اخلاقی خوبیاں

حضرت لوط علیہ السلام کی دعا

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جب مسلسل ان کی نافرمانی کرتی رہی اور عَلانیہ فحش کاری میں مبتلا رہی، یہاں تک کہ حضرت لوط ؈کو اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آنے کا چیلنج کرنے لگی تو حضرت لوط؈ نے یہ دعا مانگی جس پر اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر رکھ دیا:۔
’’اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما‘‘ (العنکبوت:30)۔

چند بنیادی اخلاقی ہدایات:۔
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ (الانعام6:151)۔
اے محمدؐ! ان سے کہو کہ میں تمہیں سنائوں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں:۔
اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئًا(الانعام: 6: 151)یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔۔
نہ خدا کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھیرائو، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں، اور نہ اس کے حقوق میں۔ (تفہیم القرآن، اوّل، ص 597، سورۃ الانعام، حاشیہ 127)۔
-2وَّبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا(الانعام: 6: 151) اور اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔۔
نیک سلوک میں ادب، تعظیم، اطاعت، رضا جوئی، خدمت، سب داخل ہیں۔ والدین کے اس حق کو قرآن میں ہر جگہ توحید کے حکم کے بعد بیان فرمایا گیا ہے جس سے صاف ظاہرہے کہ خدا کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔ (تفہیم القرآن، اوّل، ص599، سورۃ الانعام، حاشیہ 129)۔
-3 وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَاِيَّاهُـمْ(الانعام: 6: 151)اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔
-4وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْـهَا وَمَا بَطَنَ (الانعام: 6: 151) اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی۔
اصل میں لفظ ’’فواحش‘‘ استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق ان تمام افعال پر ہوتا ہے جن کی برائی بالکل واضح ہے۔ قرآن میں زنا، عملِ قومِ لوط، برہنگی، جھوٹی تہمت اور باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کو فحش افعال میں شمار کیا گیا ہے۔ حدیث میں چوری اور شراب نوشی اور بھیک مانگنے کو من جملہ فواحش کہا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے تمام شرمناک افعال بھی فواحش میں داخل ہیں اور ارشادِ الٰہی یہ ہے کہ اس قسم کے افعال نہ علانیہ کیے جائیں نہ چھپ کر۔(تفہیم القرآن، اول، ص599، سورۃ الانعام، حاشیہ 130)
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّـٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(الانعام: 6: 151) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔
انسانی جان، جوفی الاصل خدا کی طرف سے حرام ٹھیرائی گئی ہے، ہلاک نہ کی جائے مگر حق کے ساتھ۔ اب رہا یہ سوال کہ ’’حق کے ساتھ‘‘ کا کیا مفہوم ہے؟ تو اس کی تین صورتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اور دو صورتیں اس پر زائد، نبیؐ نے بیان فرمائی ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ صورتیں یہ ہیں:۔
(1) انسان کسی دوسرے انسان کے قتلِ عمد کا مجرم ہو اور اس پر قصاص کا حق قائم ہوگیا ہو۔
(2) دینِ حق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو اور اس سے جنگ کیے بغیر چارہ نہ رہا ہو۔
(3) دارالاسلام کے حدود میں بدامنی پھیلائے یا اسلامی نظام ِحکومت کو الٹنے کی سعی کرے۔
باقی دو صورتیں جو حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں، یہ ہیں:
(4) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔
(5) ارتداد اور خروج از جماعت کا مرتکب ہو۔
ان پانچ صورتوں کے سوا کسی صورت میں انسان کا قتل انسان کے لیے حلال نہیں ہے، خواہ وہ مومن ہو یا ذمی یا عام کافر۔ (تفہیم القرآن، اول، ص599، سورۃ الانعام، حاشیہ 131)۔
-6وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ(الانعام: 6: 152) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رشد کو پہنچ جائے۔
یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بے غرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیرخواہی پر مبنی ہو، اور جس پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔ (تفہیم القرآن، اول، ص600، سورۃ الانعام، حاشیہ 132)۔
-7وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْـزَانَ بِالْقِسْطِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا(الانعام: 6: 152) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے۔
یہ اگرچہ شریعت ِالٰہی کا ایک مستقل اصول ہے، لیکن اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی حد تک ناپ تول اور لین دین کے معاملات میں راستی و انصاف سے کام لینے کی کوشش کرے وہ اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجائے گا۔ بھول چوک یا نادانستہ کمی و بیشی ہوجانے پر اس سے باز پرس نہ ہوگی۔ (تفہیم القرآن، اول، ص600، سورۃ الانعام، حاشیہ 132)
-8وَاِذَا قُلْتُـمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى (الانعام: 6: 152)اور جب بات کہو، انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔
-9وَبِعَہْدِ اللّہِ أَوْفُواْ(الانعام: 6: 152)اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔
’’اللہ کے عہد‘‘ سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے خدا سے کرے، اور وہ بھی جو خدا کا نام لے کر بندوں سے کرے، اور وہ بھی جو انسان اور خدا، اور انسان اور انسان کے درمیان اسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص خدا کی زمین میں ایک انسانی سوسائٹی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔

Share this: