اسلامی نظام تعلیم اور قائداعظمؒ

تحریکِ پاکستان کے دنوں میں مسلم ماہرینِ تعلیم پر مشتمل کمیٹی کی تاریخی روداد
جلیس سلاسل

(تیسری قسط)
تعلیم نسواں
تعلیم نسواں کمیٹی کے لیے تفویض کی گئی شرائط حسب ذیل ہیں:
اولاً ہندوستان کے مختلف حصوں میں رائج تعلیم نسواں کا جائزہ لینا ہے۔ ثانیاً اسلام کی روح اور تعلیمات، اور مسلم معاشرے میں عورتوں کے حقیقی مقام اور فرائض، اور ہندوستان کے مسلمانوں کی آرزوؤں کی ہم آہنگی میں مسلم لڑکیوںکی تعلیم کے مختلف مراحل کا جائزہ لینا اور ان کی بہتری کے لیے تجاویز پیش کرنا ہے۔ اور ثالثاً دیہی اور شہری علاقوں اور ملک کے مختلف حصوں میں اپنی تجاویز پر عمل درآمد کے لیے طور طریقوں کا تعین کرنا ہے۔
کمیٹی آف ایکشن کی خواہش کے مطابق تعلیم نسواں کی ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے عہدیدار یہ ہیں:
بیگم محمد علی(صدر)
مس زہرہ سید (پروفیسر، ویمن کالج، حیدرآباد)
ڈاکٹر مس خدیجہ فیروز الدین (کنوینر) (پرنسپل ، ویمن کالج ، امر تسر )
بیگم اعزاز رسول، لکھنؤ
مسز ایم جی حیدر (پرنسپل۔ویمن کالج علی گڑھ)
مس قمر جہاں (مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ )
اساتذہ کی تربیت
اساتذہ کی بھرتی اور تربیت کے لیے تفویض کار کی شرائط حسب ِذیل ہیں:
اولاً اساتذہ کی عمومی اور معاشرتی موضوعات میں مؤثر تربیت کے لیے ایک مختصر دورانیے، اور ایک طویل دورانیے کا نصاب اس مقصد کے تحت بنایا جائے کہ استادکو مسلم شخصیت کا نمونہ بنایا جاسکے اور آنے والی نسلوں کی اسلامی اصولوں سے منسلک ہونے میں مددکی جاسکے۔ ثانیاً مسلم اساتذہ کی شرائطِ ملازمت کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی جائیں تاکہ بہتر استعداد کے لوگ اس جانب مائل ہوسکیں اور ان کے رتبہ میں استحکام آئے۔ اساتذہ کی کمیٹی ان افراد پر مشتمل ہے:
نواب میر احمد علی خان (پروفیسر، ٹر یننگ کالج حیدرآباد)
خان بہادر آل علی نقوی، مسٹر وحیدالحق صدیقی (پرنسپل، ٹریننگ کالج)
ڈاکٹرمحمد عزیز احمد (شعبہ ٔ تاریخ، علی گڑھ)
مسٹر چودھری عبدالغفور، (ٹریننگ کالج، علی گڑھ)
ڈاکٹر محمد افضال حسین قادری (کنوینر) (علی گڑھ)
اعلیٰ تعلیم کی کمیٹی کے لیے تفویض کار کی شرائط حسب ِ ذیل ہیں:
(الف) مسلم نقطہ ٔ نظر سے ہندوستا ن میں رائج اعلیٰ تعلیم کے نظام کا جائزہ لینا ہے، اور (ب) اندازہ لگانا ہے کہ آیا اس (نظام) سے ایک صحت مند اور ہم آہنگ شخصیت نشوونما پا سکتی ہے یا نہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا ایسا نظام وضع کرنا ہے جو ہمارے نوجوانوں کو بہترین (الف) عقلی (ب) جذباتی اور (ج) جسمانی تربیت دے سکے جو مضبوط کردار اور اخلاقی اطوار کے نوجوان پیدا کرسکے، جن کا زندگی کے متعلق اسلامی نقطہ نظر ہو۔ تعلیمی نظام کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے معاشرتی اور ثقافتی ورثے کی مدد سے نوجوانوں کی بہترین صلاحیتوں کو ابھارے اور ان کی نشوونما کرے، اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں شہریات اور قیادت کے اعلیٰ اصولوں میں ان کی تربیت کرے۔
نصابات، تدریس کے اسالیب، ذرائع ابلاغ، مختلف نصابات کے دورانیے، اجتماعی زندگی کی ترتیب وغیرہ کے متعلق تجاویز پیش کرے۔
تحصیلِ علم کے مختلف شعبوں میں جدید علوم اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کے طریقہ کار تجویز کرے۔ اعلیٰ تعلیم کی کمیٹی ان افراد پر مشتمل ہے:
پروفیسر ڈاکٹرایس ظفر الحسن (پروفیسر، فلاسفی، علی گڑھ)
ڈاکٹر داؤد پوتا، ڈائریکٹر (پبلک انسٹرکشن ،سندھ )
پروفیسر ہارون خان شیروانی (عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد)
مسٹر شیخ عبدالرشید (شعبہ تاریخ ،علی گڑھ)
ڈاکٹر سید معین الحق (شعبہ تاریخ ،علی گڑھ)
ڈاکٹر رضی الدین صدیقی (عثمانیہ یونیورسٹی ، حیدرآباد)
ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (پروفیسر، دہلی یونیورسٹی )
اے بی اے حلیم (کنوینر) (پروفیسر، علی گڑھ یونیورسٹی)
ڈاکٹر اے ایس صدیقی ( الٰہ آباد یونیورسٹی )
سائنس کی تعلیم
سائنسی تعلیم اور فنی تربیت کے لیے تفویضِ کار کی شرائط حسب ِذیل ہیں:
موجودہ (الف) سائنسی (ب) فنی تعلیم میں ہندوستان کے مسلمانوں کا جائزہ لینا مع ان سہولتوں کے جو سرکاری امداد سے چلنے والے سائنسی اور فنی ادارے فراہم کرتے ہیں، سائنسی اور فنی مہارت میں ان کی پسماندگی کے اسباب کی تحقیق کرنا اور ان کو دور کرنے کے طریقے معلوم کرنا۔
طبیعاتی اور حیاتیاتی سائنس اور فنی مہارت کو تعلیم کے تمام مرحلوں کا اہم جزو بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا، تاکہ ورثا اور تصورِحیات کے مطابق ان کے معاشی حالات بہتر بنانے کی خاطر ایک ہمہ گیر عقلی بیداری پیدا ہوسکے۔
سائنس اور فنی مہارت کی تحقیق کا ایک کُل ہند ادارہ قائم کرنے کے لیے طور طریقہ تجویز کرنا جو (الف) کسی مرکزی مقام پر ہو اور جس کے ساتھ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں اداروں ،کالجوں اور صنعتی مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہو، اور اس کے ساتھ ہی معقول تعداد میں ایسے مسلمانوں کو حاصل کرنا ہے جو سائنس اور فنی مہارت کے تمام شعبوں میں تجربہ رکھتے ہوں۔
سائنس اور فنی تعلیم کی کمیٹی ان افراد پر مشتمل ہے:
ڈاکٹر محمد عمر حیات ملک (پرنسپل، اسلامیہ کالج ، لاہور)
ڈاکٹر محمد بابر مرزا( پروفیسر، علی گڑھ یونیورسٹی)
ڈاکٹر ولی محمد (پروفیسر، لکھنؤ یونیورسٹی)
ڈاکٹر ایم اسحاق( پروفیسر، علی گڑھ یونیورسٹی)
ڈاکٹر رضی الدین صدیقی(کنوینر)(پروفیسر ،عثمانیہ یونیورسٹی)
اسلامی کمیٹی
تفویض ِکار کی شرائط علیحدہ دی گئی ہیں ۔اسلامیہ کمیٹی کے اراکین حسب ِذیل ہیں:ڈاکٹر ایم ایم احمد (شعبہ فلسفہ، علی گڑھ )، ڈاکٹر ایس ایم یوسف(عربی زبان ، علی گڑھ )، حافظ فضل الرحمن(شعبہ فلسفہ، علی گڑھ)، ڈاکٹر برہان احمد (پروفیسر اسلامیہ کالج ،جالندھر)، مولانا عبدالعلیم صدیقی (میرٹھ )،مولانا سید ابن حسن (لکھنؤ)، ڈاکٹر ایس ظفرالحسن(کنوینر)(پروفیسر، علی گڑھ )
غور طلب۔ حیدرآباددکن اور پنجاب کی ایجوکیشن کمیٹیوں کو ہماری مشاورتی کمیٹیوں میں کام کرنے کے لیے ان کی حکومتوں نے اجازت نہیں دی ۔
کمیٹی کے کنوینر نے اس موضوع پر عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے مسلم تعلیم کے مقاصد اور طریقوں کے متعلق ایک مختصر خاکے کا بیان جاری کیا ہے ۔ بعد ازاں ایک تفصیلی سوالنامہ تیار کیا گیا تھا جسے ہندوستان کے تمام علاقوں میں ماہرینِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کو کثیر تعداد میںار سال کر دیا گیا۔ اسی دوران مرکزی اور صوبائی محکمہ جاتِ تعلیم سے رابطہ قائم کیا گیا تاکہ وہ مسلمانوں کی تعلیم کے حقائق اور اعداد و شمار ہمیں بھیجیں۔تعلیم سے متعلق صوبائی اور مرکزی رپورٹوں کے مجموعہ کے ساتھ ہندوستان میں رائج مختلف نظام ہائے تعلیم کی بابت مواد اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ہندوستان کے مختلف علاقوں سے ماہرینِ تعلیم نے تعلیم کے مختلف پہلوئوں پر کمیٹی کو کثیر تعداد میں یادداشتیںبھیجی ہیں ۔جب مشاورتی کمیٹیاں اپنا کام مکمل کر لیںگی تو ایجوکیشن کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ شائع کرے گی ۔لہٰذا اس بیان میں مختلف کمیٹیوں کے کام کی رپورٹ شامل ہے ۔
ابتدا ئی اور ثانوی تعلیم کی مشاورتی کمیٹی کے کئی اجلاس منعقد ہوئے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مسلم ابتدائی اسکولوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متعدد تجاویز پیش کیں تاکہ مسلم اسکولوں کی افادیت میں بہتری اور اضافہ کیا جائے۔
سلسلے وار نقشے تیار کیے گئے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ ابتدائی اور ثانوی مرحلوں میں لوگوں کا تناسب کیا ہے اور لازمی تعلیم نہ ہونے کی صورت میں ابتدائی مرحلے میںزیاںکتنا ہو رہا ہے ۔برطانوی ہند کے مختلف صوبوں میں ابتدائی اور ثانوی مرحلوں میں مسلم تعلیم کے جدید اعداد و شمار جمع کرلیے گئے ہیں اور انہیں جدولوں کی شکل میں ترتیب دے دیا گیا ہے ۔ اس کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عزیز احمد نے تعلیم کے نئے نظام کا ایک اساسی مسودہ تیارکر لیاہے ۔مشاورتی کمیٹی نے اس مسودے پر دیگر تجاویز کے ساتھ غور کیا اورابتدائی ثانوی تعلیم کے مرحلوں کی نئی اسکیم کا خاکہ تیار کیا ہے ۔کمیٹی کواب صرف ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنی ہے جس میں مروجہ نظام ہائے تعلیم، مسلمانوں کی تعلیم کے لیے نئی تجاویز اور ہندوستان کے مختلف حصوں میں نئی اسکیم پر عمل درآمد کے لیے قابلِ عمل تجاویزکاجائزہ شامل ہے۔
اسلامی کمیٹی کے اجلاس بھی متعدد بار منعقد ہوئے۔ کمیٹی نے ایک سوال نامہ تیار کیا تھا جسے معروف مسلمان ماہرین نے تعلیمی مفکروں کے پاس بھیج دیا ہے۔ مسلم طلبہ کی تعلیم اور تربیت کو اسلامی رنگ دینے کے لیے کمیٹی نے اسکیم کے اساسی اصولوں پر اتفاق کرلیا ہے۔ مشرقی اور مغربی نظام ہائے تعلیم کے ماہرین کی جانب سے اسلامیات کی تعلیم کے نصابات اور منصوبے وصول ہوگئے ہیں۔
کمیٹی اس وقت اسلامیات کی تعلیم کے نصاب کے نمونے تیار کررہی ہے۔ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے مسلم تعلیم کے اصولوں پر ایک مسودہ تیار کرلیا ہے جس پر کمیٹی کے کنوینر پروفیسر ایس زیڈ حسن اور کمیٹی کے باقی اراکین غور کررہے ہیں۔ سائنسی اور فنی تعلیم کی کمیٹی نے ہندوستان کے مختلف صوبوں سے سائنسی اور فنی تعلیم کے اعداد وشمار جمع کرلیے ہیں۔ ڈاکٹر رضی الدین صدیقی نے کمیٹی کے دوسرے اراکین سے مشورہ کرنے کے بعد سیاسی، فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے تمام مرحلوں کی ایک اسکیم تیار کی ہے۔ مسلم پولی ٹیکنک اسکولوں کے منصوبے تیار کرلیے گئے ہیں۔ سائنس اور فنی مہارت میں اعلیٰ تربیت اور تحقیق کی اسکیم تیار کی جارہی ہے۔ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سائنس کے صدر پروفیسر ڈاکٹرایم بی مرزا نے بھی سائنسی تعلیم کی ایک اسکیم پیش کی ہے۔
بدقسمتی سے کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کو حکومتِ حیدرآباد نے کمیٹی میںکام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم انہوں نے بہت عمدہ ابتدائی کام کیا ہے اور اب کمیٹی کو اپنی رپورٹ باقاعدہ طور پر پیش کرنے کے لیے ایک اور کنوینر مقرر کرنا پڑے گا۔
اساتذہ کی تربیت کی کمیٹی کا اجلاس بھی کئی مرتبہ منعقد ہوا۔ کنوینر ڈاکٹر ایم۔ اے۔ ایچ قادری نے اساتذہ کی تربیت اور بھرتی کی ایک اسکیم تیار کرلی ہے۔ ہندوستان کے متعدد تربیتی کالجوں کے پروفیسروں اور پرنسپلوں، اور خصوصاً مسلم یونیورسٹی ٹریننگ کالج کے صدر اور عملہ نے اس پر تبادلہ خیال کیا۔ معروف اور تجربہ کار مسلم ماہرینِ تعلیم کی طرف سے مسلم اساتذہ کی تربیت پر اہم یادداشتیں اور ایک تفصیلی اسکیم موصول ہوئی ہے۔ ایک یا دوماہ میں اساتذہ کی تربیت کی کمیٹی کی رپورٹ تیار ہوجائے گی ۔
اعلیٰ تعلیم کی کمیٹی کی میٹنگیں کئی بار ہوئی ہیں۔ کمیٹی کے کنوینر پروفیسر اے بی اے حلیم نے اعلیٰ تعلیم کے تمام اہم پہلوئوں پر ایک اساسی مسودہ تیار کرکے کمیٹی کو پیش کردیا ہے۔ اس کو وسیع تر کیا جارہا ہے تاکہ یونیورسٹی تعلیم کے ایک جامع جائزے کو اور خصوصی اداروں اور کالجوں میں جدید موضوعات اور تحقیق میں جو مسائل پیش آتے ہیں انہیں بھی اس رپورٹ میں شامل کرلیا جائے۔ عمومی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے بلند تر مرحلے کے حقائق اور اعداد وشمار جمع کرلیے گئے ہیں۔ اس کمیٹی کی رپورٹ تیار ہونے میں کئی مہینے لگ جائیں گے، کیونکہ تعلیم کے مختلف پہلوئوں پر باقی مشاورتی کمیٹیوں کی رپورٹوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔
(جاری ہے)

Share this: