۔’’تڑپ او ر کسک‘‘۔

قاضی مظہر الدین طارق
کیا بتاؤں! کسی پل چین نہیں ہے، ایک عجیب سی کسک ہے جو سکون نہیں لینے دیتی۔
کاش کہ میرے سینے میں دل نہ ہوتا، دل میں یہ انجانی تڑپ نہ ہوتی۔ کاش میں ایک پرندہ ہوتا، جو کام رب نے میرے سپرد کیے،وہ کرتا اور فنا ہوجاتا۔
بہت کم انسان ہیں جو رب کے سپرد کردہ کام کررہے ہیں۔ خیر میں نہ اس کا مکلف ہوں، نہ میری اتنی علمی قابلیت ہے کہ میں اس کام کی لوگوں کو نصیحت کروں، میں تو صرف ایک یاددہانی کرا سکتا ہوں۔
میری تڑپ مجھ جیسے ناچیز کو اس بات پر مجبور کررہی ہے کہ اس کام کے اہل افراد کو یاددہانی کی جسارت کروں۔ براہِ مہربانی میری باتوں کو گستاخی نہ سمجھیں، اگر مجھ سے کوئی غلطی یا گستاخی سرزد ہوجائے تو میں اس سے قبل ہی معافی چاہتا ہوں۔
اپنی بات اللہ کے حکم سے شروع کرتا ہوں، یہ حکم سورۃ النحل آیت نمبر 90 میں موجود ہے:
(ترجمہ) ’’اللہ عدل اور احسان اور صلۂ رحمی کا حکم دیتا ہے، اور بدی، بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔‘‘
اس آیت میں تین کام کرنے کا اور تین کاموں سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کا یہ خیال درست ہو کہ انفرادی طور پر تبلیغ، تلقین اور نصیحت سے اِن احکام پر عمل کیاجاسکتا ہے۔
واعظ و نصیحت، سننے سنانے کا یہ کام تو صدیوں سے ہورہا ہے، مگر کیا اس کا اثر بحیثیتِ مجموعی کسی مسلم معاشرے میں نظر آرہا ہے؟
اگر نہیں! تو غور طلب بات ہے، کیوں؟
اب اس حکم کو سورۃ آلِ عمران کی آیت 110 سے ملا کر دیکھتے ہیں:
(ترجمہ)’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ (مسلم اُمّہ) تم ہو، جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا ’حکم‘ دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘
اس سے متصل درج ہے:
’’یہ اہلِ کتاب(بنی اسرائیل) ایمان لاتے تو اُنہی کے حق میں بہتر تھا۔‘‘
یہ النّاس (عام انسانوں)میں سے ایک گروہ ایک اُمّت کی بات ہورہی ہے، منفرد مسلمان کی نہیں۔ تو کیا لامحالہ اس کے لیے اجتماعی طور پر کام کرنا نہیں ہوگا؟
اب افسوس کی بات یہ ہے کہ جب ’اُولی الباب، علمائے حق اور نیک انسانوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ کام کریں تو جواب ملتا ہے کہ:
’’یہ ہمارا کام نہیں، یہ تو سیاست ہے۔‘‘
بے شک آج سیاست جھوٹے وعدوں، مکر و فریب، دھوکا دہی،خرید و فروخت کا نام ہے۔ کیا شریعت سے نابلد یہ سیاست دان اللہ کے کلمے کو بلند کرسکتے ہیں؟
مگر کیا دنیا ایسے لوگوں سے بھری ہوئی نہیں ہے جو سیاست میں تھے اور ہیں، لیکن اُن کی سیاست صاف ستھری اِن سب برائیوں سے پاک تھی اور ہے۔ قائداعظمؒ ہی کی مثال دیکھ لیں۔
………
مکہ کے اہلِ قریش نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیش کش کی کہ:
’’آپ کو اگر دولت چاہیے تو ہم ڈھیروں مال آپ کے قدموں میں ڈال دیتے ہیں، آپ کو اگر شادی کرنی ہے تو ہم مکہ کی حسین ترین لڑکی سے آپ کی شادی کردیتے ہیں، اور سب بڑی بات کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیتے ہیں، مگر اگر آپ ہماری بات مان لیں، آپ جس کی جس طرح چاہیں عبادت کریں، ہم جس بُت کی چاہیں عبادت کریں، مگر آپ ہمارے سرداری و سیاسی نظام کو نہ چھیڑیں۔‘‘
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
’’میرے رب نے مجھے جو کام سپرد کیا ہے ،میں اُس کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا!‘‘
………
حضرت ابو طالب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں:
’’بھتیجے! اِن کی بات مان لو!‘‘
’’چچا جان! خدا کی قسم، یہ لوگ اگر میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر چاہیں کہ میں اس دعوت کو چھوڑ دوں، تو میں اِس سے باز نہیں آسکتا!‘‘
………
کیا اچھا موقع حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھو دیا، آرام سے مکہ میں رہتے ، نمازیں پڑھتے،روزے رکھتے،حج کرتے، زکوٰۃ دیتے۔
پھر مسلمانوں پر ظلم بھی نہ ہوتا، ہجرت کی زحمت نہ اُٹھانی پڑتی، بدر، اُحد، اَحزاب اور بہت سے غزوات و سرایات میں نہ مرتے مارتے، مدینے کی ریاست کو بچانے کے لیے یہودیوں اور مشرکوں سے معاہدات کے جھنجھٹ سے بچ جاتے، بس محبت عام کرتے۔
کیا ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں بنتی کہ ہم امتِ مسلمہ کی حیثیت سے دنیا کی دیگر قوموں کے سامنے حق کی قولی اور عملی شہادت دیں؟

Share this: