لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

پیاز اور لہسن ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہے ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیاز اور لہسن کا جتنا استعمال کیا جائے، چھاتی کے سرطان کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ اس ضمن میں یونیورسٹی آف بفیلو میں پی ایچ ڈی طالبہ گوری ڈیسائی نے دو وجوہ سے پورٹوریکو کا رخ گیا جہاں (1) خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح بہت کم ہے اور (2)وہاں ایک طرح کی چٹنی ’سوفریٹو‘ بہت کھائی جاتی ہے جس میں پیاز اور لہسن شامل ہوتے ہیں۔ سائنس بتاتی ہے کہ لہسن اور پیاز میں آرگینو سلفر اور فلیوونولز بکثرت پائے جاتے ہیں جن میں سرطان کو روکنے کی اچھی خاصی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر دونوں سبزیوں کو ضدِ سرطان (اینٹی کینسر) غذائیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دونوں سبزیوں میں غیر معمولی کیمیکل پائے جاتے ہیں جنہیں تجربہ گاہوں میں اور انسانوں پر آزمایا گیا ہے جس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

زینٹیک نامی دوا پر پابندی کے بعد تحقیقات کا آغاز
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ملک بھر میں کینسر کا سبب بننے کے خدشات کی بنیاد پر خام مال رائینی ٹیڈائن سے تیار کی جانے والی زینٹیک نامی دوا کی فروخت پر پابندی کے بعد بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے اس معاملے کی مزید چھان بین کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے زینٹیک نامی دوا میں کینسر کا سبب بننے والے اجزا کی موجودگی کی اطلاع کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے اس دوا کو پورے پاکستان سے فوری طور پر اٹھوا لیا ہے، ڈریپ کے انسپکٹرز اور ٹیمیں پوری طرح صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں، صوبائی ہیلتھ کیئر کمشنز کے ساتھ مل کر ادویہ کی فروخت اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، مریضوں کا تحفظ ڈریپ کی پہلی ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈریپ کے سی ای او عاصم رئوف نے میڈیکیشن سیفٹی پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عاصم رئوف نے کہا کہ ان ادویہ کی فروخت پر پابندی یقینی بنانے کے لیے ڈریپ صوبوں کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ ڈاکٹر عاصم رئوف نے میڈیا کو بتایا کہ ڈریپ نے ملک بھر میں کام کرنے والی دواساز کمپنیوں کو رینی ٹیڈائن سے بننے والی زینٹیک سمیت دیگر دوائوں کی پیداوار اور فروخت سے روک دیا ہے۔

ٹی بیگ والی چائے کے ایک کپ میں خردبینی پلاسٹک کے اربوں ذرات
کینیڈا کی مشہور مِک گِل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اگر 95 درجے سینٹی گریڈ تک گرم پانی میں ٹی بیگ ڈبویا جائے تو اس سے پلاسٹک کے 11 ارب ذرات خارج ہوکر چائے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی جسامت 100 نینومیٹر سے لے کر 5 ملی میٹر تک ہوسکتی ہے۔ اس طرح دیگر کھانوں اور غذاؤں کے مقابلے میں یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔سائنس دانوں نے کہا ہے کہ اگر آپ چائے پینے کے شوقین ہیں تو پلاسٹک کے ٹی بیگ میں بند چائے پینا چھوڑ دیجیے، کیونکہ صرف ایک مرتبہ ہی ٹی بیگ سے پلاسٹک کے اربوں ذرات چائے کے اندر داخل ہوکر ہر گھونٹ کے ساتھ آپ کے حلق سے معدے تک پہنچتے ہیں۔ ان سائنس دانوں نے چائے نوش افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پلاسٹک ٹی بیگز استعمال کرنے سے مکمل اجتناب کریں۔ پاکستان میں پلاسٹک ٹی بیگز کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، یہاں خاص طرح کے انتہائی باریک ٹشو پیپرز سے ٹی بیگز بنائے جاتے ہیں۔

واٹس ایپ جعلی اطلاعات میں کمی
ماہرین نے کہا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے پیغام آگے بھیجنے کے آپشن محدود کرنے سے جعلی خبروں، غلط اطلاعات اور افواہوں کے پھیلنے میں کمی ہوئی ہے لیکن مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
واٹس ایپ نے رضاکارانہ طور پر اِس سال جنوری میں ایک پیغام 20 افراد تک بھیجنے کے آپشن کو مزید کم کرکے صرف 5 افراد تک محدود کردیا تھا۔ اس سے پہلے واٹس ایپ صارفین ایک میسج 256 افراد کو بھیج سکتے تھے جسے محدود کرکے 20 کیا گیا، اور اس کے بعد مزید 5 تک محدود کردیا گیا۔

Share this: