تلمیحات

کتاب : تلمیحات
مصنف : وحید الدین سلیم (1859ء۔ 1928ء)۔
تدوین
حواشی و تعارف : ڈاکٹر رئوف پاریکھ
صفحات : 98 قیمت:250 روپے
ناشر : اکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔
نمبر38 سیکٹر 15، کورنگی انڈسٹریل ایریا
پی او بکس 8214 کراچی 74900

تلمیحات جمع ہے تلمیح کی۔ تلمیح کے لفظی معنی ہیں کسی چیز کی طرف نظر کرنا یا اشارہ کرنا۔ لیکن تلمیح دراصل کوئی لفظ ہوتا ہے یا الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے جس سے کسی مشہور بات، واقعے یا قصے وغیرہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جب شعر میں یا نثر میں کوئی ایسا لفظ یا الفاظ آئیں جنہیں سن کر کسی خاص واقعے یا قصے کا منظر آنکھوں میں پھرنے لگے تو اسے تلمیح کہتے ہیں، اور یہ ایک طرح کا اشارہ ہی ہوتا ہے۔ اردو میں تلمیحات کی خاصی تعداد ہے۔ ڈاکٹر رئوف پاریکھ تحریر فرماتے ہیں:
’’تلمیح عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مادہ ل۔ م۔ح ہے۔ لغت میں ’لمح’ کے ایک معنی ہیں ’’کسی چیز کی طرف نظر کرنا، سرسری نگاہ ڈالنا، چوری سے دیکھنا‘‘۔ ’’لمح تلمیحاً‘‘ کے معنی ’’اشارہ کرنا‘‘ بھی ہیں۔ گویا لغت میں تلمیح کے معنی ہیں نظر کرنا، واضح کرنا اور اشارہ کرنا۔
تلمیح کو تلمیح کیوں کہتے ہیں؟ تلمیح کا اشارے سے کیا تعلق ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حقیقی و تاریخی واقعات اور فرضی قصے کہانیوں یا ان کے کرداروں سے متعلق کئی باتیں مشہور ہوتی ہیں۔ ان قصوں یا واقعات، نیز ان کے کرداروں کے بارے میں الفاظ، ترکیبیں، محاورے اور کہاوتیں بھی بن جاتی ہیں اور زباں زدِ خاص و عام ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح مذہبی متون مثلاً قرآنِ کریم اور حدیث شریف کے الفاظ یا مرکبات یا عبارتوں کے ٹکڑے لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتے ہیں اور ان سے بھی محاورے اور کہاوتیں بن جاتی ہیں۔
یہ الفاظ، تراکیب، محاورے اور کہاوتیں ایک طرح سے اشاروں کا کام کرتے ہیں۔ ان کو تلمیح اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ الفاظ ایک طرح سے اشارہ بن جاتے ہیں۔ ان کے زبان پر آتے ہی خاص حالات و واقعات اور قصے آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں۔ ایسا ہر اشارہ تلمیح کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’جوئے شیر‘‘ کی ترکیب سے شیریں فرہاد کا پورا قصہ ذہن میں گھوم جاتا ہے۔
تلمیح ایک ادبی اصطلاح ہے اور اس کا شمار صنائعِ شعری میں ہوتا ہے۔ اصطلاحی معنوں اور شعری صنعت کے لحاظ سے تلمیح سے مراد ہے ’’شاعر اپنے کلام میں کسی مسئلۂ مشہورہ یا کسی قصے یا مثل یا اصطلاحِ نجوم وغیرہ، کسی ایسی بات کی طرف اشارہ کرے جس سے بغیر معلوم ہوئے اور بے سمجھے کلام کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں نہ آئے۔
گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شعر یا نثر یا گفتگو میں کسی مشہور واقعے، قصے، آیت، حدیث، تاریخی یا فرضی کردار، مثل (کہاوت)، محاورے، ترکیب، کسی علم یا فن کی اصطلاح یا داستان، اساطیری، مذہبی، ادبی امور سے متعلق مشہور بات کی طرف اشارہ کرنا تلمیح ہے۔
تلمیحات کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ ان سے متعلق واقعات یا کردار یا قصے مشہور ہوں، اور عام طور پر جانے اور سمجھے جاتے ہوں۔ اگر وہ واقعہ یا قصہ یا کردار خاص علاقے یا دَور تک محدود ہے اور عام طور پر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں تو اس کو تلمیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تلمیح اختصار کا بھی ذریعہ ہے۔ تلمیح ایک ایسا مختصر اشارہ ہوتا ہے جس سے طویل قصے یا واقعے یا کسی مشہور بات یا علمی وفنی امر کی تفصیل ذہن میں آجاتی ہے اور ان تفصیلات کو دہرانا نہیں پڑتا۔ تلمیح کی مدد سے گویا کم سے کم الفاظ میں بات بیان کی جاسکتی ہے، اور اس اختصار سے تحریر کے حسن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ بلاغت اور فصاحت میں بھی تلمیح کا حصہ ہوتا ہے۔
ادبی لحاظ سے تلمیح کی یوں بھی اہمیت ہے کہ اس سے ایک ادبی کام میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ تلمیح کے ذریعے مصنف اور قاری میں ایک رشتہ قائم ہوتا ہے، اور یہ رشتہ ان مشترک روایات کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے جن سے مصنف اور قاری دونوں واقف ہوتے ہیں۔
تلمیحات کسی قوم کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کی بھی عکاس ہوتی ہیں۔ اپنی تاریخ، تہذیب، تمدن، رسم و رواج، اوہام، عقائد اور ادبی کاموں سے واقف ہوسکتے ہیں۔ اردو میں مختلف اقسام کی تلمیحات رائج ہیں اور یہ سب ہماری تاریخ اور تہذیب و ثقافت کے خزانے ہیں۔ ان تلمیحات میں سے کچھ عرب سے آئی ہیں، کچھ ایرانی ہیں اور کچھ مقامی یعنی برعظیم پاک و ہند کی زبانوں، ادب، ماحول، ثقافت، معاشرت، عقائد و توہمات سے متعلق ہیں۔
زیر نظر کتاب دراصل وحید الدین سلیم کے ایک طویل مضمون بعنوان ’’تلمیحات‘‘ کی مرتّبہ صورت ہے۔ یہ مضمون ان کی کتاب ’’افاداتِ سلیم‘‘ میں شامل ہے۔ یہ ایک اہم اور مفید مضمون تھا، جو سب سے پہلے انجمن ترقی اردو کے جریدے ’’اردو‘‘ کے 1921ء اور 1922ء کے شماروں میں بالاقساط شائع ہوا، لیکن بعدازاں بوجوہ نظرانداز ہوتا رہا (سوائے اس کے کہ ایک خاتون نے اس مضمون کا بیشتر حصہ تقریباً لفظ بہ لفظ نقل کرکے اور ہندی کی تلمیحات کو مختصر کرکے 1969ء میں سکھر سے ’’اردو تلمیحات‘‘ کے نام سے کتاب کی شکل میں چھپوا دیا تھا‘‘۔
اب رسالہ ’’اردو‘‘ کی مدد سے متن کی تصحیح کردی گئی ہے۔ ڈاکٹر پاریکھ نے مبسوط مقدمہ لکھا ہے۔ آخر میں اشاریہ بھی لگایا گیا ہے۔
کتاب سفید کاغذ پر خوب صورت طبع کی گئی ہے۔ مضامین درج ذیل ہیں:۔

الفاظ کیا ہیں؟
تلمیح اور اصطلاح سے کیا مراد ہے؟
تلمیحات سے ہم کیا جان سکتے ہیں؟
ایک گروہ جو تلمیحات کو ناپسند کرتا ہے
تلمیحات کے مآخذ
اردو زبان کی تلمیحات
اردو ادبی تلمیحات (قسمِ اوّل)۔
اردو ادبی تلمیحات (قسم ِدوم)۔
عام تلمیحات
اوّل۔ وہ تلمیحیں جو تاریخ سے لی گئی ہیں
دوم۔ وہ تلمیحیں جو عام عقائد و اوہام سے ماخوذ ہوئی ہیں
سوم۔ وہ تلمیحیں جو خاص خاص رسموں کی طرف اشارہ کرتی ہیں
چہارم۔ وہ تلمیحیں جن کی بنیاد فرضی قصوں پر ہے
تلمیحات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت
جدید تلمیحات کی مثالیں
ہندو ادبیات کی تلمیحیں
خاتمۂ مضمون

Share this: