اسلامی نظام تعلیم اور قائداعظمؒ

تحریکِ پاکستان کے دنوں میں مسلم ماہرینِ تعلیم پر مشتمل کمیٹی کی تاریخی روداد

جلیس سلاسل
(دوسری قسط)
حسبِ ذیل حضرات نے کمیٹی کو اپنی معاونت پیش کی ہے :
1۔ خان فضل محمد خان صاحب۔ ایم اے (کینٹب) نظام حیدرآباد دکن کی حکومت کے سابق ڈائریکٹر آف پبلک انسٹرکشن اور کمشنر فنی وصنعتی تعلیم
2۔ عبدالرحمن خان۔ سابق پرنسپل عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد
3۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر کو بھی بطور ایک رکن شامل کیا جانا چاہیے۔
بعض اہم مسائل اور مقاصد
1۔ برطانوی ہند میںجو نظام تعلیم رائج ہے، اسے ہمارے تمدن اور اصولوں کو نظرانداز کرکے تشکیل دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلمان اپنے ماضی کے ورثے سے بیگانہ ہوگیا ہے۔ علوم و فنون، فلسفہ اور دوسرے معاشرتی مضامین میں تعلیم صحت مند مسلم شخصیت پیدا کرنے کے بجائے ایک کج رو اور بیمار کردار تخلیق کرتی ہے جس میں ہر طرف عقل، جذبات اور طرزعمل کے تنائو اور تنازعے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ہمیں اس تنازعے کو رفع کرکے اپنے تہذیبی اور مذہبی ورثے پر اپنے نظام تعلیم کی بنیادیں رکھ کر نقطۂ نظر اور کردار میں ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی۔
2۔ موجودہ نظام تعلیم ہمارے عوام کی دانائی اور دماغی نشوونما کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور اس نے ہمارے عوام پر کوئی (پائیدار) اثر نہیں چھوڑا ہے۔ لہٰذا ہمیں مسلمانوں کی عقلی صلاحیتوں کو ابھارنا پڑے گا اور قومی سطح پر دماغی بیداری پیدا کرنی ہوگی۔
3۔ جدید تعلیم میں طبیعاتی سائنس کی جگہ موجودہ نظام تعلیم میں نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے موجودہ دنیا میںکامیاب جدوجہدکرنے کے لیے ہماری تعلیم ہمیں میں معقول طریقے سے لیس نہیں کرتی۔ ہمیں چاہیے کہ اب سے ہم طبیعاتی سائنس کو اپنی تعلیم کا اہم جز بنائیں۔
4۔ اس وقت مسلمان بہت کم فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی معاشی حالت تیزی سے گرتی جارہی ہے۔ لہٰذا ہمیں مختلف دستکاریوں، صنعتوں اور پیشوں میں مناسب تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
5۔ موجودہ تعلیم نے ہمارے مختلف طبقات میں اور ہمارے عوام اور دانشوروں کے درمیان اونچی دیواریں حائل کردی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے نظام تعلیم کو اپنے عوام کی حقیقی ضرورتوں کے ساتھ منسلک کریں اور اختلافات اور تنازعات کا ازالہ کریں۔
6۔مسلمان لڑکیوں کی تعلیم کے موجودہ انتظامات انتہائی ناکافی اور غیر اطمینان بخش ہیں۔ ہمیں خصوصی طور پر یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اسلام کی روایات اور تعلیمات کے مطابق مسلمان لڑکیوں کو معقول اور وسیع پیمانے پر تعلیم دی جا سکے۔
7۔ موجودہ ابتدائی تعلیم اپنی وسعت اور مقصد کے اعتبار سے انتہائی محدود ہے اور ہماری تعلیمی شرح بہت ہی کم ہے۔ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی وسیع پیمانے پر مفت ابتدائی تعلیم کے لیے ہمیں اسباب اور وسائل تلاش کرنے چاہئیں۔
8۔ عوام میں خواندگی پھیلانے اور تعلیم بالغان کے لیے انتظامات تقریباً ناپید ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان کثرت سے خواندگی اور تعلیم بالغان کے لیے ہمیں مؤثر اقدامات کرنے پڑیں گے۔
9۔ موجودہ جنگ کے نتیجے میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں جن سے مسلمانانِ ہند کے لیے متعدد سماجی اور معاشی مسائل سامنے آئیں گے۔ جہاں تک ہم پیش بینی کرسکتے ہیں ہمیں بعداز جنگ مسائل کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے تاکہ ہمارے نئے نظام تعلیم میں ان کا بندوبست کیا جا سکے۔
10۔ ہندوستان کے مسلمان قومی نشاۃ ثانیہ کے ایک نئے دور سے گزر رہے ہیں اور اپنی خودارادیت اور اپنے آبرو مندانہ وجود کی عظیم الشان جدوجہد میں مشغول ہیں۔ ہمیں ہندوستان کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں اپنے آزاد قومی وطن حاصل کرنے اور برقرار رکھنے ہوں گے اور باقی ہندوستان میں جہاں ہماری اقلیت ہے وہاں ایک آبرومندانہ وجود اور ثقافتی سالمیت کا اہتمام کرنا ہوگا، لہٰذا ہمیں اس بات کا بندوبست کرنا ہوگا کہ ہماری آئندہ نسلوں کی تعلیم اس نوعیت کی ہو جو ہمارے قومی تصورات کے حصول اور ہندوستان میں اس کے سارے حصوں کے مسلمانوں کے درمیان وحدت اور برادری کے بندھن مضبوط کرنے میںمعاون ثابت ہوسکے۔
11۔ ملک کے سماجی اور تعلیمی فروغ کے لیے جو رقم مختص کی گئی ہے اس میں سے بلوچستان، سندھ، آسام اور دوسرے مقامات کے چند علاقوں کو بہت کم حصہ ملا ہے، جس کی وجہ سے وہ باقی ہندوستان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان کی سماجی اور تعلیمی ترقی کے لیے ہمیں خصوصی انتظامات کرنے پڑیں گے۔
ہمارے مقاصد کے حصول کے لیے چند تجاویز
1۔ مختلف مضامین اور خصوصاً وہ مضامین جن کا تعلق معاشرے سے ہے، کی تدریس کے لیے نئے طریقوں کا تعین کرنا چاہیے۔
2۔ ہمیں اپنی ابتدائی ثانوی، پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کی ازِسرنو منصوبہ بندی اور ترتیب کرنی چاہیے۔
3۔ہمیں مسلمانوں کی تعلیم کو غیر مسلموں کی نگرانی اور اثرات سے محفوظ رکھنا چاہیے۔
4۔ مسلم تعلیم کی توسیع اور اصلاح کے لیے ہمیں چاہیے کہ مسلمانوں اور دیگر خیراتی اداروں کے لیے مزید رقم کی تلاش کریں۔
5۔ مسلم لڑکیوں کے لیے ہمیں علیحدہ اورمنظم ادارے کھولنے چاہئیں۔
6۔ مسلم مرد اساتذہ کی صحیح تعلیمی تربیت کے لیے ہمیں خصوصی اور تسلی بخش انتظامات کرنے ہوںگے۔
7۔ مسلمانوں کی تعلیم کی رہنمائی، نگرانی، ترقی اور توسیع کے لیے ہمیں ایک کُل ہند ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ ایک ایسے ادارے کے بغیر ہم تعلیم کی تنظیم نو کی ملک گیر تحریک نہیں چلا سکتے۔ اگر موجودہ آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس اور مسلمانوں کے دوسرے مختلف صوبائی تعلیمی ادارے ایک مربوط اور مؤثر نظام کے تحت، اور یا مسلم لیگ کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہوسکیں تو یہ مقصد آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے۔
ہماری پوری تعلیمی ضروریات
1۔ تدریس کے مختلف مرحلوں میں پڑھنے والے مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ہمیں ثقافتی اور سماجی نصاب مع ادب، تاریخ ،علمِ شہریت، مذہب، تمدن وغیرہ کو درجہ بہ درجہ ترتیب دینا چاہیے اور جتنی جلد ہوسکے اسے اپنی تعلیم میں شامل کرلینا چاہیے۔
2۔ ہمیں اپنی ابتدائی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی بلاتاخیر دوبارہ ترتیب اور توسیع کرنی چاہیے۔
3۔ مسلم تعلیم بالغان اور عام زندگی کے لیے ہمیں ترغیبی جماعتیں منظم کرنی چاہئیں۔
4۔ اپنے پسماندہ علاقوں کی ثقافتی، تعلیمی اور سماجی بالیدگی کے لیے ہمیں منظم مراکز فوراً قائم کرنے چاہئیں۔
اخراجات کا تخمینہ
ایک سال کے لیے دفتر کے مصارف کا تخمینہ
گریجویٹ کلرک بشرح 20 روپے فی مہینہ 720ر وپے سالانہ
اسٹیشنری بشرح 15روپے فی مہینہ 180روپے سالانہ
ایک ہزار سوالناموں کی طباعت150روپے سالانہ
مراسلت250روپے سالانہ
متفرقات 200روپے سالانہ
جملہ 1500روپے سالانہ
دوروں کے اخراجات کا تخمینہ
دو ملازموں کے ساتھ ایک چارنشستی ریل کا ڈبہ مخصوص کرنے کے لیے 2400روپے
ساٹھ دنوں کے سفری الاؤنس بشرح 10 روپے فی کس 600روپے
تقریباً تیس مقامات پر سواری کے اخراجات 400 روپے
کم از کم10 فنی ماہرین اور اراکین کمیٹی کے لیے سفری الاؤنس 1600روپے
جملہ 5000روپے
رپورٹ کی ایک ہزار کاپیوں کی طباعت500 روپے
تینوں مدات کے جملہ اخراجات7000
محمد افضال حسین قادری
(2.5.1)ایجوکیشن کمیٹی کی طرف سے اجرائے کارکی رپورٹ
(بلاتاریخ) جولائی 1944ء
5مارچ 1944ء کو اپنی میٹنگ میںکمیٹی آف ایکشن نے ایجوکیشن کمیٹی مقرر کی تھی۔ مقاصد اور عملے کی شرائط حسبِ ذیل ہیں:
ہندوستان میں رائج نظام تعلیم کا جائزہ لینا ہے اور ساتھ ہی موجودہ اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور مسائل پر غور کرنا ہے۔ ایسی سفارشات پیش کرنی ہیں جو اسلام کی روایات، ثقافت اور تصورات کو محفوظ رکھنے، ان کی نگہداشت کرنے، اور ان کے فروغ کے لیے مسلمانوں کی مجموعی خوشحالی کے لیے ضروری ہوں۔ اور ہندوستان کے مختلف حصوں میں ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے طور طریقے تجویز کرنے ہیں۔ یہ سفارشات تعلیم کے سارے مرحلوں اور پہلوؤں یعنی ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے علاوہ عمومی اور پیشہ ورانہ تربیت پر محیط ہونی چاہئیں۔
کمیٹی سے کہا تھا کہ وہ سال کے اختتام تک اپنا کام مکمل کرکے اپنی رپورٹ داخل کردے، اور کمیٹی کو نئے اراکین منتخب کرنے اور ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے کے اختیارات سونپے گئے تھے۔
چیئرمین۔ نواب محمد اسماعیل خان
کنوینر۔ڈاکٹر محمد افضال حسین قادری
پروفیسر ڈاکٹر ایس ظفرالحسن
ڈاکٹر ذکی الدین
ڈاکٹر رضی الدین صدیقی
خان بہادر آل علی نقوی
ڈاکٹر ایم عزیز احمد
پروفیسر اے بی اے حلیم
خان بہادر غلام نبی قاری( ریٹائرڈ ڈائر یکٹر پبلک ان اسٹرکشن)
کمیٹی سے خصوصی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ وہ تعلیم نسواں کے سلسلے میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کرے۔ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی پہلی میٹنگ میں مواد کی فراہمی پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ لگائے۔
کمیٹی کے اراکین میں سے ڈاکٹر ذکی الدین مختصر علالت کے بعد فوت ہوگئے۔کمیٹی نے مرحوم ڈاکٹر ذکی الدین کی جگہ ڈاکٹر ایم ایم احمد کو مقرر کیا۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کو کمیٹی میں کام کرنے سے حیدرآباد نے منع کردیا ہے۔ اس عرصے میں ان کی غیر رسمی مدد ایجوکیشن کمیٹی کے لیے انتہائی فائدہ مند رہی ہے۔ کمیٹی کی پہلی باقاعدہ میٹنگ 7جون 1944ء سے اگلے دنوں تک جاری رہی۔ اس میٹنگ میں حسبِ ذیل مشاورتی کمیٹی قائم کی گئی اور اس کی تفویض اور عملہ کی شرائط کا تعین کیا گیا۔
ابتدائی اور ثانوی تعلیم
ماہرین کی مشاورتی کمیٹی نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے حوالے سے حسب ذیل شرائط تیار کی ہیں:
اولاً مسلم نقطۂ نظر سے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رائج ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے نظام کا جائزہ لینا ہے۔ ثانیاً شہری اوردیہی علاقوں میں 15 سے 17 سال کے مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے تجاویز تیار کرنی ہیں، اور خصوصیت سے اس کے ہدف اور مقصد نیز ذریعہ تعلیم کی نشاندہی کرنی ہے۔ اسلام کے اصولوں اور ہندوستان کے مسلمانوں کی آرزوؤںکی ہم آہنگی میں تدریس کے ذرائع ابلاغ اور اسالیب، تعلیمی نظاموں اور اداروں میں تحصیلِ علم کے لیے مضامین، جسمانی تربیت، سماجی سرگرمی، اخلاقی نظم و ضبط، مذہبی تعلیم اور انتخابات کا جائزہ لینا ہے، اور ثالثاً عمومی، فنی، پیشہ ورانہ اور تجارتی تعلیم کے مختلف مراحل کے باہمی تعلق سے ان سب کے لیے مناسب امتیازی نصاب تجویز کرنا ہے۔ مشاورتی کمیٹی کے اراکین حسب ذیل ہیں:
خان بہادر سید آل علی نقوی (ریٹائرڈ انسپکٹر برائے مسلم اسکولز، یوپی)
خان بہادر محمود حسن (وائس چانسلز، ڈھاکہ یونیورسٹی)
خان بہادر غلام نبی قاضی (ریٹائرڈ ڈائریکٹر، پبلک انسٹرکشن، سندھ)
خان بہادر عبدالرحمن (اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن۔ بنگال)
ڈاکٹر جی ایم صوفی (ریٹائرڈ انسپکٹر اسکولز۔ سی پی)
خان بہادر شاہ عالم خان (ڈائر یکٹر پبلک انسٹرکشن۔ سرحد/ موجودہ خیبر پختون خوا)
آفتاب حسین (انسپکٹر اسکولز حیدرآباد دکن)
ڈاکٹر ایم عزیزاحمد (کنوینر) (شعبہ تاریخ، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)
(جاری ہے)

Share this: