کرتار پُور راہداری۔۔۔۔۔ پس منظر

غلام مصطفی ڈوگر، برطانیہ
پاکستان کے ننانوے فیصد عوام نے کرتارپور کا نام جنرل قمر جاوید باجوہ اور نوجوت سنگھ سدھو جپھی سے ہونے والی ہلچل کی وجہ سے ہی سنا ہوگا۔ ہمارے معزز صحافیوں کے ان مضامین میں بھی جو اس واقعے کے بعد اخبارات میں شائع ہوئے، کرتارپور کی تاریخ اور اس کے گرونانک کے ساتھ تعلق کو ہی اجاگر کیا گیا ہے۔ کچھ تاریخ اسی حوالے سے سکھ دھرم کی بھی بیان کی گئی ہے۔ لیکن اُس جدوجہد کا احاطہ ان کالموں میں اسکالر حضرات نے نہیں کیا جو آخرکار کرتارپور کے کوریڈور کے کھلنے کے لیے، ہندوستانی پنجاب کے کچھ لوگوں نے بہت عرصے سے جاری رکھی ہوئی تھی۔ اس تحریک، جسے مشرقی پنجاب کی مقامی زبان میں ’’کرتارپور لانگہ‘‘ کہا جاتا ہے، کے بانی ایک سکھ جٹ بھبیشن سنگھ گورائیہ (Bhabishan Sing Gorya) ہیں، جن کا گائوں گورداسپور ضلع کے سرحدی علاقے میں علدول پور گورائیہ کے نام سے آباد ہے۔ بھبیشن سنگھ گورائیہ بھارتی پنجاب میں بی ایس گورائیہ کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور صحافت کی دنیا سے بھی ان کا تعلق ہے، اخبارات میں وقتاً فوقتاً لکھتے بھی رہتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی خاص فضا بنائی جاتی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری افراد اس فضا کو مسلسل قائم رکھتے آئے ہیں۔ عوام کو یک طرفہ پروپیگنڈے سے مسلمانوں اور پھر نتیجتاً پاکستان کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ ہر قسم کے میڈیا اور بقیہ تمام ذرائع کو مسلسل استعمال کیا جاتا ہے۔ جوانی میں وہ بھی مسلمانوں سے نفرت کی آگ دل و دماغ میں رکھتے تھے اور اس کی وجہ بھی یہی زہریلا پروپیگنڈہ تھا جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ وہ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن ایک افواہ ان کے گائوں میں پھیلتی ہے کہ ایک دور دراز علاقے میں پندرہ افراد مرگئے ہیں، اور ان کے مرنے کی وجہ امرود کھانا تھا جن کو مسلمانوں نے زہر کے ٹیکے لگائے ہوئے تھے۔ اب عوام ایسی باتوں پر یقین کرنے کے سوا کیا کرسکتے ہیں! کیونکہ ہر کوئی تو اس علاقے میں جاکر اس افواہ کی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کرسکتا۔ پھر کسی دوسرے دن یہ افواہ پھیلتی ہے کہ پاکستان کے سرگودھا شہر میں 25 ہندوئوں اور سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اب بھارت میں کسی کو کیا پتا کہ سرگودھا میں نہ تو کوئی ہندو اور نہ ہی کوئی سکھ آبادی ہے۔ ایسے پروپیگنڈے کا توڑ یا تو انڈیا کے مسلمان کرسکتے تھے یا پھر خود پاکستانی میڈیا۔ اب بھارتی پنجاب میں تو خال خال ہی مسلمان ہیں، اور وہ بھی بیچارے بہت غریب۔ جبکہ پاکستان کے میڈیا کو وہاں بلاک کیا ہوا ہے۔ چنانچہ بی ایس گورائیہ بھی اسی قسم کی نفرت ذہن میں لے کر جوان ہوئے تھے۔
1994ء میں وہ سوشل سیکورٹی میں منیجر تھے اور ان کی عمر اُس وقت 42 سال تھی۔ کسی دوست نے انہیں اپنے ساتھ پاکستان میں سکھ جتھے کے ساتھ جانے پر آمادہ کیا، اور یوں وہ پاکستان آگئے۔ اس دورۂ پاکستان میں بی ایس گورائیہ کا ذہن مسلمانوں اور پاکستانیوں کی محبت نے بالکل صاف اور شفاف کردیا۔ وہ بے پناہ پیار اور محبت یہاں سے لے کر واپس ہندوستان گئے۔ لیکن ایسا صرف بی ایس گورائیہ کے ساتھ ہی نہیں ہوا تھا، ہندوستان کے وہ تمام باشندے جو پاکستان کا دورہ ڈرتے ڈرتے کرتے ہیں، پاکستان اور مسلمانوں کے دوست بن کر یہاں سے جاتے ہیں۔
بی ایس گورائیہ نے پاکستان میں دیکھا کہ کرتارپور کا گوردوارہ ہندوستانی سرحد سے صرف ساڑھے تین میل دور ہے اور سکھوں کو پنجاب سے پہلے دہلی، پاکستانی ویزے کے لیے جانا پڑتا ہے، اور پھر واہگہ کے راستے 150 میل کے قریب سفر کرکے نارووال شہر سے شکر گڑھ کی طرف جانا پڑتا ہے، جب کہ کرتارپور کے سامنے سے سرحد کو پار کرنے دیا جائے تو ہندوستانی پنجاب سے کرتارپور صاحب آنے کے لیے پیدل بھی تیس منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔ واپس بھارتی پنجاب جاکر انہوں نے اسی کوریڈور کے بارے میں سوچ بچار شروع کردی۔ لیکن ان کے راستے میں دو بڑی رکاوٹیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ سرکاری ملازم تھے، اور دوسرا یہ کہ ایسے کاموں کے لیے معاشی وسائل اور وقت اُن کے پاس نہیں تھا۔ انہوں نے صحافت کا ایک ڈپلومہ کر رکھا تھا، لہٰذا انہوں نے سب سے پہلے پنجاب کی سیاست پر لکھنا شروع کردیا۔
کرتار پور کے کوریڈور کے لیے اب گورائیہ پورے طور پر یکسو ہوگئے تھے، جس طرح وہ اخبارات میں اپنی بیوی کے نام پر مضامین لکھتے رہے، اسی طرح انہوں نے اپنی بیوی ہی کے نام پر ایک میگزین نکالنا شروع کیا جس کا نام ’’پنجاب مانیٹر‘‘ تھا۔ یہ رسالہ 1997ء میں شروع کردیا گیا تھا۔
کرتار پور کوریڈور کی مہم اب گورائیہ کے اکیلے کے بس میں نہیں تھی۔ انہی دنوں پنجاب کی سیاست میں ایک نئے حادثے نے جنم لیا، پرکاش سنگھ بادل نے اکالی دل پارٹی میں سے ایک بڑے لیڈر کلدیپ سنگھ وڈالہ سنگھبڑا جٹ کو نکال باہر کیا۔ کلدیپ سنگھ نے ایک نئی پارٹی اکالی دل بنالی۔ لیکن یہ پارٹی اپنی جگہ نہ بنا سکی۔ گورائیہ نے محسوس کیا کہ کلدیپ سنگھ کو اس پراجیکٹ کی طرف لایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے جالندھر جاکر اُس سے ملاقات کی۔ شروع میں کلدیب سنگھ شش و پنج کا شکار تھا۔ لیکن پھر اس نے اپنے ساتھیوں سمیت اس طرف کام شروع کردیا۔ کلدیب سنگھ وڈالہ اور اس کے ساتھیوں کی اس تحریک میں شمولیت گورائیہ کے لیے بہت مفید اور اسے عوام تک پہنچانے میں بہت اہم ثابت ہوئی۔ کلدیپ سنگھ کے ساتھ ایک پوری ٹیم اس مہم کا حصہ بن گئی، اور وہ مالی وسائل جو اس مہم کے لیے درکار تھے، میسر آنے لگے۔ اس مہم کو پوری دنیا میں پھیلانے کی خاطر www.kartarpursahib کے نام کی ایک ویب سائٹ بنادی گئی اور ’’پنجاب مانیٹر‘‘ رسالے کو بھی اس ویب سائٹ پر ڈال دیا گیا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بی ایس گورائیہ کے ذمے تھا۔
اس طرح 28 فروری 2001ء کو پہلا اکٹھ دھاریوال میں ہوا۔ 13 اپریل 2001ء کو بیساکھی کے موقع پر ان تمام لوگوں نے کرتارپور گوردوارہ کے سامنے بھارتی سرحد پر درشن کرنے کے لیے اکٹھ کیا اور اپنے رب سے دعا (ارداس) کی کہ اے ہمارے رب پاکستان میں موجود ہمارے 450 سے زیادہ گوردوارے جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں، اپنی رحمت اور کرپا سے ہمیں ان کے کھلے درش عطا کر۔
جب پہلی دفعہ سکھ زائرین اس جگہ پر گئے تو کوئی راستہ نہیں تھا اور پائوں زمین میں دھنس جاتے تھے۔ بعد ازاں جب بہت زیادہ لوگ اس طرف رجوع کرنے لگے تو 2003ء میں وہاں تک ایک سڑک بنادی گئی۔ 2010ء میں BSF کی اجازت اور مدد سے وہاں پر ایک درشن پوائنٹ بنادیا گیا اور ایک دوربین بھی لگا دی گئی۔ 2010ء میں ہی 10 فٹ کے قریب ایک اونچا چبوترہ بنادیا گیا جس پر ایک ہی وقت میں 20۔25 افراد چڑھ کر دوربین سے باری باری پاکستانی سرحد کے اندر واقع کرتارپور صاحب کا درشن کرتے ہیں۔ یہ جگہ آج کل درشن پوائنٹ کے علاوہ پکنک پوائنٹ بن چکی ہے۔
ہندوستان کی حکومت کسی صورت میں بھی کرتارپور کا کوریڈور کھولنے پر تیار نہیں تھی۔ خود اس تحریک کو چلانے والے بھی ناامیدی کا شکار تھے۔
عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے جو اقدام گزشتہ برس کیا وہ بھارتی حکومت کے لیے انتہائی غیر متوقع اور پریشان کن تھا۔ اُن کے علم میں تھا کہ اگر پاکستان نے یہ راستہ مکمل کردیا اور انڈین حکومت ایسا نہ کرنے پر اَڑی رہی تو سکھ انتہائی مشتعل ہوسکتے ہیں۔ نتیجتاً کسی بھی دن اس کرتارپور کے اس پار سکھ زبردستی سرحد پار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں جس کا نتیجہ گولی چلنے اور سکھوں کی جانوں کے ضیائع کا باعث بن کر ایک نئی تحریک کا سبب بن سکتا تھا۔
آنے والا وقت اس خیال کو ثابت کرے گا کہ کرتارپور کا راستہ پاکستان کے لیے بے پناہ مالی اور معاشی مفادات لے کر آئے گا۔ ہندوستان کی حکومت طویل عرصے سے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی، جس کا مطلب سکھوں کو ناراض نہ کرنا تھا۔ لیکن سکھ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے، کیونکہ پاکستان تو 2000ء کے بعد سے ہی اس بات پر راضی تھا۔
سیاسی فوائد تو اس فیصلے سے بہت سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر حکومتِ پاکستان پوری یکسوئی کے ساتھ اس طرف توجہ مرکوز رکھے۔
اس فیصلے سے ہندوستانی عوام میں پاکستان کے خلاف پیدا کی گئی نفرت میں کمی آئی ہے اور یہ منصوبہ مکمل ہونے اور پوری طرح چالو ہونے پر مزید کمی آئے گی۔
جتنے زیادہ بھارتی لوگوں کو پاکستان آنے کا موقع دیا جائے گا، پاکستان کے لیے سیاسی اور معاشی طور پر اتنے ہی فوائد حاصل کیے جا سکیں گے۔