بھارت کا ’’گوئبل ازم‘‘بے نقاب

جعلی ویب سائٹس، جعلی این جی اوز، جعلی تھنک ٹینکس یورپی تنظیم ”ڈس انفولیب“ کی انکشافی رپورٹ

بھارت کی موجودہ حکومت اپنے طور طریقوں اور سوچ و ساخت کے اعتبار سے نازی ازم کی راہوں پر گامزن ہے۔ ہٹلر کی یہ تقلید سماجی اور دفاعی پالیسیوں میں ہی نہیں بلکہ پروپیگنڈے اور جھوٹ کے محاذ پر بھی جاری ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں نازی ازم کا پروپیگنڈا کرنے اور برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں کی اشرافیہ کو اپنا اسیر اور حامی بنانے کے لیے ہٹلر نے کئی ریڈیو اسٹیشن قائم کیے تھے، جن میں ٹھیٹھ انگریزی لہجے میں دن رات پروپیگنڈا کرکے لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی تھی۔ اس محاذ پر’’جرمنی کالنگ‘‘ ریڈیو پروگرام کے ایک فرضی نام Lord Haw Haw کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ لارڈ ہاہا کے پیچھے ایک برطانوی شہری کی ہی آواز ہوتی تھی۔ بعد میں پروپیگنڈے اور جھوٹ کے محاذ پر لارڈ ہاہا ایک استعارے اور محاورے کے طور پراستعمال ہوتا رہا۔ہٹلر کے نظریات سے متاثر اور انہی پالیسیوں کی خوشہ چین مودی حکومت بھی پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف میڈیا کے محاذ پر ایسے ہی منصوبے شروع کیے ہوئے ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت کا طاقتور میڈیم ریڈیو تھا، اور آج انسانی ذہنوں اور خیالات کو متاثر کرنے والا طاقتور میڈیم سوشل میڈیا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر بھارت کے غیر انسانی اور جابرانہ اقدامات کو جواز دینے،کشمیری عوام کی مزاحمت، کشمیریوں کو پاکستان اور خود اپنی آزادی پسند قیادت سے بدظن کرنے، اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ابلاغی یلغار کا ایک منصوبہ عالمی سطح پر طشت ازبام ہوا ہے۔ پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف ڈس انفارمیشن کے سیلاب کا سراغ یورپ میں کام کرنے والی تنظیم ڈس انفولیب کی ایک رپورٹ میں لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے 265 ویب سائٹس 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جارہی ہیں۔ ان تمام ویب سائٹس پر چھپنے والا مواد ایک جیسا ہے جس میں پاکستان اور کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنا مرکزی نکتہ ہے۔ میڈیا کے محاذ پر جعل سازی کے اس منصوبے میں استعمال ہونے والی ویب سائٹس کے نام یورپ کے مقامی مگر بند ہوجانے والے اخبارات، ویب سائٹس اور میڈیا گروپس سے ملتے جلتے رکھے گئے ہیں تاکہ قاری مغالطے کا شکار ہوجائے۔ یہ ویب سائٹس تنازع کشمیر کے حوالے سے خبریں اور مواد کو دوبارہ شائع اور شیئر کرتی ہیں۔ کشمیر کے حوالے سے ہونے والے مظاہروں اور خبروں کو پاکستان مخالف رنگ دے کر شائع کیا جاتا ہے، جس کا مقصد تنقید اور تبصرے کا رخ پاکستان کی جانب موڑنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جعلی ویب سائٹس ایک دوسرے کے حوالے دے کر مواد شائع کرتی ہیں تاکہ انہیں معتبر اور مستند سمجھا جائے۔
اسی طرح جعلی این جی اوز اور تھنک ٹینکس بھی اس شائع شدہ مواد کو آگے بڑھانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک جعلی تھنک ٹینک نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو کشمیر کا دورہ بھی کرایا تھا۔ یہ جعلی ویب سائٹس، این جی اوز اور تھنک ٹینکس ایک ہی سرور سے آپریٹ ہوتے ہیں۔ تھنک ٹینکس میںکام کرنے والے افراد ہی ان جعلی ویب سائٹس کے لیے مضامین بھی لکھتے ہیں۔
یورپی یونین میں بھارت کے اس قدر بڑے پروپیگنڈہ منصوبے کا طشت ازبام ہونا ابلاغی محاذ پر پاکستان اور کشمیریوں کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ جب سے پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال ہوا تو دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے، اسے ایک دہشت گرد ریاست اور اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ملک اور فوجی اسٹیٹ ثابت کرنے، اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی اور پاکستان کو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کا غاصب اور قابض ثابت کرنے کے لیے زہریلا پروپیگنڈا کیا جانے لگا۔ اس کے لیے وڈیو کلپس، اخباری تراشوں اور تصویروں کا سہارا بھی لیا جاتا رہا۔ اس مہم کا مقصد جہاں پاکستان اور کشمیریوں کی تحریک کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا وہیں بھارت کے مؤقف کو بیرونی دنیا میں سچ ثابت کرنا بھی تھا، جیسا کہ رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔ مگر اس مہم کا ایک مقصد جہاں پاکستانی عوام کو کنفیوژن کا شکار کرنا، ریاست سے مایوس کرنا، اورچھوٹے چھوٹے مسائل کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کرنا تھا کہ لوگ ریاست سے ٹکرانے کے لیے تیار ہوجائیں، اور یوں پاکستان داخلی طور پر انتشار کا شکار ہوجائے، وہیں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام میں یہ احساس جاگزیں کرنا بھی شامل تھا کہ یہ عوام اپنے مصائب کا ذمہ دار اور کشمیریوں کی مجموعی بدبختی کی وجہ بھارت کے بجائے پاکستان کو سمجھنے لگے اور بھارت کے لیے ایک مسیحا کی شبیہ بن جائے۔ یوں پاکستان میں مایوسی اور پروپیگنڈے کی کئی لہریں بھارت کی اسی مہم جوئی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب یہ معلوم کرنا ریاست کا کام ہے کہ اس مقصد کے لیے پاکستان میں کچھ مظاہرے اور مہمات بھی اسپانسر کی جاتی رہی ہیں یا نہیں؟ ان مظاہروں اور مہمات میں سخت گیر پاکستان مخالف بیانیہ، بھارت کو محرم اور پاکستان کو مجرم بنانے کے زاویہ ٔ نظر کی غیر محسوس ترویج، ان کے لیڈروں کی زبان وبیان اور اصطلاحات میں بے رحمی اور غیر صلح جویانہ انداز اس بات کا پتا دیتا تھا کہ تار ہلانے والے ہاتھ ملک کی حدود سے کہیں باہر اور دور ہیں۔ پاکستان نے بہت کامیابی سے ان مہمات کو زیر اور ناکام کیا۔
ایک عرصے تک پاکستان ایک لاوارث اور یتیم ریاست بن کر یہ سب کچھ بے بسی سے دیکھنے پر مجبور تھا۔ ریاست ردعمل دکھانے سے قاصر تھی۔ اور ریاست کی اس بے بسی اور بے کسی کی وجہ بھی ناقابلِ فہم تھی۔ بعد میں ریاست نے انگڑائی لی اور اپنے مسائل اور چیلنجز کو اونر شپ دینا شروع کی، تب جاکر ریاست ایک متبادل اور پرو پاکستان بیانیہ تیار کرنے پر مجبور ہوئی، مگر پروپیگنڈا مشین اپنا کام کرتی رہی۔ ظاہر ہے اسے بھارت کی پرت در پرت حمایت اور بے پناہ وسائل دستیاب تھے، اس لیے اس ابلاغی یلغار کے آگے پاکستان کا بیانیہ کمزور رہا۔ پاکستان میں عرب اسپرنگ طرز کی ایک بغاوت اور بے چینی پیدا کرکے ریاست کے تاروپود بکھیرنا بھی اس مہم کا مقصد تھا۔ اب یہ اپنے وجود اور وجود کے دشمنوں دونوں کو اونرشپ دینے کی سوچ کی وجہ سے ہی ممکن ہوا کہ یورپ میں بھارت کی ابلاغی اور سفارتی جعل سازی کا ایک بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ریاست پاکستان کی شکایت اور معاملے کا پیچھا کرنے پر ہی ممکن ہوا ہوگا۔ اب بھی ریاست کے کرنے کے بہت سے کام ہیں۔ ان فرضی تنظیموں کے سرور سے جس نام پر پاکستان کی ریاست کو کمزور اور بدنام کرنے کی مہم چلائی گئی ہے پاکستان میں ان تنظیموں اور شخصیات کا پتا لگاکر عوام کے سامنے بے نقاب کیا جانا ضروری ہے۔ یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں کون سی مہم کو ان جعلی ویب سائٹس کی حمایت حاصل رہی؟ ایسی تنظیموں، شخصیات اور مہمات کا نشان زدہ ہوکر معاشرے کے سامنے آنا بھی ناگزیر ہے۔

Share this: