تیونس میں جمہوریت کا تسلسل

النہضہ نے مفاہمتی سیاست اور متفقہ جمہوری دستور بناکر تیونسی عوام کے حقِ حاکمیت کو محفوظ کردیا

شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک تیونس میں گزشتہ دوماہ کے دوران پے درپے انتخابات منعقد ہوئے۔
٭ستمبر کی 15 تاریخ کو صدارتی انتخابات ہوئے جس میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد ووٹ حاصل نہ کرسکا، چنانچہ پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے یا Run-offانتخابات کی ضرورت پیش آگئی۔
٭6 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات ہوئے جس کے ایک ہفتے بعد یعنی 13 اکتوبر کو تیونس نے صدر کے لیے Run-off انتخابات کا مرحلہ عبور کیا۔
علمی سطح پر تیونس کی وجۂ شہرت مسجد و جامعہ الزیتونہ ہے۔ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں قائم ہونے والا یہ مدرسہ دنیا کے قدیم ترین مدارس میں شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اوباما کے والد بارک حسین اوباما مرحوم نے بھی جامعہ الزیتونہ سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی تھی۔
تیونس کے حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا تناسب خاصا کم رہا، لیکن تیسرے بروقت اور کامیاب انتخابات سے ایسا لگ رہا ہے کہ شمالی افریقہ کے اس چھوٹے سے ملک میں جمہوریت نے اپنے قدم جمالیے ہیں۔
2010ء کے اختتام پر شروع ہونے والی عرب دنیا کی تحریکِ آزادی یا ربیع العربی(Arab Spring) کا آغاز تیونس ہی سے ہوا، جسے عرب کے سیاسی علماء نے’’انقلاب یاسمین‘‘ کا نام دیا ہے کہ چنبیلی کے معطر پھول کو عرب دنیا میں امن اور پُرجوش محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جلد ہی انقلابِ یاسمین کی خوشبو الجزائر، مصر، اردن، یمن، لیبیا اور شام، حتیٰ کہ سعودی عرب،کویت اور بحرین میں بھی محسوس کی جانے لگی۔ بدقسمتی سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی یہ مہم مختلف سازشوں کا شکار ہوگئی۔
٭مصر میں مغرب و اسرائیل کی ایما پر فوج نے عوامی امنگوں کا گلا گھونٹ دیا۔
٭لیبیا اور یمن میں اٹھنے والی تحریک خانہ جنگی کا شکار ہوگئی۔
٭بحرین میں فرقہ واریت کا سہارا لے کر حکمرانوں نے تحریک کو پوری قوت سے کچل دیا۔
٭یہی حال یمن، شام اور لیبیا کا ہے جہاں فرقہ وارانہ محاذ آرائی نے ان ہنستے بستے ممالک کو برباد کرڈالا۔
اس کے برعکس تیونس میں کاغذی مردِ آہن زین العابدین بن علی کی معزولی کے ساتھ ہی آئین ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد کرائے گئے۔ ان انتخابات میں اخوانی فکر سے متاثر حزب النہضہ پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد تیونسی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حزب کے سربراہ جناب راشد الغنوشی نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت پارلیمان اور اس کے باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر قومی دستور بنائے گی، اور مزدور انجمنوں، طلبہ تنظیموں، بار ایسوسی ایشنوں سمیت ہر طبقے کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ایک ایسی دستاویز ترتیب دی جاسکے جو حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمان ہو۔
ایک متفقہ آئین کی تدوین بلاشبہ النہضہ کا بہت بڑا کارنامہ تھا، جس کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسلامی فکر کی حامل النہضہ نے جو آئین ترتیب دیا ہے وہ عملاً انسانی حقوق کا منشور ہے جس میں قیدیوں کے حقوق کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔ تفتیش کے لیے تشدد کی ہر شکل کو قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا گیاہے۔ ضلعوں کی بنیاد پر سارے ملک میں انسانی حقوق کی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جن کی سربراہی حاضر سروس ججز کریں گے۔ یہ کمیٹیاں تشدد کے ہر الزام کی تحقیق کریں گی اور سماعت عوامی مقامات پر میڈیا کے سامنے ہوں گی۔ الزام ثابت ہونے پر ذمہ داروں کو سزا کا تعین بھی یہی کمیٹیاں کریں گی۔ آئین کے مطابق رنگ، نسل، مذہب اور لسانیت کی بنیاد پر امتیاز ایک جرم ہوگا جس کے مرتکب کو سخت سزا دینے کے لیے پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی۔ شہریوں کو روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور بے روزگاروں کی کفالت ریاست کو سونپی گئی ہے۔ ملک کے ہر شہری کو تعلیم و علاج کی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوگی۔ ہر صنعتی ادارہ اپنے کارکنوں کو کام کے لیے محفوظ اور صحت افزا جگہ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ آجر اپنے مزدوروں کی عزتِ نفس کی حفاظت کے ذمہ دار بھی ہوں گے۔ آزادیِ اظہار کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ عدالتیں انتظامیہ کے اثر سے کلیتاً آزاد ہوں گی۔
آئین کی منظوری کے بعد النہضہ نے اقتدار نگراں حکومت کو منتقل کردیا۔ تیونس کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب حکومت اپنی مہلت ختم ہونے سے قبل ہی اقتدار و اختیار سے رضاکارانہ طور پر دست بردار ہوئی اور عبوری حکومت نے بھی ٹال مٹول اور طولِ اقتدار کے حیلے وضع کرنے کے بجائے دیانت داری سے انتخابات منعقد کرا دیے۔
النہضہ تیونس کو ایک قابلِ رشک دستور دینے میں تو کامیاب ہوگئی لیکن دوسال کے اس عرصے میں معیشت کی بحالی، مہنگائی میں کمی اور روزگار کی فراہمی کی طرف توجہ نہ دی جاسکی، جس کی وجہ سے غربت کے مارے تیونسی عوام برسرِاقتدار جماعت سے مایوس ہوئے اور عوامی سطح پر النہضہ کی مقبولیت کم ہوگئی۔
2014ء کے انتخابات میں النہضہ کا مقابلہ لبرل و سیکولر اتحاد ندائے تیونس سے ہوا جس کی قیادت الباجی قائد السبسی مرحوم کررہے تھے۔ السبسی حبیب بورقیبہ کے قریبی ساتھی اور ان کی حکومت میں وزیر داخلہ، خارجہ اور وزیر دفاع رہ چکے تھے۔ فوج اور بیوروکریسی کے منظور نظر السبسی صدر زین العابدین کی حکومت میں بھی شامل تھے، جبکہ عبوری انقلابی حکومت میں انھیں وزیراعظم نامزد کیا گیا۔ انتخابات سے قبل ملک کے تمام لبرل اور مذہب بیزار عناصر النہضہ کا راستہ روکنے کے لیے ندائے تیونس کے پرچم تلے جمع ہوگئے۔ اس اتحاد کو تیونسی فوج اور بیوروکریسی کی بھی حمایت حاصل تھی۔
ملکی تاریخ کے ان دوسرے آزادانہ انتخابات میں النہضہ 217 رکنی ایوانِ نمائندگان میں 69 نشستوں پر کامیاب ہوئی، جبکہ 86 کے ساتھ ندائے تیونس پہلے نمبر پر آگئی۔ نتائج کا اعلان ہوتے ہی النہضہ نے اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرلیا۔ حکومت کی تشکیل کے دوران النہضہ نے صدائے تیونس سے بھرپور تعاون کیا اور خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے صدارتی انتخابات کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ النہضہ نے مفاہمتی سیاست اور متفقہ جمہوری دستور بناکر تیونسی عوام کے حقِ حاکمیت کو محفوظ کردیا۔
انقلابِ یاسمین اور پہلے دو انتخابات کے مختصر تعارف کے بعد حالیہ انتخابات کی روداد و تبصرہ:
تیونس کی جمہوریت کو اس سال شدید آزمائش کا سامنا کرنا پڑا جب 25 جولائی کو صدر السبسی انتقال کرگئے۔ اس خبر کے ساتھ ہی فوجی انقلاب کی افواہ عام ہوئی، لیکن اسی شام اسپیکر محمد الناصر نے قائم مقام صدر کا حلف اٹھاتے ہی 15 ستمبر کو صدارتی انتخابات کا اعلان کردیا۔
صدارتی انتخابات کے اعلان سے النہضہ کے لیے ایک نئی مشکل پیدا ہوگئی۔ جماعت نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر پارلیمانی انتخابات میں النہضہ کو برتری حاصل ہوگئی تو وہ صدارتی انتخابات نہیں لڑے گی تاکہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو شریکِ اقتدار کیا جاسکے، لیکن صدارتی انتخابات پہلے ہونے کی بنا پر النہضہ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔
صدارتی انتخابات میں 6 آزاد امیدواروں سمیت 26 افراد نے حصہ لیا۔ النہضہ نے اپنے نائب امیر عبدالفتاح مورو کو میدان میں اتارا جو ایوانِ نمائندگان کے نائب اسپیکر بھی ہیں۔ مورو صاحب نے فرانس میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور جامعہ الزیتونہ سے اصول الدین کی سند۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے خود ہی کہاکہ ’’میں مولوی، وکیل اور جج کے علاو ہ برسوں قیدی رہ چکا ہوں۔ انصاف کی اہمیت مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہے؟‘‘
15 ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں تیونس کے لوگوں نے آزاد امیدواروں کو ترجیح دی۔ ممتاز ماہر قانون پروفیسر قیس سعید 18 فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، جبکہ تیونس کے سب سے بڑے میڈیا ہائوس اور نسما ٹیلی ویژن کے مالک جناب نبیل قروئی ساڑھے 15 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آگئے۔ سیاسی جماعتوں میں النہضہ پہلے نمبر پر رہی اور جناب مورو کو 13 فیصد ووٹ ملے۔ دلچسپ بات کہ دوسرے نمبر پر آنے والے نبیل قروئی کرپشن کے الزام میں زیرحراست ہیں اور عدالت نے انتخابی مہم کے لیے ان کی ضمانت منظور نہیں کی۔ ووٹ ڈالنے کا تناسب 49 فیصد رہا، جبکہ 4 برس پہلے یہ 64 فیصد تھا۔
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا تیونس کے قانون کے تحت صدر کے لیے کُل ڈالے جانے والے ووٹ کا کم ازکم 50 فیصد لینا ضروری ہے، چنانچہ پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوراوں کے درمیان 13 اکتوبر کو دوبارہ انتخابات یا Run- offکی تاریخ طے پائی۔
اسی دوران 6 اکتوبر کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ یعنی لوگوں نے پارٹیوں کو ووٹ ڈالے، اور ہر جماعت کو ملنے والے مجموعی ووٹوں کے تناسب سے انھیں اسمبلی کی نشستیں عطا کردی گئیں۔ جناب نبیل قروئی صدارتی انتخاب تو آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑرہے تھے، لیکن ایوانِ نمائندگان کے انتخابات کے لیے انھوں نے قلب تیونس نام سے اپنی پارٹی رجسٹر کرا لی۔
نتائج کے مطابق 217 کے ایوان میں 52 نشستوں کے ساتھ النہضہ پہلے نمبر پر رہی۔ قلب تیونس دوسرے نمبر پر آئی جسے 38 نشستیں ملیں۔ جبکہ ڈیموکریٹک فرنٹ 22 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ سابق حکمراں جماعت ندائے تیونس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور اسے صرف 3 نشستیں ملیں۔ ووٹ ڈالنے کا تناسب صدارتی انتخابات سے بھی 8 فیصد کم ہوکر 41 فیصد رہ گیا۔
اتوار 13 اکتوبر کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے یا Run- offکا میدان سجا۔ اس مرحلے میں جناب قیس سعید اور قروئی صاحب کے درمیان براہِ راست مقابلہ تھا۔ نبیل قروئی جیل میں تھے، چانچہ قیس سعید نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نئے مرحلے کے لیے انتخابی مہم چلانے سے انکار کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دونوں فریق کو مہم چلانے کا مساوی موقع ملنا چاہیے اور ان کا ضمیر یہ گوارہ نہیں کرتا کہ وہ توایک ایک فرد تک جاکر ووٹ مانگیں، اور نظربندی کی بنا پر ان کا مخالف اس سہولت سے محروم ہو۔
جیل میں ہونے کے باوجود نبیل قروئی کی میڈیا ٹیم نے زبردست مہم چلائی۔ غریبوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انھوں نے ساری ملک میں غذائی اجناس Pasta اور Macaroni کی مفت تقسیم کے اسٹال لگائے۔ اسی بنا پر مخالفین نے ان کا نام ہی نبیل میکرونا رکھ دیا۔
قیس سعید 72 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوگئے۔ جامعہ تیونس کے 61 سالہ پروفیسر قیس سعید آئینی امور کے ماہر اور تیونس بار ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں۔ اخلاقی و مالی کرپشن کا خاتمہ اور تجدیدِ انقلابِ یاسمین ان کے منشور کے بنیادی نکات تھے۔ خارجہ پالیسی کے باب میں وہ لیبیا میں مداخلت سے اجتناب اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات میں غیر ضروری گرم جوشی کے خلاف ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے تیونس میں ہم جنس پرست تحریک عروج پر ہے۔ ایک اعلانیہ ہم جنس پرست (Gay) منیر بطار صدارتی امیدوار کی حیثیت سے سامنے بھی آئے لیکن عوام کے شدید احتجاج پر ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ پروفیسر قیس سعید کاکہنا ہے کہ مغرب اخلاقی کرپشن پھیلانے کے لیے ہم جنسی کو غیر ضروری طور پر ابھار رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کے معاملے میں بھی پروفیسر صاحب متوازن خیالات کے حامل ہیں۔ سابق صدر السبسی نے جب میت کا ترکہ بیٹے اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کرنے کے لیے قانونِ وراثت میں ترمیم کے لیے قانون سازی کی کوشش کی تو النہضہ کے ساتھ پروفیسر صاحب نے بھی اس کی مخالفت کی۔ قیس سعید کی اہلیہ اشرف شبیل نے جو ایک وفاقی جج ہیں، اس ترمیم کو غیر فطری قرار دیا۔ جج صاحبہ کا کہنا تھا کہ اللہ کے بنائے قانون میں ترمیم کے بجائے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اسی منطقی و نظریاتی مخالفت کی بنا پر صدر السبسی نے ترمیم واپس لے لی۔
تیونس کے نومنتخب صدر عرب تشخص کے حامی ہیں اور وہ فرانسیسی کے بجائے عربی کا فروغ چاہتے ہیں۔ وہ قانون کی حکمرانی اور اس کے بلاامتیاز مساوی اطلاق کے لیے پُرعزم ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ قتل، اغوا اور آبروریزی جیسے وحشیانہ جرائم کے مرتکبین کے لیے سزائے موت بحال کرنا چاہتے ہیں۔
پارلیمان میں النہضہ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور اس کے قائد جناب راشد الغنوشی حکومت سازی کے لیے سیاسی جماعتوں سمیت پارلیمان کے 12 آزاد ارکان سے بات چیت میں مصروف ہیں۔ النہضہ کا کہنا ہے کہ ان کی ترجیح ایک مستحکم و مؤثر عوام دوست حکومت ہے، اور وہ وزارتِ عظمیٰ اپنے پاس رکھنے پر اصرار نہیں کریں گے۔
نظریاتی امور اور بہتر و شفاف طرزِ حکمرانی پر النہضہ اور نومنتخب صدر میں مکمل ہم آہنگی نظر آرہی ہے۔ تیونس کے لوگوں نے بڑے ارمان اور لازوال قربانیوں سے انقلابِ یاسمین برپا کیا تھا، لیکن گزشتہ حکومت کی کرپشن سے عوام میں شدید مایوسی پیدا ہوئی۔ اب جناب قیس نے ملک کو اخلاقی و اقتصادی کرپشن سے نکالنے کا وعدہ کیا ہے اور النہضہ کے اعلانات سے ایسا لگ رہا ہے کہ تجدیدِ انقلابِ یاسمین کے اس مبارک عزم کو پارلیمان کی مکمل و غیر مشروط حمایت حاصل رہے گی۔ ہر رخِ صبیح کہ یاسمین، ترے لب کہ برگِ گلاب ہیں۔
اب آپ مسعود ابدالی کی فیس بک پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر masood@MasoodAbdali بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

Share this: