۔ مرکز میں اس وقت یہ بیس افراد ہیں جن کے پاس کابینہ کے اجلاس میں بطور مشیر یا معاون خصوصی جانے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، اس کے لیے حلف لیا جاتا ہے۔ قانون کی نظر میں یہ بیس افراد کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے بلکہ صرف تجویز دے سکتے ہیں۔ ان افراد میں شہزاد اکبر، سردار یار محمد رند، علی نواز اعوان، شہزاد سید قاسم، فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، افتخار درانی، ڈاکٹر ظفر مرزا، ذوالفقار بخاری، ندیم افضل چن، ندیم بابر، نعیم الحق، ثانیہ نشتر، شمشاد اختر اور عثمان ڈار شامل ہیں۔ ان میں سے آٹھ کے پاس وزیر مملکت کا درجہ ہے اور ایک کے پاس وفاقی وزیر کا۔ شہزاد ارباب، امین اسلم، عبدالرزاق دائود، حفیظ شیخ اور عشرت حسین وفاق میں مشیر ہیں۔ ان پانچوں کے پاس وفاقی وزیر کا درجہ ہے۔ آئینی طور پر معاونِ خصوصی یا مشیر کو دیے جانے والے محکمے کی اصل پاور وزیراعظم کے پاس ہوتی ہے۔ وزیراعظم خود ان محکموں کے سربراہ ہیں۔ معاون خصوصی ان کی مدد کرتے ہیں۔ کیبنٹ ڈویژن کی وزارت بھی وزیراعظم نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ اس وقت 21 وزارتوں کا بوجھ وزیراعظم نے خود اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ حماد اظہر کو اب بجٹ کے بعد وفاقی وزیر بنایا گیا ہے۔
آخر میں مسلم لیگ(ن) کی لیڈرشپ سے متعلق بات کرلیتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ڈیل ہونے جارہی ہے، لیکن حقائق یہ ہیں کہ کوئی ڈیل نہیں ہورہی، نقشہ ضرور سامنے رکھا گیا ہے کہ اس خاکے میں جس طرح کا رنگ بھریں گے ویسی ہی تصویر بن جائے گی۔ آج کے سیاسی مسائل کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ عمران خان کی حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جسے ابھی تک مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے، تاہم سوال ضرور اٹھ رہے ہیں، لیکن فی الحال فضا حکومت کے حق میں ہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت اورآرٹیکل149

اسلام آباد میں دیگر دو اہم موضوع بھی اس وقت توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی کھلی عدالت میں سات رکنی بینچ کے روبرو سماعت ہوئی لیکن جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل کے اعتراض پر یہ بینچ ٹوٹ گیا۔ بینچ ٹوٹ جانے کی وجوہات اگرچہ سب کو معلوم ہیں لیکن بیان نہیں کی جاسکتیں، اعلیٰ عدلیہ میں فاضل جج صاحبان قانون سمجھتے ہیں اور اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر قدم اٹھاتے ہیں۔ عدلیہ میں مقدمات کی سماعت کے دوران مفروضوں پر بات نہیں ہوتی، جج کے روبرو شواہد پیش کرنا پڑتے ہیں۔ قانون نے سائل کو یہ حق دے رکھا ہے کہ وہ جب اور جہاں محسوس کرے، ضابطے کے مطابق اپنے لیے انصاف کی فراہمی کا متوازن ماحول مانگ سکتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک سائل کے طور پر اپنے لیے یہی کچھ مانگا ہے۔ اب سات رکنی بینچ ٹوٹ چکا ہے، اس کی جگہ ایک نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ نئے بینچ میں اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی سینیارٹی مدنظر رکھی گئی ہے تاکہ کسی بھی طرح کا عدم توازن نظر نہ آئے۔ نئے بینچ کے تمام فاضل جج صاحبان اس کیس کی سماعت کریں گے۔ ایک اور اہم ایشو آئین کے آرٹیکل149 کے نفاذ سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ یہ آرٹیکل کیا ہے اور عدلیہ نے اس کی کیا تشریح کی ہے یہ نہایت دلچسپ معاملہ بن چکا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے مخصوص مقدمات میں صوبوں کو ہدایات کے حوالے سے کارروائی کرتے ہوئے آرٹیکل 149کی تشریح کی ہے جس کا اطلاق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کراچی میں چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ردعمل کے بعد اس پر فوری عمل درآمد کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ آرٹیکل 149 وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو ہدایات دے تاکہ آئین اور قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں اپنی ہی ایگزیکٹو اتھارٹی کا تحفظ اور پیش رفت ہوسکے اور اس کے ذریعے صوبائی حکومت کو اس طرح کی ہدایات پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے۔ آرٹیکل 149 کی شق 3 کے مطابق اگر وفاق کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے تو صوبائی حکومت مواصلات کے ذرائع کی تعمیر اور اسے برقرار رکھنے کی پابند ہے جسے قومی اور اسٹرے ٹیجک اہمیت قرار دیا جاسکتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون کراچی میں آرٹیکل 149 کی شق 4 کا استعمال چاہتے ہیں جو وفاقی حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پاکستان یا کسی بھی حصے کی معاشی زندگی یا سکون یا امن کو کسی بھی شدید خطرے سے بچانے کے لیے ہدایات جاری کرے۔ آرٹیکل 149 کی دیگر شقیں کہتی ہیں کہ ہر صوبے کی ایگزیکٹو اتھارٹی کا استعمال اتنا کیا جائے کہ جو وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی کے استعمال میں حائل نہ ہو، اور وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی کسی صوبے کو اس طرح کی ہدایات دے گی جو اس مقصد کے لیے ضروری ہوں۔

Share this: