استاذ الاساتذہ پروفیسر محمد یونس قریشی

جن سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے
آپ نے شاید دیکھے نہ ہوں مگر ایسے بھی ہیں

پروفیسر محمد یونس قریشی بلامبالغہ ایک چھوٹے سے پسماندہ شہر جیکب آباد کے ’’بڑے‘‘ نہیں بلکہ ’’بہت بڑے‘‘ اور ایک ایسے ’’عظیم آدمی‘‘ ہیں جن کا اس دورِقحط الرجال میں ہمارے ہاں ہونا کسی ’’رحمت اور نعمت‘‘ سے کم ہرگز نہیں ہے۔ پروفیسر صاحب موصوف جیسی بلند پایہ علمی، ادبی اور دینی شخصیت اگر کسی قدرداں اور پایہ شناس ملک یا معاشرے میں ہوتی تو انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا، اور ان کے نام سے ایوارڈز اور اعزازات کا اجراء کیا جاتا۔ لیکن ہمارے ہاں اہلِ علم کے بجائے شومئی قسمت سے ’’بے نامی اکائونٹس‘‘ کے مالکان کی زیادہ عزت افزائی اور قدر و منزلت ہوتی ہے، اور نتیجہ اس کا ’’اظہرمن الشمس‘‘ بھی ہے کہ ہمارا پستی کی جانب سفر رُکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ راقم کی ایک عرصے سے یہ خواہش تھی کہ پروفیسر محمد یونس قریشی جیسی کم یاب، نادر و نایاب شخصیت کے بارے میں بذریعہ خامہ الفاظ گل ہائے تحسین و آفرین صفحات پر رقم کروں، لیکن باوجود سعیٔ بسیار کے اس میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ میں بے حد ممنون ہوں معروف اسکالر پروفیسر محمد عارف پٹھان کا، جنہوں نے میری درخواست پر پروفیسر محمد یونس قریشی سے متعدد ملاقاتیں کرکے ان سے متعلق زیر نظر تحریر لکھنے میں میری بھرپور مدد کی۔ راقم کو پروفیسر محمد یونس قریشی سے جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج جیکب آباد میں انگریزی پڑھنے کا (کلاس فرسٹ ایئر میں) شرف حاصل رہا ہے، وہیں بطور کارکن جماعت کے اُن کے (دورِ امارت شہر جیکب آباد) ماتحت کام کرنے کا بھی اعزاز مل چکا ہے۔ میں نے انہیں بے حد قریب سے دیکھا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ موصوف ایک بے حد وسیع المطالعہ، دین دار، محب وطن اور اعلیٰ انسانی اخلاقی اقدار کی حامل بے مثال شخصیت ہیں۔ پروفیسر صاحب موصوف انتہائی نرم خو، کم گو اور توحید کے قائل ہیں۔ آپ کے شاگردوں کی ایک بہت بڑی تعداد ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی جن میں علماء اور فضلاء، درس و تدریس، سفارت کاری، مسلح افواج کے افسران، بزنس مین وغیرہ شامل ہیں، خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہے۔ اس لیے آپ بجا طور پر ’’استاذ الاساتذہ‘‘ کے لقب کے حق دار بھی قرار پاتے ہیں۔ کالج میں ان کے انگریزی مضمون کے لیکچر میں بھی کہیں نہ کہیں اسلامی اقدار اور اوصافِ حمیدہ کا ذکر ضرور ہوا کرتا تھا۔ اب کی طرح اُس دور میں بھی ان کی شخصیت بڑی جاذبِ نظر، دلکش اور دبنگ ہوا کرتی تھی، اور جامہ زیب اور شیریں کلام ہونے کی وجہ سے طلبہ کے ہر دل عزیز استاد ہوا کرتے تھے۔ لباس کی مناسبت سے جوتے بھی پہنا کرتے تھے۔ بہت سارے ایم فل اور پی ایچ ڈیز اسکالرز برملا اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا کیا گیا اردو، سندھی اور انگریزی میں تحقیقی کام پروفیسر محمد یونس قریشی کی رہنمائی اور معاونت سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچ سکا ہے۔ نامور محقق اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر غلام نبی سدھایو نے تو اپنے پی ایچ ڈی کے مکمل ہونے میں ان کی معاونت کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ پروفیسر محمد یونس قریشی کا سارا خاندان بھی ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘ کے مصداق ہے۔ ان کے نانا جان مرحوم محمد اعظم بیگ (جن کی شخصیت سے متاثر ہوکر پروفیسر محمد عارف پٹھان کے نانا جان کا نام بھی رکھا گیا) شہر کی جامع مسجد کے خطیب، پیش امام اور ایک جید عالم دین تھے۔ ان کے دو بھائی پروفیسر محمد ادریس قریشی اور پروفیسر محمد یعقوب قریشی مرحوم بھی ایک عرصے تک ان کے ساتھ ہی مقامی ڈگری کالج میں پڑھاتے رہے ہیں۔ اوّل الذکر تو اس کالج سے پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ایک بھائی محمد اسمٰعیل قریشی بھی مقامی سرکاری ہائی اسکول میں پڑھاتے رہے ہیں۔ آپ کے ایک نواسے کراچی میں انگریزی کے پروفیسر ہیں۔ آپ کے ایک بھانجے ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر محمد ذیشان قوی ہیں، جبکہ دوسرے بھانجے پی سی ایس میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ آپ کے برادرِ خورد پروفیسر سرجن ڈاکٹر محمد ہاشم قریشی معروف ماہر امراضِ چشم ہیں۔ آپ کے بھتیجے محمد ابراہیم قریشی و بیگم، اور بھتیجی مسز وسیم بھی ہائی اسکول ٹیچر ہیں۔ آپ کے صاحبزادوں محمد یوسف اور محمد شعیب قریشی میں سے آخر الذکر ایک اعلیٰ پائے کے مقرر اور مصلح ہیں، ان کے دونوں صاحب زادے عبدالمعیز اور عبدالقدوس بھی حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ پروفیسر محمد یونس قریشی کے والد کا نام محمد قاسم تھا جو علاقے بھر میں بڑی اچھی شہرت کے مالک تھے، اور انہوں نے شہر میں پرائمری تعلیم کے فروغ میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں، اور علاقے کا ایک تعلیمی ادارہ ’’القاسم پبلک ہائر سیکنڈری اسکول‘‘ انہی کے نام سے منسوب ہے۔ پروفیسر صاحب کے داماد، نواسے اور نواسیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شعبہ طب میں اپنی خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہے۔ راقم نے گل ماڈل سائنس کالج جیکب آباد کی ایک تقریب میں (جب پروفیسر محمد یونس قریشی پروفیسر قدرت اللہ بھٹو چیئرمین کالج ہذا کی خواہش پر کچھ عرصے کے لیے اس کے پرنسپل مقرر ہوئے تھے) بہ چشم و گوش خود سابق صدر زرداری کے دورِ حکومت میں ان کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اس کالج کی ایک تقریب میں بطور مہمانِ خاص مدعو کیے جانے کے موقع پر پروفیسر محمد یونس قریشی اور ان کے خاندان کے لیے دورانِ تقریر خاصی دیر تک رطب اللسان ہوتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے۔ اور جب وہ امیر جماعت جیکب آباد ہوا کرتے تھے، تبلیغی مہمات کے دوران بڑے ذوق و شوق سے بہ وقتِ ضرورت دور دراز کی مسافت بھی پیدل طے کرتے ہوئے ملاحظہ کی ہے۔ موصوف بلاشبہ ’’ہر آن ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘ کی عملی اور جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ پروفیسر صاحب کے مطابق شکارپور کے قاری محمد عیسیٰ جو ایک بڑے عالمِ دین تھے، کی شخصیت نے مجھے ازحد متاثر کیا اور انہوں نے ہی مجھے مطالعہ قرآن کی طرف بھی راغب کیا تھا۔ ان کی تقاریر سننے میں ہر ہفتے شکارپور جایا کرتا تھا جس سے میری زندگی ہی بدل کر رہ گئی۔ شکارپور ہی سے تعلق رکھنے والے نامور عالم دین قاری نثار احمد منگی کے فنِ تقریر سے بھی وہ بے حد متاثر ہیں۔ پروفیسر صاحب ایک عرصے تک جماعت اسلامی جیکب آباد کی مسجد نورایمان میں بزبانِ سندھی پُراثر درس دیتے رہے ہیں۔ آج کل مسجد خضریٰ میں نمازِ فجر تا اشراق کے وقفے کے دوران پروفیسر محمد عارف پٹھان سے ان کی اسلامی حالاتِ حاضرہ پر سیر حاصل گفتگو کا سلسلہ جاری و ساری ہے، جن کی ان کے ساتھ کچھ قرابت داری بھی ہے۔ پروفیسر محمد یونس قریشی طبعاً نام و نمود سے نفور رکھتے ہیں۔ اس وقت عمرِ عزیز کے 83 برس گزارنے کے باوجود ماشاء اللہ دینی امور میں متحرک اور فعال رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ نے اوائلِ عمری میں شاعری بھی کی۔ آپ اپنی انگریزی دانی کی وجہ سے بھی بے مثال شہرت رکھتے ہیں۔ ایک بار مجھے یاد پڑتا ہے کہ اثنائے گفتگو شاید یہ بھی اظہارِ تاسف کیا تھا کہ انگریزی پڑھنے کا جو وقت مقرر تھا اس کی بنا پر میری نمازِ فجر بارہا قضا ہوجاتی تھی۔ آپ نے پرائمری کی گورنمنٹ مین پرائمری اسکول جیکب آباد سے 1946ء تا 1950ء، میٹرک گورنمنٹ ایس ایم ہائی اسکول سے 1950ء تا 1954ء، انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ کالج کاری موری حیدرآباد سے 1956ء، گریجویشن 1960ء، ایم اے (مسلم ہسٹری) 1964ء، اور ایل ایل بی کا امتحان 1967ء میں سندھ یونیورسٹی سے پاس کیا۔ پہلی ملازمت بطور ٹیچر گورنمنٹ ایس ایم ہائی اسکول جیکب آباد میں 1956ء تا 1960ء اختیار کی۔ بعد میں گورنمنٹ حمیدیہ ہائی اسکول میں 1960ء تا 1965ء، اور پھر 1965ء میں بطور لیکچرر خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔ ڈگری کالج کندھ کوٹ اور جیکب آباد میں تقریباً 30 برس تک پڑھانے کے بعد 1996ء میں ریٹائر ہوئے۔ اسی دوران کالج کے میگزین ’’معمار‘‘ میں ’’سائنس اینڈ فیوچر آف مین کائنڈ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ گاہے روزنامہ ’’جنگ‘‘، ’’جسارت‘‘ اور دیگر اخبارات اور جرائد میں تحاریر لکھیں۔ ان کے دیگر بھائی بھی (اوپر ذکر ہوچکا ہے) اردو اور سندھی زبان میں کتابچے تحریکی حوالے سے لکھتے رہے ہیں۔ انہیں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں عالمی شہرت کے حامل علمائے کرام سے بالمشافہ ملاقاتوں کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ نامور ادیب اور اسکالر پروفیسر عبدالخالق سہریانی ان کے دیرینہ دوست اور رفیق ہیں۔ آپ ڈاکٹر حمیداللہ خانؒ کی کتاب ’’خطباتِ بہاولپور‘‘، سید مودودیؒ کی تفسیر اور دینی کتب، اور علامہ اقبالؒ و شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی اسلامی شاعری سے بے حد متاثر ہیں۔ آپ دورانِ گفتگو و تقریر کتب و احادیث اور آیات اور شخصیات کے حوالہ جات فی البدیہہ اور ازبر اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ ساری کہی گئی باتیں علم و معلومات اور آگہی کا ایک خزینہ بن جایا کرتی ہیں۔ بلامبالغہ گفتار کے نہیں بلکہ آپ کردار کے بھی غازی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اتنی بڑی علمی اور ادبی شخصیت کالج اساتذہ کا صحیح سروس اسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے محض گریڈ 18 ہی میں ریٹائر ہوگئی، جبکہ آپ کے جونیئر اور شاگرد تک گریڈ 20 میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ آپ کی پسندیدہ شخصیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدینؓ، اکابرینِ دین اور سید مودودیؒ سمیت علامہ اقبالؒ اور قائداعظم شامل ہیں۔ پسندیدہ اساتذہ کریم بخش چنا اور امرت رائے تھے۔ اوائل عمری ہی سے جماعت اسلامی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ قرآن پاک، تفسیر تفہیم القرآن، تفسیر ابن کثیر، دینی کتب اور شاہ جو رسالو سمیت ’’جسارت‘‘، ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘، ’’ترجمان القرآن‘‘ اور ’’ایشیا‘‘ بہ صد شوق پڑھتے رہے ہیں اور آج بھی پڑھتے ہیں۔
پسندیدہ مشروب: دودھ
پسندیدہ کھانا: دال چاول
پیغام: آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نہ صرف نژادِنوکو اسلام کی اصل روح اور پیغام سے روشناس کرایا جائے بلکہ اس پر عمل بھی کیا جائے۔ اس حوالے سے ماہنامہ ’’نور‘‘، ’’بتول‘‘، ’’ترجمان القرآن‘‘ اور ’’بیداری‘‘ سمیت دیگر تحریکی لٹریچر کو پھیلایا جائے تو ان شاء اللہ اس کے ضرور مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

بھارت کے مسلمان صحافی ڈاکٹر سید اوصاف سعید وصفی کی رحلت

معروف صحافی اور نئی دہلی سے شائع ہونے والے مؤقر انگریزی ہفت روزہ جریدے ”ریڈینس “کے ڈپٹی ایڈیٹر ڈاکٹر سیداوصاف سعید وصفی اسّی سال کی عمر میں 23 اگست 2019ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے۔ انہیں 21 اگست کو نئی دہلی کے الشفاء ملٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا تھا۔ڈاکٹر اوصاف وصفی نے استھا مدھیہ پردیش میں 1939ء میں جنم لیا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم بھوپال یونیورسٹی سے حاصل کی، اسی یونیورسٹی سے آپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔ ہفت روزہ ”ریڈینس “سے آپ کی طویل وابستگی رہی۔ اس دوران آپ نے بھارتیہ ودیا بھوّن نئی دہلی سے صحافت کا ایک اہم کورس مکمل کیا۔آپ 1963ء میں ریڈینس سے وابستہ ہوئے۔ ریڈینس سے وابستہ رہتے ہوئے رائے استوار کرنے والے ڈاکٹر صاحب کےمضامین ترجمان القرآن سمیت متعدد عالمی سطح کے اخبارات اور جرائد میں ازسرنو شائعہوئے۔ آپ ”ریڈینس “سے 1997ء تک باقاعدہ وابستہ رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 2017ء تک میگزین کے لیے لکھتے رہے۔ آپ کی طویل خدمات کے اعتراف میں میگزین کی جانب سے آپ کو 2013ء میں میگزین کی گولڈن جوبلی تقریبات میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر وصفی نے اپنے فعال صحافتی کیریئر کے دوران بین الاقوامی شہرت کی حامل کئی شخصیات کے انٹرویو کیے۔ انہوں نے بانیِ جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے لاہور میں نہایت اہمیت کا حامل انٹرویو لیا تھا۔ افغان جنگ کے عروج پر آپ نے حزبِ اسلامی کے رہنما انجینئر گلبدین حکمت یار کا سرحد (خیبرپختون خوا) میں انٹرویو کیا۔ آپ اسلامی تحریک سے تعلق رکھنے والے برصغیر کے اہم ترین لیڈروں سے کیے جانے والے انٹرویوز کو اپنی زندگی کا نہایت قیمتی لمحہ قرار دیتے رہے ہیں۔ آپ نے چوٹی کی اسلامی کانفرنسوں کو بھی کور کیا۔ آپ نے مغربی ایشیائی ممالک، سعودی عرب، کویت، عراق، ایران، شام اور لیبیا کے علاوہ برطانیہ کے دورے بھی کیے۔ ڈاکٹر سید اوصاف نے اپنی علمی زندگی کی نصف صدی میں اپنی تحریروں پر مشتمل چار اہم کتابیں تحریر کرکے شائع کرائیں۔

Share this: