۔” سرجیکل اسٹرائیک ڈرامہ“ کی تیسری قسط

کنٹرول لائن اس وقت آگ کی لکیر کا منظر پیش کررہی ہے۔ ایسی آتشیں لکیر، جس سے تصادم کی چنگاریاں ہمہ وقت نکل کر آبادیوں کو بھسم کررہی ہیں

آزادکشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس بھارتی حکمرانوں کا ایک خونیں مگر ذہنی عیاشی پر مبنی دل پسند شوق بن کر رہ گیا ہے۔ 1990ء کی پوری دہائی کنٹرول لائن پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپوں اور تصادم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس عرصے میں زیادہ تر جھڑپوں کا آغاز یا تو کنٹرول لائن پر پختہ تنصیبات کی وجہ سے ہوتا تھا، یا باڑھ کی تعمیر دوطرفہ گولہ باری اور فائرنگ کی وجہ بنتی تھی۔ بھارت کو اُس وقت حریت پسندوں کے گرم تعاقب کا شوق تو چراتا تھا، مگر جوابی ردعمل کے خوف سے بھارتی فوجیوں نے اس شوق کو سینوں میں دبائے رکھنے میں ہی عافیت جان لی تھی۔ یہ شوق اور خواہش سینوں میں دبے دبے بے کار ہوگئی ہے تو اب بھارتی منصوبہ سازوں نے اس دو طرفہ تصادم کو سرجیکل اسٹرائیکس کا نیا نام دے دیا ہے۔ حالانکہ ماضی کی فائرنگ اور موجودہ انداز میں قطعی کوئی فرق نہیں ہوتا، سوائے نام کے، جو بھارت نے اب اس عمل کو دینا شروع کیا ہے۔ نکیال سیکٹر میں ڈھائی برس پہلے ایسی ہی ایک کارروائی کو سرجیکل اسٹرائیکس کا نام دیا گیا۔ اس دعوے کے حق میں بھارت ایک ثبوت بھی پیش نہ کر سکا، اور خود بھارتی میڈیا نے بھانڈا یہ کہہ کر پھوڑا کہ اس حملے کے ثبوت کشمیر کے جنگلوں میں فلم بند کیے جارہے ہیں۔ سرجیکل اسٹرائیکس اور ’’ہاٹ پرسیوٹ‘‘ یعنی گرم تعاقب کے دیرینہ شوق کی تکمیل کی ایک کوشش رواں برس بالاکوٹ میں فضائیہ کے بھونڈے انداز میں استعمال کے ذریعے ہوئی، مگر اس قسط سے زندہ ابھی نندن اور بالاکوٹ کا ایک مُردہ کوّا برآمد ہوا۔ اب وادی نیلم میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیکس کا شوق پھر جنون بنا تو ’’دہشت گردوں‘‘ میں ایک گھر کے تین افراد اور دو غیر مقامی مزدور برآمد ہوئے۔ اصل دہشت گرد کہاں گئے، بھارت اس کا ثبوت پیش نہیں کرسکا۔
خونیں اور ناکام شوق کی تکمیل کے لیے تیار کردہ اس سرجیکل اسٹرائیکس ڈرامے کی تیسری قسط پر اُس وقت عمل ہوا جب چند روز قبل رات کے وقت کنٹرول لائن پر مظفرآباد ڈویژن کے مختلف سیکٹرز جورا، شاہ کوٹ، نوسہری، لیپا اور چکوٹھی میں پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان گولہ باری کا بھرپور تبادلہ ہوا۔ گولہ باری اس قدر شدید تھی کہ میلوں دور دارالحکومت مظفرآباد میں بھی آوازیں سنی گئیں۔آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج کی آزاد کشمیر کی آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ سے تین سویلین اور ایک فوجی جوان شہید ہوئے، جبکہ پانچ سویلین اور دو فوجی زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں بھارت کے نو فوجی مارے گئے اور دو بنکر تباہ ہوئے۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے دعویٰ کیا کہ نیلم سیکٹر میں عسکریت پسند کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے تیار تھے، اس سے پہلے ہی بھارتی فوج نے کارروائی کرکے کیمپ کو تباہ کردیا۔ بپن راوت کا کہنا تھا کہ اگر مشکوک سرگرمیاں یونہی جاری رہیں تو بھارتی فوج آزادکشمیر میں داخل بھی ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے فوجی ذرائع نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو قطعی مسترد کیا، اور اس دعوے کے غلط ہونے کا ثبوت مقامی گھروں میں ماتم کدہ بننے والے وہ گھر تھے جہاں بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے والوں کی میتیں سجی ہوئی تھیں اور میڈیا یہاں ان دہشت گردوں کو تلاش کرکے تھک رہا تھا جنہیں بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائیکس میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن اس وقت آگ کی لکیر کا منظر پیش کررہی ہے۔ ایسی آتشیں لکیر، جس سے تصادم کی چنگاریاں ہمہ وقت نکل کر آبادیوں کو بھسم کررہی ہیں۔ ایک محدود سی جنگ تو مدتوں سے جاری تھی ہی، مگر دونوں طرف سے اب ایک بھرپور جنگ کی بو بھی ماحول میں محسوس کی جارہی ہے۔ پانچ اگست سے مقبوضہ وادی محاصرے کی حالت میں ہے۔ بھارت وادی کے اندر 71 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے آپریشن کی تیاری کیے بیٹھا ہے۔ بھارت کے عزائم اور ارادے وادی تک محدود نہیں، بلکہ وہ آزادکشمیر کو بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے، اور اس کا برملا اظہار کررہا ہے۔ چند برس پہلے کشمیر کی خصوصی شناخت کو ختم کرنے کی باتوں کو بھی انتخابی اور سیاسی ضرورتوں کے پس منظر میں دیکھا جاتا تھا۔ کسی کو یقین ہی نہیں تھا کہ بھارت کے حکمران اپنے پیش روئوں کے وعدوں اور طور طریقوں کو نظرانداز کرکے ایک دن برہنہ جارحیت کے ذریعے کشمیر کی خصوصی شناخت کو ختم کردیں گے، مگر یہ سب کچھ ہوکر رہا۔ اب وہ آزاد کشمیر پر حملے اور قبضے کی باتیں بھی کررہے ہیں تو یہ محض باتیں نہیں۔ وہ آزادکشمیر اور بیرونِ ملک بسنے والے آزاد کشمیر کے باشندوں میں ’’فالٹ لائنز‘‘ تلاش کرچکے ہیں۔ اس سمت میں وہ بہت تیزی سے کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔کنٹرول لائن پر پختہ بنکروں کی تعمیر اور بھاری اسلحہ پہنچایا جاچکا ہے۔کبھی کبھار اسی اسلحہ کے آزمائشی استعمال کے لیے کنٹرول لائن کی قریبی آبادیوں پر گولہ باری کی جاتی ہے تو کبھی پاکستان مزید تعمیرات روکنے کے لیے کارروائی کرتا ہے۔کنٹرول لائن پر کارروائیوں سے پاکستانی فوج کی اُلجھن یہ ہے کہ ان کی جوابی فائرنگ کی زد میں وہی مسلمان آبادی ہوتی ہے جو پہلے ہی بھارت کے ہاتھوں مصائب اور آلام کا شکار ہے۔ اس لیے پاکستان کو کنٹرول لائن پر کسی بھی کارروائی میں حد درجہ محتاط رہنا پڑتا ہے۔ اب حالات جو رخ اختیار کررہے ہیں اس میں سب احتیاطیں اور اصول پسِ پشت جاتے ہوئے معلوم ہورہے ہیں، کیونکہ بھارت کے عزائم پوری طرح عیاں ہوچکے ہیں۔ بھارت کشمیر پر کسی قابلِ عمل سمجھوتے پر آمادہ ہونے کے بجائے توسیع پسندانہ ارادوں کو عمل کا جامہ پہنانے کی راہ پر چل پڑا ہے۔ یہ تصادم اور تباہی کا راستہ ہے۔
آزادکشمیر کے 13 انتخابی حلقے کنٹرول لائن کے قریب ہونے کی وجہ سے براہِ راست بھارتی فائرنگ سے متاثرہ ہیں۔ آئے روز بھمبر سے کیل تک فائرنگ،گولہ باری اور کسی نہ کسی کے زخمی اور شہید ہونے کی اطلاعات ملتی ہیں۔ تاحال آزادکشمیر اور وفاق کی حکومتیں کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں حفاظتی بنکروں کی تعمیر کے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کرسکیں۔ اب آزادکشمیر حکومت نے وفاق کو صرف ایک انتخابی حلقے میں بنکروں کی تعمیر کے لیے تین ارب روپے کے منصوبے کی سمری بھیجی ہے۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ گزشتہ کئی برس سے کنٹرول لائن پر آگ اور خون کا کھیل چل رہا ہے مگر حکومت اب حفاظتی بنکروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کررہی ہے، اور اس منصوبے کے لیے سب سے بنیادی مرحلہ یعنی فنڈز کی فراہمی ابھی باقی ہے! بہت عرصہ پہلے صدرِ آزادکشمیر سردار مسعود خان نے یہ نوید سنائی تھی کہ کنٹرول لائن پر بنکروں کی تعمیر کے لیے فنڈز منظور ہوچکے ہیں، جلد ہی بنکروں کی تعمیر شروع ہوجائے گی۔ مگر اب اندازہ ہورہا ہے کہ فنڈز کی فراہمی کی باتیں محض افسانہ تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کنٹرول لائن پر بسنے والے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے طبی سہولیات سمیت ایمبولینس فراہم کی جائیں گی، جدید سڑکوں کی تعمیر ہوگی اور ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کی دادرسی کے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
پاکستان اور بھارت کے معاملات اور کشمیر کی صورتِ حال جس رخ پر جارہی ہے اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ آنے والے حالات اچھے نہیں۔ مودی کے عزائم خطرناک ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی شناخت پر حملے کے بعد اُس کی خوں خوار نگاہیں آزادکشمیر پر لگی ہیں۔ بھارتی فوج آزاد کشمیر کو زخم زخم کرنا چاہتی ہے۔کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں کے عوام اس وقت انتہائی کربناک حالات سے گزر رہے ہیں۔ انسان، مویشی،کھیت کھلیان، مکان اور دکان غرضیکہ کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی گائوں میںکوئی لاشہ نہ اُٹھتا ہو۔ بھارتی فوجی تاک تاک کر انسانوں پر گولیاں برساتے ہیں۔ گولیوں کی زد میں آنے والے اکثر لوگ معصوم اور نہتے ہوتے ہیں، ان میں کوئی درانداز نہیں ہوتا،کوئی اسلحہ بردار نہیں ہوتا، کسی کے ہاتھ میں گرنیڈ اور بندوق نہیں ہوتی۔ یہ آزادکشمیر کا کوئی عام شہری ہوتا ہے جو غم ِ روزگار میں گھر سے نکلا ہوتا ہے اور بھارتی فوج کی نشانہ وار گولی جس کا کام تمام کرتی ہے، اور یوں ایک اور گھر اور خاندان میں المیہ کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال میں کنٹرول لائن پر 2004ء کی جنگ بندی عملاً ختم ہوچکی ہے۔ جن علاقوں میں بظاہر امن ہے وہاں بھی ہر دم خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور کچھ ہوجانے کا دھڑکا عوام کو غیر یقینی کے عذاب میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ اس لیے کنٹرول لائن کے عوام کو مضبوط اور باحوصلہ بنانے کے لیے اُن کی مشکلات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ حفاظتی بنکروں کی تعمیر انسانی جانوں کو بچانے کے لیے کرنے کا فوری کام ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے اس اہم ذمہ داری کو پورا کرنے میں پہلوتہی کی ہے۔ اب حالات مزید تساہل اور غفلت کی اجازت نہیں دیتے۔

Share this: