کرد مسئلہ

ڈاکٹرنگار سجاد ظہیر
پروفیسر(ر)شعبہ اسلامی تاریخ جامعہ کراچی

کردوں کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب پیس پراسس شروع ہوا اور معاہدہ لوزان پر معاملات طے ہوئے اس وقت ”کردستان“کے مسئلے کو مستقبل میں حل کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا ۔
کرد سنی مسلمان ہیں اور پانچ ملکوں میں تقسیم ہیں۔ ایران، عراق، ترکی اور شام آرمینیا۔شام میں ان کا سب سے چھوٹا حصہ اور ترکی میں سب سے بڑا ہے۔عراق کا سب سے مالا مال علاقہ بھی کردوں کے پاس ہے۔کرد عام طور پر بہت اچھے مسلمان اور محب وطن لوگ ہیں۔ترکی میں رہنے والے کرد ترکی کے لیے بہت مخلص ہیں لیکن ان میں کچھ لوگوں کو استعمال کیا گیا، ان میں قومیت کے جراثیم انجیکٹ کیے گئے تاکہ دو مقاصد حاصل کر سکیں۔
1۔ہلال زرخیز یعنی فرٹائل کریسینٹ کے، معدنی وسائل اور تیل سے مالا مال علاقے پر قبضہ کیا جا سکے۔
2۔خطے میں شدید عدم استحکام پیدا کیا جائے
لہٰذا کرد قوم پرستوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔یہ مسئلہ ایسا ہی ہے کہ ایرانی بلوچ اور پاکستانی بلوچ ”آزاد بلوچستان“کے لیے جدوجہد کریں۔یہ نہ ایران کو منظور ہو گا نہ پاکستان کو۔یا پاکستانی پشتون اور افغانستان کے پشتون مل کر علیحدہ”پشتونستان“ یا ”آزاد پختونستان“ کا مطالبہ کریں۔

کرد کون ہیں؟

کرد مشرق وسطیٰ(Middle East) کی ایک قوم ہے، جیسے عرب، ایرانی اور ترک قومیں ہیں۔ یہ قدیم زمانے سے الجزیرہ Mesopotamia اور اس کے گرد ونواح کے علاقوں میں آباد تھے۔آج کی دنیا میں یہ پانچ ممالک میں تقسیم ہیں :مشرقی ترکی،شمالی عراق،شمال مغربی ایران،شمال مشرقی شام اورآرمینیا۔
نسلی طور پر یہ کون ہیں؟ایک رائے ہے کہ یہ ایرانی ہیں۔خود بعض کرد قبائل کا کہنا ہے کہ وہ عرب ہیں جو قدیم زمانوں میں جزیرہ نما عرب کو چھوڑ کر الجزیرہ کی طرف آ گئے تھے۔تیسری رائے، جس کا اظہار ترکی وزیر اعظم عصمت انونو نے پیس کانفرنس کے دوران بارہا کہا کہ کرد، ترک ہیں، پہاڑی ترک۔لہذا یہ مسئلہ تو ماہرین نسلیات ہی حل کر سکتے ہیں۔

ان کا مذہب کیا ہے؟

اسلام سے قبل کچھ کرد قبائل مجوسی، کچھ بت پرست، کچھ آفتاب پرست اور کچھ عیسائی یعقوبیہ(Jacobites ) تھے۔جب اسلام آیا تو یہ انہی مذاہب کے پیرو کار تھے۔خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب الجزیرہ، عراقِ عرب،عراق ِعجم اور شام فتح ہو گئے تو یہ کرد قبائل مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ بعد میں جب فقہی مذاہب کا دور آیا تو کرد مسلکا ًشافعی المسلک ہو گئے۔ آج کل کردوں میں 98فیصد سنی ہیں۔2 فیصد شیعہ۔لیکن کچھ مغرب کے اثر سے اور کچھ روسی اثرات کی وجہ سے اب کردوں میں سیکولر ازم کی جڑیں بہت گہری ہو گئی ہیں۔اس حوالےسے کوئی اعداد و شمار تو نہیں، اور نہ ہی ہو سکتے ہیں مگر خاص طور پر عراق اور ترکی کے کرد خاصے سیکیولر ہیں۔

اسلامی تاریخ میں کردوں کا کردار

کرد قبائلی مزاج رکھتے تھے، جنگجو، بہادر اور آزادی کے خوگر تھے۔انہیں ایک مرکزی حکومت کے تحت رکھنا بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانیوں سب کے لیے ایک مسئلہ تھا۔ان کی سب سے پہلی بغاوت تو اسلام سے تھی، یعنی اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی بڑی تعداد مرتد ہو گئی تھی۔ ان کی دوسری چند بڑی بغاوتیں جو عباسی دور میں ہوئیں، ان میں دو بغاوتیں خارجیوں کی تھیں۔ایک مساور خارجی کی بغاوت اور دوسری دیسم بن ابراہیم خارجی کی بغاوت۔ان دونوں بغاوتوں میں کردوں کی بڑی تعداد نے خلافت عباسیہ کے مقابلے میں خوارج کا ساتھ دیا۔صاحب الزنج کی مشہور بغاوت جس نے ساڑھے چودہ سال تک عباسی خلیفہ کا ناک میں دم کیے رکھا، اس میں بھی کردوں کے کئی قبائل صاحب الزنج کے ساتھ تھے۔کرد خلافت کے مقابلے میں ہمیشہ مقامی قوت کا ساتھ دیتے تھے، اس کی کئی مثالیں ہیں۔مثلاً موصل میں جب حمدان بن حمدون نے عباسی خلیفہ کے خلاف بغاوت کی تو کردوں نے اس کے ہاتھ مضبوط کیے۔دوسری مثال یعقوب صفار کی ہے۔کردوں نے اس کا بھی ساتھ دیا۔لیکن سارے کرد باغی نہیں تھے۔جو حکومت کے ساتھ تھے ان کی بڑی خدمات ہیں۔صلاح الدین ایوبی کو کون بھول سکتا ہے، وہ بھی کرد تھا۔اسی طرح عباسیوں اور عثمانیوں کے کئی جرنیل کرد تھے۔جو با اعتماد ثابت ہوئے۔
بحیثیت ِمجموعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ کردوں کا رویہ حکومت وقت کے ساتھ ملا جلا رہا۔یہاں تک کہ انیسویں صدی شروع ہو گئی۔ خلافت عثمانیہ رفتہ رفتہ کمزور ہوتی گئ۔یورپ تیزی سے طاقتور ہوتا رہا۔اور پھر دنیا پہلی جنگ عظیم کی لپیٹ میں آ گئ۔اس جنگ میں ترکی اور جرمنی ایک طرف تھے۔انہیں محوری طاقتیں(Axis Powers ) کہا جاتا ہے۔دوسری طرف فرانس،برطانیہ اور روس تھے، انہیں اتحادی طاقتیں(Allied Powers)کہا جاتا تھا۔آخر الذکر کا ایجنڈا یہ تھا کہ جنگ میں سلطنت عثمانیہ اور جرمنی کا خاتمہکر دیا جائے اور عثمانی سلطنت کو چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے۔پانچ سال بعد جب جنگ ختم ہوئی تو اتحادی اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے قریب تھے۔

کردستان کا پہلا تصور

جنگ شروع ہوئی تو سلطنت عثمانیہ کو اپنی حدود میں آباد غیر ترک عناصر، اور غیر مسلم عناصر کی وفاداریوں کے حوالےسے پریشانی تھی۔ آرمنی اور آشوری عیسائی، روس کی حمایت کر سکتے تھے۔عرب اور کرد اپنی خودمختاری کا اعلان کر سکتے تھے اور اس حوالےسے اتحادی (فرانس +برطانیہ+روس ) دامے درمے قدمے سخنے مدد کرنے کو تیار تھے۔
عالمی سطح پر یہ وہ وقت تھا جب نیشنلزم، کمیونزم اور سیکولر ازم وغیرہ مقبول مغربی نظریات تھے۔عربوں میں قومیت کے جراثیم پیدا ہوچکے تھے، ان کی خفیہ تنظیمیں بن چکی تھیں، اسی طرح کردوں میں بھی قومی شناخت کا تصور جنم لے چکا تھا، اور کرد شعرا نے بھی قومی آزادی کے گیت لکھنے شروع کر دئیے تھے۔لہٰذا عثمانی حکومت کو بجا طور پر یہ پریشانی تھی کہ جنگ کے دوران عرب،کرد،آرمنی اور آشوری کیا کریں گے؟
پھر جیسا کہ دنیا نے دیکھا عربوں نے دولت عثمانیہ کے خلاف برطانیہ کا ساتھ دیا۔جنگ عظیم اول کے دوران اتحادیوں نے خفیہ معاہدوں میں عربوں کو ایک عرب ریاست دینے کا وعدہ کیا، اسی وعدے کی بنیاد پر عربوں نے 1916ءمیں ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی جس کے نتیجے میں ترک مشرقی محاذوں پر جیتی ہوئی جنگ ہارنے لگے۔اس موقع پر کردوں نے سلطنت عثمانیہ کا ساتھ دیا، انہوں نے عربوں کی طرح خلافت عثمانیہ کی پیٹھ میں بے وفائی کا خنجر نہیں بھونکا۔
جنگ عظیم اول ختم ہوئی تو اتحادی فاتح تھے اور سلطنت عثمانیہ مفتوح، 1299ءمیں قائم ہونے والی سلطنت عثمانیہ جس کے جھنڈے تین براعظموں اور چار سمندروں پر لہراتے تھے، اس کے چپے چپے پر اتحادی افواج دندناتی پھر رہی تھیں۔اتحادیوں نے امن مذاکرات (Peace Process) شروع کیے،اس میں عثمانی خلیفہ کا نمائندہ بھی شریک تھا لیکن سارے فیصلے اتحادیوں کے تھے۔ظاہر ہے فیصلہ فاتح ہی کرتا ہے، مفتوح یا تو اطاعت کرتا ہے یا بغاوت۔جیسا کہ آگے چل کر مصطفےٰ کمال پاشا نے کی۔
پیس پراسس میں10اگست 1920ءکو معاہدہ سیورے (Treaty of Sevres)کا ڈرافٹ تیار کیا گیا، اس معاہدے میں پہلی بار کردستان کے آزاد ملک کی بات کی گئی۔اس معاہدے کے چند اہم نکات جن کا تعلق ترکی کی حدود سے تھا،یہ تھے:
ترکی اپنے تمام عرب علاقوں سے دستبردار ہوتا ہے۔حجاز کی آزاد حکومت قائم کی جائے گی۔ترکی، شام،فلسطین اور الجزیرہ کے علاقوں سے دستبردار ی اختیار کرے گا اور ان علاقوں کی قسمت کا فیصلہ اتحادی کریں گے۔
•مشرقی اور مغربی تھریس پر یونان کا قبضہ ہو گا۔
•جزائر ایجین یونان کو دیے جائیں گے۔سمرنا کا علاقہ 5سال کے لیے یونان کو دیا جائےگا۔
•آرمینیا کی آزاد جمہوریہ قائم کی جائے گی۔(آرمینیا بھی سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا )
•ترکی،کردوں کو اپنے علاقوں پر خود مختار ریاست (کردستان) کے قیام کی منظوری دے گا۔اور ترکی اور کردستان کے مابین سرحدوں کے تعین کے لیے امریکی صدر ولسن کو ثالث کی حیثیت حاصل ہو گی۔
•ترکی کی آبی شاہراہوں پر بین الاقوامی تسلط ہو گا۔
•استنبول پر ترکی کا اقتدار تسلیم کیا جائے گا۔
گویا پوری سلطنت ترکوں کے ہاتھ سے لےکر انہیں استنبول دے دیا گیا۔اور وہاں بھی برطانیہ کا انتداب (Mandate) ہوگا۔اس معاہدے میں پہلی بار کردستان کی آزاد ریاست کی بات کی گئی تھی۔گویا آزاد کردستان کے تصور کے خالق برطانیہ اور فرانس تھے۔یہ کسی کرد قائد کا خواب یا منصوبہ نہیں تھا۔یہ وطنیت کے پرستار مغربی طاقتوں کا ایجنڈا تھا۔ اور آج تک آزاد کردستان انہی کا ایجنڈا ہے، بس فرق یہ ہوا کہ برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی۔
اس معاہدے سیورے کو مصطفےٰ کمال پاشا اور اس کے ماتحت حریت پسندوں نے مسترد کر دیا۔ترکی میں مصطفےٰ کمال پاشا کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا تھا، وہ ترک قوم کے واحد نجات دہندہ کے طور پر سامنے آیا تھا، اس نے اپنی متوازی حکومت انقرہ میں بنا لی، اور اناطولیہ(یعنی موجودہ ترکی) کو قابض فوجوں سے آزاد کرانے کے لیے جنگ آذادی کا آغاز کر دیا۔ مصطفےٰ کمال کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیش نظر، اتحادیوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔اور اس بار ایک فریق مصطفےٰ کمال کی حکومت تھی۔یوں جولائی 1923ءمیں معاہدہ لوزان ہوا۔
معاہدہ لوزان میں ترکی کی سالمیت کو تسلیم کیا گیا۔عرب علاقوں کی آزادی کی توثیق کر دی گئی۔(اس کے نتیجے میں عراق، حجاز،شام، اردن، فلسطین اور لبنان کے ممالک وجود میں آ گئے )۔مشرقی تھریس کا علاقہ ترکوں کو واپس مل گیا۔اناطولیہ اور سمرنا کا علاقہ ترکی کے علاقے قرار پائے۔آرمینیا کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اسی طرح موصل کا علاقہ ترکی کو ملے گا یا عراق کو، اس بارے میں دونوں ملکوں کو کہا گیا کہ ایک سال میں فیصلہ کر لیں ورنہ لیگ آف نیشنز فیصلہ کرے گی جو دونوں ملکوں کو منظور کرنا ہو گا۔(دسمبر 1925ءکولیگ آف نیشنز نے فیصلہ کیا کہ موصل کا علاقہ عراق میں شامل کیا جائے )
معاہدہ لوزان میں کردستان کے بارےمیں کوئی فیصلہ تو نہیں کیا گیا، لیکن معاہدہ سیورے میں جو بیج بویا جا چکا تھا وہ ایک خیال بن کر پرورش پانے لگا۔ترکی کا مشرقی علاقہ کرد علاقہ ہے،یہاں تقریباًایک کروڑ اسی لاکھ کرد آباد ہیں۔ان کی اکثریت محب وطن ہے، لیکن بہرحال علیحدگی پسندوں کا گروہ تشکیل پا گیا تھا۔اصل میں یہ عرب بغاوت کا نتیجہ تھا۔کردوں نے دیکھا کہ عربوں نے کس طرح ایک چھوڑ پانچ ممالک حاصل کر لیے ہیں تو ہم کرد کیوں نہیں اپنے لیے ایک ملک حاصل کر سکتے؟سب سے پہلے عراقی کردوں نے آزاد کردستان حاصل کیا۔

عراقی کرد

جنگ عظیم اول سے قبل عراق سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ترکوں کی شکست کے بعد عراق قابض برطانوی فوج کے زیر تحت رہا۔معاہدہ لوزان میں اسے علیحدہ ملک کی حیثیت ملی تو یہاں مقامی کابینہ تشکیل پائی مگر ملک برطانوی انتداب(Mandate)کے زیر اثر رہا۔یہ برطانوی انتداب 1932ءمیں ختم ہوا تو عراق مکمل آزادی حاصل کر کے لیگ آف نیشنز کا رکن بن سکا۔
عراق میں فرقہ وارانہ، قبائلی،مذہبی اور نسلی تقسیم بہت گہری ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کے کردوں کو قیام کردستان کےلیے زیادہ سازگار حالات میسر آ گئے۔انہیں شیخ محمود البرزانی کی شکل میں ایک قائد بھی مل گیا۔

شیخ البرزانی کون تھا؟

۔1880ءمیں پیدا ہونے والے محمود البرزانی عراق کے ایک کرد گھرانے کا شخص تھا۔آزاد کردستان کے تصور کا حامی تھا۔اس نے اکتوبر 1922ء کو عراقی کردستان کی آزادی کا اعلان کر دیا۔لیکن ابھی یہ سوچ زیادہ گہری اور واضح نہیں تھی، اس کے ساتھیوں میں کئ معاملات پر اتفاق رائے نہیں تھا۔لہٰذا اسے کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔اور وہ ایران چلا گیا۔
جب عراق سے برطانوی انتداب کا خاتمہ ہوا۔تو ایک بار پھر البرزانی نے اپنا کام شروع کیا، اس نے پھر آزاد کردستان کا مطالبہ پیش کر دیا۔ عراق کے حکمران امیر فیصل(یہ شریف مکہ کا بیٹا تھا، ) کو اشوریوں اور کردوں کی بغاوتوں سے نبٹنا پڑا۔کردوں کو شکایت تھی کہ ان کے حقوق بلا وجہ غصب کیے جا رہے ہیں۔اور کردی زبان کو کرد علاقوں کے سرکاری دفاتر سے نکالا جا رہا ہے۔یہ ایسے مسائل نہیں تھے جنہیں بات چیت کے ذریعے حل نہ کر لیا جاتا، لیکن چونکہ البرزانی کو اب روس کی حمایت حاصل ہو گئی تھی لہٰذا اس کا رویہ انتہائی جارحانہ ہو گیا اور اس نے حکومت وقت کے خلاف کھلی بغاوت کر دی۔عراقی حکومت کو یہ بغاوت دبانے میں سخت دشواری کا سامنا تھا، یہاں تک کہ انہیں برطانیہ سے مدد مانگنی پڑی۔کردوں کے خلاف آپریشن میں رائل ائر فورس نے عراقی حکومت کی مدد کی، اور بڑی خونریزی کے بعد یہ بغاوت دبا دی گئی۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ جو آزاد کردستان کا تصور دینے والا ملک تھا اس نے کردوں کی بغاوت دبانے میں عراقی حکومت کا ساتھ کیوں دیا؟ کردوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟
اس کی دو وجوہات تھیں۔پہلی وجہ تو یہ تھی کہ عراق پر امیر فیصل کی حکومت خود برطانیہ نے قائم کروائی تھی۔شریف مکہ کے بیٹے امیر فیصل کو یہاں کا حکمران خود برطانیہ نے بنوایا تھا۔برطانیہ کا مفاد اب اس میں تھا کہ عراقی حکومت اس کی اتحادی بنی رہے۔اس کی دوسری وجہ یہ تھی کہ اب روس کردوں کی اس تحریک کی پشت پر آ گیا تھا۔عراقی کردوں کا پہلا ازاد ریڈیو اسٹیشن روس میں ہی قائم ہوا تھا۔کردوں کا باغیانہ لٹریچر بھی ماسکو سے چھپتا تھا۔ اس لیے برطانیہ نے ضروری سمجھا کہ اس علاقے میں روسی عمل دخل کو روکنے کے لیے کردوں کو لگام دینا ضروری ہے۔
بہر حال البرزانی کی یہ بغاوت دبا دی گئی۔لیکن 1943ءمیں البرزانی کے بھائ ملا مصطفےٰ نے علم بغاوت بلند کیا۔اس کے مطالبات یہ تھے۔
1۔کرد علاقوں میں عربی کے علاوہ کردی زبان کو بطور سرکاری زبان کے تسلیم کیا جائے۔
2۔کرد علاقوں میں مزید مدارس اور یونیورسٹی قائم کی جائے۔
3۔کرد علاقوں میں صرف کرد عہدیدار ہی مقرر کیے جائیں۔
اس وقت کے وزیراعظم نوری السعید نے یہ مطالبات ماننے کا عندیہ دے دیا لیکن حکومت اس بارے میں متذبذب تھی اور اتفاقِ رائے نہیں تھا۔تاخیر ہونے پر کردوں نے بغاوت کر دی۔حکومت پھر بغاوت کچلنے کے لیے میدان میں آئی، پھر برطانوی رائل ائر فورس نے عراقی حکومت کی مدد کی، پھر شدید کشت و خون کے بعد بغاوت دبا دی گئی۔ملا مصطفےٰ برزانی ایران چلا گیا اور وہاں کے کردوں میں اپنے خیالات کی ترویج کرنے لگا۔

کردش ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام

عراقی کردوں نے اب اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کردش ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی۔یہ کمیونسٹ اور سیکیولر لوگوں کی جماعت تھی۔روس کے اثر میں تھی۔”آزادی“ اور”رز گاری“ اس کے جریدے تھے۔ ملا مصطفےٰ البرزانی نے روسی کاکیشیا(قفقاز) کے علاقے میں ریڈیو اسٹیشن قائم کر رکھا تھا، جو کردی زبان کی نشریات میں کردوں کو بغاوت کے لیے آمادہ کرتا رہتا تھا۔
یہ معاملات تھے کہ عراق میں جنرل عبدالکریم قاسم نے، ہاشمی سلطنت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت قائم کر دی۔(جولائی 1958ء) عبدالکریم قاسم کے چونکہ روس سے اچھے تعلقات تھے اس لیے مصطفےٰ البرزانی کو معافی مل گئی اور وہ عراق واپس آ گیا۔جولائی 1961ءمیں کردش ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت وقت کے سامنے پانچ مطالبات رکھے۔
1۔عراق میں کردوں کی آزاد حکومت قائم کی جائے، جس کی سرکاری زبان کردی ہو۔
2۔کرد علاقوں کی پولیس کردی ہو۔
3۔خارجہ اور دفاعی معاملات کو چھوڑ کر جمہوریہ کردیہ کو مکمل داخلی خود مختاری حاصل ہو۔
4۔موصل اورکرکوک وغیرہ کے تیل کے ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا معتدبہ حصہ کرد علاقوں کی تعمیر و ترقی پرخرچ کیا جائے۔
5۔کردی فوج، کرد جمہوریہ کی اجازت کے بغیر کردستان سے باہر نہ بھیجی جائے۔
کردش ڈیموکریٹک پارٹی نے یہ مطالبات حکومت کے سامنے رکھے،جنہیں نا منظور کر دیا گیا۔ملا مصطفےٰ برزانی نے برافروختہ ہو کر پھر علم بغاوت بلند کیا۔عراقی فضائیہ نے کرد علاقوں پر بمباری کر کے تباہی مچا دی، پہلے کردوں کو بھاری مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا۔لیکن انہوں نے دوبارہ عراقی فوج پر حملہ کیا تو اس بار کردوں کا پلہ بھاری رہا اور تین ہزار عراقی فوجی مارے گئے۔
کردوں اور عراقی حکومت کے مابین یہ کشمکش چلتی رہی، یہاں تک کہ عراقی کردوں نے11۔مارچ 1970 کے ایک معاہدے کی رُو سے جو کردوں اور عراقی حکومت کے درمیان ہوا،علاقائی خودمختاری حاصل کر لی۔لہٰذا عراق میں ایک کردستان ہے، جس کا اپنا جھنڈا، اپنی پارلیمنٹ ہے۔ان کی کرنسی عراقی دینار ہے،سرکاری زبانیں کرد اور عربی ہے۔یہ ایک سیکیولر جمہوریہ ہے۔وہ اپنے سیکیولر ازم کو “مذہبی غیر جانبداری ” Religious Neutrality” سے تعبیر کرتے ہیں ۔
عراقی حکومت کے کردوں کے ساتھ تعلقات کبھی بھی اچھے نہیں رہے، ان کے درمیان ایک تناو ہمیشہ رہا۔اصل میں عراقی معاشرہ ایک منقسم معاشرہ ہے، یہاں کئی فالٹ لائنز ہیں:شیعہ۔سنی منافرت،عرب۔کرد مخاصمت، شہری۔دیہی امتیازات وغیرہ۔
صدام حسین کے 33سالہ دور میں یہ تعلقات بد سے بد تر ہو گئے۔صدام حسین 1969ءسے 2003ءتک برسر اقتدار رہا۔اس کا تعلق عراقی بعث پارٹی سے تھا، جو سوشلزم اور عرب نیشنل ازم کی پرچارک جماعت تھی۔صدام کے دور میں کرد موومنٹ کے حوالےسے ایک بڑی تبدیلی آئی۔1972ءمیں صدام حسین نے روس کے ساتھ پندرہ سالہ معاہدہ کر لیا۔ایک تو صدام حسین خود روس نواز تھا، دوسرے اس کی بعث پارٹی بھی سوشلزم کے نظریئے پر قائم تھی اس لیے اس نے روس سے دوستانہ معاہدہ کیا۔ لہٰذا کردوں کو اب ایک دوسرے سرپرست کی ضرورت پڑ گئی، یہ خلا امریکہ نے پر کیا اور کردوں کی مالی اور اسلحے کی امداد شروع کر دی۔
ایک اور عراقی۔کرد جنگ جو 1975ءمیں ہوئی، اس میں کردوں کا شدید نقصان ہوا۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ ایران اور عراق کے مابین ہونے والی 8 سالہ جنگ میں عراقی کردوں نے ایران کا ساتھ دیا۔کرد اور شیعہ ایک متحدہ طاقت کے طور پر سامنے آئے جس سے صدام حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔یہ جنگ 1980ء سے 1988ءتک جاری رہی۔یہی نہیں صدام حسین کا دماغ درست کرنے کے لیے ان کردوں نے گلف وار(1990ء) کے بعد امریکہ سے قریب ترین تعلقات استوار کر لیے۔کردوں کی فوج “پیش مرگا “کہلاتی ہے، اس زمانے میں اس کردی فوج کو براہ راست امریکی امداد حاصل تھی۔پھر یہ تو زیادہ پرانی بات نہیں کہ امریکہ نے صدام حکومت پر القاعدہ کی مدد کرنے اور وسیع تر تباہی کے ہتھیار (weapon of mass destruction) استعمال کرنے کا جھوٹا الزام لگا کر عراق کے خلاف جنگ چھیڑ دی، عراق کو شکست ہوئی۔صدام حسین کو دسمبر 2006ءمیں پھانسی دے دی گئی۔

ترکی۔کرد تنازع

ترکی میں کردوں کی تعداد ایک کروڑ اسی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔یہ ترکی شہری ہیں اور پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں تاہم ان کی زیادہ آبادی مشرقی ترکی میں آباد ہیں۔یہ سنی مسلمان ہیں تاہم ایک قلیل تعداد شیعوں کی بھی ہے۔بہت اچھے مسلمان اور محب وطن لوگ ہیں، لیکن علیحدگی پسندی کا زہر جوPKK اورYPG گزشتہ 30سالوں سے پھیلا رہی ہے ،اس سے اس اکثریت کے متاثر ہونے کا احتمال ہے ۔اسی لیے ترکی میں لفظ “کردستان” کا استعمال ممنوع ہے۔
عام کرد ایک اچھا مسلمان ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ترکی میں مصطفےٰ کمال پاشا کا دور تھا تو مصطفےٰ کمال کیanti-Islam reforms کے خلاف کردوں ہی نے بغاوت کی تھی۔ایسی دو یا تین بغاوتوں کا پتا چلتا ہے،ان بغاوتوں کو سختی سے کچل دیا گیا تھا۔ترکی کے کردوں میں کسی درجے میں احساس محرومی تو تھا، شاید اسی وجہ سے انہوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کردش ورکرز پارٹی (PKK) کی بنیاد رکھی۔

کردش ورکرز پارٹی یعنی PKK کیا ہے؟

یہ کردوں کی سیاسی و عسکری تنظیم ہے، جو ترکی اور عراق میں قائم ہے۔اس کی بنیاد 25نومبر 1978ءکو ترکی کے شہر لائس(Lice)میں رکھی گئی۔اس کا بانی عبد اللہ اوجلان ہے۔اس جماعت کی نظریاتی وابستگی مارکس-لینن کی فلاسفی سے ہے، یہ لوگ یا سیکیولر یا سوشلسٹ ہیں۔پی کے کے کا واحد ایجنڈا ترکی کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد کردستان کا حصول ہے۔1984ءسے یہ تنظیم عسکری طور پر فعال ہے، ترکی حکومت کے خلاف ان کی عسکری جہدوجہد میں اب تک چالیس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں ان میں کرد، ترک فوجی اور شہری سب شامل ہیں۔ اس پارٹی کو امریکہ،نیٹو ممالک،آسٹریلیا، شام، ترکی سب دہشتگرد تنظیم مانتے ہیں۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دہشتگرد تنظیموں کی جو لسٹ جاری کی ہے، اس میں پی کے کے اور اس کی ذیلی تنظیم YPG شامل ہیں۔

 کیا ہے؟۔YPG۔

یہ ڈیموکریٹک یونین پارٹی کا عسکری ونگ ہے۔یہ گروپ 2003ءمیں PKK ہی سے نکلا ہے۔ان کا ایجنڈا بھی وہی ہے جو پی کے کے کا ہے۔البتہ یہ زیادہ انتہا پسند ہیں۔ان کے ٹریننگ کیمپ عراق، ترکی اور شام میں قائم ہیں۔مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی ٹریننگ حاصل کر کے دہشت گرد کارروائیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ آجکل ترکی شام میں جو آپریشن(Operation Peace Spring)کر رہا ہے، وہ اسی YPG کے مراکز پر ہو رہے ہیں۔

طیب اردوان کی حکمت عملی

ترکی کے کردوں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے رجب طیب اردوان نے توجہ دی۔2002ءمیں جب وہ برسر اقتدار آئے تو کردوں کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا، ان کی شہری سہولیات میں اضافہ کیا، پی کے کے کے ساتھ مذاکرات شروع کیے اور حالات کافی سازگار ہو گئے۔لیکن 2012ءمیں جب”بہار عرب“کے نتیجے میں شام کے حالات خراب ہوئے اور وہاں خانہ جنگی شروع ہوئ تو کردوں نے آزاد کردستان کی منزل کو قریب دیکھا۔اس افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔لیکن ایک اور عنصر نے انہیں الجھا لیا۔یہ نیا عنصر القاعدہ اور داعش تھے۔
کردوں کی باقاعدہ جنگ داعش سے شروع ہو گئی اور کئی سال چلی۔اس دوران ترکی بالکل خاموش رہا۔کرد-داعش جنگ میں جو بھی شکست کھاتا، ترکی کا اس میں فائدہ تھا۔اگر کرد ختم ہوتے تب بھی۔اگر داعش ختم ہوتی تب بھی۔
اس خانہ جنگی میں بہرحال کردوں کا پلہ بھاری رہا اور داعش یا القاعدہ کی ذیلی تنظیموں مثلاً جبھتہ النصرہ وغیرہ کو شام کے شمال مشرقی علاقوں سے نکلنا پڑا۔اس جنگ میں کردوں کو امریکہ کی مکمل مدد حاصل تھی۔بلکہ کردوں کو اسلحے کی سپلائی کے لیے امریکہ نے کئی بار ترکی سے راہداری مانگی۔ترکی نے ہر بار امریکہ کی درخواست سختی سے مسترد کردی۔
کردوں نے داعش سے نبٹنے کے بعد ترکی کا رخ کیا اور ترکی کے سرحدی علاقوں میں ان کے جھنڈے لگ گئے اور محدود سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ترکی ہمیشہ دھمکی دیتا رہا کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو ترکی کو راست اقدام کا حق حاصل ہے۔شام میں YPG کیونکہ داعش سے لڑ رہی تھی لہٰذا اسے امریکہ کی مکمل مالی اور عسکری مدد حاصل تھی۔اسی امریکی سپورٹ نے انہیں یہ حوصلہ عطا کیا کہ ترکی سے محدود جنگ چھیڑی جائے۔ایک ہفتے سے جاری حالیہ ترکی حملوں(operation peace spring)کی بنیادی وجہ یہی ہے اور ترکی یقیناً اپنی سرحدوں کی حفاظت کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ماخذ

1۔George Lenczowski,‘Middle East in the world affairs’,London,1969.
2۔Arfa Hasan, “The Kurd “London, 1966.
3۔نگار سجاد ظہیر،جدید ترکی،قرطاس کراچی،2002ء
4۔سہیل شفیق،مکتوب ترکی،قرطاس کراچی،2016ء

Share this: