مسلم تہذیب زوال کیوں اور اصلاح کیوں کر

کتاب : مسلم تہذیبزوال کیوں اور اصلاح کیوں کر
مصنف : ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا
مترجم : ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی
صفحات : 302 قیمت:800 روپے
ناشر : عکس پبلی کیشنز، بک اسٹریٹ، داتا دربار مارکیٹ، لاہور
فون : 042-37300584,03004827500
ای میل : publications.aks@gmail.com

ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی بطور تشکر تحریر فرماتے ہیں:
’’اچھی کتابوں کے ساتھ ان کا ترجمہ یا تلخیص معاشرے کی ضرورت رہی ہے اور رہے گی‘‘۔ یہ کس کا قول ہے مجھے نہیں معلوم، لیکن میں اس سے متاثر ضرور ہوا۔ چنانچہ شکرِ خداوندی کے ساتھ یہ اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پیش نظر کتاب کو پڑھنے کے بعد اس قول نے ہی مجھے درکار محنت کے لیے ابھارا اور جواز بھی فراہم کیا۔ ترجمے کا عمل عموماً صبح بعد فجر ہوتا، جس کے لیے اہلِ خانہ کے تعاون کی ضرورت تھی جو مجھے بیگم اور دونوں بچوں کی طرف سے بخوبی ملتا رہا۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا نے جس محنت اور عرق ریزی کے ساتھ یہ کتاب تصنیف کی ہے اس کا اندازہ پڑھنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اوریجنل انگریزی کتاب مجھے مولانا ظہیر احمد صدیقی (FSC لکھنؤ) کے ذریعے پہنچی تھی۔ میں نے دیکھی، پڑھی اور متاثر ہوا۔ اس موضوع پر لٹریچر اردو زبان میں تو ہے ہی نہیں، انگریزی میں بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ محمد عمر چھاپرا نے ملّت کی ایک علمی ضرورت انتہائی عالمانہ شان کے ساتھ پوری کی ہے۔ اللہ اسے قبول فرمائے‘‘۔
اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا ایک انتہائی معروف اسلامی مفکر اور اسلامک اکنامکس کے عالمی شہرت یافتہ ماہر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ تمام مسلمان اہلِ علم مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال سے پریشان ہیں اور اصلاحِ احوال کے لیے تجزیے اور اصلاحِ حال کے لیے اپنے افکار پیش کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی نے اپنی مترجمہ کتاب پر مبسوط مقدمہ لکھا ہے، اس میں سے چند اقتباسات ہم یہاں درج کرتے ہیں:
’’اسلام کے پس منظر میں تہذیب کی بحث نئی تو نہیں البتہ ابھرنے والے سوالات اور مسائل کی روشنی میں اس کا انداز تازگی اور جدت کے عناصر سے بھرپور ضرور نظر آتا ہے۔ اور خاص طور پر اسلامی تحریکات نے اسلام کے جن عناصر کے احیا کو اپنا مطمح نظر قرار دیا ہے ان کی روشنی میں اسلامی تہذیب کا مسئلہ ایک نیا تناظر اختیار کرگیا ہے۔ مثلاً یہ سوال کہ ضرورت دین کی اقامت کی ہے یا تہذیب کے احیا کی؟ تہذیب کے احیا کے نتیجے میں دین کے مقاصد کا حصول کس حد تک ممکن ہے؟ مقصود کیا ہے اور ممکن کیا؟ یہ سوال اب خارج ازبحث نہیں رہا کہ بیسویں صدی کے تجربات کی روشنی میں دین کے تقاضے نظام کے پس منظر میں پورے ہوتے ہیں یا تہذیب کی شکل میں؟ اور اسی سے منسلک یہ بات بھی کہ اصطلاحوں کے فرق کے نتیجے میں سرگرمیوں اور ترجیحات میں کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں؟ لیکن ان سوالات کا ہمارے پیش نظر موضوع سے براہِ راست تعلق نہیں، اس لیے تہذیب ہی کی بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تہذیب کیا ہے؟ اور یہ تمدن یا ثقافت سے کس طرح مختلف ہے؟ یا پھر یہ کہ مختلف ہے بھی کہ نہیں؟ اور کیا محض الفاظ کا فرق ہے؟ یہ خاصی دلچسپ بحث ہے۔ ہم نے کسی اور جگہ تہذیب کو معاشرتی Products کی شکل میں سمجھا ہے۔ یعنی انسان اس کائنات میں موجود وسائل اور اشیا کے ساتھ تعامل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں کچھ دوسری ایسی اشیا ظہور میں آتی ہیں جو استعمال کے ذریعے انسان کے مسائل کو حل کرتی ہیں یا اسے آسانیاں فراہم کرتی ہیں۔ یہ مسائل انفرادی بھی ہوسکتے ہیں اور سماجی بھی۔ ذرائع حمل و نقل، بودوباش، صنعت و حرفت، غذا اور تغذیہ، سامانِ تفریح و آرائش اور علاج و معالجہ سے متعلق بھی ہوسکتے ہیں اور مظاہرِ فطرت کی جستجو اور انسانی قوتِ تخلیق کے اظہار کی شکلوں سے بھی وابستہ ہوسکتے ہیں۔ گویا تہذیب مذکورہ بالا تناظرات کے فی زمانہ بدلتے ہوئے اظہار کا نام ہے۔ ثقافت کے بارے میں ایک معروف رائے ہے کہ وہ ان مفروضوں یا اصولوں سے عبارت ہے جو انسان اور کائنات کے باہمی تعلق کی نقشہ گری کرتے ہیں۔ گویا تہذیب اگر تعامل کا نتیجہ ہے تو ثقافت ان اصولوں اور مفروضوں کا نام ہے جو تعامل کو رخ عطا کرتے اور اسے ساخت فراہم کرتے ہیں۔‘‘
جن مضامین پر یہ کتاب مشتمل ہے وہ درج ذیل ہیں:
مقدمہ:غور طلب۔ تعارف: بعض فیصلہ کن سوالات ٭قرآن و سنت کی رہنمائی،٭ ایک وضاحتی ماڈل کی ضرورت۔ -1ابن خلدون کا نظریہ عروج و زوال: ٭ انسان کا رول،٭ ترقی اور عدل کی اہمیت،٭ اصولوں اور مقتدرہ کا رول، ٭ دولت کی اہمیت،٭ ٹرگرمیکنزم کا رول۔-2 مسلمانوں کے عروج میں کارفرما عوامل:٭انسان اور اداروں کی کایا پلٹ، ٭ زراعت اور دیہی ترقی، ٭ شہروں کی خوشحالی،٭ فکر و دانش کا ارتقا۔ -3 انحطاط کے عوامل:٭ کیا انحطاط کی وجہ اسلام ہے؟ ٭ حقِ ملکیت صرف بڑے بیٹے کے نام،٭ قانونی وجود اور محدود جوابدہی، ٭ اوقاف،٭ کیا اخلاقی زوال مسلمانوں کے انحطاط کا سبب ہے؟، ٭ کیا غیر قانونی سیاسی عمل نے انحطاط کو تیز کردیا تھا؟، ٭خلافت اور جمہوریت،٭ بے قاعدگی کا استحکام، ٭انحطاط کے خلاف شریعت ایک رکاوٹ۔ -4 معاشی زوال: ٭وسائل سے زیادہ اخراجات،٭ اقطاع اور تیمار کے وسیع عطیات، ٭ غیر منصفانہ ٹیکس، ٭ کرنسی کی قدر میں گراوٹ، ٭بیرونی قرضے، ٭بدعنوانی اور سیاسی حیثیت کا استعمال، ٭معاشی انحطاط۔ -5 تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی کا زوال: ٭تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی، ٭ انحطاط کی وجوہات، ٭سرکاری مدد میں کمی، ٭پرائیویٹ سیکٹر کا مؤثر نہ ہونا، ٭عقلیت پسندوں کا قوت کا استعمال، ٭بحث کی نوعیت کیا تھی، ٭دوطرفہ انتہا پسندی، ٭الغزالی، ٭ابن رشد، ٭ابن تیمیہ، ابن خلدون اور المقریزی،٭ مزید قدامت پسندی کی طرف،٭مسلم اور مغربی تحریک، آگہی میں فرق،٭ عالم اسلام میں عقل پسندی کا مستقبل۔-6 معاشرتی انحطاط: ٭حکومت اور عوام میں عدم اعتماد،٭ فقہی انحطاط، ٭تصوف کا کردار،٭ خواتین کی صورتِ حال میں تنزل، -7مسلم تاریخ سے بعض اہم اسباق: ٭تاریخ کا پہلا سبق، ٭تاریخ کا دوسرا سبق، ٭تاریخ کا تیسرا سبق، ٭تاریخ کا چوتھا سبق، ٭تاریخ کا پانچواں سبق، ٭زوال ذرا آہستہ۔ -8سبق لینے میں ناکامی: ٭جمہوریت کا فقدان، ٭معاشرہ ومعیشت پر اثرات، ٭ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس، -9اصلاح کی ضرورت: ٭اخلاقی اصلاح، ٭ عدل، ترقی اور غربت کا خاتمہ، ٭تعلیم اور مائیکرو فائنانس، ٭تمام اداروں کی اصلاح، ٭سیاسی اصلاح، ٭سیاسی اصلاحات کس طرح کی جائیں؟ ٭ کیا پُرامن جدوجہد کامیاب ہوسکتی ہے؟ ٭درپیش مشکلات؟ ٭کیا مغرب ہماری مدد کرسکتا ہے؟ ٭کیا اسلام ایک بار پھر عمل انگیز کردار ادا کرسکتا ہے؟ ٭اسلام کی تفہیم میں اصلاح کی ضرورت، ٭ اسلامی تحریکات کا کردار، ٭مستقبل کے امکانات۔ -10 References۔
صدیوں تک قائم رہنے والی ایک شاندار اسلامی تہذیبی روایت جس میں زندگی اور زندگی سے متعلق ہر شعبے نے بے نظیر ترقی کا مظاہرہ کیا تھا، گزشتہ چند صدیوں سے زوال کا شکار نظرآتی ہے۔ چنانچہ یہ سوال فطری ہے کہ اس حیران کن اور کامیاب مظاہرے کی درپردہ کیا وجوہات تھیں اور کس بنا پر آج یہ کمزور نظر آرہی ہے؟ کیا اسلام اس زوال کا ذمہ دار ہے، یا کچھ دوسرے عوامل کار فرما ہیں؟ ڈاکٹر عمر چھاپرا نے بڑی باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے اور اس سوال کا جواب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بحث میں ان نکات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کو بروئے کار لاکر زوال کے رخ کو ارتقا کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے۔
کتاب کے متعلق مشاہیر کی آرا:
پروفیسر رابرٹ وہاپلس کی رائے ہے کہ یہ ایک انتہائی معیاری تصنیف اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے ایک وقیع کوشش ہے۔ ہر باب میں زوال کی مؤثر تشریح ہونے کی بنا پر اصلاح کی راہ شفاف محسوس ہوتی ہے۔
پروفیسر انس زرقا فرماتے ہیں: مسلمانوں کا زوال تاریخ کے ایک راز سے کم نہیں جسے عمر چھاپرا نے کھولنے کی ایک شاندار اور زبردست کوشش کی ہے۔ تجزیے اور اصلاح کے لیے ایسا فریم ورک بھی پیش کردیا ہے جو اُن لوگوں کے لیے بڑا معاون ہے جو امت کے احیا اور ارتقا کے لیے کوشاں ہیں۔
ڈاکٹر ولفرڈ ہوف مین کی رائے ہے: ڈاکٹر چھاپرا نے ایک ایسا اہم موضوع منتخب کیا ہے کہ تعجب ہوتا ہے اس سے قبل اس موضوع پر کسی نے قلم کیوں نہیں اٹھایا۔ سوال وہی اٹھائے ہیں جو ہر مسلمان پوچھتا ضرور ہے لیکن جواب دینے سے کتراکر نکل جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی انداز میں لکھی گئی یہ کتاب فکر کو مہمیز کرنے والی عمدہ و اعلیٰ کتاب ہے۔ باقی موضوع ایسا ہے کہ اس پر بہت کچھ بحث ہوسکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔
جہاں تک ترجمے کا تعلق ہے اس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا زیادہ مطالعہ انگریزی میں ہے۔ انگریزی ناموں کا وہ جیسے چاہتے ترجمہ کرکے لکھ دیتے۔ علی گڑھ میں بے شمار اہلِ علم دستیاب ہیں، ان کی مدد سے اغلاط کو درست کرواکے صحیح نام لکھ لیں۔ یہ بات ان کے تمام تراجم میں مشترک ہے۔ مثلاً
ص:41 غلط صحیح
الماتوریدی = الماتریدی
ازّالدین ابن عبدالسلام= عزالدین
مشعاب الایمان= شعب الایمان
ص:36 فیض (شہر) = فاس
مراقش = مراکش
ص:67 کارفرماں = کارفرما
الجاّس = الجصاص
مذدکی = مزدکی
مرجعہ = مرجئہ
بخاری کتاب الہرث و = کتاب الحرث
الزاعۃ باب فصل الزراعہ=
والہرث
ان چند اغلاط کی طرف ہم نے متوجہ کیا ہے۔ ایسی اغلاط بے شمار ہیں اور ان کی تمام ترجمہ کردہ کتب میں کم یا زیادہ موجود ہیں۔ علمی کتب کو ان اغلاط سے پاک ہونا چاہیے۔
کتاب مجلّد ہے۔ نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے۔ رنگین خوب صورت سرورق سے مزین ہے۔

Share this: