مسلم سنہری دور،علوم ریاضی اور فلکیات میں مسلم علما کی تحقیق

مائیکل ہیملٹن مورگن/ ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق
۔’’نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے، اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔‘‘ (یٰسین، 39)۔
مسلم سنہرے ادوار میں علمِ ریاضی اور علمِ فلکیات کی تحقیق میں بڑے بنیادی کام ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آٹھویں صدی کے مسلم ماہرینِ فلکیات اور ریاضی دانوں میں فرق تلاش کرنا ممکن نہیں۔ ماہرینِ علمِ فلکیات خلیفہ مامون کے دارالحکمۃ سے بھی پہلے تحقیق وتدریس کا کام شروع کرچکے تھے۔ یہ علماخود کو جتنا ریاضی دان اورفلسفی خیال کرتے تھے، اُتنا ہی ستاروں کا درک بھی رکھتے تھے۔
فلک پر گردش کرتے سوالوں نے عباسی خلفاء کے دور میں ریاضی اور شماریاتی تحقیق میں خاصی پیش رفت کی۔ حکماء ستاروں کی چالیں شمار کررہے تھے، پیمائش کررہے تھے، قمری سال کے مراحل اور وقت کا تعین کررہے تھے، چاند گرہن کی پیش گوئی کررہے تھے، وقت کی ہیئت اور فطرت سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی موسمی حالتوں کا مشاہدہ کررہے تھے۔ وہ یہ سب کچھ کیوں کررہے تھے؟ پیغمبر اسلام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن میں مقرر وقت پر پانچ بار ادائیگیِ نماز کی ہدایت کی تھی۔ یہ صبح تڑکے سے دن اور پھر رات میں پوری ادا ہوتی ہیں، اور دورانِ نماز کعبہ کی جانب رخ ہونا چاہیے۔ انھوں نے سکھایا کہ سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں، چار مہینے محترم ہیں، ان میں ایک ماہِ مبارک رمضان ہے، اس مہینے میں پہلی بار نزولِ قرآن ہوا تھا۔ مسلم عہد تک مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں اسلامی کیلنڈر ہی رائج رہا۔ جبکہ یہودی اور عیسائی اس دوران سال میں تیرہواں ماہ شامل کرتے رہے تاکہ ہر 19 سال بعد سورج کا مقام اور تاریخ پھر سے ہم آہنگ ہوجائیں۔ مگر قرآن نے واضح طور پر کہا کہ سال بارہ مہینوں کا ہی ہوتا ہے۔
’’حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔‘‘ (توبہ، 34۔36)
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، مسلمانوں نے قمری کیلنڈر پر سال کا تعین کیا، جو شمسی سال سے گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے۔ اب مسلم ماہرینِ فلکیات کے لیے نیا چیلنج سامنے آیا، انھیں چاند کی رویت کا درست اندازہ لگانا تھا، جب کہ عام لوگ چاند کی منزلوں پر ہی وقت کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ کئی صدیوں تک مسلمانوں نے علم مثلثات (Trigonometry)کے مزید مؤثر فارمولوں کے ذریعے تحقیق آسان اور سادہ بنائی۔ بغداد میں حکمائے فلکیات کی علمِ مثلثات پرگرفت خاصی مضبوط ہوچکی تھی۔ وہ کوسائن کا اصول، خطِ مماس، خطِ قاطع، اور قاطع التمام کی قوتوں کو بھرپور طور پر بروئے کار لارہے تھے۔ کعبۃ اللہ کا رخ جاننے کے لیے اور مسلم کیلنڈرکی تیاری میں کروی جیومیٹری کا رجحان بڑھا، اورکروں اور دائروں کا مطالعہ و تحقیق سادہ جیومیٹری سے آگے پیش رفت کرگئی۔ یہ کروی جیومیٹری مسلم حکمائے فلکیات اور ریاضی دانوں کے کارناموں میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوئی۔ پیغمبرکی ہدایات اورغور و فکرپر ایمان ہی محض وہ محرکات نہ تھے جو مسلمانوں کوعلم فلکیات کی تحقیق پر مائل کرتے تھے۔ انتظامی سطح پر ایک ایسی سلطنت…جو بحر اوقیانوس سے افریقا اور وسطی ایشیا تک، اور عرب کے ساحلوں سے ہندوستان تک وسیع ہو، اور ستاروں پر نگاہ رکھتی ہو… علمِ فلکیات میں تحقیق کیوں نہ کرتی؟ اس وسیع وعریض خطے میں سمندری راستوں کے کھوج کے لیے یہ ضروری تھا کہ ستاروں کی چالوں پر حکماء کی گہری نظرہو۔
ابتدائی حکمائے فلکیات برہما گُپتا سے بہت متاثر ہوئے۔ ’برہما سدھانتا‘ یا کائنات کا آغاز نامی کتاب علم فلکیات میں بہت مددگار ثابت ہوئی۔ تاہم اس کتاب کی شماریات عملی وضاحتوں سے محروم تھی۔
اس حوالے سے زیادہ اہم خارجی ذریعہ علم بطلیموسی فلکیات تھا۔ اس کا اصل نام Syntaxis تھا۔ عربی مترجمین نے اسے Almagest کا عنوان دیا۔ بارہویں صدی میں جب یہ کتاب عربی سے لاطینی میں منتقل ہوئی، اس کا عربی نام برقرار رہا۔
گو بطلیموسی کلیے اغلاط زدہ تھے، مگر مسلم حکماء نے انھیں نظام فلکیات کا عمدہ جائزہ خیال کیا، انھوں نے ان کلیوں پ ربھرپور محنت کی، تحقیق اور تنقید کی، اور ان میں بہت بہتری لائے۔ کچھ نے بطلیموس کے کلیوں میں غلطیوں کی نشاندہی کی، اور چند نے کرۂ ارض کی کائناتی مرکزیت پر سوال بھی اٹھائے۔ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ مسلم ماہرینِ فلکیات اور فلسفیوں میں ’زمین کی گردش‘ پر طویل مباحث ہوئے۔ ان مباحث میں گیارہویں صدی کے البیرونی اور تیرہویں صدی کے الطوسی جیسے بڑے حکماء شامل رہے۔ البیرونی جو ممکنہ طور پر ’سورج مرکز‘کلیوں سے متاثر تھا، اُس نے بطلیموس کی ’ساکت زمین’ کے نمونے پرسوال اٹھایا، البیرونی نے خیال ظاہر کیا کہ شاید زمین اپنے محور میں گردش کرتی ہے۔ تیرہویں صدی تک مسلم ماہرینِ فلکیات بطلیموس کی تحقیق پر سوال اٹھا رہے تھے، اُن کا دعویٰ تھا کہ بطلیموس کے دلائل حتمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتے کہ زمین ساکت ہے۔ مسلم حکماء کے یہ مباحث تحقیق اورتجربات سے ہوتے ہوئے یورپ تک پہنچے، جہاں کاپرینیکن عہد میں ان سے استفادہ کیا گیا۔ یورپ میں مسلم مباحث کے متوازی سوال وجواب کا سلسلہ چلا، Frenchmen Nicole d’Oresme اور Jean Buridan جیسے نامور ماہرینِ الٰہیات ان مباحث کا حصہ تھے۔ مسلم حکمائے فلکیات نے سب سے پہلے زمین کی محور میں گردش کا امکان ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے ساکت زمین کا نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
یورپ میں جب یہ مباحث پہنچے، ان کی نوعیت دینیاتی ہی رہی۔ جبکہ مسلم بیانیہ تحقیقی اور تجرباتی بنیادوں پر استوار ہوا تھا۔ اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ کاپرینکس نے علم فلکیات کے اہم سوالات عربی علم فلکیات سے میراث میں پائے تھے۔ زمین کی گردش پرکاپرینکس کے دلائل وہی ہیں، جو مسلم علمِ فلکیات کی تحقیق میں متواتر ملتے ہیں۔ کاپرینکس زمین کی حرکت ثابت کرنے کے لیے ریاضیاتی عمارت اٹھاتا ہے، توکئی حوالوں سے الطوسی اور دیگر مسلم ماہرین کے تحقیقی خاکوں اور تدابیر کا سہارا لیتا ہے۔ تاہم کاپرینکس زمین کی گردش دریافت کرنے میں حتمی طور پر کامیاب ہوجاتا ہے۔ سائنسی مؤرخ Thomas Kuhn نے اپنی کتاب Copernican Revolution: Planetary Astronomy in the Development of Western میں لکھا ہے کہ کاپرینکس کی یہ دریافت ’فلکیاتی انقلاب‘ تھا، جس کے کئی محرکات تھے، یہ محرکات معاشرتی، معاشی اور فلسفیانہ تھے۔
پندرہویں صدی کے نمایاں ماہرِ فلکیات علی قوشچی کا نظریہ ’زمین کی گردش‘ زیادہ واضح تھا۔ McGill University کے پروفیسر جمیل راغب کے مطابق، علی قوشچی نے کہا تھا کہ اگر طبیعات زیادہ وضاحت اور دائروں سے مشاہدے میں آجائے، تو وہ زمین کی گردش تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات علی قوشچی کو قرونِ وسطیٰ کے ماہرینِ فلکیات میں ممتاز بناتی ہے۔ بطلیموس کا یہ کہنا درست تھا کہ زمین گول ہے، اس خیال کو مسلم مفکرین نے قبول کیا۔ قرونِ وسطیٰ کے دور تک، زمین کی گولائی کا طبیعاتی اثبات چند ہی لوگوں تک محدود رہا۔ یورپ کے نقشے اب تک زمین کو چپٹا اور ہموار ہی دکھا رہے تھے۔ جہاں اُن کی زمین کا چپٹا پن کنارے پر پہنچتا تھا، وہاں وہ ’’اس مقام سے آگے خطرناک ڈریگن کی دنیا ہے‘‘ لکھتے تھے۔ مسلمانوں نے ساسانیوں (فارسیوں) سے ستاروں کے نقشے حاصل کیے تھے، جنھیں ’زیج‘ پکارا جاتا تھا، یہ آسمانی نقشوں کا واضح نظام تھا۔ ماشا اللہ ابن اطہر، جسے بعد میں لاطینی مترجمین نے نام بدل کر Messahalaکردیا تھا، ایک فارسی نژاد یہودی ماہر ستارہ شناس تھا، بغداد میں المنصور اور الراشد کے درباروں میں ماہرِ فلکیات ال نوبخت کے ساتھ کام کیا کرتا تھا۔ بغداد شہر کے قیام پر خلیفہ المنصور نے ان حضرات سے ستاروں کے اثرات پر مشاورت کی تھی۔ ابراہیم الفزاری کو بھی، جو قندوز کا ایک فارسی تھا، ہارون الرشید کے دربار میں طلب کیا گیا تھا، جہاں اُس نے استارہ یاب (astrolabe) پرایک مقالہ لکھا۔ یہ استارہ یاب آسمانوں میں راستوں کا کھوج لگانے والا آلہ تھا، اس کی اصل یونانی اور بطلیموسی تھی، مگر اسے ترقی دے کر مسلمانوں نے قابلِ توجہ بنایا۔ استارہ یاب قبل از ڈیجیٹل دور کا کمپیوٹر ہے، ایک ایسا آلہ جو بتدریج بہتر اور پیچیدہ ہوتا چلا گیا اور تربیت یافتہ ماہرِ فلکیات کے لیے عرض البلد جاننا آسان ہوگیا۔ سب سے پہلے یہ بات مشاہدے میں آئی کہ ستاروں کا کون سا جھرمٹ دن کے وقت سورج کے سب سے قریب ہوتا ہے، پھر اس بات کی پیمائش کہ دوپہر میں سورج اور خط افق کے درمیان درجوں کا فرق کتنا ہے۔ یہ کام حرکت کرنے والی ایک سوئی انجام دیتی تھی۔ ان پیمائشوں کا موازنہ ایک نقشے کی صورت میں ڈھالا جاتا تھا، اور پھر اسے استعمال کرنے والا عرض البلد کو شمار کرسکتا تھا۔ استارہ یاب اٹھارہویں صدی تک فلکیاتی پیمائش کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، پھر اس کی جگہ ایک آئینہ دار آلہ sextant استعمال کیا جانے لگا۔ استارہ یاب نہ صرف مقام کا درست تعین کرتا تھا بلکہ پانچوں وقت کی نمازوں کے بھی صحیح اوقات بتایا کرتا تھا۔
مسلمانوں کا یہ استارہ یاب نویں اور دسویں صدی میں اندلس پہنچا، اور وہاں سے تیرہویں اور چودہویں صدی میں انگلینڈ پہنچا۔ چودہویں صدی کے معروف انگریز شاعر جیوفری چاؤسر، دی کینٹربری ٹیلزکے خالق نے استارہ یاب پرتفصیلی مضمون لکھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرز آلہ استارہ یاب سے بڑے متاثر ہوئے۔ جب انھوں نے اپنے آلے بنائے تو عربی تحریروں سے استفادہ کیا۔ ستاروں کے عربی نام تک نقل کیے۔ ستاروں کے کئی نام خلا میں سفر کی صدی تک چلے آئے ہیں، وہ نام جو دارالحکمۃ میں پکارے جاتے تھے۔ نہ صرف “zenith” اور “azimuth” جیسی اصطلاحات عربی سے منتقل ہوئیں بلکہ Vega, Altair,Deneb, Betelgeuse, Rigel, Aldebaran,Fomalhaut, Algeuze, Elfeta,Alferaz, اور Miracبھی عربی نام ہیں۔
ماہرِ فلکیات محمد ابن ابراہیم الفزاری کے بعد، اُس کے بیٹے محمد نے ہندو عددی متن کوعربی میں منتقل کیا، ایک اہم کام جسے الخوارزمی نے نویں صدی میں مکمل کیا۔ دو سو سال بعد، میڈرڈ کے اندلسی ماہرِ فلکیات ابوالقاسم مسلمۃ المجریطی نے الخوارزمی کے’زیج‘ ستاروں کے جدول کی تجدید کی، جسے 1126 ء میں Abelard of Bath نے لاطینی میں ترجمہ کیا۔ خوارزمی اور المجریطی کے مشترکہ فلکیاتی جدول نے صدیوں تک یورپی اور ایشیائی فلک شناسی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ علم فلکیات کی ترویج میں خلیفہ المنصور اور ہارون الرشید کی بے مثال کوششوں کے باوجود، مسلم علم فلکیات کا پہلا سنہرا دور نویں صدی میں ظاہر ہوا۔ یہ المامون کا دور تھا، دارالحکمۃ کا عہد تھا۔ نہ صرف یہ کہ مامون دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات کو بغداد کھینچ لایا تھا بلکہ اُس نے رصدگاہوں کا پورا سلسلہ قائم کردیا تھا۔ ایک رصدگاہ گُندیشاپور میں بنائی گئی تھی، یہ شہر فارسی تعلیم و تہذیب کا قدیم مرکز تھا۔ ان رصدگاہوں میں کام کرنے والے مسلم حکماء نے یونانیوں اور بطلیموسی طریقوں سے بہتر طریقے وضع کرلیے تھے، یہ ’نصف النہار‘ (meridian)کی درست پیمائش کررہے تھے۔ مامون کی تعمیر کردہ دیگر رصدگاہوں میں ایک شہر بغداد کے داخلی دروازے شمسیہ کے قریب تھی، ایک اور رصدگاہ دمشق کے جبل قاسیون پر بنائی گئی تھی۔ رصدگاہ شمسیہ نومسلم یہودی اسحاق بن سید کی نگرانی میں کام کررہی تھی۔ دیگر رصدگاہیں (observatories) عراق کے علاقے واسط اورشام کے شہر آفامیہ میں قائم کی گئیں۔ ان تمام مراکز میں ماہرینِ فلکیات اور ریاضی دان بطلیموسی دعووں کے ترجمے، تحقیق اور تنقید کررہے تھے، وہ کوشش کررہے تھے کہ ’نصف النہار‘ کے درجوں کی پیمائش کریں، زمین کا طول وعرض شمار کریں، چاند سور ج گرہنوں کے اسباب سمجھ سکیں، اور دم دار ستارے کی ماہیت جان سکیں۔
ٹیلی اسکوپس کے بغیر، محض علم مثلثات اور کروی جیومیٹری کے ذریعے عباسی حکمائے فلکیات نے زمین کے قُطر (موٹائی) کی پیمائش کی، جوتقریباً 7,909 میل نکلی (صحیح قُطر7,932 میل ہے)، اور ارضی خطِ استوا کا فاصلہ 24,835 میل شمار کیا (صحیح فاصلہ 24,906 میل ہے)۔ انھوں نے زمین کے عمودی پہلو کی جانب جھکاؤکی پیمائش کی، اسے گہن کا ترچھا پن کہتے ہیں، جوچاند کی سطح کی وسعت کو خطِ استوا کے مساوی ظاہر کرتا ہے، اور زمین کی اپنے محور میں ڈگمگاہٹ واضح کرتا ہے، اسے نقاطِ اعتدال کی طریق شمس پر دھیمی رجعی حرکت کہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہر نجمی سال پر نقطہ اعتدال کا پیشتر واقع ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ یہ قرون وسطیٰ میں کی جانے والی اہم شماریات میں شامل ہیں۔
فارسی ریاضی دان اور ماہرِ فلکیات احمد بن کثیر الفرغانی کو بھی دارالحکمۃ میں درس وتدریس کی دعوت دی گئی۔ وہ وسطی ایشیا کے قدیم شہر فرغانہ اور جدید ازبکستان سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ زرتشتوں کی وہ سرزمین تھی، جو چین کے مغربی دروازوں کے پاس تھی، جہاں لوگ آسمانوں پر نگاہیں جمائے معنیٰ کھوجتے تھے۔ یہاں ستارہ شناسی اور علم نجوم قدیم روایات کا حصہ تھے۔ ستاروں سے فارسی ایشیائی محبت جادو اور علمِ ساحری میں گُندھی ہوئی تھی۔ یہ اُس وقت کے علمِ فلکیات کا مزاج تھا، جو ستارہ شناسی کی جادوئی قوت سے حیرت انگیز مظاہر سامنے لارہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان علاقوں میں نامور ماہرینِ فلکیات ظاہر ہوئے۔
سن 833ء کے قریب الفرغانی نے بطلیموس کی کتاب Almagest کی رواں عربی تلخیص لکھی۔ یہ خلاصہ تیزی سے مسلم دنیا میں عام ہوا، اور پھر اس نے یورپ میں اپنی راہ بنائی، John of Seville اور Cremona Gerard of کے ترجمہ کردہ لاطینی ورژن تین سو سال بعد عام ہوئے۔ الفرغانی کا لاطینی نام Alfraganus رکھ دیا گیا تھا، اور پھر ایک دن چاند کے ایک آتش فشاں کو بھی الفرغانی کا نام دے دیا گیا (اور زمین پر کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کہ الفرغانی کون تھا؟ مترجم)۔
(جاری ہے)

Share this: