عمران کی پارٹی کو زبردست سیاسی دھچکا

امان اللہ شادیزئی

بلوچستان میں قومی اسمبلی کی نشست NA-265 کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ اس نشست پر پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے 2013ء کے انتخابات میں بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کے مدمقابل جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار تھے جو ہار گئے تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں اس نشست پر پی ٹی آئی کے قاسم خان سوری، پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے حاجی لشکری رئیسانی، جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حمد اللہ، اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے راحیلہ درانی تھیں۔ یہ نشست قاسم خان سوری نے جیتی۔ دوسرے نمبر پر حاجی لشکری رئیسانی تھے۔ محمود خان اچکزئی ان دونوں سے بہت پیچھے تھے۔ راحیلہ درانی نے بھی دس ہزار سے زائد ووٹ لیے۔
حاجی لشکری رئیسانی نے اپنی سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا تھا اور سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ وہ صوبائی نشست کے لیے کوئٹہ سے امیدوار تھے اور ہار گئے تھے۔ بعد میں پارٹی نے انہیں سینیٹ میں پہنچایا تھا۔ صوبائی نشست پر شکست ان کے لیے صدمے کا باعث تھی۔ بعد میں صدر زرداری کے دور ِحکومت میں وہ سینیٹ سے مستعفی ہوگئے اور کچھ عرصے بعد مسلم لیگ (ن) میں چلے گئے۔ بعد میں مسلم لیگ(ن) سے بھی نکل گئے اور سردار اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی میں چلے گئے۔ وہ کوئٹہ سے NA-265پر پارٹی کے امیدوار تھے۔ وہ بہت کم ووٹوں سے ہارے تھے۔ بعد میں اُن کی پارٹی نے اس نشست پر قاسم سوری کی جیت کو چیلنج کیا اور کیس بلوچستان ہائی کورٹ کے جج عبداللہ بلوچ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا گیا اورکہا گیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور بوگس ووٹ استعمال ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے حاجی لشکری رئیسانی کی درخواست پر ووٹوں کی تصدیق کا فیصلہ کیا اور 29 جون کو حاجی لشکری کی درخواست پر ووٹوں کی گنتی کے فیصلے کا حکم دیا۔ نادرا نے دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا اور رپورٹ کو ٹریبونل میں پیش کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق 52758 کی کائونٹر فائل پر انگوٹھوں کے نشانات غیر واضح تھے، جبکہ 49042 کی کائونٹر فائل پر نشانات واضح تھے۔ جبکہ 1533 کائونٹر فائل پر درج شناختی کارڈز کے نمبر غلط تھے۔ 123 کائونٹر فائل پر شناختی کارڈ نمبر دو دو بار درج ہیں اور 333 کائونٹر فائل پر ایسے شناختی کارڈز کے نمبر درج ہیں جو اس حلقے کے نہیں ہیں۔ 14 ستمبر کو عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنادیا گیا۔ لشکری رئیسانی کے وکیل جناب ریاض احمد ایڈووکیٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن ٹریبونل نے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا اور اس نشست پر دوبارہ انتخاب کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد نواب زادہ حاجی لشکری نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ حلقہ NA-265 میں دھاندلی ثابت ہوچکی ہے، ہم اس فیصلے کو قبول کرتے ہیں، اور ہم دوبارہ انتخاب میں جائیں گے اور مقابلہ کریں گے، اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیر سیاسی لوگوں کو پارلیمنٹ کا حصہ بناکر ہمیں حلقہ 265 کے عوام کے حقِ نمائندگی سے محروم کیا گیا، اگر مخالفین سپریم کورٹ گئے تو ہم وہاں بھی اپنے مینڈیٹ کا دفاع کریں گے۔ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی این پی صوبے کی واحد جماعت ہے جو عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور ہماری پارٹی کوئٹہ کے عوام کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا۔ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ٹریبونل کا فیصلہ جمہوری قوتوں کی جیت ہے۔ تحریک انصاف کو چاہیے کہ اس فیصلے کو من و عن تسلیم کرکے دوبارہ انتخاب میں جائے۔ یہ فیصلہ 6 نکات پر عمل درآمد یا آنے والے الیکشن پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ الیکشن کا فیصلہ جمہوری قوتوں کی جیت ہے۔ اختر مینگل نے کہا کہ NA-265 کی نشست پر1,14000 ووٹ کاسٹ ہوئے، جن میں 52 ہزار ووٹ غیر تصدیق شدہ تھے۔ اس بات میں ہمارا پی ٹی آئی سے کوئی سیاسی اتحاد نہ تھا، ہم نے پی ٹی آئی کا صرف 6 نکات پر عمل درآمد کے حوالے سے ساتھ دیا تھا اور پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، ہمیں امید ہے کہ اس نشست پر 6 نکات کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے اور الیکشن سے پہلے حالات بنانے ہوں گے تا کہ انتخابات بہتر ہوں۔ اب تک چار سو سے زائد افراد گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
نادرا نے الیکشن ٹریبونل کو جو رپورٹ پیش کی اس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 52756 استعمال شدہ کائونٹر فائلز پر نشانِ انگشت واضح نہیں ہیں اور 49042 پر نشانات واضح ہیں۔ 7 بوریاں کھولی گئیں تو 319 کھلے ہوئے بغیر سیل خاکی تھیلے پائے گئے۔ 1083 کائونٹر فائلز پر کوئی نشانِ انگشت موجود نہیں ہیں۔ 15 پولنگ اسٹیشن کے خاکی تھیلے تصدیق کے لیے نادرا کو بھی بھیجے گئے۔ تفصیلات کے مطابق 13 دسمبر 2018ء کو الیکشن ٹریبونل کے حکم کے مطابق پٹیشن نمبر 10/2018 کی رو سے 17 جنوری 2019ء کو بائیو میٹرک تصدیق سے قومی اسمبلی کے حلقہ NA-265 کے الیکشن مواد پر مشتمل 7 بوریاں فراہم کی گئیں اور ان بوریوں کے کھولنے پر 319 کھلے ہوئے بغیر سیل کے خاکی تھیلے پائے گئے جن پر 317 پولنگ اسٹیشن کا مواد موجود تھا۔ تمام 319 تھیلے کھولے گئے جن میں اسٹیشن نمبر 26، 186، 178، 156، 141، 139، 127، 38، 17، 10، 270، 233، 216، 211 شامل تھے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 38 کا خاکی تھیلا موصول نہیں ہوا۔ البتہ اس پولنگ اسٹیشن کے 10 رزلٹ آف کائونٹ پولنگ اسٹیشن نمبر 160 اور 238 کے تھیلوں سے ملے، اس لیے 10 رزلٹ آف کائونٹ کو مندرجہ ذیل میں شمار نہ کیا جائے۔ نادرا کے مطابق 17 پولنگ اسٹیشن کی کائونٹر فائلز نہیں ملیں۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 168، 195 کے 2 خاکی تھیلوں پر کوئی پولنگ اسٹیشن نمبر درج نہیں ہے، جس کی وجہ سے نادرا نے ان کو فرضی طور پر پولنگ اسٹیشن نمبر 402، 401 نمبر دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 1533 استعمال شدہ کائونٹر فائلز پر غلط CNIC نمبر لکھے ہوئے تھے جو کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 166، 401 پر زیادہ پائے گئے۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ غلط شناختی کارڈ نمبر کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ ووٹ غلط شناختی کارڈ پر دیا گیا ہے۔ نادرا کے مطابق کائونٹر فائلز پر لکھا ہوا نمبرCNIC کے ساتھ میچ نہیں ہورہا تھا اس لیے نادرا نے 5299 غلط CNIC والی کائونٹر فائلز کا معائنہ کیا جن پر ہاتھ سے لکھا ہوا شناختی کارڈ کا نمبر درج تھا۔ 359 استعمال شدہ نامکمل CNIC نمبر درج تھا۔ 123 منسلک شدہ کائونٹر فائل پر CNIC نمبر دو دو بار درج تھا۔ یعنی ڈپلیکیٹ، کُل ملا کے 248 فائلز بنتی ہیں۔ 1083 کائونٹر فائلز پر کوئی نشانِ انگشت نہ پایا گیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ مقدمہ لڑا گیا اور جج نے اس نشست پر دوبارہ انتخاب کا حکم جاری کیا۔ اس رپورٹ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک دلچسپ مقدمہ ہوگا۔
الیکشن کمیشن کو NA-265 کا انتخاب کالعدم کرنے کا فیصلہ موصول ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد کام شروع کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ارکان کی منظوری کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو ڈی نوٹیفائیڈ کردیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن قاسم سوری کو ڈی سیٹ کرکے NA-265 پر ضمنی انتخاب کے شیڈول کی تیاری کرے گا اور قاسم سوری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا اور ان کی نشست خالی ہوجائے گی۔
معطل ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اس فیصلے پر کہا کہ نادرا کے حکام کی سازش کی وجہ سے مجھے نااہل قرار دیا گیا۔ اس میں نادرا کی نااہلی اور بدنیتی شامل ہے۔ نادرا 52 ہزار ووٹوں کی گنتی کی تصدیق نہیں کرسکا، اور ڈیجیٹل اسکیننگ کے نشانات کی خاطر خواہ چیکنگ نہیں کی گئی۔ نادرا کو جواب دینا پڑے گا۔
nn

Share this: