آسمان صحافت کا روشن ستارہ، عبدالواحد یوسفی

ہفتے کے روز علی الصبح حسبِ معمول فون کا ڈیٹا آن کرکے واٹس ایپ چیک کیا تو بہت ساری معمول کی خبروں کو اسکرول کرتے ہوئے اچانک عبدالواحد یوسفی صاحب چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’آج‘‘ کی جانی پہچانی تصویر پر نظر ٹک کر رہ گئی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ جب پوسٹ کھول کر دیکھا تو یوسفی صاحب کی رحلت کی جانکاہ خبر پڑھنے کو ملی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ خبر پڑھتے ہی جہاں نگاہوں کے سامنے وہ مناظر گھومنے لگے جن میں یوسفی صاحب کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا تھا، وہیں دوسرے لمحے دل ودماغ کو بطور ایک تلخ حقیقت اس ادراک کو بھی قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ کل نفس ذائقۃ الموت، یعنی بے شک ’’ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خوا کے آسمانِ صحافت کا روشن ستارہ کہلائے جانے والے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے سابق ایگزیکٹو رکن جناب عبدالواحد یوسفی صاحب نے عملی صحافت کا آغاز 1959-60ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ پشاور سے بحیثیت اسٹاف رپورٹر کیا تھا۔ 1967ء سے -95 1994ء تک نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبار روزنامہ ’’مشرق‘‘ پشاور میں اسٹاف رپورٹر، سینئر اسٹاف رپورٹر، مشرق گروپ کے نمائندۂ خصوصی مقیم اسلام آباد، چیف رپورٹر، ڈپٹی ریذیڈنٹ ایڈیٹر، ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور مشرق گروپ کے ڈپٹی چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اور مشرق کو صوبے کا ترجمان اور مقبولِ عام اخبار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مشرق گروپ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالواحد یوسفی نے اپنے اخبار روزنامہ ’’آج‘‘ کا باقاعدہ اجراء کیا۔ اپنی مسحورکن شخصیت کی بنا پر سیاست، صحافت اور بیوروکریسی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں انہوں نے لاتعداد دوست بنائے، اور وہ یہ دوستیاں آخر دم تک نبھاتے رہے۔ وہ پشاور پریس کلب کے بانی رکن تھے، انہوں نے صحافتی خدمات کی بجا آوری کے سلسلے میں ایران، افغانستان، امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی ممالک کے تفصیلی دورے بھی کیے۔ مرحوم کے پسماندگان میں ان کے فرزند محمد علی یوسفزئی، ارسلان جاوید یوسفزئی، ان کے بھائی منور شاہ اور ان کے داماد ڈاکٹر شہزاد دلدار (یو کے) اور عمر شفیع خان (پی ایس او) شامل ہیں۔
راقم الحروف کو عبدالواحد یوسفی صاحب سے گہرے مراسم اور قریبی تعلق کا دعویٰ تو نہیں ہے، البتہ اُن سے اُن کی زندگی میں جو دوچار ملاقاتیں ہوئیں وہ ہرلحاظ سے نہ صرف ناقابلِ فراموش ہیں، یوسفی صاحب سے میری پہلی بالمشافہ ملاقات اُن کی خواہش بلکہ اُن کے حکم پر آج سے لگ بھگ بارہ سال پہلے اُس وقت ہوئی تھی جب کچھ عرصے سے میرے کالم ایک بڑے مقامی معاصر میں شائع ہونا بند ہوگئے تھے، جس پر یوسفی صاحب نے مجھے کال کرکے حال احوال معلوم کرنے کے بعد پوچھا تھا کہ تمھارے کالم آج کل کیوں شائع نہیں ہورہے؟ مجھے یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی تھی کہ بھلا یوسفی صاحب جن سے اس سے پہلے میرا نہ کوئی رابطہ ہوا تھا اور نہ ہی میری اس سے پہلے اُن کے ساتھ کوئی علیک سلیک تھی، اور جن کا شمار صوبے کے چند گنے چنے چوٹی کے سینئر ترین صحافیوں میں ہوتا تھا اور جو روزنامہ ’’آج‘‘ جیسے بڑے اور کثیرالاشاعت اخبار کے مالک تھے، اور کہاں ہم صحافت کے نوآموز اور گمنام کارکن صحافی! میں نے انہیں وجہ بتاتے ہی ہمت کرکے یہ سوال بھی داغ دیا کہ کیا آپ میرے کالم پڑھتے ہیں؟ انہوں نے میری کیفیت بھانپتے ہوئے بڑے پیار سے جواب دیا کہ کالم تو میں سب دیکھتا ہوں لیکن پڑھتا چند ایک ہی ہوں جن میں آپ کا کالم بھی شامل ہے۔ انہوں نے میری مشاہداتی اور تجزیاتی حس کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ اپنے مطالعے کو مزید وسعت دینے اور اس میں گہرائی لانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کیا تم روزنامہ ’’آج‘‘ میں کالم لکھنا چاہو گے؟ ان کی طرف سے یہ آفر گویا ایسی تھی جیسے کسی کو کوئی گمشدہ متاع مل گئی ہو۔ ویسے بھی ان دنوں چونکہ میں فارغ تھا اور ایک لکھاری کے لیے زندگی کا اس سے تلخ اور پریشان کن مرحلہ اور کوئی نہیں ہوسکتا جب اس کا لکھنا بند کردیا جائے، لہٰذا ’اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں‘ کے مصداق جب یوسفی صاحب نے مجھے روزنامہ آج میں لکھنے کا کہا تو اس سے ایک طرف میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ متذکرہ نامی گرامی اخبار سے آٹھ دس سال کا رشتہ اچانک اور بغیرکوئی وجہ بتائے (اصل وجہ جماعت اسلامی سے تعلق تھا) ٹوٹنے کے بعد جہاں میرا دل ٹوٹ سا گیا تھا، وہیں میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کسی طرح روزنامہ ’’آج‘‘ میں کالم لکھنے کا موقع مل سکے۔ حالانکہ درمیان میں مجھے دو تین مقامی اخبارات سے بھی لکھنے کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن چونکہ میری خواہش تھی کہ میں روزنامہ ’’آج‘‘ جو اُن دنوں صوبے کے سب سے بڑے عوامی اخبار کا روپ دھار چکا تھا، کو جوائن کروں، لہٰذا یوسفی صاحب کی آفر ملتے ہی میں نے نہ صرف اُن کی پیشکش کو بخوشی قبول کرلیا بلکہ موقع غنیمت جان کر اُن سے جھٹ یہ بھی پوچھ لیا کہ میں کب سے اپنے کالم روزنامہ ’’آج‘‘ کو بھیجنا شروع کرسکتا ہوں؟ انہوں نے کہاکہ جیسا آپ کو مناسب لگے، میں ادارتی صفحے کے انچارج اکرام اللہ مومند کو کہہ دوں گا، آپ اُن سے رابطہ کرکے مزید تفصیلات خود طے کرلیں۔اور بعد میں واقعی ایسا ہی ہوا، یوسفی صاحب کے فون کے بند ہونے کے کوئی دس پندرہ منٹ بعد اکرام اللہ صاحب کا فون آیا اور انہوں نے اپنا ای میل ایڈریس دینے کے علاوہ باقی تفصیلات بتانے کے ساتھ ساتھ یہ خوش خبری بھی سنائی کہ یوسفی صاحب نے انہیں کہا ہے کہ آپ کو آپ کے کالموں کی کچھ نہ کچھ ادائیگی بھی کی جائے گی جو آپ کے کالموں کی قیمت تو نہیں ہوگی البتہ یوسفی صاحب چاہتے ہیں کہ بطور حوصلہ افزائی آپ کو یہ اعزازیہ دیا جائے۔ لہٰذا وہ دن ہے اور آج کا دن، روزنامہ ’’آج‘‘ سے یوسفی صاحب کی شفقت سے قائم ہونے والا عقیدت کا رشتہ اب بھی قائم ہے۔
یوسفی صاحب سے میری آخری ملاقات چار پانچ سال پہلے اُس وقت ہوئی تھی جب میں نے روزنامہ ’’آج‘ُ کی بہتری اور اس کے دائرۂ اثر میں وسعت سے متعلق کچھ تفصیلی معروضات تحریراً ان کی خدمت میں ارسال کی تھیں، جس پر انہوں نے نہ صرف شکریے کے لیے ٹیلی فون کیا تھا بلکہ ان تجاویز اور سفارشات پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کی دعوت بھی دی تھی۔ اس ملاقات میں ان کے ساتھ پچھلی تین ملاقاتوں کے برعکس ذرا زیادہ کھل کر اپنائیت کے ماحول میں بات چیت کا موقع ملا تھا۔ میری معروضات میں ان کی دلچسپی اور ایک ایک نکتے پر ان کی مدلل گفتگو اور بحث دیکھ کر تب میری سمجھ میں یہ بات آئی تھی کہ وہ ایک معمولی کارکن صحافی سے صوبے کے سب سے بڑے اخبار کے مالک کیونکر بننے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
یوسفی صاحب صحافت میں جدت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کے صرف قائل ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے عملاً صحافت کے ہر شعبے میں نوجوانوں کی آخر دم تک حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا۔ روزنامہ ’’آج‘‘ کا انٹرنیٹ ایڈیشن شائع کرنے کے حوالے سے وہ نہ صرف مسلسل متفکر نظر آتے تھے بلکہ اس سارے عمل کی وہ مسلسل خود نگرانی بھی کرتے رہے۔ پشاور کی صحافتی برادری میں آج جتنے بڑے اور نامی گرامی صحافیوں کے نام نظر آتے ہیں، ان کی اٹھان میں کسی نہ کسی شکل میں یوسفی صاحب کے ہاتھ اور عمل دخل کا ہرکوئی معترف ہے۔
یوسفی صاحب چونکہ ایک عامل صحافی تھے اس لیے وہ صحافیوں کے مسائل اور ان کے دکھ درد کا نہ صرف براہِ راست ادراک رکھتے تھے بلکہ میں بذاتِ خود ایسے کئی صحافیوں کو جانتا ہوں جن کی وہ مختلف بہانوں اور طریقوں سے غمی، خوشی اور دیگر مواقع پر کھل کر مدد بھی کرتے تھے۔ بطور کارکن صحافی ان کی ایک اور خاص ادا یہ تھی کہ دیگر مالکان کے برعکس مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے ازخود کسی کارکن کو ملازمت سے نکالا ہو، کیونکہ روزنامہ ’’آج‘‘ کے بارے میں یہ بات صحافتی حلقے میں مشہور ہے کہ اس میں ملازمت تو یوسفی صاحب کی اجازت اور منظوری سے مشروط ہے لیکن وہاں سے نکلنا کسی بھی ملازم کی اپنی صوابدید پر ہے۔ نوجوانوں میں یوسفی صاحب کی دلچسپی صرف صحافت تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ وہ معاشرے کے دیگر مختلف شعبوں اور طبقات میں بھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کے زبردست قائل تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں، جو شاید میری ان سے دوسری یا تیسری ملاقات تھی، انہوں نے مجھ سے عنایت اللہ خان سابق صوبائی وزیر صحت کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے اس نوجوان سیاست دان میں بہت ساری خوبیاں نوٹ کی ہیں جو اس کم عمری میں بہت کم لوگوں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہوسکے تو میری طرف سے عنایت اللہ خان کو یہ پیغام پہنچا دو کہ وہ روزنامہ ’’آج‘‘ کو اپنا اخبار سمجھیں اور ان کی کوریج اور پروجیکشن کے سلسلے میں روزنامہ ’’آج‘‘ کے صفحے حاضر ہیں۔ اس فراخ دلانہ پیشکش سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ کسی حسبی، نسلی یا سیاسی تعلق سے قطع نظر دیر بالا کے دوردراز پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک کم عمر رکن صوبائی اسمبلی کو ان کی تعلیمی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے لیے اپنے اخبار کا پلیٹ فارم بلا تکلف اور بغیر کسی لالچ کے پیش کررہے تھے، جس سے یوسفی صاحب کی اعلیٰ ظرفی اور میرٹ پر یقین کی اُن کی پیشہ ورانہ اپروچ کا پتا چلتا ہے جو صرف اُن ہی کا طرۂ امتیاز تھا۔
اللہ تعالیٰ یوسفی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اور ان کے لواحقین کو ان کی رحلت کا عظیم سانحہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

Share this: