مولانا محمد حنیف کا قتل

ہفتہ 8 ستمبر2019ء کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری مولانا محمد حنیف بم دھماکے کا نشانہ بنائے گئے۔ وہ دیگر دو افراد کے ساتھ جاں بحق ہوگئے۔ دہشت گردی کا یہ واقعہ پاک افغان سرحدی شہر چمن میں رونما ہوا۔ تحقیقات یہی ہیں کہ حملہ مولانا محمد حنیف پر ہی کیا گیا ہے۔ تخریب کاروں نے بم موٹر سائیکل میں نصب کیا تھا جو مولانا کے دفتر کے باہر کھڑی کی گئی تھی۔ یہ شام چار بجے کا وقت تھا، مولانا دفتر سے نکلے، گاڑی میں بیٹھے تو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کردیا گیا۔ اس واقعے کو افغانستان کے حالات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یقینا تفتیشی اور خفیہ ادارے اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کون سے عناصر ملوث ہیں۔ چند ماہ قبل کے واقعات ان ہی عناصر کی جانب سے کیے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے مرتکب عناصر کو بے نقاب نہیں کریں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے یہ عناصر محتاط ہوجائیں گے۔ البتہ یہ امر یقینی ہے کہ یہ لوگ بہت جلد ان کی گرفت میں ہوں گے۔ یہ واقعہ کوئٹہ کے پشتون آباد اور کچلاک کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت ہونے والے بم دھماکے کی کڑی ہے ۔ یقینا پچھلے واقعات کی تحقیقات بھی مکمل ہوچکی ہیں۔ 

مولانا حنیف متحرک شخص تھے۔ وہ چمن سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار بھی رہے ہیں اور اچھے ووٹ لیے۔ خصوصاً چمن کے اندر ان کی سیاسی و قبائلی فعالیت نمایاں تھی۔ چمن پاک افغان سرحد کا اہم شہر ہے، بلکہ پورا ضلع قلعہ عبداللہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس شہر اور ضلع میں افغانستان کی طرف کے قبائل، سیاسی و حکومتی اور فورسز سے وابستہ افراد کسی نہ کسی طرح کی دلچسپی، تعلق اور آمدورفت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس جانب حکومت و سیکورٹی اداروں نے چنداں اہمیت نہیں دی ہے۔ گویا توجہ کی ضرورت ہے، بلکہ صوبے کے تمام پشتون اضلاع میں اب چھانٹی ہونی چاہیے۔ غیر قانونی افراد کے یہاں قیام اور آمدورفت پر پوری توجہ اور ان کے خلاف واجبی و سرسری کے بجائے سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے، اور یہاں سیکورٹی اداروں پر بھی نگاہ ہو کہ وہ وقتی اور محدود اغراض کے لیے افغان باشندوں پر سرپرست بن کر ہاتھ نہ رکھیں۔ خصوصاً نادرا کے محکمے کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے جہاں بدعنوانی عروج پر ہے۔ رقم کے عوض غیر ملکیوں کو مختلف طریقوں سے قومی شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں۔ اس الزام میں نادرا کے کئی چھوٹے بڑے اہلکار گرفتار ہوئے، ان پر مقدمات چلے، مگر آخرکار باعزت بری ہوکر نوکریوں پر بحال ہوگئے ہیں، جبکہ ایسے اہلکاروں کو دوبارہ نوکری پر بحال نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح آئندہ کوئی بھی اہلکار اپنے مفادات کے لیے قومی مفاد کو زک نہیں پہنچائے گا۔ الغرض مولانا حنیف کے قتل میں ملوث لوگوں، ان کے سہولت کاروں اور تعلق داروں کے خلاف پوری یکسوئی کے ساتھ کارروائی عمل میں لانی ہوگی۔ ایسا کرنے سے کم از کم پاکستان کے اندر رہنے والے لوگ ان عناصر کی کسی طرح مدد کو تیار نہیں ہوں گے۔
مولانا حنیف کی تدفین چمن ہی میں کردی گئی اور نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ تدفین کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے رہنمائوں کے علاوہ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی کے رہنماء سینیٹر عثمان کاکڑ، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صد رکن بلوچستان اسمبلی اصغر خان اچکزئی اور دیگر سیاسی و قبائلی رہنمائوں نے خطاب کیا۔ یہاں ان قوم پرست رہنمائوں نے اِدھر اُدھر کی یعنی اپنی رٹی رٹائی باتیں ہی دہرائیں جو دراصل حقائق سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ چناں چہ قوم کو درست راہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ جب سچ بولا جائے گا تو یقینا حالات کی سمت بھی درست ہوگی۔ پردہ داری کی مکروہ سیاست سے قوم کے نوجوان گمراہ ہورہے ہیں، لہٰذا فسادی نکتہ نظر و سیاست سے اب توبہ کی ضرورت ہے۔ فساد کی یہ سیاست روسیوں اور اب امریکہ اور اُس کے افغان کارندوں کو جائز ثابت کرنے کی خاطر ہورہی ہے۔ اگر سچ بولا جائے تو مولانا حنیف پر حملے جیسے واقعات تخریب کاروں کے لیے ممکن نہ ہوں گے، اور ان عناصر کی سیاسی حمایت بھی نہ رہے گی۔ مولانا حنیف کے قتل میں کون لوگ ملوث ہیں یہ امر قطعی راز نہیں ہے۔
مولانا کے قتل کے خلاف اگلے دن صوبے کے مختلف علاقوں میں احتجاج ہوا۔ کوئٹہ اور کئی شہروں میں احتجاجاً شٹر ڈائون ہڑتال کی گئی۔

Share this: