تعزیتی ریفرنس بیاد پروفیسر ڈاکٹر محمد ساعد مرحوم

پروفیسر ڈاکٹر محمد ساعد (مرحوم) زیارت کاکا صاحب ضلع نوشہرہ میں 1937ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ گرامی کا نام حکیم محمد حامد تھا، جو پیشے کے لحاظ سے علاقے کے ایک نامور حکیم تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ساعد نے اپنی ابتدائی تعلیم گائوں کے مقامی پرائمری اسکول سے حاصل کی، جب کہ میٹرک نوشہرہ سے کیا، ایف اے اسلامیہ کالج پشاور سے 1956ء میں کیا۔ آپ نے 1960ء میں ایم اے جغرافیہ کا امتحان جامعہ کراچی سے پہلی پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ بعد ازاں آپ پی ایچ ڈی کے لیے برطانیہ تشریف لے گئے تھے، جہاں لیڈز یونیورسٹی سے آپ نے جغرافیہ کے مضمون میں پی ایچ ڈی کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سندھ یونیورسٹی میں لیکچرر کی ملازمت سے کیا۔ وہاں ایک سال تک پڑھانے کے بعد آپ نے 1961ء میں جامعہ پشاور کے جغرافیہ ڈپارٹمنٹ کو بطور لیکچرر جوائن کیا، جہاں 35 سال تک پڑھاتے رہے۔ وہاں کچھ عرصے کے لیے آپ کو جامعہ پشاورکا وائس چانسلر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ آپ پشاور یونیورسٹی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی رکنیت کے علاوہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، اور یونیورسٹی سینیٹ کے بھی کئی سال تک رکن رہے، اور بالآخر پشاور یونیورسٹی سے1997ء میں ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔
پروفیسرڈاکٹر محمد ساعد ویسے تو دورانِ ملازمت بھی مختلف حوالوں سے تحریکِ اسلامی سے وابستہ رہے، لیکن ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد تو آپ نے تحریک کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا۔ آپ نے علم وتحقیق سے متعلق جماعت کے ذیلی اداروں کے قیام اور ان اداروں کے پلیٹ فارم سے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ ایسے ہی اداروں میں جماعت اسلامی کی مرکزی تعلیمی کمیٹی، انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز، اور جیوگرافیکل انفارمیشن سینٹر قابلِ ذکر ہیں۔ واضح رہے کہ آپ نے کئی سال تک ان تینوں اداروں کے سربراہ کے طور پرنہ صرف فرائض انجام دیئے بلکہ ان فورمز پر علم وتحقیق کے فروغ اور جماعت اسلامی کی نظریاتی اٹھان میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد ساعد نے درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ میں پنائین (Penine) پہاڑیوں کے علاوہ شمالی علاقوں میں موجود گلیشیئرز اور قدرتی آفات پر بھی کام کیا۔ ہنزہ میں کلچر ایریا قراقرم (CAK) کے ساتھ قدرتی آفات، اور چترال سے کوہاٹ تک تمام اضلاع اور قبائلی ایجنسیوں کی land use planning اور نقشہ جات کی تیاری، حیات آباد پشاور میں جیوگرافیکل انفارمیشن سینٹر کا قیام اور اہم نقشہ جات کی تیاری آپ کے نمایاں کارنامے ہیں۔ آپ کا ایک اور گراں قدر کارنامہ 1980ء کی دہائی میں افغان جہاد کے سلسلے میں محترم قاضی حسین احمد مرحوم کی نگرانی میں آئی آر ایس کے تحقیقاتی ادارے کا قیام اور فعالیت تھی۔ آئی آر ایس نے پروفیسر ساعد کی سربراہی میں کئی نئی تصنیفات کے ساتھ ساتھ تفہیم القرآن اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کئی گراں قدر کتب کے فارسی، پشتو اور روسی زبانوں میں تراجم کرکے افغانستان اور سابق سوویت یونین کے زیر قبضہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آپ نے تفہیم القرآن میں موجود نقشوں کی بہتری کے لیے سعودی عرب کے مذکورہ مقامات کے دورے بھی کیے۔ پشاور یونیورسٹی میں سیرت کلاسوں کا آغاز بھی آپ کی دینی خدمات کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ آپ نے 2003ء سے 2009ء تک چھ سال بطور رکن سینیٹ آف پاکستان قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے رکن کی حیثیت سے تعلیمی اصلاحات کے ضمن میں بھی کئی اہم تجاویز کو عملی جامہ پہنایا۔
آپ کو سیاحت کا بے پناہ شوق تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ نے دنیا کے کئی ممالک مثلاً برطانیہ، امریکہ،کینیڈا، مصر، ہندوستان، افغانستان، حجازِ مقدس، شام،ایران اور ترکی کے دورے کیے۔ معروف کالم نگار اور دانشور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے بقول ڈاکٹر ساعد اسلا می تشخص اور مغربی کلچر کا بہترین امتزاج تھے۔ آپ کا شمار جامعہ پشاور کی خوش لباس شخصیات میں ہوتا تھا۔ وقت کے انتہائی پابند اور فرض شناس تھے۔ کمالیت پسند (پرفیکشنسٹ) تھے۔ انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا۔ انتہائی حد تک اُصول پسند تھے۔ ماہر اور شوقین فوٹو گرافر تھے۔ تصاویر کی سلائیڈز بناکر لکچرز میں استعمال کرتے تھے۔
18جون 2019ء
پروفیسر ڈاکٹر سینیٹر محمد ساعد مرحوم جو گزشتہ جون میں خالقِ حقیقی سے جاملے تھے، ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے گزشتہ دنوں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیراہتمام پاک ترک معارف اسکول اینڈ کالج پشاور کے آڈیٹوریم میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر اور سابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان تھے۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ پشاور کے ڈائریکٹر، معروف دانشور اور ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے کہا کہ ڈاکٹر ساعد مرحوم اقبال کے بعض اشعار کا عملی نمونہ تھے۔ ان میں گرم دم جستجو کا جذبہ بھی تھا، اور امتِ مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا احساس اور تڑپ بھی ان میں کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ساعد صاحب جیسا بہترین پریزینٹر ہمیں مشکل سے ملتا ہے۔ سفرِ حجاز (حج اور دیگر مقدس مقامات) کے دورے کی انھوں نے جو خوبصورت پریزینٹیشن تیار کی تھی وہ تاریخ کا ایک خوبصورت شاہکار تھی۔
سابق صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود حافظ حشمت خان نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے حکومت میں وزراء کو ساعد صاحب مسلسل راہنمائی فراہم کرتے تھے۔ انہیں چونکہ تدریس اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ تھا اس لیے ہم ان سے مسلسل راہنمائی لیتے رہے۔ ان کی علمیت اور قابلیت ہم سب کے لیے مشعل ِ راہ ہے۔
سابق چیئرمین شعبہ جغرافیہ اور اربن رورل پلاننگ ڈپارٹمنٹ جامعہ پشاور کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحمن نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ 1988ء میں ان کی شاگردی سے لے کر اس شعبے کا سربراہ بننے تک ایک خوشگوار تعلق قائم رہا۔ ڈاکٹر صاحب کو ایک دن علی الصبح ان کی والدہ کی رحلت کی اطلاع ملی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کلاس لے کر پھر والدہ کے جنازے میں شریک ہوئے۔ وہ وقت کے انتہائی پابند تھے، ہم نے انہیں عمر بھر غصے کی حالت میں کبھی نہیں دیکھا۔ بہترین معلم اور محقق تھے، آج کے نوجوانوں کے لیے رول ماڈل تھے۔
چیئرمین شعبہ انگریزی اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام خالص نے کہاکہ ساعد صاحب ایک قادرالکلام شخصیت تھے۔ وہ جب بھی بولتے تھے ان کے بولنے میں ترتیب اور وزن ہوتا تھا۔ وہ نپی تلی گفتگو کے ماہر تھے۔ سورۃ الرحمن میں سلیقۂ اظہار کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بڑی نعمت قرار دیا ہے، ڈاکٹر صاحب اس مثال کا عملی نمونہ تھے۔
قرطبہ ایجوکیشن سسٹم کے وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر ذوالفقار خان نیازی نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ ساعد صاحب قرطبہ ایجوکیشن سسٹم کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں مسلسل شریکِ سفر رہے، وہ ایک سچے عاشقِ رسول تھے۔ انھوں نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا، اس ضمن میں وہ اسپین اور اندلس و قرطبہ کو بطور استعارہ استعمال کرتے تھے، اور اسی تعلق اور نسبت سے انہوں نے میرے والد مرحوم ڈاکٹر عبدالعزیز خان نیازی صاحب کے ساتھ مل کر قرطبہ ایجوکیشن سسٹم کی بنیاد رکھی۔
سابق چیئرمین جغرافیہ ڈپارٹمنٹ اور پیوٹا جامعہ پشاور کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر امیر نواز خان نے کہا کہ ملک میں اسلامی نصاب کا نفاذ اُن کی زندگی کا مشن رہا۔ انہیںاپنے کام سے عقیدت کی حد تک عشق تھا۔ ایک مثالی استاد، محقق اور اچھی مشاہداتی حس کے مالک تھے۔ اپنے مشاہدات اور تاثرات بلاتکلف اپنے شاگردوں کے ساتھ شیئر کرتے تھے۔
پروفیسر محمد ساعد کے جواں سال بھتیجے، جامعہ زرعیہ پشاور میں پروفیسر ڈاکٹر امجد عثمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر ساعد کے آٹھ بھائی ہیں جن میں پانچ وفات پاچکے ہیں، تین حیات ہیں۔ ان بھائیوں میں چار پی ایچ ڈی، تین انجینئراور ایک ایم بی بی ایس بریگیڈیئر رینک کا آفیسر ہے۔ یہ تمام بھائی بیس اور اکیس گریڈ میں فارغ ہوئے۔ ڈاکٹر ساعد نے زیارت کاکا صاحب کے پرائمری اسکول سے تعلیمی سفر کا آغاز کیا۔ ان کے والد حکیم محمد حامد نے1903ء میں پرائمری پاس کی تھی۔1950ء سے 1970ء تک وہ ہر مہینے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم اپنے ہر بیٹے کو دو خطوط لکھتے رہے، اس طرح ہرماہ وہ سولہ خطوط اپنے بچوں کو لکھتے تھے۔ یہ خطوط تمام بھائیوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنے۔ یہ خطوط اب ڈاکٹر ساعد مرحوم کی کاوشوں سے 332خطوط کے مجموعے کی صورت میں شائع ہوچکے ہیں، جس کی ایک کاپی نیویارک کی سب سے بڑی پبلک لائبریری میں بھی محفوظ ہے۔ ڈاکٹر ساعد کا ایک اور کارنامہ حکیم محمد حامد فنڈکا اپنی زندگی میں قیام تھا، جس میں تمام بھائی اپنا حصہ ڈالتے تھے، بلکہ اب بھی یہ فنڈ قائم و دائم ہے اور اس میں ہمارے چچائوں کے علاوہ ان کے بچے بھی فراخ دلی سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں، جسے علاقے کے غریب لوگوں کی امداد کے ساتھ ساتھ ہمارے خاندان کی غمی و خوشی کی تقریبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ساعد ایک عظیم استاد اور مشفق بزرگ تھے۔ ہمیں اپنے دوستوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ ہم اپنی ہر مشکل اُن سے بیان کرتے، جس کا وہ تشفی بخش جواب دیتے اور ہماری تسلی ہونے تک ہماری بات پورے دھیان اور پیار سے سنتے تھے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی راہنما اور محترم قاضی حسین احمد کے برخوردار آصف لقمان قاضی نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر ساعد ایک اچھے مذہبی اور معاملہ فہم انسان تھے۔ وہ ایک فقیر منش انسان تھے، زیادہ گفتگو سے انھوں نے ہمیشہ پرہیز کیا۔ دنیا کی لالچ اور حرص ان کو چھوکر بھی نہیں گزری تھی۔ وہ ایک عملیت پسند انسان تھے۔ ہمارے ہاں نظریاتی قائدین کی تو کوئی کمی نہیں ہے لیکن عملیت پسندوں کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ ڈاکٹر ساعد حقیقی معنوں میں ایک عملیت پسند انسان تھے۔
تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سابق سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ ڈاکٹرساعد صاحب 2003ء سے 2009ء تک سینیٹ کے رکن رہے۔ آئی آر ایس کے ساتھ ساتھ جغرافیہ انفارمیشن سینٹر نے ملک بھر کے صوبائی و قومی حلقوں کے بارے میں بہت مفید معلومات شیئر کیں۔ ڈاکٹر ساعد صاحب نے دنیا میں زندگی ایک مسافر کے طور پر گزاری۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے لاتعلق رہے۔ ان کی زندگی قرآن کا عملی نمونہ تھی۔ نمود ونمائش اور ریا، فخر،کبر ان کو چھوکر بھی نہیں گزرے تھے۔ ان کی زندگی اور عملی نمونہ آج کے نوجوانوں اور خاص کر طلبہ وطالبات کے لیے ایک اچھا رول ماڈل ثابت ہوسکتا ہے۔
تقریب سے آئی آر ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل اور پاک تیرک معارف اسکول اینڈ کالج کے ریجنل ڈائریکٹر محمد کراکش نے بھی خطاب کیا۔

Share this: