گر ینڈ بازار

گرینڈ بازار میں61 کورڈ گلیاں ہیں۔ تقریباً چارہزار دکانیں ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا اور قدیم چھتوں والا بازار کہلاتا ہے۔ یہاں روزانہ ڈھائی لاکھ سے چار لاکھ افراد شاپنگ کے لیے آتے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد سیاحوں کی ہوتی ہے۔ یہ بازار استنبول کے Walled City کے اندر ضلع ’’فتح‘‘ میں واقع ہے۔ اس بازار کی شروعات کا سہرا ترکی سلطان Mehmet II کے سر جاتا ہے جس نے اسے 1454ء۔ 1456ء میں ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ کے لیے تعمیر کیا۔ اس کی تکمیل 1460-61ء میں ہوئی اور اس کی آمدنی ایا صوفیہ کے لیے وقف ہوئی، اس کی تعمیر Brick Works پر مشتمل ہے، قدیم طرز کی آرچز (Arches) پر مشتمل اس کی چھت نیم گنبدوں پر قائم ہے جو کہ اس زمانے کی طرز تعمیر تھی۔ سترہویں صدی میں یہ ترکی سلطنت کی توسیع کے ساتھ تجارت کا بڑا مرکز بن گیا۔ ترکی خلافت کے عروج کے دوران بازار اور دکان داروں کی روایات فکسڈ ریٹ اور جائز منافع پر مبنی تھیں، لیکن جیسے جیسے ترکی معاشرہ روبہ زوال ہوتا گیا یہ روایات رفتہ رفتہ معدوم ہوتی گئیں۔ آج بازار کی تعمیر یادگاروں میں سنگِ مرمر سے بنے پانی پینے کے فونٹین اور چھوٹے کافی کیبن نظر آتے ہیں۔ انواع و اقسام کے ملبوسات، زیورات، مٹھائی، ریڈی میڈ گارمنٹ، عورتوں اور بچوں کے ملبوسات، ترکی اور مغربی فیشن کے تحت بنائے گئے شوز، پائجامے وغیرہ کی دکانیں اپنے گاہکوں کو لبھاتی ہیں اور دکان دار لین دین میں مصروف نظر آتے ہیں۔
(اقبال احمد صدیقی۔ ”عمارت کار“)

برمک عورت اور ہارون کا دربار
خلیفہ ہارون الرشید کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور کہنے لگی: ’’اے امیر المومنین! خدا تیری آنکھوں کو سکون عطا کرے، خدا نے جو کچھ تجھے دے رکھا ہے تُو اس کا سُکھ لُوٹے اور تیری خوش بختی کو انتہا تک پہنچائے، تُو بڑا اچھا حکمران ہے اور تُو خوب انصاف کرتا ہے‘‘۔ ہارون نے پوچھا: ’’اے عورت تُو کون ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میں آلِ برمک میں سے ہوں جس کے مردوں کو تُو نے قتل کیا اور جس کے مال و اسباب پر تُو نے قبضہ کرلیا‘‘۔ ہارون نے اپنے مصاحبوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: ’’کچھ سمجھے بھی یہ عورت کیا کہہ گئی؟‘‘ سب نے جواب دیا:’’ہم تو یہی سمجھے ہیں کہ اس نے آپ کو دعا دی ہے‘‘۔
ہارون نے کہا ”تم کچھ نہیں سمجھے۔ جب اس نے کہا کہ خدا تمہاری آنکھوں کو سکون دے تو مطلب تھا آنکھوں کی حرکت بند ہوجائے، جس کا تو نتیجہ اندھا پن ہوتا ہے، اور جب اس نے کہا کہ خدا نے جو کچھ دیا ہے تُو اس کا سُکھ لُوٹے تو اس کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا حتی اذا فرحوابمااتوااخذناہم بغتۃ (جب کفار مال دولت سے رنگ رلیاں منارہے تھے تو خدا کا قہر دفعتہً ان پر ٹوٹ پڑا) اور جب اس نے کہا ’’خدا تیری خوش بختی کو انتہا تک پہنچائے‘‘ تو مطلب یہ تھا کہ عروج کی انتہا زوال کا آغاز ہوتی ہے۔ اور میری حکومت و انصاف کی تعریف اس نے طنزیہ کی ہے۔“
مصاحب عورت کی دعائوں کی یہ توضیح و توجیہ سن کر بہت متعجب ہوئے۔
(ماہنامہ بیدار ڈائجسٹ ، جون 2004ء)

علامہ نجم الدین نسفی
461ھ۔ 1068ء میں نخشب میں پیدا ہوئے، جو ماورا النہر کا ایک اہم شہر ہے اور جسے عرب نسف کہتے ہیں۔ نام عمر، کنیت ابوحفص، لقب مفتی الثقلین اور نجم الدین ہے، اور اپنی جائے ولادت کی نسبت سے نسفی زیادہ مشہور ہیں۔ حدیث و فقہ کی تحصیل میں ساڑھے پانچ سو اساتذہ سے کسبِ فیض کیا اور پھر ایک کامیاب معلم کی حیثیت سے ہزاروں طلبہ کو تعلیم دی۔ صاحبِ ”ہدایہ“ علامہ مرغینانی ان کے شاگردوں میں ہیں۔ 537ھ۔ 1142ء کو سمرقند میں وفات پائی۔ کثیر التصانیف عالم ہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف و اخلاق، تاریخ و تذکرہ، ادب، دائرۃ المعارف اور عقائد و کلام پر سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ ”العقائد النسفیہ“ توحید و عقائد اور کلام پر ان کی بیش قیمت تصنیف ہے، جو مدتوں سے درسِ نظامی کے نصاب میں شامل ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)

مواخات: ربیع الاول 1 ہجری۔
مسجد نبوی کی تعمیر: ربیع الاول 1 ہجری
مقام: مدینہ میں تشریف آوری کے بعد آپؐ کی اونٹنی جس مقام پر بیٹھی تھی وہیں مسجد نبوی کی تعمیر کی گئی۔
یہود کے ساتھ معاہدہ: 1 ہجری۔
جنگ کی اللہ کی طرف سے اجازت: 1 ہجری یا صفر2 ہجری۔
اذان کا آغاز: 2 ہجری۔
فرضیتِ زکوٰۃ:2 ہجری۔
تحویلِ قبلہ: شعبان 2ہجری۔
فرضیتِ صوم ماہِ رمضان: رمضان 2 ہجری۔
غزوہ بدر: 8 یا 17 رمضان 2 ہجری (مشرکینِ مکہ کے ساتھ)
مسلمانوں کی پہلی عیدالفطر: شوال 2ہجری۔
نبیؐ کی صاحبزادی: حضرت رقیہ کا انتقال 2 ہجری۔
حضرت فاطمہؓ اور حضرت علیؓ کی شادی: غزوہ بدر کے بعد 2ہجری۔
غزوہ بنوقینقاع: وسط شوال 2ہجری (یہودیوں کے ساتھ)۔
غزوہ سویق: غزوہ بدر کے 2ماہ بعد ذی الحجہ 2ہجری (بنوثعلبہ اور محارب کے ساتھ)
اُم المومنین حضرت حفصہ بنتِ عمرؓ سے نکاح: 3ہجری۔
حضرت عثمان کا نکاح نبیؐ کی دوسری صاحبزادی سے: 2ہجری یا 3ہجری۔

Share this: