فالج ۔۔۔آگاہی، علاج اور سدباب

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں دس لاکھ لوگ فالج کے باعث معذوری کا شکار ہیں

ڈاکٹر عبدالمالک

فالج ایک ایسا مرض ہے جو چلتے پھرتے انسانی جسم کو مفلوج کرکے روزمرہ کے معمولات کو ادا کرنے سے قاصر کردیتا ہے۔ اِس مرض میں شریانوں میں خون کا لوتھڑا جم جانے سے جب خون کا دباؤ بڑھتا ہے تو مریض پر فالج کا حملہ ہوتا ہے۔ طبی اصطلاح میں فالج کا شمار نان کمیونی کیبل ڈزیزز (Non communicable diseases) یعنی غیر متعدی امراض میں کیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایسے امراض کی شرح تقریباً چالیس فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً دس لاکھ لوگ فالج کے باعث کسی نہ کسی حوالے سے معذوری کا شکار ہیں۔ یہ بیماری جہاں خود مریض کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہے، وہیں مریض کی دیکھ بھال اور نگہداشت کا طویل اور صبر آزما مرحلہ بھی گھر والوں کو درپیش ہوتا ہے۔ اس بناء پر مریض کے ساتھ ساتھ اُس کے گھر والے بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
اس بیماری سے آگاہی، علاج اور تدارک کی کوششوں کے سلسلے میں 29 اکتوبر، عالمی اسٹروک ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو پاکستان میں منانے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں عمومی طور پر فالج کو ایک ایسی بیماری سمجھا جاتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ موجودہ دور میں طب کے شعبے نے جہاں دیگر حوالوں سے علاج کی نئی منزلیں دریافت کی ہیں، وہیں فالج کے علاج میں بھی خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ آج یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ نہ صرف حفاظتی تدابیر اختیار کرکے فالج سے محفوظ رہا جا سکتا ہے بلکہ اس کا انتہائی مؤثر علاج بھی ہمارے ہاں دستیاب ہے۔ یہ بات اگرچہ اپنی جگہ اہم ہے کہ فالج کے علاج معالجے کی سہولیات کس قدر عوام کو میسر ہیں۔ اس معاملے میں حکومتی سطح پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو فالج کا معیاری اور سستا علاج ہر بڑے اسپتال میں میسر آسکے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ دل کے دورے کی طرح بدقسمتی سے فالج کے دورے کو میڈیکل ایمرجنسی کے طور پر قبول ہی نہیں کیا جاتا۔ اکثر افراد اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ فالج کے بعد فوری طور پر علاج معالجے سے مریض کی بحالی، موت سے حفاظت یا مستقل معذوری کے امکانات کو خاصا کم کیا جاسکتا ہے۔ فالج کے ماہر ڈاکٹروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند ایک مثالوں کے سوا سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں میں کہیں بھی فالج کے مریضوں کی تشخیص، علاج اور بحالی کے لیے یونٹ قائم نہیں ہیں۔ تھرامبولائسز یعنی کلاٹ (CLOT)بسٹنگ دوا جو کہ فالج کے علاج کی عالمی طور پر مروجہ دوائی ہے، جو جمے ہوئے خون کی روانی بحال کرنے میں نہایت معاون ہے، وہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان میں تاحال رجسٹرڈ ہی نہیں ہوسکی۔ فالج کے مریض کو دیکھنے والے طبی عملے میں تربیت کا شدید فقدان ہے۔
بطور ڈاکٹر میں سمجھتا ہوں کہ آنے والے دنوں میں ہمارے ملک میں فالج کی بیماری میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہے۔ عوام میں اس حوالے سے آگاہی کی کمی، ملک میں فالج سے بچاؤ اور علاج کے لیے مناسب سہولیات کا نہ ہونا، تربیت یافتہ طبی عملے کا نہ ہونااور مضمرات جاننے کے باوجود تمباکونوشی، گٹکا، نسوار وغیرہ کا استعمال اس کی نمایاں وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ مشینی دور میں جسمانی مشقت نہ کرنے والے لوگ جب ورزش نہیں کرتے اور ایک جامد قسم کی زندگی گزارتے ہیں تو یہ فالج کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔ زیادہ چکنائی والی اشیاء کا استعمال بھی اس بیماری کی وجوہات میں شامل ہے۔
فالج کی شرح میں اضافے کو روکنے کے لیے ذیل میں 12نکاتی ایجنڈا دیا جارہا ہے۔ اسے فالج سے بچاؤ اور اس کے علاج کا منشور بھی کہا جا سکتا ہے:
1۔ فالج کے آثار و علامات کے بارے میں مقامی زبانوں میں آگاہی مہمات
2۔ فالج کو بطور طبی ایمرجنسی تمام اسپتالوں میں نافذ کرنا
3۔ تمام Tertiary careاسپتالوں میں فالج کئیر یونٹ کا قیام
4۔ تمام یونٹس میں معیاری طبی ساز و سامان،تربیت یافتہ طبی اسٹاف کی فراہمی اور معیار کو برقرار رکھنے طریقہ کار
5۔ تھرامبو لائسز، کلاٹ بسٹنگ دوا کی رجسٹریشن
6۔ فالج کے دورے کی صورت میں مریض کو ایمرجنسی رسپانس سہولت
7۔ تربیت یافتہ اسٹروک اسپیشلسٹس (Stroke Specialists)کی تعداد میں اضافے کی حکمت عملی
8۔ فالج کے مریضوں کے لیے سی ٹی اسکین سے آراستہ ایمبولینس، ٹیلی میڈیسن کی سہولت اور عملے کی تربیت کے جامع پروگرام
9۔ فالج کے مریضوں کی بحالی کے لیے قلیل المدت و طویل المدت پروگرام، اور گھر پر علاج و بحالی کے لیے تربیت یافتہ طبی عملے کی سہولت
10۔ فالج کا سبب بننے والے عوامل بشمول تمباکو نوشی، حقہ، بیڑی، شیشہ، گٹکا، نسوار، پان، مشری اور گھنڈی وغیرہ پر مکمل پابندی اور عمل درآمد
11۔ فالج کے مریضوں کی نگہداشت و نگرانی کے لیے حکومتی سطح پر ماہرین کی معاونت و مشاورت سے روڈ میپ
12۔ مریضوں کا قومی سطح پر ریکارڈ مرتب کرنے، اعداد و شمار جمع کرنے، ان مریضوں کے فالج کی طبی قسم، عوامل اور وجوہات کو جاننے کے لیے قومی فالج ڈیٹا بیس رجسٹری کا قیام
درج بالا اقدامات کے ذریعے فالج کے مرض سے بچاؤ، معیاری علاج اور مریضوں کی بحالی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک اندازے کے مطابق 10فیصد سے بھی کم مریض فالج کے دو گھنٹوں کے اندر اسپتال پہنچتے ہیں یا لائے جاتے ہیں۔ جبکہ فالج ہونے کی صورت میں ہر گزرتا لمحہ مریض کے لیے تکلیف اور معذوری کے امکانات کو بڑھاتا رہتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فالج کے شدید حملے میں ہر ایک منٹ میں دماغ کے دوملین خلیات مر جاتے ہیں۔ اس لیے جہاں ایک طرف فالج سے بچاؤ، دورے کی صورت میں فوری علاج اور بحالی سے متعلق ہر فرد کو آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے وہیں حکومت کو چاہیے کہ فالج کو ایک فوری طبی ایمرجنسی (ہنگامی حالت) قرار دے کر تمام بڑے اسپتالوں کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ فالج کے علاج کے لیے تمام مطلوبہ سہولیات و طبی سازو سامان کی دستیابی یقینی بنائیں۔ اس ضمن میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ تمام بڑے اسپتالوں میں جنہیں Tertiary Careاسپتال کہا جاتا ہے، لازمی طور پر فالج کیئر یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ فالج کے نتیجے میں اموات و معذوری کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔
اس کے علاوہ جس مسئلے پر توجہ دی جانی چاہیے وہ تربیت یافتہ اسٹروک اسپیشلسٹس کی کمی پر قابو پانا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں اسٹروک اسپیشلسٹس کی تعداد دو درجن بھی نہیں ہے، اور وہ بھی صرف دو تین شہروں میں نجی اسپتالوں میں ہی دستیاب ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ دماغ و اعصاب یعنی نیورو لوجسٹ کو دیکھا جائے تو 22کروڑ کی آبادی کے اس ملک میں وہ بھی صرف 200کے لگ بھگ ہیں۔ ماہر ڈاکٹروں کی اس کمی سے بہرحال فالج کے علاج میں دقت ضرور ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق فالج کے کم از کم 35 فیصد مریض، جبکہ چھوٹے فالج (جسے TIA کہتے ہیں) کے 50 فیصد سے زائد مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں، اور نتیجتاً فالج کے مرض میں مبتلا مریضوں کی مشکلات و طبی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس صورت حال میں PMDC اس بات کو یقینی بنائے کہ شعبہ نیورولوجی کی پوسٹ گریجویٹ ڈگری رکھنے والے نیورولوجسٹ کی، کم از کم ایک سال کے لیے فالج یعنی اسٹروک فیلو شپ میں تربیت کے لیے پبلک سیکٹر نیورولوجی ڈیپارٹمنٹس میں اقدامات کرے۔
اس کے علاوہ فالج کے علاج معالجے کے لیے کامیاب پروگرام ایمبولینس میں سی ٹی اسکین اور ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اسٹاف کی مناسب تربیت سے بھی مشروط ہے، تاکہ وہ مریضوں کی علامات کی بنیاد پر فوری طبی سہولیات کے لیے ٹھیک اسپتال لے کر جاسکیں۔ مزید برآں اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد مریضوں کی جلد بحالی کے لیے بہتر معاونت، مناسب دیکھ بھال، ضروری طبی سازو سامان کی دستیابی اور مسلسل خیال رکھنے جیسے اقدامات کے ذریعے ان افراد کو معاشرے کا سودمند حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
قومی فالج ڈیٹا بیس رجسٹری کے قیام کی تجویز فالج کے مریضوں کے لیے قومی سطح پر اعداد و شمار جمع کرنے، اور ان مریضوں کے فالج کی طبی قسم، عوامل اور وجوہات کو جاننے کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔ اس کے ذریعے فالج کی بیماری کی وجوہات و دیگر عوامل پر قومی صحت پالیسی میں اقدامات تجویز کیے جا سکیں گے۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے قومی ٹاسک فورس تشکیل دے جس میں ماہرینِ طب کو بھی شامل کیا جائے۔ اس ٹاسک فورس کو یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ ملک میں نیشنل اسٹروک رجسٹری کا قیام عمل میں لائے۔
انسانی معذوری کا سب سے بڑا سبب بننے والی یہ بیماری فالج ہمارے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس کی شرح میں تیزی سے اضافے کو روکنے کے لیے سرکاری سطح پر ہی اقدامات کافی نہیں بلکہ لوگوں کا اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانا بھی بہت ضروری ہے۔ فالج کے حوالے سے آگہی، علاج اور تدارک کے لیے عام لوگوں میں شعور بیدار کرکے ان امراض میں اضافے کی شرح کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر قابو پانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں بڑے پیمانے کی آگاہی مہمات کی بدولت شہریوں میں ان جان لیوا بیماریوں (فالج/ دل کا دورہ) سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر نے انہیں کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ان آگاہی مہمات کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر فالج کا بروقت و مناسب علاج کیا جائے تو نہ صرف جانیں محفوظ ہوں گی بلکہ مستقل معذوری سے بچاؤ اور دیکھ بھال کے اضافی اخراجات کی بھی بچت ہو گی۔ چونکہ فالج کے علاج کا خرچہ اقتصادی بوجھ سے منسلک ہے لہٰذا معاشی بوجھ میں بھی کمی ہو گی۔

Share this: