تاریخ گُم گَشتہ،ہندسوں میں خدا کی معرفت

مائیکل ہیملٹن مورگن۔ترجمہ و تلخیص:ناصر فاروق
’’…اور اُس نے ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے۔‘‘(سورہ جن، آیت 28)۔
بغداد، 832 عیسوی، تاریخِ گم شدہ کا ایک سلسلہ وہ ہے جو ہندسوں سے عبارت ہے۔ یہ وہ ہندسے تھے جنھیں انتہائی اعلیٰ تصور شماریات سے ربط وضبط میں لایا گیا تھا، انتہائی درستی سے منظم کیا گیا تھا۔ ہندسوں کے اس حساب نے ریاضی کے اُس مستقبل کی بنیاد رکھی، جس پر دنیائے جدید کی صورت گری ہوئی۔
ہندسوں اور شماریاتی ضابطوں کی تخلیقی قوت کا محور بننے والی پہلی انقلابی شخصیت کا تعلق فارس سے تھا۔ محمد الخوارزمی کی پیدائش سن 780 میں خراسان کے قصبہ خیوہ میں ہوئی تھی، عربی خراسان کو خوارزم پکارتے تھے۔ اُس کی جائے پیدائش ایک لق ودق میدان، جہاں سے وہ شاہراہ ریشم گزرتی تھی جس کا ایک سرا چین اور دوسرا روم سے جا ملتا تھا۔ ان سروں کا براہِ راست رابطہ نہیں تھا، تاہم دونوں دنیاؤں میں اشیاء کا لین دین باقاعدہ جاری تھا۔ یہ سب خراسان کے رستے ہورہا تھا۔ بیابان قرہ قوم میں گھرے اس علاقے کی حیثیت نخلستان کی سی تھی۔ تمام بڑے مذاہب اور عقائدی سلسلے یہاں سے ہوکرگزرتے تھے، یہاں تک کہ اسلام نے یہاں جڑیں پکڑیں۔ کارواں یہاں سستاتے تھے، قصے کہانیاں سناتے تھے، ستاروں بھری راتوں سے راحت حاصل کرتے تھے، خیالات اورنظریات کا تبادلہ کرتے تھے۔
باریش لمبے سیاہ بالوں والا یہ آدمی جادوئی تھا، فارسی روح تھی اُس کی، عبرانی پر اس قدر عبور کہ بہت سوں نے قیاس کیا کہ کسی یہودی سلسلے سے تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ الخوارزمی کا علم لوگوں کے فہم سے ماورا نکلا تھا۔ وہ ہندسوں میں کائنات کے راز ڈھونڈ رہا تھا۔ اُس نے ریاضی کی پیچیدہ گتھیاں سلجھائیں، ہندسوں میں خواب دیکھے، زندگی کی ہر حرکت ہندسوں میں تقسیم کردی، کہاں تک پہنچنے کے لیے کتنے قدم اٹھانے ہیں، زمین کے رخ پر سورج کا زاویہ کیا ہے، اور جو مثلث قائم الزاویہ وہ تخلیق کررہا تھا، اور بل کھاتی شاہراہ ریشم جونصف کرہ ارض میں پھیل جاتی تھی، اُس کی پیمائش اور نشیب و فراز کیا ہیں؟ وہ ہر شے ہندسوں میں جان لینا چاہتا تھا۔
ہندسے، equations (مساوی، ہم مقداری)، اور computations (شماریات) کے نئے سلسلے سامنے آرہے تھے۔ وہ کائنات کے پوشیدہ قواعد کو محسوس کررہا تھا، خدائی تخلیق میں ہندسوں کی پیچیدہ کارکردگی سمجھ رہا تھا۔ بطور ایک مسلمان، ایک ایسے وقت میں کہ جب یہ یقین کیا جارہا تھا کہ خدا کو عقل اورعلم کے ذریعے جانا جاسکتا ہے، اس نے ریاضی کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا تھا، مستقبل کی وہ ایک پہلی جھلک دکھادی تھی کہ جب کمپیوٹر کا دور انسانی دماغ اور دیگر صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔
بغداد میں دارالحکمۃکی جب بنیاد رکھی گئی، خلیفہ مامون نے خود محمد الخوارزمی کوتعاون کے لیے بلوایا۔ وہ ہندسوں میں خدا کی معرفت چاہتا تھا۔ الخوارزمی جب وہاں پہنچا، اُس کا واسطہ حنین ابن اسحاق جیسے عظیم شارح سے ہوا جو بطلیموس، فیثا غورث، اور جیومیٹری پر اقلیدس کی کتاب elements کے معنی کھوج رہا تھا، سقراط اور ارسطو کے فلسفوں پرکام کررہا تھا۔ دیگر بہت سے لوگ ارشمیدس کی The Sphere اور Cylinderکے ترجمے کررہے تھے، الخوارزمی نے اس سارے کام میں اُن کی مدد کی، کیونکہ وہ یونانی زبان سے واقف تھا، اوراُسے عربی میں خوبی سے ڈھال سکتا تھا۔
اس وسط ایشیائی باشندے نے دیکھا کہ جبہ و دستار پہنے ماہرینِ ریاضی اور ماہرینِ فلکیات ایک ساتھ کام کررہے تھے… سامنے نقشے پھیلائے، ستاروں کے چارٹ پر نظریں جمائے، رصدگاہوں میں پیمائش کے آلے تھامے مشاہدے کرتے ہوئے، یہ سب اُس کے لیے بہت پُرکشش تھا۔ دیگر اہم کاموں کے ترجمے اور اُن پر مباحثہ وغیرہ یہاں عام تھا۔ ایک ایسا شخص کہ جس نے اب تک اس طرح کا کام تنہائی میں انجام دیا تھا، اپنی طرح کے دیگر ماہرین میں کام کا تجربہ کررہا تھا، یہ جہاں بہت فرحت بخش تھا وہیں ڈرا دینے والا بھی تھا۔ تاہم وہ جانتا تھا کہ ایسا موقع کہیں اور دستیاب نہیں، اور وہ جس قدر فیض اٹھا سکتا ہے، ضرور اٹھانا چاہیے۔
قدیم یونانی علم کی تفصیلات و تشریحات ہرگزرتے ماہ سامنے آرہی تھیں، تاہم الخوارزمی کی توجہ ریاضی علوم پر مرکوز تھی، خواہ کہیں سے حاصل ہوں۔ اُس نے سُن رکھا تھا کہ ہندو تہذیب کی ابتدائی تعلیمات میں علم ریاضی کی بڑی اہمیت تھی۔ خلیفہ المنصور کے دربار میں ’کانکا‘ نامی ایک ہندو ماہرِ فلکیات ہوا کرتا تھا،کہا جاتا تھاکہ اُس کے پاس ایک قدیم نایاب کتاب تھی، جو علم ریاضی کے ماہر برہما گپتا نے قدیم سنسکرت میں لکھی تھی۔ کانکا اس کتاب کو شماریات کے لیے استعمال کیا کرتا تھا، اس کی مدد سے سورج اور سیاروں کے مقامات کا تعین کرتا تھا، سورج اور چاند پر گرہن کا پیشگی پتا دیتا تھا، اور اسی نوعیت کے دیگر بہت سے حساب لگایا کرتا تھا۔ الخوارزمی نے اس کتاب اور اس میں موجود شماریات کے طریقوں کے بارے میں سنا تھا۔ اُس نے کتب خانے کھنگال ڈالے تھے، کہ کہیں سے اصلی متن ہاتھ آجائے۔ خوارزمی نے کتب خانوں کے ملازمین کو بھی سنسکرت کے اس متن کی تلاش پر لگادیا تھا، جسے برہما گپتا نے لکھا تھا اور کانکا نے استعمال کیا تھا۔ آخرکار کتب خانوں کے ملازمین وہ متن ڈھونڈ نکال لائے، بلکہ ہندوؤں کی لکھی اور بھی بہت سی کتابیں اُن کے ہاتھ لگی تھیں۔ ان کتابوں اور دستاویزات میں بہت کچھ ایسا تھا کہ جس کے حصول کے لیے وہ اور خلیفہ عرصے سے تگ و دو کررہے تھے۔ یہ ہندو تہذیب اور علوم کا خزانہ تھا جواُن کے ہاتھ آیا تھا(1)۔اس خزانے میں دوسو سال پرانی نایاب کتاب برہما شپتا سدھانتا یعنی ’کائنات کی ابتدا‘ شامل تھی۔ گوکہ الخوارزمی سنسکرت کی معمولی شُد بُد رکھتا تھا، مگر اُسے یقین تھا کہ یہی وہ علم ہے جس کی وہ جستجو کررہا تھا۔ اُس نے فوراً مترجم کی مدد حاصل کی۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ کروایا۔ اس کا عربی نام ’سند ہند‘ رکھا گیا۔ نہ صرف اصل ہندو متن تاریخ میں کہیں گُم ہوگیا بلکہ عربی ورژن بھی کہیں کھوگیا۔ البتہ اس کا لاطینی ترجمہ صدیوں تک باقی رہا۔
جب مترجموں نے قدیم سنسکرت متن کے الفاظ کوعربی میں decode کیا، تو وہ کسی جادوئی راز کی مانند افشا ہوتے چلے گئے۔ الخورازمی ششدر رہ گیا تھا، وہ کتاب کی گہرائیوں میں اُتر گیا تھا۔ وہ ہر شام ریاضی کے نئے اکتشافات کا منتظر رہا کرتا تھا۔ وہ دارالحکمۃ سے ملحق اپنے مکان کی چھت پر ساری رات جاگا کرتا تھا کہ کائنات کے ہندسوں پر غوروفکر کرسکے۔
اب بے شمار چیزیں تھیں جو تسلسل سے الخوارزمی پر منکشف ہورہی تھیں۔ سب سے زیادہ جس شے نے اُسے متجسس کیا، وہ ایک عدد تھا جو ’نقطہ‘ کی شکل کا تھا، ایک ایسا سیاہ دھبہ جیسے ستارے کی نفی کررہا ہو۔ یہ ’نقطہ‘ بعد میں ریاضی، سائنس، اور کائنات کے انسانی وژن کی بنیاد قرار پایا۔ ایک ایسا سیاہ نقطہ، جو عدم کا ابتدائی مفہوم تھا، اور جو اعداد اور شمارکی انتہاؤں کا آغاز بھی تھا۔ اس سیاہ دھبے کی عدمیت سے وجود نے نمو پائی، اور یہی وہ ’نقطہ‘ ہے، جس میں طبعی کائنات کا ’کوڈ‘ پوشیدہ ہے۔ ہندسوں میں بندھی یہ کائنات اُس کے دماغ میں طوفان اٹھا رہی تھی۔ الخوارزمی جانتا تھا کہ اللہ کے کاموں میں ہندسوں اور ریاضی کا کردار اہم ہے۔
سیاہ دھبے کی دریافت نے اُسے صفر تک پہنچادیا، جسے آج دنیا انگریزی میں 0 زیروکہتی ہے۔ وہ ہندسوں کا لامتناہی سلسلہ دیکھ رہا تھا، جو بے شمار امکانات تک لے جارہے تھے۔ اور وہ اس طرح کے خیالات میں تنہا نہیں تھا، دارالحکمۃ اور دیگر درس گاہوں میں درجنوں اور کبھی کبھی سیکڑوں ماہرین فلکیات و ریاضی ہندسوں کی اس گتھی میں الجھے ہوئے تھے، ہر ایک اپنے زاویے سے اسے سلجھا رہا تھا۔ مسلم مفکرین اور ماہرین مسلسل مسابقت میں تھے۔ علوم کے زیادہ سے زیادہ حصول اور حیرت انگیز اکتشافات کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ تجربے ہورہے تھے، غلطیاں بھی ہورہی تھیں۔ بغداد کا دارالحکمۃ اور دیگر ایسے مسلم تعلیمی و تحقیقی ادارے دنیا کے وہ پہلے ’تھنک ٹینک‘ تھے، جنھوں نے computing networkکی مثال قائم کی تھی، یہاں مشینوں کی جگہ انسانی دماغوںکے درمیان رابطے کا نظام قائم تھا۔
الخوارزمی اور اس کے رفقازمان ومکاں میں موجود وہ تنہا لوگ نہ تھے کہ جنھوں نے تخلیقات اورنئی ایجادات کی روایات ڈالیں۔ انھوں نے بہت کچھ ماضی سے اکتساب کیاتھا۔ بابلیوں سے یونانیوں تک علوم کا سلسلہ تھا، جو اُن تک پہنچاتھا، مثال کے طورپروقت کی ساٹھ ساعتوں اور ساٹھ منٹ کے گھنٹہ کا تعین وغیرہ۔ مسلم ماہرینِ فلکیات نے ان ہی ہندسوں کے نظام کی مدد سے قطب نما کے درجے متعین کیے ، اورزمین و آسمان تک خطوط کھینچے، جواکیسویں صدی تک یوں ہی چلے آتے ہیں۔ ہندوؤں سے انھوں نے ہندسوں کی فلکیاتی اہمیت سمجھی۔ فارسیوں سے بالواسطہ، اور ہندوؤں سے براہِ راست ’صفر‘ سیکھا،ریاضی کے اعشاری نظام میں بڑی پیش رفت کی، اور وہ پہلے اشارے متعارف کروائے جو ہندسوں اور ریاضی کی علامتوں کوواضح کرتے تھے۔
دیگر چیزوں کے ساتھ الخوارزمی نے محسوس کیا کہ ریاضی کی کاغذ پر منتقلی کے عمل کو نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اُس کے زمانے میں شماریات کے تین طریقے رائج تھے۔ یہ عباسیوں کا دور تھا۔ ایک طریقہ انگلیوں پر حساب کتاب کا تھا، جو بنیادی اور عام کاروباری ضروریات پوری کرتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ طریقہ عربی الفاظ کا استعمال تھا، جو نسبتاً بہتر تھا، مگر معیاری نہ تھا۔ تیسرا ہندی طریقہ تھا، یہ ایک ایسا عشری نظام تھا جسے صفر سے نو تک کے ہندسوں میں لکھا جاتا تھا۔ ہندی ہندسے بہترین تھے، یہ سب میں سب سے زیادہ مناسب تھے۔ الخوارزمی اور رفقا نے اس طریقے میں ریاضی کے لیے لامتناہی امکانات دیکھے۔ یہ بے قاعدہ خلاؤں کی پیمائش کی ضرورت پوری کرسکتے تھے، معلوم کائنات میں اشیاء کے تعلقات کا کھوج لگا سکتے تھے، زمین کے سورج اور ستاروں سے تعلق کا شمار کرسکتے تھے،کیلنڈر کی تیاری اور اسلام کے مقدس ایام کا درست تعین کرسکتے تھے، اور قبلہ رخ نماز کی سمت طے کرسکتے تھے۔
ہندو مسلم ہندسوں کا یہ نظام کسی خط کی گولائی کے لیے کلیہ مستحکم کررہا تھا، جوظاہر کررہا تھا کہ کس طرح زاویوں اور خم کے دو مختلف جہانوں کی الجھن سلجھائی جاسکتی ہیں۔ ہندسوں کے اس نظام نے ریاضی کے سوالوں کی، جوابوں تک رسائی آسان بنادی تھی۔ ٹھوس اشیاء اور روشنی کی تحقیق میں ہند و عرب ہندسوں کی مدد ناگزیر قرار پائی تھی۔ جدید ٹیکنالوجی اورتہذیب کا عروج ان ہندسوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔
الخوارزمی کے دماغ میں عدمیت کا دھبہ گردش کررہا تھا۔ برہما گپتا نے صفرکا کھوج لگایا اور اس کے خالی پن کا اسرار قرطاس پر منتقل کیا۔ وہ واحد ریاضی دان تھا جس نے صفر کی تقسیم میں وضاحت کی کوشش کی۔ اُس نے صفر کی سچائی کچھ یوں لکھی: صفر کو صفر سے تقسیم کیا جائے تو برابر صفر آئے گا۔ اگرچہ وہ اس حساب میں غلطی پر تھا، یہ ناممکن تھا، مگر وہ اس کے لامتناہی امکانات کی پیش بینی میں مصروف رہا، یہی وہ اسلوب تھا جو مسلم دانشوروں میں فکری تحریک پیدا کررہا تھا۔
دو صدیوں بعد بغداد میں ایک مکان کی چھت پر الخوارزمی خود پر ہنس رہا تھا، کہ صفر کی صفر سے تقسیم ایک حماقت تھی، اس سے کچھ ثابت نہ ہوتا تھا۔ وہ اتنی زور سے ہنسا تھا کہ آس پاس کے لوگ چونک اٹھے تھے۔ مگروہ اپنے ہی خیالات میں کھویا رہا۔ اُسے احساس ہوا کہ ’صفر‘ کی اہمیت کو گہری سنجیدگی سے قبول کرنا ہوگا، سمجھنا ہوگا۔ اسے ثابت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اُس نے اپنے سرپرست المامون سے ذکر کیا، وہ دیکھ رہا تھا کہ ریاضی کی حتمی اہمیت خالص وحی سے ہی ممکن ہے، اسے شمار نہیں کیا جاسکتا۔
اسے اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ریاضی کی حقیقت کی بنیاد غیر ثابت شدہ تعداد ہے، یعنی ارسطو صحیح کہتا تھا، جیسا کہ خلیفہ المامون کے خواب سے ظاہر ہوتا ہے۔ وحی اور عقل ہم آہنگ ہیں۔ دونوں ایک ہی نکتے سے شروع ہوتے ہیں، اور کائنات کی ہر شے اسی ایک نکتے سے حرکت میں آتی ہے۔ محمد الخوارزمی نے علم ریاضی کو انکشافات اور ندرتوں کی نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ الخوارزمی کا اسلوب انتہائی مدلل، شائستہ، اور نفیس پیرائے میں دورِ جدید تک چلا آیا ہے۔ سنہرے ادوار میں مسلم فنِ تعمیر، لسانیات، اطوار، اور طرزِ حکومت میں دیگر تہذیبوں کی تمام خوبیاں در آئی تھیں۔
سن 850میں اپنی وفات تک، الخوارزمی نے کئی بے مثال کتابیں رقم کیں۔ الجبرا، علم فلکیات، اور فلکیاتی جدول پر بہترین کام کیا۔ اُس نے بطلیموسی کلیوں اور نقشوں کی تصحیح کی۔ علم جغرافیہ پر الخوارزمی کا کام بطلیموسی بنیادوں پراستوار ہوا ہے، ان میں چوبیس سو مقامات، شہروں، علاقوں، سمندروں، دریاؤں، پہاڑوںاور دیگر جگہوں کے طول و عرض اور نقشے شامل ہیں۔ تاہم الخوارزمی کا کام بطلیموس کی نسبت درست اور معیاری تھا، خاص طور پر مسلم علاقوں ایشیا اور افریقا میں۔ الخوارزمی نے مزید دو کتابیں مشاہداتی رصدگاہوں اور ایک کتاب دھوپ گھڑی پر لکھی، یہاں تک کہ ایک کتاب یہودی کیلنڈر پر بھی تصنیف کی۔
جیسا کہ اُن دنوں یہ عام تھا، اس نابغۂ روزگار کی عظمت محسوس نہ کی گئی، بہت سی نایاب چیزیں کھوگئیں۔ جب یورپیوں نے الخوارزمی کی کتابوں کے لاطینی میں ترجمے شروع کیے، اُس کی وفات کوتین صدیاں بیت چکی تھیں۔ یورپیوں نے اب تک ایسی بے مثال کتابیں دیکھی تک نہ تھیں، جو قدیم کلاسیکی علوم میں شاندار اضافہ تھیں۔ وہ الخوارزمی کے کام پر ششدر تھے۔ سولہویں صدی میں، الخوارزمی کی موت کے سات سو سال بعد، یورپیوں نے اُس کی عظمت اور دانش کا ذکر حواشیوں میںکثرت سے کیا، جیسے کہیں “dixit algoritmi” لکھا ، یا”so says al-Khwarizmi” لکھا، وہ الخوارزمی کی تعلیمات پر اپنی ریاضی استوار کررہے تھے۔ الخوارزمی کے کام یورپ کی درسی کتب میں علم فلکیات اور علم ریاضی کے مستند ماخذات اور ذرائع تھے۔
الخوارزمی کی ہندسوں والی کائنات میں صفر کو جو مرکزی مقام حاصل تھا، وہ مثبت اور منفی دونوں قدروں سے معمور تھا۔ ریاضی کا یہ اسلوب بہت عام اور کامیاب ہوا۔ تاہم بعد کی تاریخ میں الخوارزمی کو’الجبرا‘ کے کام کی وجہ سے یاد رکھا گیا۔ یہ اصطلاح اُس کی کتاب ’الجبر و المقابلہ‘ سے لی گئی تھی، اس کا ترجمہ The Compendious Book on Calculation by Completion
and Balancing.کے عنوان سے کیا گیا۔ اس کتاب کے تعارف میں الخوارزمی نے لکھا: علم حساب میں یہ آسان ترین اور مفید طریقہ ہے، جو قانونی اور تجارتی معاملات میں مددگار ہے۔ یہ اراضی کی پیمائش، نہروں کی کھدائی، جیومیٹریکل اعدادوشمار، اور دیگراشیاء کے ناپ تول میں معاون طریقہ ہے۔ وہ مزید کہتا ہے:’’علم کی جستجو… اُس کے لیے خندہ پیشانی اور تواضع وہ رویہ ہے، جوخدا کی دین ہے۔ خدا شائقینِ علم کی حمایت کرتا ہے، انھیں تحفظ دیتا ہے، اور ابہامات سے محفوظ رکھتا ہے، اُن کی مشکلات دور کردیتا ہے۔ اُسی خدا نے مجھے ہمت اور صلاحیت عطا کی کہ ’الجبر والمقابلہ‘ کی صورت علمِ شماریات میں حصہ لوں۔ اس علم کوآسان اور مفید بناؤں۔‘‘
الجبرا وہ پہلا اور عظیم قدم تھا، جس نے علم ریاضی کی پیش رفت میں انقلاب برپا کیا۔ یہ وہ ذریعہ تھا جس نے ریاضی کو طبعی حالت سے خالص تجریدی وخیالی حالت کی جانب منتقل کیا۔ الخوارزمی سے پہلے یونانیوں نے جیومیٹری پر جو کام کیا تھا، وہ زمین کی طبعی حالت کی پیمائش کرتا تھا۔ ریاضی داں الخوارزمی نے ایسا نظام وضع کیا، جس کی مدد سے کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کیا، اُس کے ہندسے اور شماریات کے طریقوں نے انسان کے لیے یہ ممکن بنایا کہ وہ سو منزلہ بُرج اور مینار بناسکے، میلوں لمبے پُل تعمیر کرسکے، جوہری طبیعات میں ردعمل کی صورتیں سمجھ سکے، فارماسیوٹیکل اور بائیو ٹیکنالوجی میں سیلولر ڈیجیٹل ڈیٹا کی کارکردگی سمجھ سکے، عالمی معاشی نظام مرتب کرسکے، سوفٹ وئیر کی زبان اور ذہانت وضع کرسکے، اور موبائل فون گفتگو کی رازداری ممکن بناسکے۔ مگر ایک دن نہ صرف اکثر یورپی بلکہ دنیا الخوارزمی کوبھلادیتی ہے کہ آیا وہ کون تھا؟ جب آج بھی دنیا اُس کا نام algorithmsہرلمحہ استعمال کرتی ہے۔ دنیا الخوارزمی کواُس کارنامے کے لیے یاد تک نہیں رکھتی، جو اُس نے ان کے لیے انجام دیا۔ ایک دن وہ بھی آیا کہ یورپی ماہرینِ ریاضی اور مؤرخ جواُسے جانتے تھے، اُس کی عظمت کو ماننے سے انکار کرگئے۔
تاریخ گُم گَشتہ وہ ہے جوعلم ریاضی میں بھی عجائبات سے دوچار کرسکتی ہے۔ یہ موجد کومنظر سے اوجھل کرسکتی ہے، اور فائدہ سمیٹنے والے کی قسمت جگا سکتی ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ریاضی کا کوئی ایسا فارمولا جوغلط مفروضے پرگھڑا جائے۔ تاریخ، کہ جس کے تسلسل میں بڑے تعطل رونما ہوئے، ایک الجھادینے والی گتھی، کہ جس میں سب گڈ مڈ ہوجائے۔
تاہم کہانی کا اچھا پہلو یہ ہے کہ الخوارزمی کے بعد ، مسلم ریاضی دانوں کا تحقیقی سلسلہ لہروں کی مانند ہر جانب پھیلتا چلا گیا۔بغداد سے چلنے والا یہ علم دوست رویہ درجنوں علماء سے اربوں انسانوں تک پہنچا ہے۔ عرب اور مسلم ماہرینِ ریاضی عراق سے فارس اور مصر سے شام اور اندلس تک، ہندسوں کی مدد سے کائنات کی کئی گتھیاںسلجھاگئے ہیں۔الخوارزمی اوردیگر مسلمان علماء کوعلم فلکیات کی تاریخ سے الگ نہیں کیا جاسکتا، انھوں نے زمین کے طول وعرض کی پیمائش کی، چاند سورج اور ستاروں کے مقامات کا تعین کیا، اور علمِ شماریات کے بے شمار امکانات کی راہ سُجھائی۔
(جاری ہے)

حواشی:
(1) معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیب ہندو ہے۔ اس کی ابتدا توحید سے ہوئی۔ اس کا آغاز بھی انبیاء کی تعلیمات سے ہوا۔ اس کی ابتدائی دانش اور اخلاقیات عقیدۂ توحید پر استوار ہوئی۔ دیگر مذاہب اور تہذیبوں کی مانند یہاں بھی شرک سے بگاڑ آیا، اور ابتدائی دانش اواخر کی خرافات میں خراب ہوئی یا اس قدر گنجلک ہوگئی کہ توحید دھندلا گئی۔ آج بھی ہندو مت کی مقدس کتابوں میں توحید اور اخلاقیات کی ابتدائی صورتیں ملتی ہیں۔ اس لیے یہ توقع برمحل ہے کہ ابتدائی ہندو دانش میں علوم عالیہ کے آثار ملے ہوں گے، اور یقینا مسلمانوں نے ان سے بھی استفادہ کیا ہوگا، جو ظاہر ہے مومن کی گمشدہ میراث تھی۔

Share this: