دھوپ کے پار

شعری مجموعہ : دھوپ کے پار
شاعر : سحر تاب رومانی
مترجم : ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی
صفحات : 160 قیمت:400 روپے
ناشر : تہذیب (0336-8228792)
ای میل : tehzeebpublication@gmail.com
اردو کے معروف اخبارات اور فلمی اخبار ’’نگار‘‘ کے معروف صحافی، شاعر سحرتاب رومانی وادی مہران کے مردم خیز اور زرخیز علاقے خیرپور میں 1965ء میں پیدا ہوئے۔ اسلامیہ کالج سکھر سے گریجویشن کے بعد گورنمنٹ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالج سکھر سے میکینکل انجینئر کی سند حاصل کی۔1984-85ء میں شاعری کا آغاز کیا۔ تنظیم ادب فنون (خیرپور)، حلقۂ دانش کراچی اور حلقۂ اربابِِ ذوق دبئی سے منسلک رہے۔ اخبارات اور رسائل میں مضامین لکھے، انٹرویوز کیے، نظمیں اور غزلیں لکھیں۔ اس زیرتبصرہ شعری مجموعے سے پہلے تین شعری مجموعے ’’گفتگو‘‘ (2010ء)، ’’ممکن‘‘ (2013ء) اور ’’زندگی کے چاک پر‘‘ (2016ء) شائع ہوچکے ہیں۔ زیرنظر شعری مجموعہ ’’دھوپ کے پار‘‘ نومبر 2018ء میں شائع ہوا۔
اس مجموعے میں 79 غزلیں، ایک نعت اور ایک سلام پیش کیا گیا ہے۔ زیادہ تر غزلیں چھوٹی اور رواں بحروں میں ہیں۔ سحرتاب رومانی نے اس شعری مجموعے کا انتساب معروف شاعر محترم رسا چغتائی اور ادیب احمد صغیر صدیقی کے نام کیا ہے۔
چھوٹی بحروں میں وزن اور بحر کا خیال ضروری ہے۔
بعض غزلوں میں قافیے، ردیف، بحور، آہنگ اور اوزان کے لوازمات کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا۔ لذیذ، عزیز، غلیظ، تمیز، مریض، قمیض ایک غزل میں ہم قافیے کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ صندوق، مشکوک ہم قافیہ نہیں۔ ’’اسے پسند بہت نیلے والے پتھر تھے‘‘ کے بجائے

نیلے پتھر اسے پسند تھے بہت
مجھے عقیق نہیں لاجورد ہونا تھا

خامشیت کوئی لفظ نہیں ہے۔ خامشی، خموشی اور خاموشی کے مترادفات ہیں۔ علم عروض کی تھوڑی شدبد یعنی شعر کے وزن اور بحر کی جانچ کے لیے تقطیع کرنا ضروری ہوتا ہے، اس سے لفظ کی کمی یا اضافے کا پتا چل جاتا ہے اور سکتے اور بے وزنی کی کیفیت کا علم ہوجاتا ہے۔ جیسے جگرمراد آبادی کی مشہور نظم ہے

کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
لاکھ بلائیں ایک نشیمن
کامل رہبر قاتل رہزن
دل سا دوست نہ دل سا دشمن

یہ غزل بحرمتقارب میں ہے جس کی گردان فعل فعولن، فعل فعولن
تقطیع۔ کامل رہبر (فعل فعولن) قاتل رہزن (فعل فعولن)
دل سا دوست (فعل فعولن) نہ دل سا دشمن (فعل فعولن)
مولانا حالی کی مسدس کا شعر ہے

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

وہ نبیوں (فعولن) میں رحمت (فعولن) لقب پا(فعولن) نے والا (فعول)
مرادیں (فعولن) غریبوں (فعولن) کی بر لا(فعولن) نے والا (فعول)
مرزا غالب کی مشہور غزل بحر رمل میں ہے:

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

تقطیع: نقش فریا (فاعلاتن) دی ہے کس کی (فاعلاتن) شوخی تح (فاعلاتن) ریر کا (فاعلن)
کاغذی ہے (فاعلاتن) پیرہن ہر (فاعلاتن) پیکرِ تص (فاعلاتن) ویر کا (فاعلان)
معروف بحروں سے واقفیت اور تقطیع کی مشق سے شاعر کو
بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ علم عروض کی کوئی اچھی سی کتاب سے فنّی طور پر خصوصاً چھوٹی بحروں کے استعمال میں اوزان بہتر ہوجاتے ہیں۔
ان کے کلام کے منتخب اشعار نذر قارئین ہیں:

پہلے میں نے آگ جلائی
اور پھر اس میں کود گیا میں
………
زندگی میں نے گزاری ہے سحرؔ
ایک لمحے کے توقف کے بغیر
………
میں اسے لے گیا بلندی پر
وہ مجھے پست کرنے نکلا تھا
………
وہ جو اب تک نہیں ہوئی تم سے
وہ ملاقات لکھنے والا ہوں
………
ساتھ دنیا دیر تک دیتی نہیں
ہو گئے گمنام سب مقبول یار
………
ہر ایک بات مجھ سے ہی منسوب کی گئی
تعریف میرے بعد میری خوب کی گئی
………
عشق کی اوس پی رہا ہوں میں
دھوپ کے پار جی رہا ہوں میں
………
زندگی دائرے کے اندر تھی
اور میں دائرے سے باہر تھا
………
جانے کیسے لوگ ہیں میری بستی کے
تہواروں پر سوگ منایا کرتے ہیں

Share this: