سیاسی استحکام کے لیے مفاہمت کی ضرورت

ایک طرف سیاست دانوں میں بداعتمادی ہے تو دوسری طرف یہ تاثر بھی موجود ہے کہ ہماری سیاست کو پسِ پردہ قوتیں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلا رہی ہیں

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال واقعی غیر معمولی ہے اور اس نے سیاسی نظام میں بہت زیادہ پیچیدگیاں پیدا کردی ہیں، اور سیاست کے تمام فریق یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر بحران کو حل کرنا ہے تو اس کی ابتدا کیسے کی جائے۔ اگرچہ سب سیاسی جماعتیں خواہ حکومتی کیمپ کی ہوں یا حزب اختلاف کی، ان کے بقول وہ ملک میں مفاہمت کی سیاست چاہتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کی یہ خواہش عملی سیاست میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے بالکل مختلف ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مفاہمت کا راستہ خود حکومت اختیار کرتی ہے۔ کیونکہ مفاہمت کا عمل حکومت کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر وہ کاروبارِ حکومت چلا سکتی ہے۔ اس لیے حزبِ اختلاف کے مقابلے میں زیادہ تدبر، فہم وفراست اور سمجھ بوجھ حکومت کو دکھانی ہوتی ہے، اور وہ کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتی جو حزبِ اختلاف میں اشتعال پیدا کرے۔ لیکن یہاں ایک خرابی جہاں حکومت کے اپنے طرزِعمل میں ہے وہیں ایک مسئلہ خود حزبِ اختلاف کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں نہ تو اچھی طرزِ حکمرانی پر مبنی حکومتیں مل سکیں اور نہ ہی ذمہ دار حزبِ اختلاف مل سکی۔
سیاسی قیادتوں کو، چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا حزبِ اختلاف سے، یہ سمجھنا ہوگا کہ مفاہمت کی سیاست کے لیے سیاسی دروازے کسی سیاسی تعصب یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ سیاست اور جمہوریت میں دروازوں کو کھول کر رکھنا ہوتا ہے اور یہی حکمت عملی سیاسی مفاہمت کا راستہ بھی نکالتی ہے۔ ہمارا بڑا مسئلہ سیاست میں ایک سیاسی عصبیت کا بن گیا ہے، اور ہم اپنے عمل سے اس سیاسی عصبیت کی شدت کو کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے لگتا تھاکہ ہم 1980ء اور1990ء کی دہائی سے باہر نکل گئے ہیں، مگر جو موجودہ دہائی یا سیاست ہے اس کا بگاڑ ماضی کے بگاڑ سے بھی بڑھ گیا ہے، جو خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
ہمیں سیاسی استحکام، معاشی ترقی، ادارہ جاتی اصلاحات سمیت داخلی اور خارجی مسائل کے حل کے لیے ایک بڑی سیاسی قیادت کا تدبر درکار ہے۔ ہمارا ایجنڈا حکومتوں کو گرانا، غیر مستحکم کرنا، یا سیاسی محاذ آرائی پیدا کرکے سیاسی ماحول کو خراب کرنا نہیں ہونا چاہیے، اور اسی طرح حکومت کو بھی حزبِ اختلاف کے لیے دروازے کھولنے ہوں گے۔ یہ جو عمومی تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان کی مجموعی سیاست اور سیاسی قیادت قومی مفاد یا قومی مسائل کی حساسیت کے باوجود ذاتی مسائل میں الجھی ہوئی ہے اس کو ختم ہونا چاہیے۔ کیونکہ سیاست میں اس وقت جو بڑی بداعتمادی کا مسئلہ ہے اسے حل ہونا چاہیے۔ اوریہ سیاست دانوں کے مثبت طرزعمل سے جڑا ہوا ہے۔ مسائل کی نوعیت کتنی بھی سنگین ہواور کتنے بھی سخت تحفظات سیاست میں موجود ہوں، اس کے حل کا راستہ مفاہمت اوربات چیت ہی ہے، اوریہی ہماری قومی سیاست کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح ایک بند دروازہ سیاست اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی ہے۔ ایک طرف سیاست دانوں میں بداعتمادی ہے تو دوسری طرف یہ تاثر بھی موجود ہے کہ ہماری سیاست کو پسِ پردہ قوتیں ریموٹ کنٹرول کی مدد سے چلا رہی ہیں۔ اس میں جہاں بہت سی حقیقتیں ہیں وہیں ہم اپنا کردار ادا کرنے، اپنی خامیوں کا جائزہ لینے، یا انہیں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ عمل بھی مسائل کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ تمام اداروں اور سیاسی فریقین کو ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرنے اور اپنے اپنے آئینی دائرہئ کار میں کام کرنے کو ترجیح دینی ہوگی۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب طاقت کے ان مراکز سمیت سیاسی قوتوں میں بات چیت کا راستہ نکالا جائے گا۔ محض ایک دوسرے پر الزام لگاکر مسائل کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
اہلِ سیاست اور طاقت کے مراکز یہ سمجھیں کہ سیاسی عدم اتفاقِ رائے یا مفاہمت کی سیاست کے نہ ہونے کا براہِ راست اثر عام طبقے کی زندگی میں بدحالی پیدا کررہا ہے۔کیونکہ جو کمزور طبقات ہیں وہ ان طاقتور طبقات کی لڑائی میں مزید استحصال کا شکار ہورہے ہیں اوران کی زندگیوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اگر سیاست دان یہ سمجھتے ہیں کہ عام آدمی ان کی ترجیحات کا حصہ ہے تو تضاد یہ ہے کہ یہ ساری لڑائی ان کو قربان کرکے لڑی جارہی ہے۔ اقتدار پرستی اور عام آدمی کی سیاست کے درمیان جو فرق ہوتا ہے وہ ہمیں اپنی قومی سیاست کے تناظر میں واضح نظر آنا چاہیے۔
مسئلہ صرف داخلی مسائل کا ہی نہیں، محاذ آرائی کی اس سیاست کا ایک بڑا نتیجہ خارجی، علاقائی سیاست پر بھی پڑرہا ہے۔ بھارت، افغانستان، ایران، امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں جو مسائل ہیں ان کے حل کا براہِ راست تعلق بھی داخلی مسائل اور ان کے حل سے جڑا ہوا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قومی اور حساس معاملات پر بھی ذمے دارانہ کردار ادا کرنے کے بجائے ایسی سیاست کررہے ہیں جو خود ملک کے مفاد یا قومی سلامتی کے عمل کو بھی کمزور کرتی ہے۔
یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست اور جمہوریت کی کامیابی ہماری سیاست اور اُس سے جڑے افراد کے طرزِعمل، فیصلہ سازی اور بہتر حکمت عملی سے ممکن ہے۔ کیونکہ جو سیاسی اورجمہوری طرزِعمل یہاں پنپ رہا ہے یا اسے طاقت دی جارہی ہے وہ ایک ایسی سیاست ہے جس کا کوئی فائدہ قومی سیاست، قومی مفاد اور یہاں کے لوگوں کو نہیں ہوسکتا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ذمے دارانہ سیاست کو فروغ دیں، اور اسی کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بناکر آگے بڑھنا قومی مفاد میں ہوگا۔

Share this: