جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربے

کتاب : جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربے
مصنف : ڈاکٹر محمد یٰسین آفاقی
صفحات : 542 قیمت 600 روپے
ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی۔ ناظم مجلسِ ترقیِ ادب۔ 2کلب روڈ۔ لاہور
فون : 042-99200856,99200857
ای میل : majlista2014@gmail.com
ویب گاہ : www.mtalahore

ڈاکٹر تحسین فراقی کے دورِ نظامت میں مجلس ترقی ادب نے بے شمار کتب طبع کی ہیں۔ اب جو کتب آرہی ہیں ان میں جدید کتب بھی شامل ہوتی ہیں۔ ایسی ہی کتب میں زیرنظر کتاب ’’جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربے‘‘ جو ڈاکٹر محمد یٰسین آفاقی کے پی ایچ ڈی کے مقالے کی کتابی صورت ہے، عمدگی سے طبع کی گئی ہے۔ اردوکے انتقادی ادب میں وقیع اضافہ ہے۔ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر آفاقی تحریر فرماتے ہیں:
’’اردو نظم گزشتہ سات صدیوں میں دوہے سے لے کر نثری نظم اور نئی شعری اصناف تک جن جن اصناف اور ہیئتی تجربوں سے گزری، ان کاجائزہ ایک بھرپور مطالعے کا متقاضی تھا۔ شعرا کی مخصوص افتادِ طبع، مختلف رجحانات اورمیلانات نے ہیئتی تجربوں اور تبدیلیوں کو جنم دیا۔ یوں اردو نظم متعدد ہیئتوں اور صنفوں سے متعارف ہوئی۔ یک سطری نظموں سے یک کتابی نظموں تک اردو نظم کی مختلف شکلوں کی تعداد اچھی خاصی ہوجاتی ہے۔ ہر ہیئت اور صنف اپنے داخلی مزاج کے حوالے سے جداگانہ رنگ، طرز اور تاثیر رکھتی ہے۔
جدید اردو نظم میں جدت پسندوں نے ہیئتی تجربوں کا سلسلہ شروع کیا جو تجرباتی رنگ و آہنگ کے ساتھ ساتھ حقیقی تجربے کی نازک صورتِ حال کا عکاس بھی تھا۔ انہوں نے اپنے نئے اسلوب کے مطابق اردو نظم کی نئی ہیئتوں کو رواج دیا۔ ان ہیئتی تجربوں نے اردو نظم کو جو شکل و صورت عطا کی، اس کی موجودگی میں نئی شعری ہیئتوں اور اصناف کی تلاش کا عمل آج تک جاری ہے۔ جدید اردو نظم میں ہیئتی تجربوں کے دوران مختلف ہیئتوں اور اصناف میں موضوعات کا تنوع وجود پذیر ہوتا رہا ہے۔ نئی شعری ہیئتیں اپنے عہد کی نئی معنویت کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں اور ان میں اپنے عہد کی خوشبو سمٹ آتی ہے۔ اس لیے کامیاب ہیئتی تجربے اپنے عہد کی زندگی کا علامتی اظہار بن جاتے ہیں۔
مغربی علوم و فنون اور ہماری مقامی زبانوں کے زیراثر اردو نظم کے موضوع اور ہیئت میں اضافہ ہوا ہے۔ زیر نظر مقالے میں کوشش کی گئی ہے کہ اس میں کسی ہیئت اور صنف کا تذکرہ رہ نہ جائے۔‘‘
کتاب کے پانچ ابواب کا بھی ڈاکٹر آفاقی نے مختصر تعارف کرایا ہے، ہم اسی کو شامل کرتے ہیں:
’’مقالے میں جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربوں کا عہد بہ عہد تجزیہ کیا گیا ہے اور حال کے شعری منظرنامے کے تناظر میں ان امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہیئت اور صنف کے حوالے سے متعلق ہیں۔ یوں جدید اردو نظم کو منضبط جائزے کی روشنی میں تحقیقی مقالے کی شکل میں جمع کیا گیا ہے اور ہیئتی تجربات کے محاسن و معائب کو تعصبات سے بالاتر ہوکر معروضی انداز میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مقالے میں جدید اردو نظم کے ہیئتی اور صنفی منظرنامے کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں ہیئت کے مباحث سے لے کر اب تک ان کی مختلف صورتوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں ہیئت کے معانی و مطالب اور تصورات کو جمالیات، اخلاقیات، نفسیات، لسانیات اور اسلوب کی روشنی میں تجزیاتی انداز میں بیان کرنے کے بعد ہیئت کی وضاحت کی گئی ہے۔ نیز ہیئت، ساخت اور وضع کا فرق اجاگر کیا گیا ہے۔ نظم کی خارجی اور داخلی ہیئت کی شناخت، نظم کے معنی کا اس کی ہیئت سے رشتہ، نظم کی تشکیل اور ہیئتی تنقید کے اصولوں کی روشنی میں نظم کے پھیلائو میں ہیئت کے ارتقائی عمل کا جائزہ جیسے مسائل زیربحث آئے ہیں۔
دوسرا باب جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربوں کے پس منظر سے متعلق ہے۔ اس میں پہلے نظم، جدید نظم، تجربہ، ادبی اور ہیئتی تجربہ، ادبی تجربے کے اجزا، شعری متن میں تجربے کا تصور، روایت اور تجربہ جیسے مسائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد انیسویں اور بیسویں صدی میں بالخصوص 1947ء کے بعد نئی اردو نظم میں ہیئت کے تجربوں کے محرکات و عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
تیسرا باب 1947ء تک جدید اردو نظم میں ہونے والے ہیئت کے تجربوں پر مشتمل ہے۔ اس میں معرّا، نظم، اسٹینزا فارم، سانیٹ اور آزاد نظم کی ہیئت، فنی تصورات اور اردو میں ابتدائی تجربے اور ان کے ارتقاء کا ہیئتی جائزہ لیا گیا ہے۔ رومانوی تحریک کے زیراثر اردو نظم میں ہیئت کے تجربے، م۔ حسن لطفی کی نظمیہ شاعری، ترقی پسند اردو نظم اور ڈاکٹر تصدق حسین خالد کی نظموں میں ہیئتی تجربوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے زیرتحریک ن۔م۔ راشد، میرا جی، قیوم نظر، یوسف ظفر، مختار صدیقی اور ضیا جالندھری کی نظمیہ شاعری میں ہیئتی تجربوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ حلقۂ اربابِ ذوق سے باہر پنپنے والے شاعروں میں بالخصوص مجید امجد کی نظمیہ شاعری میں ہیئت کے تجربوں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔
چوتھا باب 1947ء کے بعد سے اب تک اردو نظم میں ہونے والے ہیئت اور اسلوب کے نئے تجربوں اور نئی شعری اصناف پر مشتمل ہے۔ ان میں مختصر نظم، ثلاثی، مثلث، ہائیکو، ماہیا، دوہا، طویل نظم، کینٹو، ترائیلے، ترتیل، فرد، نثری نظم، لمرک، نظمانہ، تروینی (تربینی)، کافی، کَہہ مُکرنی، کنڈلیاں، ٹپے، تکونی، سین ریو اور چھلاّ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز اس میں جدیدیت اور نئی اردو نظم کی اشکال و اوضاع اور معاصر اردو نظم کی تشکیل کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔
پانچویں باب میں جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربوں کے اثرات کے ضمن میں جدید اردو نظم کی وسعت، ترقی اور نئے ابعاد کی دریافت، نئی شعری اصناف کے ہیئتی تنوعات اور ان کے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مقالے کے آخر میں کتابیات پیش کی گئی ہیں۔
یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری محسوس ہوتی ہے کہ مقالے کے تیسرے باب ’’جدید اردو نظم میں ہیئت کے تجربے 1947ء تک‘‘ میں بعض ان شعرا مثلاً ن۔م۔راشد، مجید امجد، قیوم نظر، یوسف ظفر، مختار صدیقی اور ضیاء جالندھری پر بحث کی گئی ہے جن کے ہاں ہیئت کے تجربے 1947ء تک ایک رجحان کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ لیکن ان شعرا کا اصل دور 1947ء کے بعد کا زمانہ ہے۔ راقم نے ان کے ہیئتی تجربوں اور نظمیہ شاعری کی تشکیل پر بحث مقالے کے تیسرے باب میں کی ہے۔
اردو نظم میں مختصر نظم، طویل نظم، ترائیلے اور ماہیا وغیرہ کا آغاز 1947ء سے پہلے ہوا، لیکن ہیئت اور صنف کے طور پر ان کا رواج 1947ء کے بعد ہوا۔ اس لیے ان پر مقالے کے چوتھے باب میں بحث کی گئی ہے۔ مقالے کی ترتیب سے لے کر تکمیل تک یہ سارا کام مشفق و محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی کی شفقت اور رہنمائی کا مرہونِ منت ہے۔ ان کی توجہ اور پُرخلوص اعانت کے بغیر مقالے کی تکمیل کا خواب میرے لیے ناممکنات میں سے تھا۔ میں انہیں اپنے دل کے انتہائی قریب محسوس کرتا ہوں۔ ان کی محبت و شفقت کا احساس مجھے ہمیشہ رہے گا۔‘‘
موضوع بہت پھیلا ہوا ہے۔ ڈاکٹر آفاقی بڑی محنت اور ذمہ داری سے تحقیق میں کامیاب ہوئے ہیں۔
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے۔ مجلّد اور جاذب‘ نظر سرورق سے مزین ہے۔

Share this: