اعتدال کا راستہ

قل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

آپؐ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا کہ میں تم کو دو چیزوں سے منع کرتا ہوں اور دو چیزوں کا حکم کرتا ہوں۔ شرک اور کبر سے منع کرتا ہوں اور لاالٰہ کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ زمین و آسمان اور مافیھا (یعنی جو کچھ ان میں ہے) اگر ایک پلڑے میں رکھا جائے کلمہ دوسرے پلڑے میں تو یہ پلڑا بھاری ہوجائے گا، اور اگر زمین و آسمان اور ان میں جو کچھ ہے ان سب کا ایک حلقہ بنایا جائے اور لاالٰہ اس پر رکھا جائے تو حلقہ توڑ دے گا۔ دوسری چیز سبحان اللہ وبحمدہ ہے، ہر ایک چیز کی نماز ہے اور اسی سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔ (احیا العلوم ص511 ،ج3)

طالب الہاشمی
اعتدال کا مطلب ہے: نہ حد سے زیادہ اور نہ حد سے کم۔ اسی کو میانہ روی بھی کہا جاتا ہے۔ دانائوں کا قول ہے کہ ہر کام میں بے اعتدالی کرنے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ محسنِ انسانیت رسول اکرمؐ نے بھی اعتدال پر بے حد زور دیا ہے اور فرمایا ہے:
’’اے لوگو! اعتدال اختیار کرو۔ اللہ کسی کو تکلیف میں نہیں ڈالتا جب تک تم خود مشقت میں نہ پڑو۔ (یاد رکھو) تمام کاموں میں اعتدال سب سے بہتر ہے‘‘۔
درحقیقت اعتدال قدرت کا سچا اور پکا اصول ہے۔ دنیا کا تمام کارخانہ اسی پر قائم ہے کہ کوئی کام خواہ دینی ہو یا دنیاوی ایسا نہیں جس میں اعتدال کی ضرورت نہ ہو۔ انسان کو اطمینان کی زندگی اُسی وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ اعتدال پر کاربند ہو، اور کبھی اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ آج ہمارے معاشرے میں جتنی خرابیاں دکھائی دیتی ہیں ان میں سے بیشتر کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے کاموں میں بے اعتدالی سے کام لیتے ہیں، حالانکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم ایک اسلامی معاشرے کے افراد ہیں۔ سچ پوچھیے تو یہ محض زبانی دعویٰ ہے۔ عملی زندگی میں ہم اس بات کو بالکل نظرانداز کردیتے ہیں کہ اسلامی طرزِ معاشرت میں اعتدال بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ عبادت میں بھی اعتدال کی تلقین کی گئی ہے۔ متواتر روزے رکھنا یا ساری ساری رات عبادت میں مصروف رہنا اور نہ صرف اپنے گھر والوں سے بلکہ دنیا کے دوسرے کاموں سے بھی غافل ہوجانا اعتدال کا طریقہ نہیں ہے۔ اسی لیے اس کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کا حکم تو یہ ہے کہ دین کو مشکل مت بنائو۔ عبادت اسی حد تک درست ہے جب تک تمہارا دل اس میں لگا رہے۔ اتنی زیادہ عبادت نہ کرو کہ طبیعت اکتا جائے اور روحانی سکون ملنے کے بجائے وحشت ہونے لگے۔ دوسری طرف دنیا کے دھندوں میں اس قدر مشغول نہ ہوجائو کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجائو۔
سوچنے کی بات ہے کہ جب اللہ اپنی عبادت میں بے اعتدالی پسند نہیں کرتا تو اسے دنیاوی کاموں میں یہ کیسے پسند آسکتی ہے! لیکن آج ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو شادی بیاہ، بچوں کی پیدائش اور دوسرے رسوم و رواج میں اعتدال کے دائرے کے اندر رہتے ہیں؟ ہم تو ایسے موقعوں پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرکے لوگوں کی واہ واہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت ہمارے بھلے کی خاطر مہمانوں کی تعداد اور کھانوں پر پابندی لگاتی ہے تو ہم بے اعتدالی کرنے کے لیے چوری چھپے ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں کہ اس پابندی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ایسی بے اعتدالیوں نے کئی گھرانوں کا سُکھ چین چھین لیا ہے اور وہ قرض اور افلاس کے چکر میں ایسے پھنسے ہیں کہ اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ اگر اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلائے جائیں تو اس میں اپنا بھی فائدہ ہے اور قوم اور ملک کا بھی۔
مثلاً: ورزش انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے، لیکن جب حد سے بڑھ کر ورزش کی جائے، یہاں تک کہ آدمی تھک کر چُور ہوجائے تو یہی ورزش سخت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
اچھی اور متوازن غذا صحت بخش ہوتی ہے، لیکن خواہ کیسی عمدہ خوراک ہو، اگر اس کے استعمال میں اعتدال سے کام نہ لیں اور بار بار تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد منہ چلاتے رہیں تو وہ فائدہ دینے کے بجائے زہر بن جاتی ہے۔ معدہ خراب ہوجاتا ہے اور آدمی طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
مطالعہ بہت اچھی عادت ہے لیکن اس میں بھی بے اعتدالی سخت نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ وقت بے وقت مطالعے میں مصروف رہنے سے نہ صرف آنکھوں پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ عام جسمانی صحت بھی خراب ہوجاتی ہے۔
بچوں سے پیار محبت بہت ضروری ہے لیکن اس میں بھی آپ حد سے بڑھ گئے تو بچے بگڑ جائیں گے۔
گفتگو اور بول چال سے کسی انسان کی خوبیاں اور خامیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ منہ سے بات نکالنے میں احتیاط اور اعتدال سے کام نہ لیا جائے تو انسان دوسروں کی نظر سے گر جاتا ہے۔ اگر ایک شخص میں چھچھور پن ہے، وہ ڈینگیں مارتا ہے، دوسروں کی غیبت کرتا ہے، بے محل ہنستا ہے، بار بار بگڑتا ہے اور روٹھتا ہے تو وہ لوگوں میں ذلیل ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص حد سے زیادہ خاموش رہتا ہے، یا حد سے زیادہ کم گو ہے تو یہی سمجھا جائے گا کہ وہ مغرور ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ آپس میں ہنسی مذاق کرنا برا نہیں، لیکن جب یہ حد سے بڑھ جائے اور تہذیب کے دائرے سے باہر ہوجائے تو لڑائی اور دشنمی کا سبب بن جاتا ہے۔
کنجوسی اور بخیلی ایک بری عادت ہے، لیکن اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کرنا اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ بعض لوگ خوراک اور پوشاک پر اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیشہ تنگ دستی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر کوشش کرکے سادہ خوراک کی عادت ڈالی جائے اور چٹخارے بازی سے پرہیز کیا جائے تو اس سے خرچ کافی کم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح پوشاک زیادہ قیمتی ہونے کے بجائے سادہ اور صاف ستھری ہو تو اس پر خرچ بھی کم آئے گا اور عزت میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔
مختصر یہ کہ اعتدال اور میانہ روی میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور نقصان کا کوئی پہلو نہیں۔ اگر آج ہم اعتدال کو اپنی زندگی کا اصول بنالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے معاشرے کی بہت سی خرابیاں تھوڑی ہی مدت میں نیست و نابود نہ ہوجائیں۔ آیئے سچے دل سے عہد کریں کہ ہم کھانے پینے، خرچ کرنے، پڑھنے لکھنے، پہننے اوڑھنے، دوڑنے بھاگنے، ہنسنے بولنے، غرض ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لیں گے۔ اگر آپ نے یہ عہد پورا کیا تو آپ دیکھیں گے کہ اس سے صرف آپ ہی کا بھلا نہیں ہوگا بلکہ قوم اور ملک کو بھی بے انتہا فائدہ پہنچے گا۔

Share this: