مسئلہ کشمیر: نئی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟۔

سابق سفارت کاروں کو متحرک کیا جائے

پاکستان نے پچھلے دو ماہ میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں بالخصوص جس انداز سے مسئلہ کشمیر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ وزیراعظم عمران خان نے خود کو واقعی مسئلہ کشمیر پر ایک بڑے سفارت کار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کا اعتراف پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیا جارہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ عالمی میڈیا، تھنک ٹینکس، انسانی حقوق سے جڑے اداروں اور رائے عامہ تشکیل دینے والے عالمی اداروں نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے مؤقف کو قبول کرکے ہمارے لیے سفارتی محاذ پر نئے راستے کھولے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگرچہ دنیا بھر کے حکمران طبقات میں بھار ت کی حیثیت ہمارے مقابلے میں خاصی مضبوط ہے، اس کے باوجود اس وقت مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں شدید دبائو بھی بھارت پر ہے۔ خود بھارت میں نریندر مودی کے خلاف مزاحمت موجود ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ نریندر مودی کے اقدامات نے عالمی سطح پر بھار ت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان میں میڈیا اور حکمران طبقے کی سطح پر وزیراعظم کی حالیہ تقریر کے بعد خاصا جوش پایا جاتا ہے۔ پُرجوش ہونا اور سفارتی کامیابی پر خوش ہونا اچھی بات ہے، مگر یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ کامیابی ابتدائی سطح کی ہے، ابھی سیاسی اور سفارتی محاذ پر ایک بڑی جنگ درکار ہے۔
اصل اور بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم نے حالیہ دنوں میں جس انداز سے مسئلہ کشمیر پر جوش کو اجاگر کیا ہے اسے کیسے برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنا اور عالمی برادری کی توجہ، حمایت اور مدد حاصل کرنا ہی وقت کا تقاضا ہے۔ بڑا چیلنج یہ نہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کیا مؤقف رکھتا ہے، بلکہ اس سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عالمی برادری کا مسئلہ کشمیر پر کیا مؤقف ہے اور اسے اپنی حمایت میں کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ دنیا اس وقت تین بڑے حصوں پر مشتمل ہے: (1) حکمران طبقہ، (2) عالمی میڈیا اور رائے عامہ تشکیل دینے والے ادارے، اور (3) عوام۔ اس وقت ہم نے عالمی میڈیا اور دنیا بھر میں عوام کی تو کافی حمایت حاصل کی ہے، مگر حکمران طبقات جن کے مالی مفادات اہم ہیں، ان کے حوالے سے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا بنیادی نکتہ کہ عالمی برادری اور بڑی طاقتوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں سوا ارب کی منڈی درکار ہے یا ان کی نظر میں انسانیت کی اہمیت زیادہ ہے؟ پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی برادری کی بیداری اور عوامی حمایت میں ایک بنیادی نکتہ انسانی حقوق کی پامالی کا ہے۔ مغرب کا میڈیا اور عوام اس مسئلے پر بہت حساس ہیں اور اس کو بنیاد بناکر ہم بھارت پر اپنا دبائو بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں محض جذباتی انداز کے بجائے ٹھوس بنیادوں پر تحقیقی عمل کو آگے بڑھانا ہوگا اور شواہد کے ساتھ انسانی حقوق کے مسئلے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ پاکستان سفارتی سطح پر کچھ بڑے ممالک میں مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کے تناظر میں بڑی کانفرنسیں کرے اور دنیا بھر کی حکومتوں اور انسانی حقوق سے جڑے اداروں کو اس مباحثے کا حصہ بنائے اور دنیا کو بتائے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کیا ظلم کررہا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں ایک بڑی عالمی کانفرنس کشمیر کے تناظر میں کی جانی چاہیے جس میں عالمی قیادت کو بھی مدعو کیا جائے، اور ایک مشترکہ اعلامیے کی مدد سے بھارت پر دبائو بڑھایا جائے۔
بھارت اُس وقت تک مسئلہ کشمیر کے تناظر میں کچھ نہیں کرے گا جب تک اُس پر داخلی اور خارجی محاذ سے دبائو نہیں بڑھے گا۔ ہمیں بھارت کے اندر سے بھی اور عالمی برادری کو اپنے ساتھ جوڑ کر بھارت کو باور کروانا ہوگا کہ اس کی موجودہ کشمیر پالیسی سے صرف مسئلہ کشمیر ہی بگاڑکا شکار نہیں ہوگا بلکہ پاک بھارت تعلقات اور خطے کی مجموعی سیاست پر بھی اس کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک کام پاکستان کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایک ’’سفارتی ایمرجنسی‘‘ کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ کیونکہ ہمیں عملی طور پر دنیا میں موجود اپنے سفارت کاروں اور سفارت خانوں کو بہت زیادہ متحرک کرنا ہوگا اور اس پر مالی سرمایہ کاری کرکے اسے فعال کرنا ہوگا، تاکہ اس عمل کی مدد سے ہم عالمی برادری میں اپنا مقدمہ بہتر طور پر پیش کرسکیں۔
پاکستان کے پاس اچھے سابق سفارت کار اور ڈپلومیٹ موجود ہیں، ہمیں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اور اس کے لیے ایک تھنک ٹینک قائم کرنا چاہیے جو ہمیں سفارتی محاذ پر علمی و فکری مدد فراہم کرسکے۔ کیونکہ ہمارے پاس عملی طور پر پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کے تناظر میں کوئی مؤثر تھنک ٹینک موجود نہیں، اور ہمیں ان سابق سفارت کاروں کو عالمی سطح پر باہر بھیجنا چاہیے تاکہ یہ لوگ اپنے تجربے اور رابطوں کی مدد سے قومی ذمہ داری کا حق ادا کرسکیں۔ اس کے لیے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو پہل کرکے سابق سفارت کاروں پر مبنی ایک گول میز کانفرنس طلب کرنی چاہیے، اور ان کی تجاویز کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے۔کیونکہ جب پاکستان نے عملی طور پر یہ طے کرلیا ہے کہ پاک بھارت اور مسئلہ کشمیر کا مقدمہ سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر لڑنا ہے تو ہمیں اس محاذ کو بہت زیادہ مضبوط اور فعال کرنا ہوگا۔
اسی طرح ہمیں کشمیری قیادت کو بھی اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا ہوگا، اور ان کے نکتہ نظر کو فوقیت دینی ہوگی اور ان کی تحریک کو ہر سطح پر سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرنی ہوگی۔ خاص طور پر پاکستان کو اس پہلو سے بچنا ہوگا کہ ہم وہاں کسی بھی سطح کی جدوجہد میں مسلح جدوجہد کی حمایت کریں یا اس میں کودیں۔ خود کشمیری قیادت کو بھی یہ باورکروانا ہوگا کہ اُن کی حالیہ کامیابی کا بنیادی نکتہ پُرامن سیاسی جدوجہد سے جڑا ہے اور مسلح جدوجہد اُن کی تحریک کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کیونکہ دنیا کی نظریں پوری طرح پاکستان پر مرکوز ہیں اور وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ہماری حمایت کس طرز کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جو باتیں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کی ہیں ان کو عملی طور پر سچ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم امن کے داعی ہیں اور امن کو بنیاد بناکر ہی اپنا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں جو لوگ پاک بھارت اور کشمیر کے تناظر میں جنگی ماحول کو شدت دینا چاہتے ہیں ان کو ہر سطح پر روکنا ہوگا، کیونکہ یہ حکمت عملی ہمارے مفاد میں نہیں ہوگی، اور اس کا فائدہ بھارت کو زیادہ ہوگا جو ہمیں دہشت گرد کے طور پر دنیا میں پیش کرتا ہے۔
ایک مسئلہ حکومت اور حزبِ اختلاف کی تقسیم کا بھی ہے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف میں جو بھی مسائل ہیں وہ اپنی جگہ، لیکن کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ اس الزام کا موثر جواب دے کر اس تاثر کو دور کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے کشمیر کا سود ا کرلیا ہے۔ اس پر خود وزیراعظم عمران خان، کشمیر کمیٹی کے سربراہ فخر امام اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو حزبِ اختلاف کو ساتھ ملاکر آگے بڑھنے کی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔کیونکہ کشمیر کے تناظر میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی تقسیم کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گی۔ اسی طرح آزاد کشمیر کی قیادت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور ان کی رائے کو بھی ہر سطح پر اہمیت دینی ہوگی تاکہ سب فریقین یکجا نظر آئیں۔
ہمیں کشمیر پالیسی میں تسلسل کی ضرورت ہے، اور محض ردعمل سے گزارا نہیں ہوگا تاکہ عالمی برادری کو اپنے ساتھ ملا سکیں۔ شارٹ ٹرم، مڈٹرم اورلانگ ٹرم سطح پر پالیسی درکار ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کو اپنی طاقت بناکر انہیں کشمیر کاز کے حق میں استعمال کرنے کی حکمت عملی درکار ہے۔کیونکہ اب جنگیں میڈیا کے محاذ پر لڑی جارہی ہیں، اور اس میں ہمیں اپنے میڈیا کے محاذ کو ایک نئی جدت دینی ہوگی جو پاکستان اورکشمیر کا مقدمہ درست انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرسکے، جو ہماری کامیابی کی بنیاد ہے۔

Share this: