پاکستان میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض، اسباب، سدّباب

Print Friendly, PDF & Email

نگراں: اے اے سید۔ میزبان: جہانگیر سید

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر چار بالغ افراد میں سے ایک، اور ہر دس بچوں میں سے ایک کو دماغی امراض یا مسائل کا سامنا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 45 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں ذہنی عوارض میں مبتلا مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے چین پہلے نمبر پر، بھارت دوسرے، امریکہ تیسرے، برازیل چوتھے، روس پانچویں، انڈونیشیا چھٹے، پاکستان ساتویں، نائیجیریا آٹھویں، بنگلا دیش نویں اور میکسیکو دسویں نمبر پر ہے۔ یہ دنیا بھر کے ممالک کی طرح پاکستان کا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ذہنی و دماگی بیماری کے دوررس سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ گھر، خاندان اور معاشرہ سب متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ کسی ایک انسان کے ذہنی حالت خراب ہونے کی وجہ سے صرف وہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس سے وابستہ دیگر افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی اور نفسیاتی امراض پر بات ہورہی ہے۔ نارف و دیگر ادارے بھی آگاہی کا کام کررہے ہیں۔ آگاہی کے اس کام کو مزید پھیلنا چاہیے۔ فرائیڈے اسپیشل فورم بھی اس میں حصہ ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل ہم ’’نفسیاتی امراض، اسباب اور سدّباب‘‘ کے موضوع پر ایک فورم کرچکے ہیں، اور یہ اسی کڑی کا دوسرا حصہ ہے جس میں ماہرین نے مزید نئے پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے جو نذرِ قارئین ہے۔

سیاسی حالات ذہنی تناؤ کا سبب ہیں،ڈاکٹر کریم خواجہ

ماہر نفسیات و سینیٹر

آج کا فورم ’’پاکستان میں بڑھتے ہوئے ذہنی امراض کی وجوہات اور ان کی روک تھام‘‘ کے حوالے سے ہے۔ ذہنی امراض میں اضافے کی طبی وجوہات اور سدباب کے بارے میں ہمارے ماہرینِ نفسیات ڈاکٹر اقبال آفریدی اور ڈاکٹر نعیم صدیقی زیادہ بہتر بتا سکیں گے۔میں آپ کو پاکستانی قوم میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کی سیاسی وجوہات بتانا چاہوں گا۔ 1947ء میں جب برٹش انڈیا تقسیم ہوا تو پاکستان کے حصے میں 19 فیصد آبادی آئی اور 30 فیصد فوج ملی۔ آزادی سے آج تک ہمارے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں پر ڈیڑھ دو فیصد سے زیادہ خرچ نہیں ہوا۔ دوسری بات یہ کہ پاکستان میں تقریباً 40 سال مارشل لا رہا، جمہوریت نہیں رہی۔ بنگلادیش 1971ء میں الگ ہوا، آج اُس کی جی ڈی پی 8.2 فیصد ہے، بھارت کی7.3 فیصد ہے، اور پاکستان کی جی ڈی پی محض 2.4 فیصد ہے۔ بنگلادیش اور بھارت پہلے اور دوسرے نمبر پر کھڑ ے ہیں، جبکہ ہم ان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں جمہوری نظام ہے، پارلیمنٹ فیصلے کرتی ہے۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ کو پالیسی سازی، دفاع اور دیگر شعبوں کے اختیارات حاصل نہیں رہے، جس کی بنا پر ملک ترقی نہیں کر پایا۔ یہ میں نے ذہنی تناؤ اور اعصابی امراض میں اضافے کی سیاسی وجوہات بتائی ہیں۔ جہاں تک ذہنی دباؤ اور ذہنی بیماریوں کی طبی وجوہات کا تعلق ہے اس بارے میں میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ دماغ میں پیدا ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں سے ذہنی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ان کی طبی وجوہات ہوتی ہیں۔ ان کا علاج طب نفسیات کے ماہرین کرتے ہیں۔ وہ اپنا کام کررہے ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ غربت، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل سے بھی ذہنی توازن خراب ہونے سے آدمی ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے بھی ماہرین نفسیات کو ہی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ باقی کام پارلیمنٹ کا ہے کہ وہ دیکھے کہ ملک سے غربت کیسے ختم کرنی ہے۔ ملک کا بجٹ اور اس کی آمدنی کو کس طرح بڑھانا ہے۔ عوام کو آسانیاں اور مراعات کس طرح دی جائیں۔ جہاں تک ہمارے صوبہ سندھ کا تعلق ہے، سندھ اسمبلی 2013ء میں مینٹل ایکٹ لے کر آئی۔ اس کی تیاری میں پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر نعیم صدیقی اور دیگر دوستوں کی محنت شامل ہے۔ 2017ء میں حکومتِ سندھ نے صوبے میں مینٹل ہیلتھ اتھارٹی بنائی جس کا میں چیئر مین ہوں۔ اس اتھارٹی کے لیے ہمارے دوستوں نے اپنے خرچ سے بڑے کام کیے ہیں۔ اب صوبائی حکومت نے اس کے لیے ابتدائی رقم جاری کردی ہے، لیکن بعد کی رقم کا انتظار ہے۔ رقم ملتے ہی ہم مزید کام شروع کریں گے، کچھ کام تو ہم پہلے ہی کر چکے ہیں۔ جہاں تک تھر میں خودکشیوں کے حوالے سے سوال ہے، میں بتانا چاہوں گا کہ ہم اس حوالے سے پہلے ہی کام شروع کرچکے ہیں۔ وہاں ڈاکٹر آفریدی نے سو سے زیادہ ڈاکٹروں کو تربیت دی، اسی طرح سر کائوس جی گدوبندر مینٹل اسپتال میں سو ڈاکٹروں کو تربیت فراہم کی۔ ہم چاہتے ہیں ۔
…..

خاندان ہمارا سماجی اثاثہ ہے جو مغرب کی اندھا دھند تقلید کی وجہ سے ٹوٹ رہا ہے،پروفیسرڈاکٹر محمد اقبال آفریدی

ڈین جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل، سربراہ شعبہ طب نفسیات اور علوم رویہ جات

بطور پاکستان سائیکاٹرک کونسل کے صدر، مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ پورے پاکستان کے عوام کی ذہنی سطح پر نہ صرف نظر رکھوں بلکہ ان کو درپیش نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے ذہنی صحت کے فروغ کو اجاگر کروں، ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نفسیاتی علم صرف یہ ہی نہیں بتاتا کہ بیماریوں کا علاج کیسے کیا جائے، بلکہ ہمیں یہ سلیقہ بھی سکھاتا ہے کہ پڑھیں کیسے؟ گفتگو کیسے کریں؟ ایک دوسرے کے ساتھ رویہ کیسا رکھیں؟ وغیرہ
جب پاکستان میں الیکشن کے آغاز پر ہم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا کہ پہلے آپ نے لکھا تھا کہ پاکستان میں کتنے لوگ پاگل ہیں، وہ ہٹا کر دو جملے رکھیں، ایک جملہ یہ کہ آپ اپنی ذہنی صحت سے مطمئن ہیں یا نہیں؟ تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ کتنے لوگ اپنی ذہنی صحت سے مطمئن نہیں ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ کیا آپ کی فیملی میں کوئی ذہنی طور پر پسماندہ ہے؟ یہ اس لیے کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کی روک تھام بہتر دیکھ بھال سے ممکن ہے۔ لیکن اچھا یہ ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت کا فروغ ہو، اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو ابھاریں۔ ہم اپنے رویوں کو بہتر کیسے کریں؟ اس سلسلے میں برطانیہ میں جب ایک ریسرچ کی گئی کہ ذہنی صحت کے فروغ سے کتنے لوگ وابستہ ہیں، تو تیرہ فیصد افراد اس سے آگاہ تھے، جبکہ باقی نے کہا کہ ایسی ہی گزر رہی ہے۔ چند روز قبل سری لنکا میں سارک فیڈریشن میں بھی یہی بات کرکے آیا ہوں کہ ہمیں اس خطے میں سوشل اکنامک ڈیولپمنٹ کے لیے ذہنی صحت میں فوری سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے۔ اب کسی بھی ملک کی اکانومی کو دیکھیں یا سوشل اکانومی ڈیولپمنٹ کو دیکھیں، وہ ذہنی سطح سے وابستہ ہے۔ اگر لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم ہوں تو لامحالہ ان کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ جبکہ غربت کے باعث انسان اداسی، مایوسی اور ڈپریشن کا جلد شکار ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی ذہنی طورپر آسودہ اور خوشحال نہیں ہے تو اس کی بھی کارکردگی متاثر ہوجاتی ہے۔ اگر وہ کوئی طالب علم ہے تو اس کی تعلیم پر اثر پڑے گا، اگر وہ کہیں کارکن ہے تو اس کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ لوگ گاڑیوں کے انجن پر خرچا نہ کریں بلکہ گاڑیوں کے بمپر پر خرچا کریں یا سائلنسر پر خرچا کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذہنی صحت کے فروغ پر توجہ دی جائے جس سے معاشرے میں رہنے والے افراد کے رویّے ٹھیک ہوں گے، اور دیگر مسائل پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔
جب تک خواندگی کی شرح نہیں بڑھے گی، مسائل بھی آسانی سے حل نہیں ہوں گے۔ چند روز قبل ایک وفاقی وزیر سے ہماری ملاقات ہوئی اور اُن کو ہم نے دس نکات پر مشتمل ایجنڈا پیش کیا جس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ آٹھویں کے بچوں کے نصاب میں یہ مضمون شامل کیا جائے کہ نفسیاتی اور ذہنی صحت کو اجاگر کیسے کریں؟ اور بیماریوں سے کیسے بچا جائے؟ وہ مضمون شامل کیا جائے۔ کیونکہ جب تک شرح خواندگی بڑھے گی نہیں لوگ بیماری میں پیروں فقیروں کے چکر میں پڑ کر علاج سے دور ہوں گے اور علاج کے نام پر ان سے زیادتیاں ہوتی رہیں گی۔ اس حوالے سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پوری دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں آپ کو اندازہ ہوگا کہ قدرتی آفات سے انسانی بقا کو اتنا خطرہ درپیش نہیں رہا جتنا کسی بھی سربراہِ مملکت کے غلط فیصلوں سے ہوا۔ اور وہ کامیاب کیسے ہوتے ہیں؟ ہمارے اور آپ کے ووٹ سے۔ تو جب ہماری ذہنی سطح ٹھیک ہوگی تو صحیح لوگوں کو ووٹ دیں گے۔ اساتذہ بھی صرف ڈگریاں نہ دیں بلکہ اچھے انسان بنانا شروع کریں، اور اس میں خاص طور پر ذہنی صحت پر توجہ دیں تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی بنائی گئی لیکن اس کے لیے فنڈ نہیں رکھا گیا۔ حالانکہ 2001ء میں یہ طے ہوا کہ ہر میڈیکل کالج میں سائیکاٹری وارڈ کے ساتھ منشیات کا شعبہ علیحدہ ہوگا۔ بچوں اور بالغوں کا شعبہ علیحدہ ہوگا اور قاعدے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں کے لیے علیحدہ (یعنی ایسے افراد کی ذہنی سطح کی جانچ کی جاتی ہے کہ کہیں ذہنی پسماندگی کا شکار تو نہیں) جسے فرانزک سائیکاٹری کہتے ہیں۔ بوڑھوں میں ذہنی بیماریاں بچوں اور نوجوانوں سے مختلف ہیں۔ اس لیے دونوں کے لیے علیحدہ شعبے ہونے چاہئیں۔ یہ اس کے منشور میں شامل ہے، لیکن اس کے لیے فنڈ رکھا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کوئی بہت زیادہ فنڈ بھی درکار نہیں۔ اس قدر ہو کہ کام چل سکے۔ جاپان میں کوئی بھی کارخانہ اُس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک مینٹل ہیلتھ سروسز کے لیے شعبہ نہ بنایا جائے۔ میں وہاں متعدد کارخانوں میں گیا۔ لوگ خودکشیاں کیوں کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کام کیا ہے۔ جاپان خودکشی کے حوالے سے دوسرے نمبر پر تھا مگر اب بارہویں، تیرہویں نمبر پر آگیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے نو ہزار سائیکاٹرکس چاہئیں، جبکہ ہم کُل ملا کر پانچ سو ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس طرف راغب ہی نہیں ہوتے، جبکہ پاکستان کے پندرہ سو ماہرینِ نفسیات لندن اور امریکہ میں ہیں۔ جناح اسپتال کی او پی ڈی میں ساڑھے چار سو سے سات سو افراد آتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک سینئر جج سے میری ملاقات ہوئی، میں نے انہیں بھی تجویز دی کہ جیلوں میں باقاعدہ سائیکاٹرک سروس ہونی چاہیے اور سائیکالوجسٹ ہو، سوشل ورکرز ہوں، اوکوپیشن تھراپسٹ ہو کہ وہ سارا دن کیا کررہا ہے۔ خاص طور پر ایسے بچے جو جیلوں میں پیدا ہورہے ہیں ان کی نگہداشت کی خصوصی ضرورت ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں جرائم پیشہ نہ بنیں۔ وہاں تک ہمیں رسائی دی جائے تاکہ ہم ان کا علاج اور نگہداشت کریں کہ وہ اپنے گھرانے اور معاشرے کے لیے کارآمد بن سکیں۔ کسی بھی مسئلے میں دیکھ لیں، جیسے ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کیا مسئلہ تھا؟ گاڑی خراب تھی، ڈرائیور کی غلطی تھی، یا سڑک ٹوٹی ہوئی تھی؟ اسی طرح سے جارج ایجنل نے 1977ء میں کہاکہ ہر مسئلے، ہر بیماری چاہے بلڈ پریشر ہو یا شوگر… ان کی وجوہات تین ہیں: بائیو، سائیکو، سوشل۔ یعنی بائیولوجیکلی جینز میں نقصان ہو۔ سائیکولوجیکلی مسئلہ ہو۔
بائیو سے مراد وراثت میں جو بیماریاں آتی ہے۔ یا انسان کی بائیو کیمسٹری کے اندر کی تبدیلیاں۔ سراٹینین کم ہوگیا تو اداس ہوگیا۔ ڈوپامین بڑھ گیا تو کانوں میں آوازیں آرہی ہیں۔سماجی وجوہات یعنی بچپن میں نشوونما، نگہداشت ٹھیک نہیں ہوئی، اسے ڈانٹا گیا، یا حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔ آپس کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ بے روزگاری ہے۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی، نیند کی کمی، ماحولیاتی آلودگی، قانونی صورت حال خراب ہونا… ان عوامل سے خوف اور ڈر پیدا ہوتے ہیں۔ رشتے اور گھروں کے ٹوٹنے کی وجہ اندھا دھند مغرب کی تقلید ہے جو نہیں کرنی چاہیے۔ مغرب سے ہم اس معاملے میں اچھے ہیں کہ ہمارے ہاں سماجی اثاثہ خاندان ہی ہے۔ وہ لوگ خاندان کے لیے ترستے ہیں۔ ہمارے ہاں میڈیا خصوصاً موبائل وغیرہ ہمارے بچوں اور معاشرے میں اس طرح سے سرایت کرگئے ہیں کہ کئی اقسام کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ مغرب کی اچھائیاں ہم نہیں لے رہے ہیں۔ وہ وقت کے پابند ہیں، کام سے ایمان دار ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی جو برائیاں ہیں وہ ہم نے اپنالی ہیں مثلاً دیر تک جاگنا، دیر تک سونا۔ بے ترتیب میسجنگ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا… انہیں بھی کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے اور مغرب کی اندھا دھند تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے کلچر اور تہذیب کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ساتھ شرح خواندگی(Literacy Rate) کو بھی بڑھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ لوگ سوچتے ہیں حکوت نہیں کررہی، حکومت سمجھتی ہے کہ عوام ٹھیک نہیں ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر شخص اپنا کام ٹھیک طرح سے کرے، اپنے ماحول کا خیال رکھے، اپنی سوچ، رویّے اور جذبات پر قابو پائے تو جھگڑا ہی نہیں ہوگا۔ افراد سے خاندان بنتا ہے، خاندانوں کا مجموعہ معاشرہ ہے۔ سب ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور دوررس نتائج پر نظر رکھیں کہ آج میں کسی دوسرے بچے کا خیال رکھ رہا ہوں کہ وہ کسی برائی کا شکار نہ ہو، تو اگلا میرے بچے کا خیال رکھے گا۔ اساتذہ بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر پڑھائیں۔ مثبت نفسیات کا فروغ ہونا چاہیے جس میں لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں۔ جہاں تک نفسیاتی امراض کا تعلق ہے اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے، مجھے بھی ہوسکتے ہیں، کسی کو بھی ہوسکتے ہیں، اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ علاج معالجے میں دیر نہ کریں، اگر کسی کو عارضہ لاحق ہو تو اُس کا مذاق نہ اڑائیں۔ مشترکہ طور پر ان بیماریوں کو سمجھیں، ان کی تشخیص کرائیں اور اس کا سدباب کرتے ہوئے ان کو شکست دے دیں۔
……

جسمانی ورزش سے معمولی نوعیت کے ذہنی امراض مکمل ٹھیک ہو جاتے ہیں،نعیم صدیقی

ایسوسی ایٹ پروفیسر، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن

ذہنی امراض کے علاوہ کسی بھی مرض کی بات کریں تو مرض جب بھی پیدا ہوتا ہے اس میں کچھ عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک بائیولوجیکل یعنی جسمانی وجوہات ہوتی ہیں، دوسری نفسیاتی ہوتی ہیں اور تیسری معاشرتی یا سماجی وجوہات ہوتی ہیں۔ اگر ذہنی مرض سے پہلے ہم ان پر مختصراً نظر ڈالیں تو وہ چیزیں جو بہت عام ہیں ان میں انفیکشنز ہیں، اگر کسی کو پیچش ہوتی ہے تو بظاہر تو وجہ وہ جرثومہ ہے جس سے پیچش ہوئی لیکن وہ جرثومہ کہاں سے لگا؟ وہ بنیادی طور پر اُس پانی یا اُس کھانے سے لگا ہے جو وہ پی رہا ہے، کھا رہا ہے، یعنی صفائی کا فقدان، جو کہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ اور تیسرا حصہ یہ ہے کہ بیماری میں وہ کیسا محسوس کررہا ہے۔ اب بیمار ہونے کے بعد اسے دوا دی جائے گی۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ایسا ماحول پیدا کرسکتے ہیں جہاں اس قسم کے جرثومے پیدا ہی نہ ہوں؟ کیا اس مریض کو صاف پانی فراہم کیا جاسکتا تھا؟ کیا اسے صاف ماحول میں کھانے پینے کے لیے صاف جگہ فراہم کی جاسکتی تھی؟ یا کم از کم اسے یہ ہی بتا سکتے تھے کہ وہ اپنا کھانا صاف ستھری جگہ پر کھا سکتا ہے۔ کئی بار اس میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے پاس اچھی تفریح کی متبادل جگہ نہیں ہے، تو اس کی تفریح یہی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ریلیکس ہونا چاہتا ہے، اس لیے وہ وہاں جاتا ہے، دو لوگوں سے اس کی دوستی ہے، ان سے وہ بات کرلیتا ہے۔ یہ مثال اس لیے دی کہ جب ذہنی بیماری کی بات ہوتی ہے تو لوگ سمجھتے ہیں یہ کوئی الگ چیز ہے اور معاشرتی یا سماجی مسائل کچھ اور ہیں، حالانکہ دونوں کا بہت گہرا تعلق ہے۔
اب اگر اسی مثال کی روشنی میں ذہنی امراض کی بات کی جائے تو غربت ہے، معاشرتی ناانصافی ہے، مہنگائی ہے، لوگوں کے پاس ذرائع کی کمی ہے، لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جب وہ انہیں پورا نہیں کرپاتے تو ایسا نہیں کہ وہ فوراً بیمار ہوجاتے ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے، بلکہ ہر انسان اپنے بیوی بچوں اور خاندان کو پالنے کے لیے پوری کوشش کرتا ہے۔ دنیا بھر میں ایک چیز یہ دیکھی جاتی ہے کہ کسی فیکٹری یا مل میں جو بھی پیداوار ہوتی ہے وہ شروع میں صبح کے اوقات میں زیادہ ہوتی ہے، اور جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس میں کمی آجاتی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو سمجھ میں آتا ہے کہ صبح کے وقت میں ترو تازہ ذہن کے ساتھ کام کرنے کی استعداد زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے جو ریسرچ ہے وہ بڑی دلچسپ ہے کہ جو لوگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں اُن کی کارکردگی اس کے برعکس ہے۔ صبح میں رفتار کم ہوتی ہے، جبکہ آخری وقت میں وہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ معلوم کی گئی تو ورکر کا کہنا تھا کہ ساری رات تو ہم پانی کے انتظار میں جاگے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث سو نہ سکے، نیند سے ہمارا برا حال ہوتا ہے، لیکن شام میں رفتار اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ فیکٹری والے کو کام بھی چاہیے۔ لہٰذا ورکر جان مارکر بھی کام کی کمی پوری کرتا ہے، ورنہ گھر کا خرچ نہیں چلا پائے گا۔
اچھا، وہ کام پر آجا کیسے رہا ہے؟کوئی بس کی چھت پر بیٹھ کر جارہا ہے، کوئی دروازے میں لٹک کر دو گھنٹے میں جارہا ہے، واپسی میں دو گھنٹے میں آیا۔ اور وہ آکر سو نہیں جائے گا۔ اور چونکہ وہ دن بھر کا تھکا ہوا ہے تو وہ اپنے گھر والوں سے بھی اچھی طرح سے پیش نہیں آئے گا۔ پھر اگلا دن بھی ویسے ہی ہے۔ اسے خود بھی اچھا نہیں لگتا برا بھلا کہنا جن سے وہ محبت کرتا ہے، لیکن وہ بہت زیادہ تھکن کی وجہ سے اس طرح کا اظہار کرتا ہے، اور گھر والے بھی اس پر توجہ نہیں دیتے کیونکہ ہر وقت غصے میں رہتا ہے، بدزبانی کرتا ہے نتیجتاً گھر والوں سے فاصلہ بڑھنے لگتا ہے اور ڈپریشن شروع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ان بیماریوں (عمومی ذہنی بیماری کی بات کررہا ہوں) میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن میں جسمانی اثرات کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن ان چیزوں کو کم کرنے کے لیے ایک ایسی مہم ہونی چاہیے جس میں معاشرے کے باقی افراد بھی شریک ہوں، اس سے مسائل اور ان کے حل میں مدد ملے گی۔ ہم اپنے شعبے کے حوالے سے بات کریں تو اپنی حدود میں رہ کر بات کرسکتے ہیں۔ میں ٹرانسپورٹ تو مہیا نہیں کرسکتا لیکن یہ مشورہ ضرور دے سکتا ہوں کہ اگر آپ دس منٹ پہلے نکلیں تو ہوسکتا ہے آپ کو وہ اسٹریس اور دبائو نہ ہو جو دس منٹ تاخیر سے نکلنے پر ہوتا ہے۔ تین چار چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے بھی وہ ذہنی امراض سے بچائو میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس میں پہلی چیز جس پر ہماری توجہ بالکل نہیں ہے وہ جسمانی ورزش ہے، اس کے لیے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ جم ہی جانا ہے، یا فٹ بال کا گرائونڈ ہی ہو۔ واک یہ بھی ہے کہ اپنی مطلوبہ منزل سے ایک اسٹاپ پہلے اتر جائیں اور اتنا فاصلہ واک کرکے طے کریں۔ اس حوالے سے جدید تحقیق بھی یہی ہے کہ صرف جسمانی ورزش سے ہی بیس سے تیس فیصد تک علامات میں کمی ممکن ہے، اور معمولی نوعیت کے ذہنی امراض تو مکمل ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں۔
فورم میں میزبان نے جب پوچھا کہ ماہر نفسیات کی حیثیت سے یہ بتائیں کہ سب سے زیادہ ذہنی امراض کا شکار لوگ کس شعبے سے ہوتے ہیں؟
تو نعیم صدیقی کا جواب تھا کہ ’’ایک تو یہ ہے کہ ٹریفک میں پھنس گئے ڈپریشن ہوگیا، گھر پر کسی بات پر یا معاشرتی مسائل کے باعث وقتی طور پر ڈپریشن کا شکار ہوگئے۔ لیکن اگر آپ ڈپریشن کی بات کریں تو اس کے لیے طبی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور کمزور انرجی لیول۔ کام کرنے کی استطاعت اس میں کم ہوتی ہے، آپ کی چیزوں میں دلچسپی ختم ہوتی رہتی ہے۔ ہر وقت تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ اداسی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں اپر کلاس کے مقابلے میں لوئر کلاس میں چونکہ وجوہات زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا ڈپریشن بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ مریض آنہیں پاتے کیونکہ وہ افورڈ نہیں کرپاتے۔ ایک بات کہی جاتی ہے کہ ڈپریشن پاکستان میں تیس فیصد یا چونتیس فیصد تک ہے، تو وہ سب کو ملا کر شمار کرتے ہیں۔
پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں جو ریسرچ ہوئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جہاں پاکستان والے حالات نہیں ہیں وہاں بھی جو طب کا شعبہ ہے اس کی نیچر آف جاب کی وجہ سے اسٹریس بہت زیادہ ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں جو ریسرچ ہوئی ہیں اسٹوڈنٹس میں، ریذیڈینٹس میں اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹریس زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن تیسری بات ہوتی ہے برن آئوٹ، اگر آپ پر کام کا دبائو ہے۔ چاہے ڈاکٹر ہوں یا سائیکاٹرسٹس… ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، لہٰذا ان چیزوں کو اپنے آپ سے علیحدہ نہیں کرپاتے۔ جس طرح سے باقی لوگ اپنے اسٹریس کو کم کرنے کے لیے زندگی کو آسان نہیں بنا پارہے ہوتے ہیں،
ڈاکٹر بھی ایسا نہیں کرپاتے۔ جو ماہر ڈاکٹر ہے اور اچھی طرح سے مریضوں کو دیکھتا ہے تو اس کے پاس مریضوں کا رش اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پھر وہ مریضوں سے انصاف نہیں کرپاتا جتنی ضرورت ہے۔ پھر پرائیویٹ اسپتالوں اور سرکاری اسپتالوں میں اسٹریس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پرانتظامی یا سیاسی دبائو سرکاری اسپتالوں میں زیادہ ہوتا ہے، لیکن یہ کہ اتنا ریونیو اکٹھاکرکے آپ کو دینا ہے وہ پرائیویٹ اسپتال میں زیادہ ہوتا ہے۔ ایک چیز جو کام کی زیادتی سے ہوتی ہے وہ برن آئوٹ کہلاتی ہے اور وہ ڈاکٹروں میں بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کام کا معیار وہ نہیں رہتا، چڑچڑاہٹ ہوجاتی ہے اور اپنے کام پر جانے کا دل نہیں چاہتا، اور وقفہ بھی نہیں لے سکتے جو بہت ضروری ہے۔

Share this: