بریسٹ کینسر کا بڑھتا خطرہ

عورتوں کو ہونے والے کینسر میں اب بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے۔ یہ مرض عام طور پر 50 سے 60 برس کی عمر کی عورتوں میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں مبتلا ہورہی ہیں۔ بریسٹ کینسر کی مریض خواتین نہ صرف پس ماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی خواتین بھی اس مرض کا تقریباً اسی شرح سے شکار ہورہی ہیں۔ پمز میں بننے والے بریسٹ کینسر سینٹر کی سربراہ اور اس مرض کی تشخیص اور علاج سے متعلق آگاہی پھیلانے کے لیے کام کرنے والی ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے کہ بریسٹ کے ڈکٹس اور لوبلز کے ٹشوز (بافتیں) میں جب بے ہنگم نشوونما ہونا شروع ہوجائے تو یہ بریسٹ کینسر کا آغاز ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”ابنارمل نشوونما کی وجہ سے اگر خون آئے، آپ کو بریسٹ پر گلٹی یا لمپ محسوس ہو تو یہ ممکنہ طور پر کینسر کی علامت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر گلٹی یعنی ڈِپ ہو یا دونوں یا ایک بریسٹ سخت ہوں تو یہ بھی ممکنہ علامت ہوسکتی ہیں“۔ ڈاکٹر عائشہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تمام علامات بغل میں ہوں تب بھی یہ بریسٹ کینسر ہوسکتا ہے۔ قائم مقام وائس چانسلر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر زرناز اس حوالے سے کہتی ہیں کہ اس سے متعلق لوگوں میں آگہی نہ ہونے کے باعث غلط تصورات ہیں۔ عام طور پر خواتین اس بیماری کے بارے میں بتانے اور اس کا علاج کرانے میں شرماتی ہیں جو جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔

پلیٹ لیٹس کیا ہیں اور انسانی صحت میں ان کا کیا کردار ہوتا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق پلیٹ لیٹس خون کے اندر گردش کرتے پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے ذرّے ہوتے ہیں، ان کے گرد جھلی ہوتی ہے جس کا کام جسم سے خون کے انخلا کو روکنا ہوتا ہے۔ یہ خلیات خون کے ساتھ ہی گردش کرتے رہتے ہیں اور جسم کے کسی بھی حصے میں زخم ہونے یا چوٹ لگنے کی صورت میں وہ وہاں جمع ہوکر جھلی بنا لیتے ہیں اور خون کو جسم سے باہر آنے سے روکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پلیٹ لیٹس کی غیر موجودگی یا انتہائی کمی کی وجہ سے انسانی خون دماغ میں جمع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر خون جسم سے باہر آنا شروع ہوسکتا ہے، اور ان کی کمی برین ہیمرج کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ صحت مند جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ہڈی کے گودے کے اندر ضرورت کے مطابق بنتے رہتے ہیں۔ ان کی زیادتی اور کمی، دونوں صورتیں عموماً کسی بیماری کی علامت ہوتی ہیں۔ پلیٹ لیٹس کی تعداد 25 ہزار یا 10 ہزار تک بھی گر جانا تشویش کی بات ہوسکتی ہے۔ مصنوعی طور پر اس مریض کو پلیٹ لیٹس لگا کر ان کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ اگر کسی مریض کے جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد 10 ہزار سے گر جائے تو جسم سے خون کے انخلا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پلیٹ لیٹس کی کمی بعض انفیکشنز پھیلنے، گردوں کی بیماری، جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی اور دوائیوں کے ری ایکشن کا سبب بھی بن سکتی ہے اور انسان میں خاصی کمزوری بھی ہونے لگتی ہے۔ انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد معلوم کرنے کے لیے ’کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ‘ (سی بی سی) نامی خون کا ٹیسٹ کروانا پڑتا ہے جو پاکستان میں عام لیباٹریوں سے 400 سے ایک ہزار روپے تک ہوتا ہے۔ سی بی سی ٹیسٹ کے ذریعے نہ صرف انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد معلوم ہوجاتی ہے بلکہ اس ٹیسٹ سے انسانی خون میں موجود سرخ اور سفید ذرات سمیت دیگر طرح کے ذرات کا بھی علم ہوجاتا ہے، کہ پلیٹ لیٹس کی تعداد متعدد امراض کی وجہ سے کم ہوسکتی ہے اور ایسے امراض میں ’ڈینگی‘ بخار بھی شامل ہے۔

بلیو ٹوتھ اسٹیکر سے اپنی قیمتی اشیا پر نظر رکھیں

بلیو ٹوتھ اسٹیکر کے ذریعے آپ فون کے ذریعے اپنی قیمتی اشیا پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ اسے ’’ٹائل‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو چابیوں سے لے کر بڑے بیگ تک کے سگنل بھیجتا رہتا ہے۔
اس میں ایک چھوٹی سی چپ پر انٹینا چھاپ کر اسے کسی بھی کاغذ یا پلاسٹک کے ٹکڑے پر پیوست کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ڈیزائننگ میں خیال رکھا گیا ہے کہ بلیو ٹوتھ کے دیگر بہت سے اجزا کو کم کیا جائے یا اسے مائیکرو الیکٹرانکس میں سمودیا جائے۔ اس آلے کو نینو واٹ کمپیوٹنگ کا ایک حصہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بلیو ٹوتھ اسٹیکر کسی بھی اسمارٹ فون، آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگس) یا دیگر پلیٹ فارم سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ میں اس نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور اس کی تحقیق کا زیادہ تر کام اسرائیل میں کیا گیا ہے۔ اس کے لیے فنڈنگ ایمیزون اور سام سنگ نے کی ہے۔ ماہرین کے مطابق فضا میں ہر وقت ہزاروں ریڈیائی سگنل گزرتے رہتے ہیں اور یہ اسٹیکر ان سے توانائی جذب کرتا ہے۔ اسے ری سائیکل ریڈی ایشن آلات بھی کہا جاسکتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ جتنا بلیو ٹوتھ اسٹیکر کسی بیٹری کے بغیر مسلسل کام کرسکتا ہے اور اس کی بدولت ہر جگہ ہرموقع پر موجود انٹرنیٹ آلات (آئی او ٹی) کو ممکن بنا کر تمام اشیا کو باہم جوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود اس کی حدِ رابطہ یا رینج بہت کم ہے جو صرف 60 میٹر تک محدود ہے۔ ایک جدید ٹائل کی قیمت 25 ڈالر ہے۔ اس میں نصب بیٹری تین سال تک کےلیے کارآمد ہے اور ٹائل مکمل طور پر واٹرپروف ہے، اور مکمل گیلا ہونے پر بھی اس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ نئے اور جدت بھرے ٹائل پرو اسٹیکر کی رینج اب بڑھا کر 122 میٹر تک کردی گئی ہے جس کی قیمت 30 ڈالر ہے۔ اگلے مرحلے میں کمپنی نے ایک چھوٹا ٹریکر بنایا ہے جو ہر طرح کی ٹائلوں سے رابطہ رکھتا ہے اور اس کی جسامت ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر ہے۔

Share this: