نواب شاہ، بلڈ سینٹر کے قیام کی تقریب

صوبائی وزیر صحت، قونصلر جنرل جرمنی اور چیئرمین فاطمید فاؤنڈیشں کی شرکت

کاشف رضا
سندھ کے تیسرے بڑے شہر نواب شاہ میں اس وقت سول ہسپتال کی صورتِ حال وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کی طرح ہے ۔ اگرچہ ہسپتال کو ایک کروڑ پچاس لاکھ کی خطیر رقم کا سالانہ بجٹ ملتا ہے، لیکن مریض کو چند روپے کی دوائی ملنا بھی محال ہے۔ سول ہسپتال میں ایکسرے مشین، سی ٹی اسکین مشین، انجیو گرافی مشین ایک ماہ سے خراب پڑی ہیں، دوسری جانب ہفتۂ صفائی منانے کے باوجود ڈپٹی کمشنر شہید بے نظیر آباد نے پے در پے سول ہسپتال نواب شاہ کی ناقص صورتِ حال پر اظہارِ برہمی کیا، لیکن سول ہسپتال کی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ہسپتال انتظامیہ صحت دینے کے بجائے ڈینگی کے مریضوں کو بنیادی طبی امداد دینے سے بھی قاصر نظر آئی۔ اگرچہ صوبائی وزیر صحت کی جانب سے کتے کے کاٹے کی ویکسین کے لیے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے صوبے کے ہسپتالوں میں شکایتی مراکز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، لیکن یہ محض اعلان ہی رہا۔ صوبے میں تیسرے بلڈ سینٹر کے قیام اور اس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت و پاپولیشن ویلفیئر سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے قونصلر جنرل جرمنی ایوگین وول فارتھ (Eugen Wollfarth)، چیئرمین فاطمید فاؤنڈیشن لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدرکے ساتھ سندھ کے تیسرے جدید ریجنل بلڈ سینٹر شہید بے نظیرآباد کا افتتاح کیا جو جرمنی کی حکومت کی جانب سے کے ایف ڈبلیو ترقیاتی بینک کے ذریعے دی گئی 150 ملین یورو کی گرانٹ سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ پیپلز پارٹی و سندھ حکومت کا وژن ہے کہ عوام کو صحت کی بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں، یہ بلڈ سینٹر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں جامشورو اور سکھر کے بعد شہید بے نظیرآباد میں تیسرے بلڈ سینٹر نے کام شروع کیا ہے، اور چوتھا ریجنل بلڈ سینٹر اگلے ماہ کراچی میں کام شروع کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاطمید فاؤنڈیشن رضاکارانہ بلڈ ڈونیشن کے ذریعے انتقالِ خون کے حوالے سے ملک کا اوّلین و بہترین ادارہ ہے جس سے مل کر سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو بلڈ ٹرانسفیوژن کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ صوبائی وزیر نے نواب شاہ میں چار یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دے کر بیمار و بے سہارا قیمتی انسانی جانیں بچائیں۔ انہوں نے فاطمید فاؤنڈیشن کے اعلیٰ حکام کو نواب شاہ کے ساتھ دادو، نوشہروفیروز، عمرکوٹ، میرپورخاص سمیت دیگر پسماندہ علاقوں میں خون کا عطیہ دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مشورہ دیا تاکہ ان علاقوں کے عوام کو بھی فائدہ حاصل ہوسکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ جرمنی کی حکومت اور عوام کی شکر گزار ہوں جنہوں نے کے ایف ڈبلیو ترقیاتی بینک کے ذریعے فنڈ فراہم کرکے جدید بلڈ سینٹر قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔
اس موقع پر جرمن قونصلر جنرل ایوگین وول فارتھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ جرمنی نے ہمیشہ پاکستان اور سندھ کے عوام کی مدد کی ہے، جرمنی کی حکومت کی 25 ملین یورو کی گرانٹ سے پاکستان میں 15 ریجنل بلڈ سینٹر قائم کیے جائیں گے جن میں سے 4 سینٹر سندھ میں قائم کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ سندھ کے 82 ہسپتالوں میں بلڈ بینکس کو اَپ گریڈ کرنے کے ساتھ 24 ہسپتالوں میں خون اسٹور کرنے کا جدید سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔ جے پی ایم سی کراچی، سول ہسپتال کراچی، سندھ گورنمنٹ ہسپتال کورنگی کو بھی کے ایف ڈبلیو ترقیاتی بینک کے تعاون سے صاف خون کی فراہمی کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا، ہیپاٹائٹس بی، سی اور تھیلے سیمیا کی بیماریوں کو روکنے کے لیے صاف خون کی ضرورت ہے، بلڈ سینٹرز کے قیام سے سندھ کے عوام کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت سعید احمد اعوان، ڈاکٹر درناز، چیئرمین فاطمید فاؤنڈیشن لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں قونصلیٹ جنرل کے فرسٹ سیکریٹری جیورگن زول (Juergen Zoll)، سینئر ہیلتھ کوآرڈی نیٹر کے ایف ڈبلیو پاکستان ڈاکٹر معصومہ زیدی، زاہد محمود، وائس چانسلر پیپلز میڈیکل وومن یونیورسٹی ڈاکٹر گلشن میمن، ڈپٹی کمشنر شہید بے نظیرآباد ابراراحمد جعفر، ایڈیشنل کمشنر پرویز احمد بلوچ، ڈائریکٹر انفارمیشن شفیق حسین میمن، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر معین الدین شیخ، ایم ایس، پی ایم سی ہسپتال ڈاکٹر محمد یوسف زرداری ودیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
بعد ازاں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے ڈپٹی کمشنر آفس میں ڈپٹی کمشنر شہید بے نظیرآباد ابراراحمد جعفر کی جانب سے 2 کیری ایمبولینس اور محکمہ صحت کی جانب سے ایک ایمبولینس بیسک ہیلتھ یونٹ جام صاحب، گورنمنٹ ڈسپنسری مہنڈ جمڑاؤ اور کریم بخش بروہی کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر معین الدین شیخ کے حوالے کیں۔
اگرچہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ کو صوبے بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں موجود سول ہسپتالوں کی انتظامیہ کو ایک خط جاری کرنے کے لیے کہا گیا تھا کہ صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے فری ایمبولینس ہوگی، اور اس سلسلے میں 17 ستمبر 2019ء کو محکمہ ہیلتھ سروسز کی جانب سے ایک خط بھی لکھا گیا، لیکن اتنے دن گزر جانے کے باوجود سول ہسپتال نواب شاہ نے اس خط کی وصولی سے انکار کیا ہے، جبکہ مریضوں سے ایندھن کی مد میں سول ہسپتال نواب شاہ تا حال رقم وصول کررہا ہے۔ یہ ہدایات میرپورخاص میں پیش آنے والے واقعے کے بعد جاری کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں سول ہسپتال نواب شاہ میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ہمیں ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا ۔ جبکہ اس وقت سول ہسپتال نواب شاہ کے پاس وینٹی لیٹر پر مشتمل صرف ایک گاڑی ہے، جبکہ دو دوسری بڑی گاڑیاں ہیں جو مریضوں کے کراچی تک کے سفر کے لیے ناکافی ہیں، جبکہ بقیہ گاڑیاں خراب حالت میں کھڑی ہیں۔ اس طرح مریضوں کو کراچی اور حیدرآباد لے جانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مریضوں سے رقم وصول کی جارہی ہے۔ دوسری جانب نجی طور پر 5 ویلفیئر ایمبولینس سروس چلانے والوں نے ویلفیئر کے نام پر لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ اس وقت نواب شاہ میں مختلف ویلفیئر فاؤنڈیشنز کے زیراہتمام چلنے والی گاڑیوں نے ایک صنعت کا درجہ اختیار کرلیا ہے جو فی مریض 8 سے 12 ہزار روپے نواب شاہ سے کراچی تک کے لیے وصول کرتی ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان نجی ویلفیئر فائونڈیشنز کے پاس وینٹی لیٹر پر مشتمل ایک بھی گاڑی نہیں ہے۔ نواب شاہ کے مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر پر مشتمل گاڑیاں حیدرآباد سے منگوائی جاتی ہیں جن کا کرایہ 30 سے 35 ہزار روپے وصول کیا جاتا ہے۔ اس طرح سرکار نے نواب شاہ کے مجبور عوام کو نجی ویلفیئرز کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ شہریوں نے وزیر صحت سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کو اس جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ نجی ویلفیئرز کو کسی ضابطہ کار میں لائیں تاکہ عوام الناس کو طبی سہولیات بآسانی اور کم رقم میں فراہم ہوسکیں۔

Share this: