تعلیمی اداروں میں حجاب اور سیکولر طبقے کی آہ و بکا

خیبر پختون خوا کے دو اضلاع کی جانب سے گرلز اسکولوں میں ڈسپلن اور لڑکیوں کو حجاب کی پابندی کا نوٹیفکیشن کیا جاری ہوا، اسی وقت ملک بھر کے لبرل و سیکولر طبقے کی چیخ پکار شروع ہوگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم پر خاموش رہنے والا این جی او زدہ طبقہ اپنے بلوں سے نکل کر یوں آہ و بکا کرتا نظر آیا جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ ہوگیا ہو۔ الیکٹرانک میڈیا پر پروگرام شروع ہوگئے اور حکومت پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا۔ بدقسمتی سے ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار حکومت یہ دبائو چند گھنٹے بھی برداشت نہ کرسکی اور وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے بذاتِ خود مداخلت کرتے ہوئے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم کرا دیا۔ وزیر اطلاعات خیبر پختون خوا شوکت یوسف زئی نے رات گئے ہنگامی پریس کانفرنس بلا کر اس نوٹیفکیشن کو واپس کرنے کا اعلان کیا۔
اس واقعے سے آپ ارضِ پاک میں لبرل و سیکولر طبقے کے اثر رسوخ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف دو اضلاع میں مقامی سطح پر جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کو کس طرح قومی ایشو بنادیا اور سوشل و الیکٹرانک میڈیا کی تیز ترین مہم کے ذریعے اسے چند گھنٹوں میں واپس بھی کرادیا۔
سوشل میڈیا پر تو مختلف سیکولر صحافیوں اور شخصیات نے عبایا و چادر اوڑھنے کے اس ہدایت نامے کو آڑے ہاتھوں لیا ہی، لیکن الیکٹرانک میڈیا کی چیخ پکار اس سے کہیں زیادہ تھی۔ جیو ٹی وی نے اپنے مارننگ شو میں اس کا خوب مذاق اڑایا، اس پر شدید تنقید کی اور اس واضح قرآنی حکم پر خوب رائے زنی کی۔ میڈیا کی پلاننگ کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ایک ٹی وی شو میں کسی تجزیہ نگار نے اس کے دفاع کی کوشش کی تو اینکر نے اسے بولنے ہی نہ دیا، بار بار اس کو ٹوکا گیا۔ یوں باقاعدہ پلاننگ اور بھرپور دبائو کی بدولت اس نوٹیفکیشن کو رات گئے واپس کرایا گیا۔ حکومت بھی ایسی گھبرائی کہ صبح دفاتر کھلنے کا انتظار بھی نہ کرسکی اور وزیراعلیٰ نے فوری مداخلت کرکے لبرل و سیکولر طبقے کو خوش کردیا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے لڑکیوں کو باحجاب بنانے کے اس ہدایت نامے کو خوب سراہا گیا۔ ٹویٹر پر ’’حجاب اسلامی تہذیب کی پہچان‘‘ کے عنوان سے ٹاپ ٹرینڈ بنایا گیا۔ ہزاروں صارفین نے اس فیصلے کو شاندار قرار دیتے ہوئے پورے ملک میں اس پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن بڑے پیمانے پر عوامی حمایت بھی اس نوٹیفکیشن کو نہ بچا سکی، اور ریاست مدینہ میں حجاب کی بات کرنا ہی جرم بنا دیا گیا۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پردے و حجاب اور اسلامی احکامات کے معاملے پر لبرل و سیکولر طبقے نے اسلام کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیا ہو۔ چند روز پہلے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور نے کیمپس میں لڑکے لڑکیوں کے اکٹھے بیٹھنے پر پابندی لگائی تو یہ نوٹیفکیشن بھی چند گھنٹوں میں ہی واپس کرا دیا گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کو اس پر باقاعدہ معذرت کرنا پڑی۔ اگر حجاب کی بات ہو تو لبرل و سیکولر طبقہ شخصی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، لیکن یہی اصول تب نظرانداز کردیا جاتا ہے جب کسی لڑکی کو باحجاب ہونے کی وجہ سے داخلہ نہیں ملتا، یا کسی مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جب فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں حجاب پر پابندی لگتی ہے تب انہیں انسانی و شخصی حقوق یاد نہیں آتے، ٹویٹ نہیں کیے جاتے، پروگرام کرکے ایشو نہیں بنایا جاتا۔ جب اسکولوں میں کلرز ڈے اور ہالووین منائے جاتے ہیں، ویلنٹائن ڈے کی تقریبات میں خاص لباس پہن کر شرکت کا پابند بنایا جاتا ہے، تب شخصی آزادی اور مرضی کا لباس پہننے کا اصول یاد نہیں رہتا۔ کئی تعلیمی اداروں میں زبردستی حجاب سے روکا جاتا ہے۔ ایسے واقعات روزانہ ہوتے ہیں کہ جب محض حجاب کی وجہ سے کسی لڑکی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ لیکن افسوس کہ اس معاملے پر کوئی نہیں بولتا، اور حکومت کے کان پر بھی جوں تک نہیں رینگتی۔
اگر لڑکوں کو مغربی تہذیب کے تحت اسکول میں ٹائی باندھنا سکھایا جائے تو وہ حلال ہے۔ اسے یونیفارم کا باقاعدہ حصہ بنایا جاتا ہے۔
اگر لڑکیوں کو اسلامی تہذیب کے تحت اسکول میں حجاب کا بولا جائے تو وہ حرام ہے؟
کلرز ڈے، ہالووین اور ویلنٹائن ڈے کے خاص رنگوں والے لباس بھی جائز… ان پر کوئی شور نہیں، کوئی پوسٹ نہیں… لیکن اگر حجاب کی بات ہو جائے چیخیں آسمان تک جاتی ہیں۔
اگر فرانس اور دوسرے مغربی ممالک میں حجاب کے خلاف قانون سازی ہو تو کسی کو اعتراض نہیں۔ لباس کی چوائس کا قانون بھی لاگو نہیں ہوتا۔ کوئی سماجی کارکن اس پر آواز نہیں اٹھائے گا۔ لیکن اگر ایک ایسے علاقے میں جہاں پہلے ہی 80فیصد سے زائد لڑکیاں باحجاب ہوتی ہیں، اسے ڈسپلن کا حصہ بنایا جائے تو طوفان آجاتا ہے۔
ٹائی اور حجاب دونوں پہناوے ہیں، لیکن مغربی تہذیب کی نقل جائز ہے، اپنی اسلامی تہذیب جائز نہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ لبرل و سیکولر مغرب زدہ گروہ ہی ملک کے طاقت ور ترین طبقات بن چکے ہیں، وہ جب چاہتے ہیں اپنی مرضی کا حکم نامہ جاری کرا لیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں منسوخ کرا دیتے ہیں۔
ملک کے محب وطن اور دیندار طبقات کو سوچنا ہوگا کہ کیوں اسلامی احکامات پر عمل کو ایک جرم بنایا جارہا ہے۔ ملک میں جاری لادینیت اور سیکولر و لبرل لہر کو روکنے، اور اسلام کے نام پر بنی اس مملکتِ خداداد میں اسلامی احکامات کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
محمد عاصم حفیظ… شیخوپورہ

فرائیڈے اسپیشل کی مسلسل پیش قدمی
فرائیڈے اسپیشل ہفتہ وار جرائد میں اپنا ایک مقام رکھتا ہے اور مسلسل پیش قدمی کی راہ پر گامزن ہے۔ اپنے معیار، عمدہ مضامین اور تجزیوں کی بنا پر اس کا لوازمہ قابلِ غور نکات پر مشتمل ہوتا ہے جو فکر کے دریچے وا کرتا ہے۔ بہت کم عرصے میں تحریکی رسائل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہا جس میں اس کی ٹیم بالخصوص یحییٰ بن زکریا صدیقی صاحب کا کردار نمایاں اور مثالی رہا۔ اللہ ان کی پُرخلوص کوششوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور صحتِ کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔
فرائیڈے اسپیشل کے تمام سلسلے بہترین، دلچسپ اور توجہ طلب ہوتے ہیں۔ مستقل سلسلے بالخصوص اداریہ حالات کے تناظر میں پُرمغز، حاصلِ مطالعہ، علم و دانش اور دھنک کے عنوان سے مختصر مختصر انتخاب عمدہ اور بے مثال ہوتا ہے۔ مضامین اور تجزیوں میں جناب شاہنواز فاروقی، مسعود ابدالی، امان اللہ شادیزئی، سید عارف بہار، سلمان عابد کے خاص توجہ اور دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں جو آگہی کے چراغ روشن کرتے ہیں۔
میاں منیر، حامد ریاض، عالمگیر آفریدی، جلال نورزئی کی ڈائری، اسامہ تنولی کے سندھی سے ترجمہ شدہ مضامین، اے اے سید کے انٹرویو (جو اب بہت عرصہ سے نہیں آرہے)، ملک نواز احمد اعوان، محمود عالم صدیقی کے نئی کتب پر جامع تبصرے اور اطہر ہاشمی کا ’خبر لیجے زباں بگڑی‘ خوب صورت اور دلچسپ سلسلے ہیں۔ عام آدمی بھی ایک بار پڑھ لیتا ہے تو دوسری بار دل میں چاہت پال لیتا ہے۔ فرائیڈے اسپیشل کی تمام ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے کہ جس نے اپنی محنت اور لیاقت سے فرائیڈے اسپیشل کو ایسے وقت اور زمانے میں جاری رکھا ہے جو بجا طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔
آخر میں ایک سخن گسترانہ بات، تازہ فرائیڈے اسپیشل میں ایک تو نعیم صدیقی مرحوم کی جگہ کسی اور صاحب کی تصویر ٹانک دی گئی۔ دوسری نصیر سلیمی کے مضمون میں بار بار دستور کے آرٹیکل 149 کو 194 لکھا گیا جو بہرحال سنجیدہ سہو ہے جو توجہ چاہتا تھا۔
بہرحال دعائوں کے ساتھ اور دعائوں کی درخواست کے ساتھ والسلام مخلص
عمران ظہور غازی، منصورہ… لاہور

Share this: