کائنات

ایک آزاد قوم کے لیے شاہین ایک بہت بڑا استعارہ ہے۔ سورج کو نگاہ میں نہیں لاتا۔ مر جائے تب بھی زمین پر نہیں گرتا۔ اس کی نگاہ آسمانوں پر رہتی ہے۔ اس کا رزق صالح اور پاکیزہ ہے، یعنی زندہ کبوتر شکار کرتا ہے۔ شاہین مانگ کے نہیں کھاتا، قانع ہے، غیرت والا ہے، متوکل ہے، قوی ہے، جھپٹتا ہے، پلٹتا ہے، خون گرم رکھتا ہے، نگاہ تیز رکھتا ہے، درویشی میں بادشاہی کرتا ہے اور بادشاہی میں درویشی کرتا ہے۔ اقبال کا شاہین ہی اقبال کا مردِ مومن ہے۔ اقبال نے جوانوں میں عقابی روح کے بیدار ہونے کی دعا کی ہے۔ عقابی روح کا کام ہے آسمانوں کی طرف پرواز کرنا۔ اور پھر شہبازِ لامکاں، شہبازِ طریقت، شہبازِ خطابت اور پھر ہمارے شاہین یعنی ہماری ایئر فورس۔ ایک پرندے نے کیا نہیں دیا ہمیں۔ یہی خودی کا ترجمان ہے، یہی محرم لامکاں ہے، یہی فاتحِ زمان و مکاں ہے، یہی شاہین رازِ ہستی کا رازداں ہے۔ شاہین بھوک سے مر جاتا ہے، لیکن مُردار نہیں کھاتا۔ شاہین صفات مومن کا مظہر ہے اور خودی کا نگہبان ہے۔ انسان کی خودشناسی کو پرندوں نے بڑی آسانیاں عطا فرمائی ہیں۔ گدھ یا کرگس۔۔۔ اس پر کیا کچھ لکھا جاچکا ہے، اندازہ کرنا مشکل ہے۔ آج کے ادب میں گدھ ایک عظیم استعارہ اور علامت بن کے ظاہر ہوا ہے۔
ایک ڈرامے میں ایک منظر دکھایا گیا کہ ایک امیر آدمی مر رہا ہے اور اس کے رشتے دار اس کے پاس خاموش بیٹھے ہیں۔ کٹ کرکے دوسرا منظر پیش کیا گیا کہ ایک ویرانے میں ایک گھوڑا مر رہا ہے اور اس پر گدھ منڈلا رہے ہیں۔ اب آپ گدھ کے بارے میں اندازہ لگالیں۔ گدھ کی بلند پروازی، مُردار کی تلاش میں ہے۔
جن درختوں پر دن کے وقت چمگادڑ الٹے لٹکتے ہیں، انہی درختوں پر رات کو گِدھوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ یہ تعلق اور تقرب بھی بڑا بامعنی ہے۔
گدھ کی مُردار خوری فضا کو آلودگی اور تعفن سے بھی بچاتی ہے۔ بہرحال انسانوں کی دنیا میں کرگس صفت لوگ موجود رہتے ہیں اور کرگسی عمل بھی جاری رہتا ہے۔
کبوتر اور فاختہ امن کے نشانات ہیں۔ یہ صلح اور امن کے استعارے ہیں۔ طوطا ایک ایسا پرندہ ہے جس پر بڑے بڑے ادیبوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ مولانا روم نے ایک طوطے کی کہانی لکھی ہے کہ ایک سوداگر نے پنجرے میں ایک بولنے والا طوطا رکھا ہوا تھا۔ سوداگر سفر پر جانے لگا تو اس نے طوطے سے پوچھا کہ تیری کوئی خواہش؟ طوطے نے اپنے گرو طوطے کو پیغام بھیجا کہ آزاد فضائوں میں رہنے والو، غریب قیدی کا سلام قبول کرو۔ سوداگر نے پیغام دیا، گرو طوطا سن کر مر گیا اور ساتھ ہی سارے طوطے گر کر مرگئے۔ سوداگر نے یہ افسوس ناک خبر اپنے طوطے کو آکر بتائی۔ وہ بھی مرگیا۔ سوداگر نے اسے پنجرے سے نکال کر پھینک دیا۔ وہ طوطا اڑ گیا اور بولا: ’’اے سوداگر! میرے گرو نے میری فریاد پر مجھے رہائی کا یہی راستہ بتایا تھا کہ مرنے سے پہلے مر جائو۔ آزاد ہوجائو گے۔ پس یہ ہے وہ راز جو گرو، مرید کو دیتا ہے۔ بہرحال طوطا، علم کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
ایک معمولی سا کوّا بھی لٹریچر کا حصہ بن گیا۔ ’’کاگا‘‘ ایک پیغام ہے، کسی آنے والے کا۔ ’’کاگا‘‘ اٹریا پر بولتا ہے۔ ’’کاں‘‘ بنیرے پر بولتا ہے اور پھر پردیسی گھر آجاتے ہیں۔ کوّا منافق نہیں، اندر باہر سے کالا ہے جبکہ بگلا منافق ہے۔ باہر سے سفید اور اندر سے بدباطن۔ مچھلی کے انتظار میں مصروفِ عبادت نظر آتا ہے۔ قمری، تیتر اور چکور، آوازوں کے استعارے ہیں۔ اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے لوگ ان آوازوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔
مور، نفس کا وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رنگ پر ہی مست ہوجائے۔ ظاہر پرست انسان مور ہے، اَنا کا مارا ہوا۔
اسی طرح جانوروں میں شیر کو لیں۔ اللہ کا شیر، یعنی اسد اللہ۔ ایک مقام ہے، ایک صفت ہے، ایک انداز ہے، ضربِ یداللّٰہی کا۔ شیر ربانی ایک لقب ہے، ایک روحانی مقام ہے۔ شیر خواب میں نظر آئے تو روحانی فیض کی دلیل ہے۔ شیر بیباکی اور جرأت کا مظہر ہے۔

’’اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی‘‘

جہاں شیر دلیر ہے، وہاں گیدڑ بزدل، لومڑی مکار، سانپ چھپا دشمن ہے، چمکیلا لیکن زہریلا۔ سانپ کبھی وفادار نہیں ہوتا۔
وفا کے باب میں کتے اور گھوڑے کا ذکر آتا ہے۔ کتا اگر کتے کا بیری نہ ہوتا تو کبھی نجس نہ ہوتا۔ گھوڑے کو لٹریچر میں بڑا حصہ ملا ہے۔ غالب نے دو اشعار میں گھوڑے کو زندگی اور موت سے تعبیر کیا ہے۔ ’’زندگی کا سرکش گھوڑا سرپٹ دوڑ رہا ہے، انسان سوار تو ہے لیکن بے بسی کا یہ عالم ہے کہ ہ4اتھ باگ پر ہے نہ پائوں رکاب میں۔ انسان کا ایک پائوں ہوس کی زمین میں گڑا ہوا ہے اور دوسرا پائوں موت کے گھوڑے کی رکاب میں ہے‘‘۔ زندگی اور موت کو بیان کرنے کے لیے گھوڑے سے کیا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ غرضیکہ ہر جانور، ہر پرندہ، ہر شے انسان کے لیے معنی رکھتی ہے۔ انسان غور کرے تو یہ کائنات علم کے وسیع خزانوں سے مالامال نظر آئے گی۔ انسان کو اپنا پرتو اور اپنے خالق کا جلوہ اسی کائنات میں نظر آئے گا۔
یوسفؑ کے خواب میں آنے والے گیارہ ستارے، چاند اور سورج ان کے اپنے بھائی اور ماں باپ تھے۔ سبحان اللہ! یہ علم اس نے خود عطا کیا ہے، جس نے انسان کو شاہکار تخلیق بنایا۔ انسان کو شرف بخشنے والے نے انسان کو علم عطا کیا۔ کائنات کا علم، کائنات کی اشیا کا علم۔ کائنات کی زندگی اور اس کے حسن کا علم۔
یہ کائنات آئینہ ہے، انسان کی اپنی کائنات کا۔ ہر طرف انسان کی اپنی صفت پھیلی ہوئی ہیں۔ انسان غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہی کائنات انسان کا باطن ہے۔ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، حقیقت ہی حقیقت ہے، معنی در معنی، استعارہ در استعارہ، علامت در علامت۔
انسان کی کائنات حسن، حسن کائنات کا خوبصورت عکس ہے۔ ’’چاند‘‘ محبوب ہے اور چاندنی محبوب کی یاد۔چاند دور ہو تو چاندنی پاس ہوتی ہے۔ چاند پاس ہو تو چاندنی ختم ہوجاتی ہے۔ پھول دل میں بسنے والا دوست ہے اور کانٹا آنکھوں میں کھٹکنے والا رقیب۔
(واصف علی واصف۔ ”دل دریا سمندر“)

مہدیِ برحق!۔

سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار!۔
پیرانِ کلیسا ہوں کہ شیخانِ حرم ہوں
نے جدتِ گفتار ہے، نے جدتِ کردار
ہیں اہلِ سیاست کے وہی کہنہ خم و پیچ
شاعر اسی افلاسِ تخیل میں گرفتار!۔
دنیا کو ہے اس مہدیِ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار!۔

محبوس: قیدی۔ خاور: سرزمینِ مشرقی۔ ثوابت: ثابت کی جمع۔ وہ ستارے جن کے متعلق پرانے نجومیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ گردش نہیںکرتے۔ سیارہ: گردش کرنے والے ستارے۔ جدت: نئی بات، نیاپن۔ مہدی: ہدایت کرنے والا۔
-1 مشرق کی وہ قومیں ہوں جو اپنی پرانی حالت پر جمی بیٹھی ہیں، یا مغرب کی وہ قومیں ہوں جو ترقی کے میدان میں تیز دوڑی جارہی ہوں، دونوں کی حالت یہ ہے کہ اپنے خیالات اور افکار کے جو قید خانے انہوں نے بنا رکھے ہیں ان میں قید ہیں۔ یعنی شرقیوں کی بے حسی اور بے عملی یا مغربیوں کی ترقی پسندی دونوں میں کوئی بات توجہ کے قابل نہیں۔
-2 مسیحیت کے پیشوا ہوں یا کعبے کے شیخ، دونوں میں نہ گفتگو کا نیاپن ہے، نہ عمل کا۔ یعنی ان کی باتیں بھی پرانی ہیں اور عمل بھی پرانا۔ نہ سوچ بچار کا ذوق ہے، نہ چھان بین کا شوق، نہ حقیقت کو خود سمجھتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔
-3 سیاست دانوں کو دیکھو تو وہ بھی اسی ہیر پھیر میں الجھے ہوئے ہیں، جس سے پرانے زمانے میں کام لیا جاتا تھا، شاعروں کے خیالات بالکل سطحی اور پست ہیں۔ سمجھنا چاہیے کہ ان کے پاس خیالات کا کوئی قابلِ ذکر سرمایہ ہے ہی نہیں۔
-4 آج دنیا کو اس سچے اور برحق مہدی کی ضرورت ہے جس کی ایک نظر سے افکار و خیالات کی دنیا لرز اٹھے اور اس میں انقلاب پیدا ہوجائے۔

Share this: