منصورہ لاہور میں مشائخ کانفرنس

بھارت کے زیر تسلط خطۂ کشمیر میں فوجی محاصرے اور کرفیو کے نفاذ کو تین ماہ ہونے کو آئے ہیں جس کے باعث کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ بھارت اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر آئے روز نت نئے اقدامات کیے چلا جارہا ہے، حال ہی میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی ختم کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کردیا ہے۔ اس ظلم اور جبر کے ماحول میں کشمیری مسلمان خصوصاً نوجوان اپنی بساط سے بڑھ کر بھارتی قابض فوج کی مزاحمت کررہے ہیں مگر مسئلے کا اہم ترین فریق ہونے کی حیثیت سے پاکستان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں قطعی ناکام رہا ہے۔ یہاں حکومت اور بڑی سیاسی جماعتوں کو باہمی سیاسی تنازعات اور کشمکش ہی سے فرصت نہیں، صرف جماعت اسلامی ایسی واحد جماعت ہے جو منظم اور مؤثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی تمام قوتیں کھپا رہی ہے۔ شہر شہر میں ’’آزادیٔ کشمیر مارچ‘‘ کرنے کے علاوہ مختلف طبقات کو اس سلسلے میں ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے کانفرنسوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکومتی کارکردگی سے مایوس ہوکر امیر جماعت اسلامی نے نومبر کے پہلے ہفتے میں ’’عالمی کشمیر کانفرنس‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے جس میں دنیا بھر سے سیاسی رہنمائوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مدعو کیا جائے گا۔ اندرون ملک اس ضمن میں جمعرات 17 اکتوبر کو لاہور میں جماعت کے مرکز منصورہ میں ’مشائخ کانفرنس‘ کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی معروف درگاہوں کے سجادہ نشین حضرات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت منعقدہ اس کانفرنس سے جماعت کے قیم امیرالعظیم، آزاد کشمیر جماعت کے امیر ڈاکٹر خالد محمود، پیر سید غلام رسول اویسی، پیر شہزاد احمد چشتی، پیر نوبہار شاہ، پیر سید اختر رسول قادری، پیر بابر سلطان، جماعت کی علماء و مشائخ رابطہ کونسل کے صدر میاں مقصود احمد اور برہان الدین عثمانی نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اپنی صدارتی تقریر میں ملکی صورتِ حال کے مختلف پہلوئوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور علماء و مشائخ پر زور دیا کہ وہ کشمیر کی آزادی، ختمِ نبوت کے تحفظ اور ملک میں نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے لیے قوم کی رہنمائی اور قیادت کا فریضہ ادا کریں۔ ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اگر واقعی قبل از وقت الیکشن کی حامی ہیں تو اپنے ارکان کو اسمبلیوں سے واپس لائیں۔ دونوں جماعتوں نے استعفے دے دیے تو ایوان نہیں چل سکیں گے۔ دھرنے کا اعلان حکومت کے اعصاب پر سوار ہے۔ دھرنا دینا مولانا فضل الرحمن کا بھی حق ہے۔ حکومت دھرنے کو روکنے کے بجائے وعدے کے مطابق انہیں کنٹینر اور کھانا دے۔ علماء و مشائخ مسجدوں اور خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیریؓ ادا کریں۔ پاکستان ایک کشتی ہے جس میں ہم سب سوار ہیں، یہ کشتی ڈوب گئی تو کوئی مسجد اور خانقاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ تحفظِ ختمِ نبوت، نظام مصطفیؐ کا نفاذ اور کشمیر کی آزادی سیاسی ایجنڈا نہیں، قومی و ملّی فریضہ ہے۔ اگر یہ سیاست ہے تو پھر ہم سب یہ سیاست کرتے رہیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایجنڈا اب کشمیر نہیں رہا۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ کسی سیاسی جماعت نے اب تک کشمیر کو اپنا مسئلہ نہیں سمجھا۔ حکومت پاکستان کے تحفظ کی لڑائی اسلام آباد میں لڑنا چاہتی ہے، اگر یہ لڑائی سری نگر میں نہ لڑی گئی تو دشمن مظفر آباد اور اسلام آباد تک پہنچے گا۔ حکمران کشمیر کی آزادی کا ایک روڈمیپ اور واضح لائحہ عمل دیں۔ حکومت اور اپوزیشن وہ کام نہیں کررہیں جو وقت اور حالات کا تقاضا ہے۔ مودی کی صورت میں اژدھا ہماری گھات میں بیٹھا ہے۔ وہ مسجدوں کو مندر بنانے اور بیت اللہ میں بت رکھنے کی باتیں کرتا ہے۔ کشمیر کے معصوم بچے پتھروں سے بھارتی فوج کا مقابلہ کررہے ہیں اور ہمارے حکمران بھارت کے وسیع رقبے اور بڑی فوج اور ہتھیاروں سے مرعوب ہیں۔ مسلمان افراد اور اسلحہ کے بجائے ایمانی قوت سے لڑتے ہیں، اور اللہ نے ہمیشہ ان کی مدد اور نصرت کی ہے۔ حکمران لوگوں کی گردنوں پر سوار اور اولیاء کرام قوم کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ مشائخ نے ہمیشہ انسانوں کو محبت کا درس دیا اور اللہ کی طرف بلایا۔ ملک میں کروڑوں عاشقانِ رسول ؐ اولیاء اللہ کی درگاہوں پر حاضر ہوتے ہیں۔ ان درگاہوں کے گدی نشین حضرات کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو نظامِ مصطفیؐ کے نفاذ اور جہادِ کشمیر کے لیے تیار کریں۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں کہاکہ مغربی استعمار پاکستان کی اسلامی شناخت ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام دشمن قوتیں منبر و محراب سے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا چاہتی ہیں۔ امتِ مسلمہ میں تفرقہ بازی کو ہوا دینا مغرب کا ایجنڈا ہے۔ ان سازشوں کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی وحدت سے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ کشمیر میں بدترین کرفیو جاری ہے اور 80 لاکھ کشمیری دنیا کی بڑی جیل میں قید ہیں۔ کشمیر تقریروں اور بیانات سے نہیں، عملی اقدامات سے آزاد ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود نے کہاکہ ہماری ہزاروں بیٹیاں عصمت دری کے کرب سے گزر رہی ہیں۔ ہزاروں بیٹے عقوبت خانوں میں بدترین اذیت سے دوچار ہیں، لیکن مودی کے مظالم کے سامنے ہم پہلے جھکے ہیں نہ آئندہ جھکیں گے۔ ہم آخری قطرۂ خون تک لڑیں گے۔ ہم پاکستانی حکومت اور فوج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارا مزید امتحان نہ لیں، ہم 72 سال سے قربانیاں دے رہے ہیں اور تکمیلِ پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آج ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ پیر اختر رسول قادری نے کہاکہ اسلام، پاکستان یا ختمِ نبوت کے خلاف جب بھی کوئی سازش سامنے آئی جماعت اسلامی نے آگے بڑھ کر اس کا قلع قمع کیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ہمیشہ ریاست مدینہ، ختمِ نبوت کے تحفظ اور نظامِ مصطفیؐ کے نفاذ کی بات کی۔ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا، اب ضروری ہے کہ پاکستان میں عدالتی، حکومتی نظام قائم ہو۔ خانقاہوں کے گدی نشین جماعت اسلامی کے اس عظیم مشن میں ساتھ ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا تھا اور ہم پاکستان کو بچائیں گے۔ غلام رسول اویسی نے کہاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ ملّت کا اتحاد ہی پاکستان کے قیام کے مقاصد کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ختم نبوت کے خلاف سازشیں متحد ہوکر ناکام بنائی جاسکتی ہیں۔ پیر شہزاد چشتی نے کہا کہ اسلام تمام نسلِ انسانی کے لیے آیا ہے۔ مشائخ کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اس کانفرنس کے مقاصد پورے ہوں گے۔ مشائخ کرام دین کی سربلندی اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں متحد اور جماعت اسلامی کے شانہ بشانہ ہیں۔
مشائخ کانفرنس کے شرکاء نے اتفاقِ رائے سے ایک مشترکہ اعلامیے کی بھی منظوری دی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ اس عظیم الشان مشائخ کانفرنس میں شامل پاکستان بھر کے نامور مشائخ عظام اور ممتاز علمائے کرام عقیدۂ ختم نبوت پر اپنے غیر متزلزل ایمان و یقین کا اظہار کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموسِ رسالتؐ کا تحفظ ہمارے ایمان و عقیدے کا اہم ترین حصہ ہے اور ان عقائد کے حوالے سے آئین کے ہر آرٹیکل اور قانون کی ہر شق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ہر طرح کے غیر ملکی دبائو اور اندرونی سازشوں کا مل کر اور ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس فلسطین، مقبوضہ کشمیر، شام، عراق، روہنگیا سمیت پورے عالمِ اسلام کے انتہائی تشویشناک حالات کے تناظر میں اتحادِ امت کو وقت کا اہم ترین تقاضا قرار دیتی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں سیکولر طبقے کی طرف سے آئینِ پاکستان کی اسلامی دفعات اور اسلامی معاشرت کے خلاف سازشوں اور مغرب کے بے حیا طرزِ زندگی کو فروغ دینے اور اسلامی پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی اِکا دُکا کوششوں کے مقابلے میں تمام فروعی، گروہی، مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق اور باہمی رواداری کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی اور بد ترین ریاستی دہشت گردی کی حالیہ لہر، مقبوضہ کشمیر کے معصوم عوام کے قتلِ عام کے بڑھتے ہوئے واقعات، اور معصوم شہریوں پرو حشیانہ ظلم و تشدد کی شدید مذمت کرتی ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مجرمانہ چشم پوشی اور عالم اسلام کی مجرمانہ خاموشی، ظلم و ستم اور ریاستی دہشت گردی کی عملاً سرپرستی اور دنیا بھرمیں دہشت گردی کو فروغ دینے کی ایک ناپاک جسارت ہے۔ یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کا اعلان کرے۔ وطنِ عزیز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے میٹرک تک مفت تعلیم کا معیاری بندوبست کیا جائے۔ اسلامیانِ پاکستان کو مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کی طرز پر مسلمان اور سچا عاشقِ رسول بنانے کے لیے صوفیائے کرام کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے نصاب میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں۔ یہ کانفرنس وطنِ عزیز میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری، بدامنی، معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ بدفعلی اور قتل کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بڑھتی ہوئی فحاشی اور عریانی، اور ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلائی جانے والی بے حیائی کا عملی نتیجہ قرار دیتی ہے۔ یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ اس بھیانک صورتِ حال سے بچنے کے لیے نصابِ تعلیم سے لے کر ذرائع ابلاغ تک اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی قدروں کا احترام کیا جائے اور پورے عزم کے ساتھ اسلامی طرز ِزندگی کو ہر سطح پر جاری و ساری کیا جائے۔ نیز عدالتی نظام کی خرابیوں کو دور کرکے اسلامی قوانین سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ یہ کانفرنس قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ کی ظالمانہ قید میں 17سال مکمل ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے فوری اور نتیجہ خیز کوششیں کرے۔

Share this: