اسلامی نظام تعلیم اور قائداعظمؒ

تحریکِ پاکستان کے دنوں میں مسلم ماہرینِ تعلیم پر مشتمل کمیٹی کی تاریخی روداد

جلیس سلاسل
وطن عزیز پاکستان کا سب سے بڑا قومی المیہ یہ ہے کہ نوجوان و طلبہ ہی نہیں، یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسرز بھی بفضل تعالیٰ پی ایچ ڈی کی ڈگریا ں رکھتے ہیں، لیکن اپنی ہی تاریخ سے نابلد ہیں۔ معاف کیجیے گا میرا اس مضمون کو لکھنے کا محرک ایک اہم واقعہ ہے کہ ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور پروفیسر صاحب جو اتفاق سے کراچی یونیورسٹی کی جنرل ہسٹری سے وابستہ ہیں، گزشتہ دنوں ایک اہم ادارے میں بحیثیت مہمانِ خصوصی کلیدی خطبہ کے بعد سوالات وجوابات کے سیشن میں شرکاء میں سے کسی ایک شخص کے اِس سوال پر کہ قائداعظم نے نظام تعلیم کے سلسلے میں بھی کوئی کردار ادا کیا؟ جواب دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ان کو تو فرصت ہی نہیںتھی، وہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں مصروف رہے اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد ایک سال زندہ رہ سکے، اس لیے وہ کیسے کچھ کرسکتے تھے؟ (میں نے ان پروفیسر صاحب کے جواب کا مفہوم دیا ہے۔ مصنف) میں پروفیسر صاحب کی اس بات پر تلملاکر رہ گیا۔ کیونکہ موصوف سے روایت کے تحت صرف سوال کرنے کی اجازت تھی، ان کی اصلاح کرنے کا حق اس تقریب میں نہ تھا۔ یہ حقیقت تو کراچی یونیورسٹی کے لاکھوں طالب علموں کے علم میں ہوگی کہ کراچی یونیورسٹی کے اوّلین تین وائس چانسلرز پروفیسر ابوبکر احمد حلیم، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور ڈاکٹر محمود حسین ہسٹری کے ہی مایہ ناز پروفیسر تھے، اور ان ہی پروفیسر حضرات کے دور میں کراچی یونیورسٹی کا معیارِ تعلیم بین الاقوامی سطح پر سرفہرست تھا۔ اب آپ سوچیں گے کہ میں نے تاریخ کے حوالے سے ایک پروفیسر پر تو اعتراض کردیا لیکن ہمیں اس حقیقت سے آگاہ نہیںکیا جو بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظامِ تعلیم و نصابِ تعلیم کے لیے کردار سے متعلق ہے۔ میں سب سے پہلے آپ کو یہ بتادوں کہ میں 1968ء سے صحافت سے وابستہ ہوں۔ اور ہم نے ابتدا ہی میں تعلیمی فیچرز لکھے جو روزنامہ ’’جنگ‘‘کراچی، ہفتہ وار ’’ اخبار جہاں‘‘ کراچی، روزنامہ ’’حریت‘‘ کراچی میں تسلسل سے شائع ہوئے۔ ہم نے اتفاق سے جس ماہرِ تعلیم کا سب سے پہلے انٹرویو کیا وہ کراچی یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ابوبکر احمد حلیم تھے جو ریٹائر ہوچکے تھے۔ اس کے بعد ڈاکٹر محمود حسین (کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر)۔ اُن کے بعد ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے علاوہ قبل ازیں ڈاکٹر بشارت علی، پروفیسر خورشید احمد، میجر آفتاب حسن، دیگر کالجوں کے پرنسپل حضرات جن میں پروفیسر خواجہ آشکار حسین، پروفیسر حسنین کاظمی، پروفیسر حسن عادل، پروفیسر ظفر عمر زبیری،کرنل افتخار احمد افتخار، پروفیسر وحیدہ نسیم، پروفیسر ممتاز حسین، ڈاکٹر عالیہ امام، پروفیسر مجتبیٰ حسین… ان سب کے انٹرویوز روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، ہفتہ وار ’’اخبار جہاں‘‘ کراچی اور روزنامہ ’’حریت‘‘کراچی میں ہی 1968ء سے 1972ء کے دوران شائع ہوئے۔ جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر مسکین حجازی کا انٹرویو 1989ء میں شائع ہوا۔ خیر جب میں نے ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری ( چیئرمین ورلڈ اسلامک مشن) کا اسلامک سینٹر نارتھ ناظم آباد میں انٹرویو کیا، تو انہوں نے فرمایا: آپ اسلامی نظام تعلیم ونصابِ تعلیم کے سلسلے میں ماہرینِ تعلیم سے ایک عرصے سے انٹرویو کررہے ہیں، لیکن آپ کو اس حقیقت کا بھی علم ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پرائمری سے پی ایچ ڈی تک تعلیمی نصاب کا مکمل خاکہ اور نظامِ تعلیم کے راہنما اصول کا مسودہ منظور کرلیا تھا۔ اور یہ آپ کو کراچی یونیورسٹی کی لائبریری کے مسلم لیگ کے ریکارڈ سے مل سکتا ہے، کیونکہ وہ وہاں محفوظ ہے ۔ پھر انہوں نے اپنا انٹرویو دیتے ہوئے ایک واقعہ بھی سنایا کہ میں بھی اُس وقت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تھا۔ قائداعظم کی ہدایت پر مسلم ماہرین تعلیم کا ایک اہم اجلاس ہوا۔ میں نے ایک کتابچہ ’اسلامی نظام تعلیم‘ لکھا تھا۔ چونکہ ڈاکٹر افضال حسین قادری قائداعظم کی بنائی ہوئی تعلیمی کمیـٹی کے کنوینر تھے، وہ میں نے ان کو دے دیا اور کہا کہ قائداعظم ؒ کو پیش کردیں۔ ڈاکٹر افضال حسین قادری نے میرا تعارف کرواتے ہوئے وہ کتابچہ قائداعظم ؒ کو پیش کردیا۔ قائداعظم نے اس پر ایک اجمالی سی نظر ڈالی اور کہاکہ اسلامی نظام تعلیم کیا ہوتا ہے؟ نظام تعلیم، نظام تعلیم ہوتا ہے۔ پھر ڈاکٹر افضال حسین قادری سے کہاکہ اس پر بھی غور کریں۔ ڈاکٹر فضل الرحمن انصاری نے ماہرینِ تعلیم کے اجلاس میں شریک کچھ افرادکے اسمائے گرامی بھی بتائے۔ ان کے انٹرویو سے ہمارا تجسس بڑھ گیا اور ہم نے ڈاکٹر افضال حسین قادری، علامہ ابن حسن جارچوی ودیگر سے ملاقاتیں کیں، اور جس میں ڈاکٹر افضال حسین قادری سے خصوصی طور پر انٹرویو کیا (واضح رہے کہ جہاں لفظ ’ہم‘ استعمال کیا ہے اس میں میرے ساتھ سید مظفرالحق شامل ہیں) ان دونوں حضرات کے انٹرویو روزنامہ ’’حریت‘‘ کراچی کے سنڈے میگزین کی 15جولائی 1969ء اور 22 جولائی 1969ء کی اشاعت میں شامل ہیں۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ان دنوں ہمارے استاد محترم عبدالکریم عابد میگزین ایڈیٹر تھے (اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین)۔ عبدالکریم عابد بعد ازاں روزنامہ ’’جسارت‘‘ کراچی کے تین بار ایڈیٹر رہے۔ اور ہفتہ وار ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ کراچی کے بانی ایڈیٹر تو زندگی کے آخری سانس تک رہے۔ قائداعظم ؒ کے حکم سے نظام تعلیم و نصابِ تعلیم کے سلسلے میں مسلم لیگ کی ایجوکیشن کمیٹی بنی، اور اس کی ذیلی کمیٹیاں بھی بنائی گئیں۔ ان کمیٹیوں میں جو مسلم ماہرین تعلیم شامل تھے اُن میں چند معروف شخصیات کے اسمائے گرامی سے ہی اس معیار اور اعلیٰ مقاصد کا اندازہ ہوجائے گا: ڈاکٹر افضال حسین قادری کے علاوہ پروفیسر ابوبکر احمد حلیم، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی، ڈاکٹر محمود حسین، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی، ڈاکٹردائود پوتا، ڈاکٹرایم ایم احمد، مولانا عبدالعلیم صدیقی، علامہ ابن حسن جارچوی، بیگم محمد علی جوہر۔ اب آپ کو اس تاریخی نوعیت کے کام کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں، تاکہ اس کی روشنی میں ہی وطنِ عزیز پاکستان کی تعلیمی پالیسی یعنی تعلیمی نظام ونصاب بناسکیں۔

مسلم لیگ کی ایجوکیشن کمیٹی

محمد افضال حسین قادری بنام محمد علی جناح ؒ زدلو جی ڈپارٹمنٹ مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ 5دسمبر 1943ء
مائی ڈئیر مسٹر جناح
23نومبر کو آپ کے گھر پر مسلمانوں کی تعلیم پر ہماری جو گفتگو ہوئی تھی اس کے بارے میں مجھے پورا یقین نہیں ہے کہ میں اپنا نقطئہ نظر واضح طور پر آپ کو پیش کر سکا تھا ۔ لہٰذا مجھے براہ مہربانی اجازت دیجئے کہ میں اپنے نقطئہ نظر کی مزید وضاحت کے ساتھ آپ سے یہ درخواست کروں کہ آپ اس پر سنجیدگی سے غور فر مائیں ۔تعلیم کا مقصد ایک بچے کی شخصیت کی تعمیر کر نا اور اس کی قا بلیت کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ جس معاشرے سے تعلق رکھتا ہے اس کا ایک فعال اور کار آمد فرد بن سکے ۔ اس بات کو آج سب تسلیم کر تے ہیں ۔ اسی لیے ہر قوم کا اپنا تعلیمی نظام ہوتا ہے اور اسی لیے اقلیتوں کو بھی اپنے اداروںمیں اپنا تعلیم رائج کرنیکا حق دیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس مقصد پر مضبوطی سے جمے رہیں ۔ اولاّ اس لیے کہ وہ ایک مضبوط اور مخالف اکثریت کے درمیان میںزندگی گذاررہے ہیں ۔ ڈرہے کہ یہ اکثریت انہیں ہڑپ نہ کر جائے اور ثانیاً اس لیے بھی کہ دوسری قوموں کے برخلاف ان کی قومیت کی مخالفت کی بنیاد ایسے نظریات اور تصورات کا مرکب ہے جس کا وجود اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس کی نشوونما ہوشیاری اور با شعور طریقے سے نہ کی جائے ۔ اسی لیے مسلمان خود بخود مسلم اداروں کی طرف ہی جا تے ہیں اور جہاں کوئی مسلم ادارہ نہیں ہوتا وہاں لوگ تعلیم میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اپنی خا میوں اور تعداد میں کمی کے باوجود یوپی میں یہ مسلم ادارے 75 فیصد مسلم بچوں کی حاجت روائی کررہے ہیں۔ سب مسلمانوں نے اس نکتے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور ہر جگہ اپنے ادارے قائم کر نے کی حتیٰ لمقدور کو شش کررہے ہیں ۔ آپ نے ان کی ایک مستحکم قوم بننے اور ایک آزاد قومی وجود کیلیے جدوجہد کر نے کی رہنمائی فر مائی ہے ۔ اب یہ کام بھی آپ کا ہے آپ ان کے مستقبل اور ترقی کیلیے بھی رہنما ئی فر مائیں یعنی مسلمانوں کا اپنا نظام تعلیم ہو اور جہاں تک ممکن ہو ان کے اپنے علیحدہ ادارے قائم ہوں۔ تعلیم مہیا کرنے کا ذریعہ نصابی کتابیں ہی نہیں ہوا کرتیں ۔ اہمیت ان افراد کی ہے جو علم پہنچاتے ہیں اور اس ماحول کی جس میں یہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ مسلمان بچے مسلمان استادوں کے ہاتھوں اور مسلم ماحول میں پرورش پائیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارے اپنے علیحدہ ادارے نہ ہوں ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اگرچہ دشواریاں ہیں لیکن یہ دشواریاں اس فرض کی ادائیگی میں مانع نہیں ہونی چاہئیں ۔ پاکستان کے عظیم مقصد کو حاصل کرنے میں بھی مشکلات حائل ہیں تو کیا ہم اس لیے اس کا خیال چھوڑ دیں ؟ ہمیں امید ہے کہ آپ کی دانشمند انہ اور دلیرانہ رہنمائی میں ہم پاکستان اور تعلیم کے راستے کی ساری مشکلات پر قابو پالیں گے ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمارا اپنا ایک نظام تعلیم ہونا چاہیے ۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک مسلمان اور ایک شہری کی ضروریات دوسرے لوگوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے اس کا اطلاق تعلیم کے ہر مرحلے پر ہوتا ہے یعنی ابتدائی ،ثانوی اور یونیورسٹی کی سطح پر کوئی مضمون ایسا نہیں جیسے اسلامی طریقے سے پڑھا یا نہ جا سکے لہٰذا میرے خیال میں جو ایجوکیشن کمیٹی آپ کے ذہن میں ہے اسے حسب ِذیل کام کرنے چاہیے ۔
1۔ پوری تفصیل کے ساتھ ایک ایسا نظام تعلیم مرتب کرنا جو مسلمان کی ضروریات کے لیے موزوں ہو اور اس کے نفاذ کے لیے ادارے اور تنظیموں کے قیام کے لیے ذرائع اور وسائل تلاش کرنا۔
2۔ مزید یہ کہ کمیٹی کو ہندوستان کے مختلف حالات کے مطابق مذکورہ بالا مقاصد میں ضرور ی ترامیم کی نشاند ہی بھی کرنا ہوگی۔
میں اس کے ساتھ ایک دائرہ اختیار کا ایک مسودہ آپ کے غوروفکر اور مشورے کے لیے بھیج رہا ہوں ہو اس سے پہلے کہ ہم( یعنی نواب اسماعیل خان ان اور نوابزادہ دہ لیاقت علی خان اور میں خود )اس پر تبادلہ خیال کریں اگر آپ کا جواب مل جائے گا تو میں خود کو خوش قسمت سمجھوں گا کیونکہ ہمارے لیے نہایت نفع بخش اوررہنما ثابت ہوگا۔ مجھے امید ہے ہے کہ آپ بخیروعافیت سے ہوں گے ۔
آپ کا جاں نثار
محمد افضال حسین قادری
انڈیا مسلم مجوزہ ایجوکیشن کمیٹی (10501)
(جناح پیپرز ، جلد دہم ۔ دستاویز نمبر63)
دائرہ اختیار کی مجوزہ شرائط
مختلف صوبوں کی مخصو ص ضروریا ت اور ان کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کمیٹی کو چاہیے کہ وہ مسلمانان ہند کے لیے ابتدائی ، ثانوی ، پیشہ وارانہ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرے تاکہ یہ لوگ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے موزوں اور قابل بن سکیںاور انفرادی اور اجتماعی کردار اسلامی اصولوں کے سانچے میں ڈھل سکے۔کمیٹی کو چاہیے کہ وہ جنگ سے پیدا شدہ حالات اور بعد از جنگ مسلمانوں کے مسائل اور ہندوستان اور بیرونی دنیا کے عوام سے ان کے تعلق کو بھی ذہن میں رکھے کمیٹی کی رپورٹ میں اس کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے سفا رشات اور تدابیر شامل ہونی چاہئیں، خاص طور پر پر ابتدائی ثانوی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا منصوبہ اس کام کے شروع ہونے کے ایک سال بعد پیش ہوجانا چاہیے جبکہ اعلیٰ تعلیم کا منصوبہ کمیٹی کی حتمی رپورٹ دوسرے سال کے اختتام تک پیش ہو جانی چاہیے کمیٹی کو نئے اراکین شامل کرنے اور فنی اور ذیلی کمیٹیاں بنانے کا اختیار حاصل ہوگا اور کمیٹی جہاںاپنے کام کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھے وہ لیگ کے صوبائی اور مرکزی اداروں سے بھی مدد لے سکتی ہے۔

مجوزہ لائحہ عمل

1۔ کمیٹی کا دفتر علی گڑھ میں قائم ہونا چاہیے ۔
2۔ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ خود کو ایک سے زیادہ گروہوں میں تقسیم کرے اور ہر صوبے میں کسی ایک جگہ جاکر مسلم اداروں کے ماہرین تعلیم، اساتذہ اور منتظمین کے وفو د یا کمیٹیوں سے تبادلہ خیال کرے۔
3۔ کمیٹی کو چاہیے کہ صوبائی ذیلی کمیٹیاں قائم کرے ۔تاکہ متعلقہ صوبوں کے مسائل اور ضرروتوں سے انہیں آگا ہی حاصل ہوسکے ۔
4۔ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ حسب ذیل فنی ذیلی کمیٹیاں قائم کرے ۔
الف ۔ ذیلی کمیٹی برائے ابتدائی تعلیم
ب۔ ذیلی کمیٹی برائے ثانوی تعلیم
ج۔ ذیلی کمیٹی برائے پیشہ ورانہ تعلیم
د۔ ذیلی کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم
ان ذیلی کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ مرکزی کمیٹی کی رہنمائی میں انجام دیں۔
5۔ کمیٹی کو چاہیے جب وہ ضروری خیال کرے تو اپنی سوچ کے مطابق خصوصی اور فنی ماہرین کو مدعو کرے ۔
6۔ کمیٹی کی صدارت نواب اسماعیل خان صاحب کو کرنی چاہیے۔
7۔ کمیٹی ایک جامع سوالنامہ تیارکرے اور مسلمانوںسے

گزارش کرے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں سے ضروری معلومات مہیا کریں ۔
حسب ذیل حضرات نے کمیٹی کے باقاعدہ رکن کے طور پر کام کرنے کی منظوری بھیج دی ہے ۔
1۔ پروفیسر اے بی اے حلیم (بی اے ۔آنرز ) ( آکسن )
( پرو ۔ وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی ۔ علی گڑھ)
2۔ پروفیسرایس ظفر الحسن صاحب ۔ پی ایچ ڈی ، ڈی فل ( آکسن )
(پروفیسر آف فلاسفی ۔ مسلم یونیورسٹی ۔ علیگڑھ )
3۔ ڈاکٹر ذ کی الدین ۔ پی ایچ ڈی ( علیگ اور بون ) ایم ایس سی ( کینٹب)
(ڈپارنمنٹ آف فزکس ۔ مسلم یورنیوسٹی ۔ علیگڑھ )
4۔ ڈاکٹر محمد افضال حسین قادری ۔ پی ایچ ڈی ( علیگ ) پی ایچ ڈی ( کینٹب )
ڈپارنمنٹ آف زولوجی ۔ مسلم یونیورسٹی ۔ علیگڑھ
5۔ پروفیسر رضی الدین صدیقی ۔ بی اے ( کینٹب ) پی ایچ ڈی ( لیزنگ )
(پروفیسر آف میتھ میٹکس ۔ عثمانیہ یونیورسٹی ۔ حیدر آباد )
6۔ پروفیسر ہارون خان شیرانی ۔ ایم اے ( کینٹب )
7۔ ڈاکٹر حمید اللہ ۔ پی ایچ ڈی ( بون) ڈی لٹ ( پیرس)
( لیکچرار اسلامک فلاسفی اور کلچر ۔ عثمانیہ یونیورسٹی ، حیدرآباد)
8۔ ڈاکٹر خلیفہ شجاع الدین ۔ ایل ایل ڈی ۔ بار یٹ لا ء۔ سیکرٹری ۔ اسلامیہ کالج ۔ لاہور
9۔ مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ۔ اعظم گڑھ
10۔ علامہ ابن حسن رضوی ۔ ایم اے ۔ ایم اوایل ۔لکھنؤ
(جاری ہے)

Share this: