خصم شوہر یا دشمن؟

محترم عبدالمتین منیری ایک خلیجی ریاست سے کبھی کبھی ہماری خبر لیتے رہتے ہیں۔ ان کا 22 ستمبر 2017ء کا ایک محبت نامہ اچانک سامنے آگیا۔ اس میں ایک دلچسپ واقعے کا اعادہ کرنے میں کوئی ہرج ہے نہ حرج۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم جمالیہ عربک کالج، مدراس سے حاصل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی ہے۔ ان کے ایک استاد نے بتایا کہ ’’گول ’ۃ‘ لگانے سے صیغہ مذکر بدل کر مؤنث ہوجاتا ہے‘‘، تو ہم نے بھرے مجمع میں ایک استاد سے دریافت کیا کہ ’’ہل امک حیتہ‘‘ یعنی کیا آپ کی والدہ حیتہ (زندہ) ہیں۔ انہوں نے ’’حی‘‘ پر گول ’ۃ‘ بڑھا کر مؤنث بنالی۔ لیکن عربی میں ’’حیۃ‘‘ سانپ کو کہتے ہیں جس پر بھری مجلس میں سب لوگ ہنس پڑے‘‘۔ منیری صاحب نے لکھا ہے کہ اہلِ زبان اور غیر اہلِ زبان میں یہی فرق ہوتا ہے۔
ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ برطانوی ہند میں ایک انگریز نے اردو پر عبور حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تو مخاطب نے کہا ’’آپ تو ڈیوٹ ہیں‘‘۔ وہ خوش ہوگیا کہ ڈیوٹ اس آلے کو کہتے ہیں جس پر چراغ رکھا ہو۔ حالانکہ اردو میں ڈیوٹ بے وقوف کو کہتے ہیں۔ جہاں تک عربی کا تعلق ہے تو یہ بڑی وسیع اور بھرپور زبان ہے۔ چنانچہ جیسا کہ پچھلے شمارے میں ذکر کیا اس کے کئی الفاظ اردو میں آکر اپنا مفہوم بدل گئے۔ ایسا ہی ایک لفظ ہے ’’خصم‘‘۔ عربی میں دشمن کو کہتے ہیں اور اسی سے ’خصومت‘ یعنی دشمنی ہے، لیکن اردو، پنجابی وغیرہ میں خصم شوہر کو کہتے ہیں۔ ہم نے ایک سعودی صحافی کو یہ بات بتائی تو ہنس کر کہنے لگا ’’بہت ٹھیک کہتے ہیں‘‘۔ یعنی اُس کے نزدیک شوہر دشمن ہی ہوتا ہے۔ گو کہ اس بات سے ہرگز اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم بھی طویل عرصے سے خصم ہیں۔ پنجاب میں خواتین لڑتے ہوئے ایک دوسرے کو ’’خصماہ کھانیے‘‘ یا ’’خصماں نوں کھا‘‘ کہتی ہیں۔ خصم عربی میں دشمن کے علاوہ جھگڑا کرنے والے کو بھی کہتے ہیں، ظاہر ہے کہ دشمن ہی جھگڑا کرے گا۔ فارسی میں بھی خصم دشمن کو کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے مطالب مالک، صاحب، مجازاً خاوند، دشمن، بدخواہ، حریف وغیرہ ہیں۔ خصومت کی جمع خصومات ہے، کسی چیز کی قیمت کم کرانے یا رعایت طلب کرنے پر بھی ’’خصم التجاریہ‘‘ کہتے ہیں۔ کیوں کہتے ہیں یہ معلوم نہیں۔
عربی کی بات نکلی ہے تو اسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ عربی کے کئی الفاظ ایسے ہیں جو متضاد معنی رکھتے ہیں۔ اسے یوٹرن تو نہیں کہا جاسکتا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عربی زبان میں اضداد سے مراد وہ الفاظ ہیں جو ایک ہی وقت میں ایک معنی رکھنے کے ساتھ متضاد معانی کے بھی حامل ہوں۔ اضداد مترادف کے معنی بھی رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر الصریم کا لفظ رات کے لیے اور ساتھ ہی دن کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ دو متضاد الفاظ کے درمیان ایک حرف یا ایک حرکت (زیر، زبر، پیش) کا فرق ہوتا ہے۔ مثلاً یَحقُر کا معنی بڑھانا ہے تو یُحقُر کم کرنا یا ختم کرنا ہے۔ اسی طرح رعیب کا لفظ مرعوب زدہ اور خوف زدہ کے لیے بولا جاتا ہے، ساتھ ہی یہ اس کی ضد بن کر اس بہادر کا معنی دیتا ہے جو دوسرے کو رعب میں لے آئے۔
عربی زبان میں اضداد کی وجوہات میں عربوں کے لہجوں کا اختلاف بھی شامل ہے۔ مثلاً وثَبَ کا معنی اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ تاہم بنی حمیر کی لغت میں اس کے معنی بالکل برعکس یعنی ’’بیٹھ جانے‘‘ کے ہیں۔
عربی زبان میں سُرخ کے لیے اَحمر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ سفید ہو تب بھی وہ رجل احمر یعنی سرخ آدمی بولا جاتا ہے۔ یہ بات منقول ہے کہ عربوں میں اسود و احمر (سیاہ و سرخ) کے الفاظ اسود و ابیض (سیاہ و سفید) سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح اَخضر اپنے اصل معنی یعنی سبز کے علاوہ اسود یعنی سیاہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد سبز رنگ کی شدت ہے جو کثیف ہوجانے کی صورت میں گہرے پن میں سیاہ کا عکس دیتا ہے۔ اسی طرح اخضر کا لفظ متضاد معنی رکھتا ہے۔ اگر کسی انسان کی شرافت کی تعریف کی جائے تو اسے رجل اخضر کہا جاتا ہے، اور اگر کوئی کمینے پن کا مظاہرہ کرے تب وہ رجل اخضر ہوگا۔ اس لیے کہ عربوں کے ہاں الخضرہ کا ایک معنی کمینہ پن ہے۔ عربی کی مشہور اضداد میں اخفی کا لفظ بھی ہے۔ یہ روپوشی کے معنی میں آتا ہے اور اگر کوئی نمودار ہوکر سامنے آیا تب بھی اس کے لیے اخفی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اضداد میں جبر کا لفظ بھی ہے۔ یہ بادشاہ کے لیے بولا جاتا ہے اور غلام کے لیے بھی جبر استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں شِمتُ کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ تلوار کے چھپائے جانے پر کہا جاتا ہے شمت السیف۔ اور اسی طرح اس کا معنی ’’نیام سے باہر نکالا جانا‘‘ بھی ہے۔ علاوہ ازیں کاس کا مشہور لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ یہ برتن (گلاس) کے لیے بولا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس شے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو کاس کے اندر موجود ہو۔ یہاں تک کہ کان کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ بعض شعری روایتوں میں یہ ماضی کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور مستقبل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بَعد کا لفظ تاخیر کے معنی میں آتا ہے اور بعض مرتبہ قبل کے معنی میں! اسی طرح لفظ بعض کا معنی جُز بھی ہے اور بعض کا معنی کُل بھی ہے۔ (اردو میں بھی اگلا یا اگلے قبل کے معنوں میں آتا ہے جیسے ’’اگلے وقتوں کے لوگ‘‘ یا غالب کا مصرع ’’کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا‘‘)۔ عربی زبان میں الدائم کا لفظ ٹھیرے ہوئے کے لیے بھی آتا ہے اور متحرک کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح الدّسیم کا معنی قلیل الذکر بھی ہے اور کثیر الذکر بھی ہے۔ عربی میں دونَ اس شے کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو نیچے ہو اور اس کے لیے بھی جو اوپر ہو!
اضداد کے دلچسپ پہلو میں فازَ کا لفظ بچنے کا معنی بھی دیتا ہے اور یہ ہلاک ہونے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح فَزِعَ کا لفظ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو مدد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہو۔ اور اس شخص کے لیے بھی جو کسی کی مدد کرے۔ عربی میں وما کا لفظ کسی چیز کی تاکید کے لیے بولا جاتا ہے اور وما نفی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں الماتم کا لفظ غم کے واسطے جمع ہونے والی خواتین کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف خوشی کی تقریب میں اکٹھا ہونے والی خواتین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ دلچسپ اضداد میں ضاع کا لفظ کھو دینے کے لیے آتا ہے اور ساتھ ہی یہ لفظ ظاہر ہونے اور سامنے آنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ یہاں تک کہ عربی میں خود ضد کا لفظ بھی دو متضاد معنی دیتا ہے۔ ضدی یعنی میرے مقابل اور میرے خلاف۔ دوسری جانب ضدی کا معنی ’’میرا جیسا‘‘ ہے۔ الطاعم کھانا پیش کرنے والا اور الطاعم کھانا طلب کرنے والا بھی ہے۔
ربی میں (وراء) کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ اس کا معنی کسی شے کے پیچھے ہونا ہے اور دوسری طرف اس کا معنی آگے ہونا بھی ہے۔ اسی طرح (الوصيّ) وہ جو نصیحت یا وصیت کرے اور ساتھ ہی (الوصي) وہ ہے جس کو نصیحت یا وصیت کی جائے۔ عربی میں (أرجأ) کا معنی پیداوار کا وقت قریب آنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب کسی امر میں تاخیر ہو تو اس کا معنی بھی (أرجأ) کا لفظ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں (الحذمُ) کا معنی تیزی سے چلنا ہے اور اس کے مقابل ہلکی رفتار سے چلنا بھی (الحذم) ہے۔ اضداد کی فہرست میں (حلّق) کا لفظ بھی شامل ہے۔ کنوئیں میں پانی نیچے چلے جانے پر بولا جاتا ہے (حلّق الماء في البئر) .. دوسری جانب پرندہ فضا میں بلند ہو تو اس کے لیے (حلّق الطائر) کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
عربی میں (وراء) کا لفظ بھی اضداد میں سے ہے۔ اس کا معنی کسی شے کے پیچھے ہونا ہے اور دوسری طرف اس کا معنی آگے ہونا بھی ہے۔ اسی طرح (الوصيّ) وہ جو نصیحت یا وصیت کرے اور ساتھ ہی (الوصي) وہ ہے جس کو نصیحت یا وصیت کی جائے۔ عربی میں (أرجأ) کا معنی پیداوار کا وقت قریب آنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب کسی امر میں تاخیر ہو تو اس کا معنی بھی (أرجأ) کا لفظ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں (الحذمُ) کا معنی تیزی سے چلنا ہے اور اس کے مقابل ہلکی رفتار سے چلنا بھی (الحذم) ہے۔ اضداد کی فہرست میں (حلّق) کا لفظ بھی شامل ہے۔ کنوئیں میں پانی نیچے چلے جانے پر بولا جاتا ہے (حلّق الماء في البئر) .. دوسری جانب پرندہ فضا میں بلند ہو تو اس کے لیے (حلّق الطائر) کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
عربی میں’صارخ‘ لفظ مدد کرنے والے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور (صارخ) مدد طلب کرنے والا بھی ہے۔ اسی طرح (الغابر) کا لفظ گزرے ہوئے کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ باقی رہنے کا معنی بھی دیتا ہے۔ عربی میں (الظنّ) کا لفظ شک یا گمان کے معنی میں بولا جاتا ہے اور دوسری جانب یہ یقین کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ (ندّ) کا لفظ مخالف یا متضاد ہونے کے معنی میں بولا جاتا ہے اور اسی طرح (ندّ) یکساں کے معنی میں بھی آتا ہے۔
عربی میں ’الورقة‘ کا لفظ شریف اور اعلی اخلاق کے مالک کے لیے استعمال ہوتا ہے تو دوسری جانب رکیک عادات اور طبیعت کے حامل کو بھی الورقة کہتے ہیں۔ لفظ (الساجد) کا معنی جھکا ہوا ہے اور (الساجد) تن کر کھڑا ہونے والا بھی ہے۔ اسی طرح (سليم) کا لفظ سلامتی فراہم کرنے والے آدمی کے لیے بولا جاتا ہے اور دوسری طرف ڈسنے والا شخص بھی (سلیم) ہے ! … عربی میں ’حَسِب‘ غیر یقینی کے معنی میں آتا ہے اور یہ ہی لفظ یقین کے اظہار کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

Share this: