جامعہ بلوچستان : طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف

بلوچستان یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم ہے۔ ایک دور تھا جب طالبات کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں تھی، اس لیے وہ گریجویشن کے بعد مزید تعلیم حاصل نہیں کرپاتی تھیں۔ صوبہ بننے کے بعد بلوچستان میں پہلی یونیورسٹی کوئٹہ میں قائم کی گئی، جس کے اولین وائس چانسلر دراب پٹیل تھے۔ بعد میں پروفیسر کرار حسین کو وائس چانسلر بنایا گیا اور انہوں نے مختلف شعبہ جات کے لیے انتہائی قابل اساتذہ بلوچستان یونیورسٹی میں تعینات کیے۔ 1977ء سے اس کا آغاز ہوا اور یونیورسٹی کا تعلیمی سفر جاری رہا۔14اکتوبر 2019ء کو اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس خبر نے پورے صوبے میں زلزلے کی سی کیفیت پیدا کردی۔ اخبارات میں یہ خبر اس طرح شائع ہوئی:
’’جامعہ بلوچستان میں طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف، ایف آئی اے نے ملازمین سے تفتیش شروع کردی۔ سیکورٹی برانچ، ہاسٹلز و دیگر شعبوں میں چھاپے، واش روم سمیت مختلف مقامات سے خفیہ کیمرے برآمد، سوئچ بورڈز میں کیمرے نصب تھے۔ افسران کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے، کیمروںکا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا۔ طالبات کو امتحانات میں ناکام کرنے کی دھمکی دی جاتی، یوں انہیں بلیک میل کیا جارہا ہے۔‘‘
اس خبر پر بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل سامنے آیا، طلبہ تنظیموں نے بیانات دیے، پریس کانفرنسیں کیں اور پریس کلب کے سامنے مسلسل احتجاج کیا جاتا رہا، مطالبہ تھاکہ وائس چانسلر کو ان کے منصب سے فوری ہٹایا جائے۔ لیکن حکومت 15 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک خاموش رہی، 21 اکتوبر کو یہ خبر شائع ہوئی کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو ان کے عہدے سے سبک دوش کردیا گیا ہے۔ یوں ایک بحرانی ردعمل کچھ سرد پڑگیا اور وائس چانسلر کو ہٹانے کی مہم ختم ہوگئی۔ مگر اصل معاملہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اس گھنائونے کھیل میں کون کون سے اساتذہ اور یونیورسٹی کا عملہ شریک ہے، اس کی تحقیق جاری ہے۔
جب اس واقعے کا علم ہوا تو وزیراعلیٰ جام کمال غیر ملکی دورے پر تھے، ان کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ طلبہ و طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ آئی جی پولیس، ایف آئی کے حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تحقیقات مکمل کریں اور وزیراعلیٰ کو اس کی رپورٹ پیش کریں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے بیان میں کہا کہ اس اسکینڈل میں جو بھی ملوث ہوا اسے عبرت کا نشان بنادیں گے۔ اس گھنائونے واقعے پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جمال مندوخیل نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ 20 اکتوبر تک الزامات کی تحقیق کرکے رپورٹ پیش کی جائے، ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
15 اکتوبر کو بلوچستان یونیورسٹی کے واقعے کے حوالے سے تحقیقاتی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی اور اراکینِ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر کو فوری طور پر اس منصب سے ہٹایا جائے۔
اس واقعے کے بعد وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ گرفتاریوں اور وڈیوز کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، ایف آئی اے کی ٹیم کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ یونیورسٹی کی ساکھ خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ یونیورسٹی اس حوالے سے ہائیرکرائم ونگ کو درخواست دے گی۔ ترجمان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ تصدیق کے بغیر خبر جاری کی گئی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کو ہٹانے کے بعد پروفیسر محمد انور پانیزئی کو قائم مقام وائس چانسلر کے منصب پر فائز کردیا گیا ہے۔ سابق وائس چانسلر نے کہا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اس کو قبول کریں گے۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حکیم اللہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وائس چانسلر کو ہٹا کر تحقیقات کی جائیں۔ اس اسکینڈل کی معلومات اسلام آباد میں ایک خاتون نے ایف آئی اے کو فراہم کی۔اس کے بعد ایف آئی اے نے اپنا کام خاموشی سے جاری رکھا اور معلومات اور مواد آنے کے بعد کارروائی کا آغاز کیا اور بعض افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا۔
اس خبر نے طالبات کے والدین اور عزیز و اقارب کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، خوف کی فضا طاری ہے جس کے بڑے منفی نتائج نکلیں گے۔ بلوچستان ایک قبائلی علاقہ ہے۔ اس واقعے کے بعد والدین اپنی بچیوں کو یونیورسٹی میں داخل کرانے سے احتراز کریں گے اور تعلیمی رجحان میں کمی آئے گی۔ اب حکومتِ بلوچستان کی ذمہ داری ہے کہ واقعے کی جلد از جلد تحقیق کرے اور ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

Share this: